کبھی جب اجنبی تھے ہم

عمدہ. نظم بہت خوب ہے لیکن اختتام تھوڑا توجہ طلب ہے .

"دعا ہے پھر خدایا کہ
بہاریں لوٹ آئیں گر،
بہاریں لوٹ آئیں گر۔۔۔۔۔۔"

" گر'' کے استمعال سے انداز دعائیہ نہیں بلکہ استفہامیہ محسوس ہو رہا ہے .
"کہ" کو بھی عام طور پر یک حرفی باندھا جاتا ہے .

ایک تجویز ہے اگر مناسب لگے تو ...

خدا سے یہ دعا ہے اب
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں
نظر عنایت پر آپکا بہت بہت شکریہ! دوبارہ عنایت فرمائیں۔۔۔

چلو مل بیٹھ کے پھرسے
انہی لمحوں،
انہی اوقات کو دہراتے ہیں پھر سے
کہ جب "تم، تم تھے"
ابھی تک بیچ میں دیوار سی
اک حد سی قائم تھی
ابھی تک اجنبی تھے ہم
ابھی تکرار سے،
اقرارکی باتیں نہیں کی تھیں
چلی ایسی ہوا کہ پھر
گھٹا اک چھا گئی دل پہ
دلوں کے موسموں میں اک تغیر آگیا پھر جب
بہاریں ہر طرف محسوس ہوتی تھیں
پرندے چہچہاتے تھے
شجر پھر لہلہاتے تھے
یہاں پھولوں کے ڈیرے تھے
یہاں بلبل کے پھیرے تھے
نجانے کیا ہوا پھر کہ
کہیں سے سرد موسم کی
ہوائیں گھوم کے آئیں
کہ لہجوں کی تمازت میں
پھر اک احساس ٹھنڈک کا
بہت سرسبز، سایہ دار پیڑوں کے
سبھی ٹہنوں، سبھی پتوں کی رنگت میں
تغیر تھا خزائوں کا
پتا دینے لگے تھے وہ
کہ اب پتوں کا پیڑوں سے
بچھڑنے کا
یہ موسم ہی پرانا ہے
انا کی دھوپ پڑتی ہے
کبھی جو سرد موسم میں
تو پتے زرد ہوتے ہیں
جدائی کے پیامبر ہیں
ہجر کا راگ بجتا ہے
یہاں بھولے سےبھی پھر تو
کبھی وہ پھول نہ مہکے
نہ بلبل پھر کبھی بہکے
کبھی ہم اجنبی سے تھے
تکلف کی ابھی دیوار قائم تھی
جہاں پہ "آپ" اور "ہم" کا تصور تھا
چلو مل بیٹھ کے پھر سے
انہی لمحوں،
انہی اوقات کو دہراتے ہیں پھر سے
خدا سے یہ دعا ہے اب​
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں​
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں​
 
"دعا ہے پھر خدایا کہ
بہاریں لوٹ آئیں گر،
بہاریں لوٹ آئیں گر۔۔۔۔۔۔"

" گر'' کے استمعال سے انداز دعائیہ نہیں بلکہ استفہامیہ محسوس ہو رہا ہے .
"کہ" کو بھی عام طور پر یک حرفی باندھا جاتا ہے .
اس کے اس طرح لکھنے کی تھوڑی سی وضاحت کر دوں پھر آاس کے مطابق اصلاح فرما دیجیے گا۔
یہ چونکہ ایک گزرے وقت کو یاد کیا جا رہا ہے تو آخر میں شدید آرزو کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ " خدایا کاش کہ ایسا پھر ہو جائے" جبکہ وہ وقت گزر چکا ہے اور اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس پر آپ ارشاد فرما دیں کہ جو آپ صلاح آپ نے دی ہے وہ اس کے مطابق ہے یا جو مناسب ہے لگے۔
 

La Alma

لائبریرین
اس کے اس طرح لکھنے کی تھوڑی سی وضاحت کر دوں پھر آاس کے مطابق اصلاح فرما دیجیے گا۔
یہ چونکہ ایک گزرے وقت کو یاد کیا جا رہا ہے تو آخر میں شدید آرزو کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ " خدایا کاش کہ ایسا پھر ہو جائے" جبکہ وہ وقت گزر چکا ہے اور اب ایسا ہونا ممکن نہیں۔ اس پر آپ ارشاد فرما دیں کہ جو آپ صلاح آپ نے دی ہے وہ اس کے مطابق ہے یا جو مناسب ہے لگے۔
المعانی فی البطن شاعر ...
 

فاخر رضا

محفلین
واہ بھئی واہ. ایک ہزار مراسلے کیا ہوئے آپ کے تو ٹیلینٹ سامنے آنے لگے. اب سارے مراسلے پڑھنے پڑیں گے. ماشاءاللہ، اور بھی اچھا لکھیں. بہت سی دعائیں
 
واہ بھئی واہ. ایک ہزار مراسلے کیا ہوئے آپ کے تو ٹیلینٹ سامنے آنے لگے. اب سارے مراسلے پڑھنے پڑیں گے. ماشاءاللہ، اور بھی اچھا لکھیں. بہت سی دعائیں
نہیں قبلہ ایسی بات نہیں ہے۔۔۔۔ یہ تو پرانی باتیں ہیں جو پتا نہیں کیسے سر زد ہوگئیں۔۔۔۔ پزیرائی پر بہت بہت شکریہ!!
 
پزیرائی پہ شکریہ راحیل بھائي۔
بھائی اساتذہ سے ڈر لگتا ہے۔ اونچے ذوق کے لوگ ایسا کلام وہاں دیکھ کر غصہ نہ فرما جائیں۔ اور معلومات تو نل بٹا زیرہ ہیں کہ یہ پابند بحور ہے کہ نہیں۔۔۔
رہنمائی فرما دیں آپ۔
کچھ جملے وزن میں نہیں ہیں۔
واقعی بچ گئے ہو ادھر پیش کر کے
 
Top