کتابوں کا نام اور تعارف

سید عمران

محفلین
سیرت ابن ہشام
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ پر لکھی جانے والی ابتدائی کتب میں سے ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اسے جو پذیرائی اور شرف قبولیت بخشا ہے اس کے اندازے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ ہر دور میں سیرت طیبہ کے مصنفین کے لیے یہ کتاب بنیادی اہمیت کی حامل رہی ہے اور اسے تاریخ وسیرت کے ابتدائی ماخذ ومصادر میں کلیدی اہمیت حاصل ہے ۔ابن ہشام نے سیرت نگاری میں اپنے پیش رو امام ابن اسحق رحمہ اللہ کی ’کتاب المبتدا والمبعث والمغازی‘کو بنیاد بنایا اور اس میں جا بجا ترمیمات اور اضافوں سے کتاب کی افادیت کو دو چند کر دیا یہ کتاب نئی شکل میں سیرت ابن ہشام سے معروف ہوئی۔
ربط
 

سید عمران

محفلین
قصص القرآن
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے دنیائے انسانی کی ہدایت کےلیے جو مختلف معجزانہ اسلوبِ بیان اختیار فرمائے ہیں ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ گزشتہ قوموں کے واقعات و قصص کے ذریعہ ان کے نیک و بد اعمال اور ان اعمال کے ثمرات و نتائج کو یاد دلائے اور عبرت و بصیرت کا سامان مہیا کرے۔ قرآن مجید کے قصص و واقعات کا سلسلہ بیشتر گزشتہ اقوام اور ان کی جانب بھیجے ہوئے پیغمبروں سے وابستہ ہے اور جستہ جستہ بعض اور واقعات بھی اس کے ضمن میں آگئے ہیں۔ مسلمان قوم کی پستی کو دیکھتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمٰن سیوہاروی نے قرآن مجید میں موجود ان قصص کو یکجا صورت میں پیش کرنے کا اہتمام کیا تاکہ ان سے عبرت و بصیرت حاصل کی جائے۔
تمام واقعات کی بنیاد اور اساس قرآن عزیز کو بنایا گیا ہے اور احادیث صحیحہ اور واقعات تاریخی کے ذریعے ان کی توضیح و تشریح کی گئی ہے۔ خاص خاص مقامات پر تفسیری، حدیثی اور تاریخی اشکالات اور بحث و تمحیص کے بعد سلف صالحین کے مسلک کے مطابق ان کا حل پیش کیا گیا ہے۔ ہر پیغمبر کے حالات قرآن عزیز کی کن کن سورتوں میں بیان ہوئے ہیں ان کو نقشہ کی شکل میں ایک جگہ دکھایا گیا ہے۔ علاوہ بریں ’نتائج و عبر‘ یا ’عبر و بصائر‘ کے عنوان سے اصل مقصد اور حقیقی غرض و غایت یعنی عبرت و بصیرت کے پہلو کو خاص طور پر نمایاں کیا گیا ہے۔
ربط
 

سید عمران

محفلین
ابھی ایک لڑی سامنے آئی۔۔۔
کتا ب و سنت ڈاٹ کام کی لائیبریری سے...
اس میں عبد المعز صاحب نے بہت ساری کتابوں کے نام اور تعارف جمع کیے ہیں۔۔۔
عبدالمعز صاحب تقریباً دو سال قبل اردو محفل کو داغ مفارقت دے گئے۔۔۔

عبد المعز صاحب کا نام ٹیگ نہیں ہورہا ہے!!!
محمد تابش صدیقی بھائی
 
کتاب Alchemist جو کہ برازیلی مصنف پاؤلو کوئیلہوکی لکھی ہوئی ہے۔پاؤلو کوئیلہوکے لکھے ہوئے ناول الکیمسٹ نے مقبولیت کے غیر معمولی ریکارڈ قائم کئے ہیں۔ وکی پیڈیا کے مطابق ستمبر 2012 تک اس کتاب کا دنیا کی 56 زبانوں میں ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ آپ کی زندگی میں ہی اس کتاب کے اتنے زیادہ تراجم ہونے کی وجہ سے آپ کا نام گینیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ جب اس کتاب کو دنیا کی ہر زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے تو اردو زبان کے شیدائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ یہ کتاب اردو میں بھی ترجمہ کی جا چکی ہے۔ ”کیمیا گری” کے نام سے عمر الغزالی نے اس کا ترجمہ کیا ہے اور یہ ترجمہ سینٹر فار ہیومن ایکسی لینس کی پیش کش ہے۔

