محمداحمد

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر بھائی کی آواز آ رہی ہے۔:)

دیکھیے اردو میں عش عش تو کیا جاتا ہے لیکن غش غش نہیں کیا جا سکتا۔ غش اصل میں ایک دو حرفی لفظ ہے جسے نہ پیا جاتا ہے، نہ چبایا جاتا ہے، صرف کھایا جا سکتا ہے۔ اور زیادہ غیرت والے لوگ ہی اسے کھا سکتے ہیں۔ اور عموماً اسے کھا کے لوگ گِر جایا کرتے ہیں۔ نجانے کیوں؟ اِس لفظ کی دو بار تکرار میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اور یہاں گفتگو پڑھ کے غش غش کرنا۔۔۔ غش کا یہ استعمال نہ صرف بے محل ہے بلکہ سماعت پہ بھی گراں گزر رہا ہے۔ ٹھیک ہے کہ الفاظ کا نیا استعمال کیا جا سکتا ہے کہ زبان ٹھہرا پانی نہیں کہ رُک جائے۔ یہ چلتی ندی ہے۔ لیکن اس طرح کا استعمال تو کہیں نہیں دیکھا۔ نیز نئے استعمالات اگر اساتذہ کریں تو بات بنتی ہے لیکن اس طرح کے اقدامات اگر طِفلِ ابجد خواں کرنے لگیں تو اردو کا اللہ حافظ ہے۔۔۔۔۔
:D

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ظہیر بھائی کی اصلی آواز کچھ اس طرح کی ہو۔ :) :)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
شاعروں کا بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بہر صورت میں ہیرو بننے کا ہنر جانتے ہیں۔ :) :)
ہا ہاہ! :D
آپ کی اس بات پر بھی تین اشعار اور دو غزلیں یاد آگئیں ۔۔۔ لیکن خیر ، جانے دیں ۔۔۔۔ فی الحال بس اتنا:
پتلوں کے دم سےآ تشِ مے کے ۔۔۔۔ ۔۔۔
وغیرہ وغیرہ
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر بھائی کی آواز آ رہی ہے۔:)

دیکھیے اردو میں اش اش تو کیا جاتا ہے لیکن غش غش نہیں کیا جا سکتا۔ غش اصل میں ایک دو حرفی لفظ ہے جسے نہ پیا جاتا ہے، نہ چبایا جاتا ہے، صرف کھایا جا سکتا ہے۔ اور زیادہ غیرت والے لوگ ہی اسے کھا سکتے ہیں۔ اور عموماً اسے کھا کے لوگ گِر جایا کرتے ہیں۔ نجانے کیوں؟ اِس لفظ کی دو بار تکرار میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اور یہاں گفتگو پڑھ کے غش غش کرنا۔۔۔ غش کا یہ استعمال نہ صرف بے محل ہے بلکہ سماعت پہ بھی گراں گزر رہا ہے۔ ٹھیک ہے کہ الفاظ کا نیا استعمال کیا جا سکتا ہے کہ زبان ٹھہرا پانی نہیں کہ رُک جائے۔ یہ چلتی ندی ہے۔ لیکن اس طرح کا استعمال تو کہیں نہیں دیکھا۔ نیز نئے استعمالات اگر اساتذہ کریں تو بات بنتی ہے لیکن اس طرح کے اقدامات اگر طِفلِ ابجد خواں کرنے لگیں تو اردو کا اللہ حافظ ہے۔۔۔۔۔
:D
مجھے لگ رہا ہے کہ آپ دونوں کی باتیں سن کر نین بھائی ہُش ہُش کر اٹھیں گے۔ :D
 
آخری تدوین:

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
ہائے اللہ! اتنا پیارا میں نے لکھا۔۔۔ اور۔۔۔ ابھی ٹھیک کرتی ہوں۔ :)
بالکل بھی ٹھیک نہ کریں آپ ۔ آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے ۔ اور غلط احمد بھائی بھی نہیں ہیں ۔ اصلاً اش اش صحیح ہے لیکن جب اردو میں آکر عش عش ہوگیا اور اسے بڑے بڑے استاد شعرا اور زبان دان مصنفین نے استعمال کرلیا تو یہ غلط العام کے زمرےمیں آگیا اور فصاحت کے درجے پر پہنچ گیا ۔ چنانچہ میری نظر میں اب اش اش پر اصرار کرنا ٹھیک نہیں ۔ عش عش درست ہے۔ :)
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ذوالقرنین، تحریک چلانے سے پہلے یہ لسانی مسئلہ طے کرنا ہوگا کہ آیا خاتون کا بھی پتلا جلایا جائے گا یا پتلی ۔:unsure:
انہی باتوں کی وجہ سے بیٹسمین کا لفظ ختم ہوا ہے۔۔۔۔

