کبھی جب اجنبی تھے ہم

چلو مل بیٹھ کے پھرسے
انہی لمحوں،
انہی اوقات کو دہراتے ہیں پھر سے
کہ جب "تم، تم تھے"
ابھی تک بیچ میں دیوار سی
اک حد سی قائم تھی
ابھی تک اجنبی تھے ہم
ابھی تکرار سے،
اقرارکی باتیں نہیں کی تھیں
چلی ایسی ہوا کہ پھر
گھٹا اک چھا گئی دل پہ
دلوں کے موسموں میں اک تغیر آگیا پھر جب
بہاریں ہر طرف محسوس ہوتی تھیں
پرندے چہچہاتے تھے
شجر پھر لہلہاتے تھے
یہاں پھولوں کے ڈیرے تھے
یہاں بلبل کے پھیرے تھے
نجانے کیا ہوا پھر کہ
کہیں سے سرد موسم کی
ہوائیں گھوم کے آئیں
کہ لہجوں کی تمازت میں
پھر اک احساس ٹھنڈک کا
بہت سرسبز، سایہ دار پیڑوں کے
سبھی ٹہنوں، سبھی پتوں کی رنگت میں
تغیر تھا خزائوں کا
پتا دینے لگے تھے وہ
کہ اب پتوں کا پیڑوں سے
بچھڑنے کا
یہ موسم ہی پرانا ہے
انا کی دھوپ پڑتی ہے
کبھی جو سرد موسم میں
تو پتے زرد ہوتے ہیں
جدائی کے پیامبر ہیں
ہجر کا راگ بجتا ہے
یہاں بھولے سےبھی پھر تو
کبھی وہ پھول نہ مہکے
نہ بلبل پھر کبھی بہکے
کبھی ہم اجنبی سے تھے
تکلف کی ابھی دیوار قائم تھی
جہاں پہ "آپ" اور "ہم" کا تصور تھا
چلو مل بیٹھ کے پھر سے
انہی لمحوں،
انہی اوقات کو دہراتے ہیں پھر سے
دعا ہے پھر خدایا کہ
بہاریں لوٹ آئیں گر،
بہاریں لوٹ آئیں گر۔۔۔۔۔۔


حسن محمود جماعتی
 
آخری تدوین:
وہ لہراتی ہیں، بل کھاتی ہیں، وغیرہ وغیرہ
میں نے فصلوں کے ساتھ پڑھا ہوا ہے۔
بل دیتی ہیں۔ ۔ ۔:p

چلو پھر دوسری تیسری بار بھی پڑھ لو

"پھولوں سے سجے اور نرم رو ہوا میں لہلہاتے درختراجہ (دشنیت) کے سر پر رہ رہ دلکش پھول برسا رہے تھے۔"، [1]


"خط استوا پر سال کا کوئی حصہ صحیح معنوں میںخشک نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ درخت پورے سال لہلہاتے رہتے ہیں۔"، [2]
ربط
 
واہہہہہہہہہہ
بہت خوب
ڈھیروں دعائیں
کرم نوازی بہت بہت شکریہ!
بہت خوب!

یہ دیکھ لیں ٹائپو ہے شاید:)
شکریہ محترم!
جی درست کر دیا ہے۔ بہت شکریہ نشاندہی پر !
وا جی وا۔
خوبصورت ہے

درختوں کے ساتھ لہلہانے کا لفظ پہلی بار پڑھا ہے۔
کرم نوازی آپکی چوہدری صاحب!
پتا نہیں جی میری اردو اتنی اچھی نہیں ہے، لہلہاتے کا لفظ پڑھا ہوا جڑ دیا۔۔۔۔!!
 
وہ لہراتی ہیں، بل کھاتی ہیں، وغیرہ وغیرہ
میں نے فصلوں کے ساتھ پڑھا ہوا ہے۔
بل دیتی ہیں۔ ۔ ۔:p

چلو پھر دوسری تیسری بار بھی پڑھ لو

"پھولوں سے سجے اور نرم رو ہوا میں لہلہاتے درختراجہ (دشنیت) کے سر پر رہ رہ دلکش پھول برسا رہے تھے۔"، [1]


"خط استوا پر سال کا کوئی حصہ صحیح معنوں میںخشک نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ درخت پورے سال لہلہاتے رہتے ہیں۔"، [2]
ربط
یہ نرم تنے کے درخت ہیں جو لہلہا بھی لیتے ہیں۔۔۔!!
 
بھائی، نظم تو اچھی ہے۔ زمرہ غلط ہے۔
یہ آزاد نظم ہے، نثری نہیں۔ اسے پابندِ بحور شاعری میں ہونا چاہیے۔ :)
پزیرائی پہ شکریہ راحیل بھائي۔
بھائی اساتذہ سے ڈر لگتا ہے۔ اونچے ذوق کے لوگ ایسا کلام وہاں دیکھ کر غصہ نہ فرما جائیں۔ اور معلومات تو نل بٹا زیرہ ہیں کہ یہ پابند بحور ہے کہ نہیں۔۔۔
رہنمائی فرما دیں آپ۔
 

La Alma

لائبریرین
عمدہ. نظم بہت خوب ہے لیکن اختتام تھوڑا توجہ طلب ہے .

"دعا ہے پھر خدایا کہ
بہاریں لوٹ آئیں گر،
بہاریں لوٹ آئیں گر۔۔۔۔۔۔"

" گر'' کے استمعال سے انداز دعائیہ نہیں بلکہ استفہامیہ محسوس ہو رہا ہے .
"کہ" کو بھی عام طور پر یک حرفی باندھا جاتا ہے .

ایک تجویز ہے اگر مناسب لگے تو ...

خدا سے یہ دعا ہے اب
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں
بہاریں پھر سے لوٹ آئیں
 
Top