الکیمسٹ، ایک لڑکے، سان تیاگو کی کہانی ہے۔ سان تیاگو آزاد زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا۔ اپنے باپ کے برعکس وہ پوری دنیا کی سیر کرنا چاہتا تھا لیکن اس کے پاس اس کے لئے وسائل نہیں تھے۔ ایک دن اس کا باپ اسے تین سونے کے سکے دیتا ہے اور اسے مشورہ دیتا ہے کہ تم چرواہا بن جاؤ، کیونکہ صرف وہ ہی ہیں جو کسی ایک جگہ محدود نہیں رہتے اور دنیا گھومتے رہتے ہیں۔ سان تیاگو ان تین سکوں سے بھیڑیں خریدتا ہے اور یوں چرواہا بن جاتا ہے۔ ایک رات وہ ایک خواب دیکھتا ہے جس میں اسے اہرام مصر کے پاس ایک خزانے کی موجودگی کا بتایا جاتا ہے لیکن خزانے کی اصل جگہ دیکھنے سے پہلے ہی اس کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ اپنے خواب کی تعبیر جاننے کے لئے وہ ایک خانہ بدوش عورت کے پاس جاتا ہے جو اسے خزانے کی تلاش کے لئے اہرام مصر جانے کا مشورہ دیتی ہے۔ اسی دوران اسے ایک پراسرار بوڑھا آدمی ملتا ہے جو خود کو ایک دور دراز علاقے کا بادشاہ بتاتا ہے۔ وہ بوڑھام سان تیاگو کو بتاتا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اپنی منزل تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بہرحال وہ لڑکا اپنے سفر کا آغاز کرتا ہے اور اس سفر کے دوران اس کے ساتھ کیا کچھ پیش آتا ہے یہ ناول اسی بارے میں ہے۔
ربط
میں نے ابھی پچھلے ہفتے ہی مکمل کی ہے۔ اچھی استاد ہے!
 

سید عمران

محفلین
کاش میں بیٹی نہ ہوتی

کاش میں بیٹی نہ ہوتی نامی کتاب میرے پیارے دوست محمد علی رانا کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے اس معاشرے میں عورت پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستان بیان کی ہے۔خاص طور پر آج کے جدید کمپیوٹر ،انٹر نیٹ اور موبائل رابطوں کے دور میں انہوں نے روشنی ڈالی کہ کن کن طریقوں سے نوجوان اس معاشرے میں رہتے ہوئے صنف نازک سے قربتیں بناتے ہیں ،پیار اور شادی کے دلاسے سے کر ان کی عزت کو نیلام کر دیتے ہیں ۔اس کتاب میں میرے مخلص دوست محمد علی رانا نے اس معاشرے کی بہنوں اور بیٹیوں کے نام ایک اہم پیغام دیاہے کہ ہمیشہ ایسے غلط نظریہ رکھنے والے لوگوں سے بچا جائے کیونکہ یہ لوگ آج کل کی معصوم لڑکیوں کو پیسہ دولت ،اور شادی کے سبز باغ دکھا کر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیتے ہیں اور کئی دفعہ تو یہ ہوس کے پجاری ویڈیوز بنا کر صنف نازک کو بلیک میل بھی کرتے ہیں جیسے کچھ دنوں پہلے مشہور انیکر اقرار الحسن نے اپنے پروگرام سر عام میں کچھ ایسے ہی لوگوں کو بے نقاب کیا تھا جو ایک لڑکی کو شادی کے سبز باغ دکھا کر ماں سے ملوانے گھر لے کر آئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور ساتھ بلیک میلنگ کے لیے ویڈیو بھی بنائی۔اس کتاب میں مختلف فرضی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن کے ذریعے محمد علی رانا نے اس معاشرے کی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کن کن طریقوں سے یہ گنہاگار لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس معاشرے کو ایسی برائیوں سے پاک کرے اور پیارے عزیز محمد علی رانا کو آئندہ بھی معاشرے کی ایسی برائیوں پر روشنی ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ربط
 