پتلا ہمارا شعلوں کے نرغے میں آگیا
لیکن تمام شہر اجالے میں آگیا
واہ۔۔۔ خوبصورت
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ویسے میں طویل عرصے سے یہی بات سوچتی تھی کہ آپ اپنی پڑھی ہوئی یا پڑھنے کی منتظر کتابوں کا تذکرہ کیوں نہیں کرتے جبکہ آپ کی تحریر و تقریر سے یہ بات واضح ہوتی رہتی ہے کہ آپ کا مطالعہ ماشاءاللہ بہت ہے۔
ہوتے وارث بھائی(اللہ مغفرت فرمائے۔ آمین!) تو ضرور کچھ ایسا کہتے کہ ہم اش اش کرتے لیکن اب آپ کی گفتگو پڑھ کے تو غش غش کر رہے ہیں:D
میں آپ کے اس اندازے کو حسن گماں پر ہی محمول کروں گا۔۔۔ ورنہ جو دو چار لفظ آتے ہیں۔۔۔۔ فورا سے پیشتر اگل دیتا ہوں۔۔۔ دیکھیے بھلا ۔۔۔ مدتوں قبل کا اعتراف

عمر رسیدہ اور جہاندیدہ لوگوں کی باتیں سن کر میں ہمیشہ سوچتا تھا کہ ان سب کو مصنف ہونا چاہیے۔ کتنا اچھا بولتے ہیں۔ دنیا کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے پاس خیالات و الفاظ کی کتنی فراوانی ہے۔ کتنی سہولت سے یہ واقعات بیان کرتے چلے جاتے ہیں۔ میں ایسا کیوں نہیں کر سکتا۔ مجھے تو جو دو چار لفظ آتے ہیں، فوراً سے پیشتر نوک قلم کے حوالے کر دیتا ہوں۔ دنیا چیختی رہتی ہے کہ یہ زبان و بیان درست نہیں۔ میاں لکھنے کا یہ انداز درست نہیں۔ تم کب لکھنا سیکھو گے؟ لیکن میں سب سے بےپروا جو الٹا سیدھا دل میں آتا ہے لکھتا ہوں اور خوش ہوتا ہوں۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
ظہیراحمدظہیر بھائی کی آواز آ رہی ہے۔:)

دیکھیے اردو میں اش اش تو کیا جاتا ہے لیکن غش غش نہیں کیا جا سکتا۔ غش اصل میں ایک دو حرفی لفظ ہے جسے نہ پیا جاتا ہے، نہ چبایا جاتا ہے، صرف کھایا جا سکتا ہے۔ اور زیادہ غیرت والے لوگ ہی اسے کھا سکتے ہیں۔ اور عموماً اسے کھا کے لوگ گِر جایا کرتے ہیں۔ نجانے کیوں؟ اِس لفظ کی دو بار تکرار میری سمجھ سے تو باہر ہے۔ اور یہاں گفتگو پڑھ کے غش غش کرنا۔۔۔ غش کا یہ استعمال نہ صرف بے محل ہے بلکہ سماعت پہ بھی گراں گزر رہا ہے۔ ٹھیک ہے کہ الفاظ کا نیا استعمال کیا جا سکتا ہے کہ زبان ٹھہرا پانی نہیں کہ رُک جائے۔ یہ چلتی ندی ہے۔ لیکن اس طرح کا استعمال تو کہیں نہیں دیکھا۔ نیز نئے استعمالات اگر اساتذہ کریں تو بات بنتی ہے لیکن اس طرح کے اقدامات اگر طِفلِ ابجد خواں کرنے لگیں تو اردو کا اللہ حافظ ہے۔۔۔۔۔
:D
کمال کر دیا ہے۔۔۔ لاجواب۔۔۔۔ اعلی اعلی۔۔۔ مزا آگیا۔۔۔۔ ہوہوہوہوہوہو
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
باقی کتابیں پتلے جلانے میں ٹھکانے لگیں گی۔

یہاں آپ سمیت چار شکار ہیں۔







خاتون کی پُتلی ہو گی کیونکہ نہ صرف یہ لفظ سننے میں ذرا چھوٹی عمر کا لگتا ہے بلکہ پُتلی ، پَتلی بھی لگتی ہے۔ پُتلا ذرا بزرگ بزرگ سا لگتا ہے۔
جاسمن صاحبہ تو مکمل کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں اتری ہیں۔۔۔۔۔ کوئی جائے پناہ نہیں۔۔۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
یہ سمجھ سے باہر ہے کہ منتظمین کدھر ہیں؟ نہ کوئی مدیر نظر آ رہا ہے نہ خادم اور نہ ہی منتظم۔
یہاں اتنے بڑے بڑے محفلین کے پُتلے اور چھوٹی چھوٹی خواتین کی پُتلیاں جلائی جا رہی ہیں اور کہیں کوئی ہلچل نہیں۔
کیا یہ کھُلا تضاد نہیں ہے؟؟؟
یہ گورنمنٹ بک گئی ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
Top