کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں ۔ اقبال (مختلف گلوکار)

فاتح

لائبریرین
اقبال کی مشہورِ زمانہ غزل "کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں" مختلف گلوکاروں کی آوازوں میں

گلوکارہ: لتا منگیشکر و دیگر ۔ موسیقی: مدن موہن ۔ فلم: دلہن ایک رات کی (1967)

غلام علی

ابرار الحق

نصرت فتح علی خان

مسعود خان اور شیلو خان

حبیب ولی محمد

صادق فطرت ناشناس

کبھی اے حقیقتِ منتظر، نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

طرب آشنائے خروش ہو تو نوائے محرمِ گوش ہو
وہ سرود کیا کہ چھُپا ہوا ہو سکوتِ پردۂ ساز میں

تو بچا بچا کے نہ رکھ اسے، ترا آئینہ ہے وہ آئینہ
جو شکستہ ہو تو عزیز تر ہے نگاہِ آئینہ ساز میں

دمِ طوف کرمکِ شمع نے یہ کہا کہ وہ اثَرِ کہن
نہ تری حکایتِ سوز میں، نہ مری حدیثِ گداز میں

نہ کہیں‌ جہاں ‌میں‌ اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں‌ ملی
مرے جرمِ خانہ خراب کو، ترے عفوِ بندہ نواز میں

نہ وہ عشق میں رہِیں گرمیاں، نہ وہ حسن میں رہِیں‌ شوخیاں
نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی، نہ وہ خَم ہے زلفِ ایاز میں

جو میں سر بسجدہ ہوا کبھی، تو زمیں ‌سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا، تجھے کیا ملے گا نماز میں
(ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؔ)


ٹیگز: اقبال، لتا، غلام علی، ابرار الحق، نصرت فتح علی خان، حبیب ولی محمد، مسعود خان، شیلو خان، نا شناس، مدن موہن​
 

شاہ حسین

محفلین
واہ واہ جناب کیا خوب شراکت ہے ایک تو کلام ہی اتنا لاجواب منتخب کیا ہے اس پر دو آتشہ بنا دیا مختلف فنکاروں کی گائیکی نے ۔

بہت شکریہ جناب فاتح صاحب ۔
 

فاتح

لائبریرین
واہ واہ جناب کیا خوب شراکت ہے ایک تو کلام ہی اتنا لاجواب منتخب کیا ہے اس پر دو آتشہ بنا دیا مختلف فنکاروں کی گائیکی نے ۔

بہت شکریہ جناب فاتح صاحب ۔
شاہ صاحب! آپ کی پذیرائی (اور ٹیگز میں اضافہ کرنے) کا شکریہ۔:)

سبحان اللہ۔ ۔ ۔ ۔کیا کہنے اقبال کے۔
شکریہ محمود غزنوی صاحب
 

فرخ منظور

لائبریرین
حبیب ولی محمد نے یہ کلام پرائیوٹ محفل میں گایا ہے لیکن سب سے بہتر مجھے یہی لگا ہے۔ شکریہ فاتح صاحب!
 

فاتح

لائبریرین
شکریہ فرخ صاحب! واقعی حبیب ولی محمد نے بہت خوبصورت انداز میں گایا ہے اور ریکارڈنگ کا معیار انتہائی خراب ہونے کے باوجود کانوں کو بھلا معلوم ہو رہا ہے لیکن مجھے نا شناس کی دھن زیادہ پسند آئی ہے۔
 
Top