جاسمن

مدیر
کاش میں بیٹی نہ ہوتی

کاش میں بیٹی نہ ہوتی نامی کتاب میرے پیارے دوست محمد علی رانا کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے اس معاشرے میں عورت پر ہونے والے ظلم و ستم کی داستان بیان کی ہے۔خاص طور پر آج کے جدید کمپیوٹر ،انٹر نیٹ اور موبائل رابطوں کے دور میں انہوں نے روشنی ڈالی کہ کن کن طریقوں سے نوجوان اس معاشرے میں رہتے ہوئے صنف نازک سے قربتیں بناتے ہیں ،پیار اور شادی کے دلاسے سے کر ان کی عزت کو نیلام کر دیتے ہیں ۔اس کتاب میں میرے مخلص دوست محمد علی رانا نے اس معاشرے کی بہنوں اور بیٹیوں کے نام ایک اہم پیغام دیاہے کہ ہمیشہ ایسے غلط نظریہ رکھنے والے لوگوں سے بچا جائے کیونکہ یہ لوگ آج کل کی معصوم لڑکیوں کو پیسہ دولت ،اور شادی کے سبز باغ دکھا کر انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بنا دیتے ہیں اور کئی دفعہ تو یہ ہوس کے پجاری ویڈیوز بنا کر صنف نازک کو بلیک میل بھی کرتے ہیں جیسے کچھ دنوں پہلے مشہور انیکر اقرار الحسن نے اپنے پروگرام سر عام میں کچھ ایسے ہی لوگوں کو بے نقاب کیا تھا جو ایک لڑکی کو شادی کے سبز باغ دکھا کر ماں سے ملوانے گھر لے کر آئے اور اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا اور ساتھ بلیک میلنگ کے لیے ویڈیو بھی بنائی۔اس کتاب میں مختلف فرضی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں جن کے ذریعے محمد علی رانا نے اس معاشرے کی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ کن کن طریقوں سے یہ گنہاگار لوگ عورتوں کو اپنے جال میں پھنسا کر ان پر ظلم و ستم کرتے ہیں۔ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالی اس معاشرے کو ایسی برائیوں سے پاک کرے اور پیارے عزیز محمد علی رانا کو آئندہ بھی معاشرے کی ایسی برائیوں پر روشنی ڈالنے کی توفیق عطا فرمائے۔
ربط
اللہ سب کو برے وقت سے بچائے۔آمین!
یہ کتاب ایک اچھی کوشش ہے۔
زبان و بیان کیسا ہے؟
کیا ہم اسے اپنی شاگردوں کو پڑھنے کا کہہ سکتے ہیں؟
 

جاسمن

مدیر
عنوان الشرف الوافی فی علم الفقہ والعروض والتاریخ والنحو والقوافی
کیا آپ کو کبھی حروف یا الفاظ پر مشتمل پزل گیم کھیلنے کا اتفاق ہوا ، جس میں حروف یا الفاظ کو عمودی اور افقی قطاروں میں لکھا ہوتا ہے اور ان کو اس انداز میں ترتیب دینا ہوتا ہے کہ عمودی ترتیب سے پڑھنے پر ایک الگ فقرہ بنے اور افقی ترتیب سے پڑھنے پر الگ فقرہ ۔
یقینا یہ خاصی مشکل ، توجہ طلب اور دماغ تھکا دینے والی مشق ہو گی ۔
لیکن ایک ایسی مکمل کتاب کے بارے میں کیا خیال ہے جو اس طرز پر تحریر کی گئی ہو ، جسے افقی انداز میں پڑھنے پر ایک الگ کتاب ایک مختلف موضوع ، عمودی ترتیب سے پڑھنے پر الگ اورمختلف موضوع پر کتا ب ۔
اور ایک کتاب میں پانچ کتابیں ، پانچ فنون ،پانچ مختلف موضوعات ۔
یہ " ابن المقری "کی کتا ب عنوان الشرف الوافی فی علم الفقہ والعروض والتاریخ والنحو والقوافی ہے ۔
جس کابنیادی موضوع فقہ شافعی ہے ، اس کے ساتھ ساتھ اس اس وقت یمن کے حاکم خاندان بنورسول کے خاندان کی تاریخ ، نحو علم عروض اور علم القوافی کو جمع کیا گیا ہے ۔
اگر کتاب کو افقی انداز میں پڑھا جائے جو کہ عام طور پر کتا ب پڑھنے کا طریقہ ہوتا ہے تو یہ فقہ شافعی کی کتاب ہے ، جبکہ ہر سطر کا پہلا لفظ یا حرف الگ الگ علم عروض کی کتا ب ہے ، جبکہ دوسری عمودی قطار تاریخ بنورسول ہے ، تیسری عمودی قطار علم نحو کے بارے میں ہے اور ہر سطر کا آخری حرف یا لفظ علم القوافی پر مشتمل ہے ۔ جب کہ اس سے عبارات اور فقروں کا معنی بھی متاثر نہیں ہوتا ۔
ربط

واہ!یہ تو انوکھی کتاب ہے۔
 

سید عمران

محفلین
خطباتِ بہاولپور

اسلامی تاریخ کے طالبعلموں کے لئے ڈاکٹر حمید اللہ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ ڈاکٹر صاحب ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے کہ جن کی تحقیقی اور دعوت دین کے لئے کی جانے والی خدمات کا مقابل عصر حاضرمیں شاید ہی کوئی مل پائے۔ ڈاکٹر حمیداللہ نے جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے ایم اے، ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد جرمنی کی بون یونیورسٹی سے اسلام کے بین الاقومی قانون پر تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں فرانس کی سوبورن یونیورسٹی پیرس سے عہد نبوی اور خلافت راشدہ میں اسلامی سفارت کاری پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹر آف لیٹرز کی سند پائی۔ جامعہ عثمانیہ کے علاوہ جرمنی اور فرانس کی جامعات میں درس و تدریس کے فرایض انجام دینے کے بعد ڈاکٹر حمیداللہ فرانس کے نیشنل سینٹر آف ساینٹفک ریسرچ سے تقریبا بیس سال تک وابستہ رہے۔ آپ اردو، فارسی، عربی اور ترکی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی، جرمن ، اور اطالوی زبان پر بھی عبور رکھتے تھے۔ آپ کی کتابوں اور مقالات کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس میں فرانسیسی زبان میں آپ کا ترجمہ قران ، اور اسی زبان میں‌دو جلدوں میں سیرت پاک ، قران کی بیبلیوگرافی ‘القران فی کل اللسان’ کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیاسی زندگی پر محققانہ تصانیف ‘بیٹل فیلڈز محمد صلی اللہ علیہ وسلم ‘ ، ‘مسلم کنڈکٹ آف اسٹیٹ’ اور ‘فرسٹ رٹن کانسٹیٹیوشن’ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
ڈاکٹر صاحب کی تحریر کی خوبی آپ کا آسان، عام فہم اور دعوتی انداز بیاں ہے۔ آپ کی تحریروں میں عالمانہ انکسار اور افہام و تفہیم کا جز جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی تحریر و تقریر میں جارحانہ انداز بیاں کو کہ آجکل کے علما کا خاصہ ہے ذرا نظر نہیں آتا۔ آپ تحقیق کا نچوڑ اور متقابل قاری کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور اپنی راے بیان کر کے قاری کو اپنی راے متعین کرتنے کا موقع دیتے ہیں۔ یہ انداز جدید دور کے قاری کے لئے نہایت متاثر کن ہے۔ آپ کی عمر کا ہر لمحہ علمی تحقیق اور طلب علم میں‌گذرا ۔ 17 دسمبر 2002 کو اسلام کا یہ فرزند اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ فرانس میں‌قیام کے دوران ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا اشتیاق رہا لیکن شومی قسمت سے وہ جب تک صحت کی خرابی کی وجہ سےامریکہ منتقل ہو چکے تھے۔ اب جیکسن ول فلارڈا میں‌ہارڈیج گنز فیونرل ہومز میں منوںمٹی کے نیچے آرام فرما ہیں اور آپکا صدقہ جاریہ، کتابیں اور تحقیقی مقالہ جات دین کے طالبعلموں‌کے لئے زاد راہ ہیں۔
خطبات بہاولپور آپ کے مارچ 1980 میں جامعہ اسلامیہ بہاولپور میں‌ دئے جانے والے لیکچرز کی جمع کردہ کتابی شکل ہے۔ ان تیرہ عدد خطبات میں مندرجہ زیل موضوعات پر گفتگو کی گئی ہے۔ تاریخ قران مجید، تاریخ حدیث شریف، تاریخ فقہ، تاریخ اصول فقہ و اجتہاد، قانون بین الممالک، دین عقائد عبادات تصوف، مملکت اور نظم و نسق، نظام دفاع اور غزوات، نظام تعلیم اور سرپرستی علوم، نظام تشریع و عدلیہ، نظام مالیہ و تقویم، تبلیغ اسلام اور غیر مسلموں سے برتاو۔ یہ کتاب عام فہم انداز میں تحریر کردہ ہے لیکن موجودہ دور کے کئی پیچیدہ سوالوں کے عام فہم اور با معنی جوابات کے لئے اس کا مطالعہ نہایت اکثیر ہے اور اس میں ہمارے لئے فروعات سے نکل کر اصول کی پیروی کرنے کے لئے بہت خوب نصیحت ہے۔
 

سید عمران

محفلین
خطبات مدراس
سید سلیمان ندوی کے اُن خطبوں پر مبنی کتاب ہے جو انہوں نے اکتوبر اور نومبر 1925 میں مدراس کے لولی ہال میں ہفتہ وار دیے تھے۔ یہ خطبات انگریزی مدرسوں کے طلبہ اور عام مسلمانوں کے لیے تھے۔ اُن خطبوں میں سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا گیا تھا۔ علامہ سید سلیمان ندوی کے سیرت النبیﷺ کے موضوع پر دیے گئے یہ خطبات مربوط کتابی شکل میں 1926ء میں شائع کیے گئے۔ سیرۃ النبیﷺ کے مختلف پہلوؤں پر دیے جانے والے آٹھ خطبوں میں سے بعض خطبوں میں سیرت محمدیﷺ کا دوسرے انبیا کی سیرتوں سے مقابلہ و موازنہ پیش کیا گیا ہے۔ ان آٹھ خطبات کی ترتیب کچھ اس طرح سے ہے:
  • 1۔ انسانیت کی تکمیل صرف انبیا کرام کی سیرتوں سے ہو سکتی ہے۔
  • 2۔ عالمگیر اور دائمی نمونہ عمل صرف محمدﷺ کی سیرت ہے۔
  • 3۔ سیرت نبویﷺ کا تاریخی پہلو
  • 4۔ سیرت نبویﷺ کی کاملیت
  • 5۔ سیرت نبویﷺ کی جامعیت
  • 6۔ سیرت نبویﷺ کی عملیت
  • 7۔ اسلام کے پیغمبر کا پیغام
  • 8۔ ایمان اور عمل
اس کتاب کا ایک وصف یہ بھی ہے: ’’اس کتاب کے بعض خطبوں میں سیرت محمدیﷺ کا دوسرے انبیا کی سیرتوں سے مقابلہ و موازنہ ہے۔
 
Top