کانٹے کا درد

پاکستانی

محفلین
awamibudgetgr9.gif
 

قیصرانی

لائبریرین
میری محدود معلومات کے مطابق امریکہ میں صحت کی سہولیات یا ایسا کہیں کہ تمام تر سہولیات بالکل مفت نہیں‌ ہیں۔ اسی طرح اگر فن لینڈ کی بات کریں تو یہاں صحت کی سہولیات بھی بڑی حد تک مفت ہیں، لیکن صد فیصد مفت نہیں۔ یہاں بھی بڑے آدمی اپنی مرضی کے ہسپتال سے علاج کراتے ہیں اور عام آدمی آپریشن کی باری کے انتظار میں کئی کئی سال ذلیل ہوتا رہا ہے۔ اگر جیب میں‌ پیسے ہوں تو پرائیوٹ ڈاکٹر موجود ہیں۔

دوسری بات، ہمارے حزب مخالف کے سیاست دان اور اکثر کالم نگار یہ بات بڑے شوق اور وثوق سے کہتے ہیں کہ 4600 روپے میں‌ بجٹ بنانا ایک ناممکن امر ہے۔ یہ بات کیوں‌ بھول جاتے ہیں کہ غریب کے گھر میں ایک فرد کام نہیں کرتا، بلکہ عموماً دو یا زائد افراد کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر فرد کو اگر سرکاری طور پر مقرر کی گئی کم از کم اجرت یعنی 4600 روپے ملے تو آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی گھریلو حالت اتنی بری نہیں‌ ہوگی جتنی کہ پیش کی جا رہی ہے۔ البتہ یہ ایک امر محال ہے کہ ہم لوگ غریب کو اس کی سرکاری طور پر طے کردہ کم سے کم اجرت دینے پر تیار ہو جائیں
 

قیصرانی

لائبریرین
یکساں حقوق کے بارے یہ بات سن لیجئے کہ یہاں ایک نئے رکن اسمبلی کی تنخواہ 4500 یورو ہوتی ہے جو کہ ٹیکس فری ہے۔ اگر وہ رکن بارہ سال سے زیادہ مدت تک پارلیمینٹ کا رکن ہو تو اس کی تنخواہ 5500 یورو ہو جاتی ہے۔ ملکی ائیرلائن پر ساری دنیا کا سفر مفت ہوتا ہے۔ اپنے ریجن یعنی صوبہ کے اندر ٹرین، بس اور ٹیکسی کا سفر مفت ہوتا ہے۔ علاج معالجہ مفت اور ترجیحی بنیادوں پر ہوتا ہے سٹی مئیر کی تنخواہ 10000 یورو ہوتی ہے اور مندرجہ بالا تمام سہولیات بھی حاصل ہوتی ہیں

غیر ملکی لوگوں کے بارے اتنا کہوں گا کہ دو لاکھ غیر ملکی اس ملک میں قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں۔ صرف 3500 کے پاس جاب ہے، باقی سب کے سب جاب لیس ہیں یا اپنا کاروبار کرتے ہیں (غیر ملکی طلبا کو نکال کر یہ فگر لکھا ہے)

سرکاری طور پر یہ بتایا جاتا ہے کہ 33٪ جابز ایسی ہوتی ہیں جن کے خالی ہونے کا بذریعہ اشتہار اور دیگر ذرائع سے بتایا جاتا ہے۔ 67٪ خالی جگہیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے کسے کو کوئی علم نہیں ہوتا

عورتوں کو مساوی حقوق دینے کی بات بھی یہاں ایک ڈھونگ ہے۔ تین یا چار پروفیشنز کو چھوڑ کر باقی ہر ایک میں‌ عورت کی تنخواہ مرد کی تنخواہ کا ساٹھ سے اسی فیصد ہوتی ہے (یہ پورے یورپی یونین کا مسئلہ ہے نہ کہ صرف فن لینڈ کا)۔ جبکہ کام کا دورانیہ اور نوعیت ایک جیسی

یہاں کسی بھی سیاستدان کا کوئی پروفائل نہیں بنتا۔ اگر اس کے بچے عام سکول نہیں جاتے یا وہ پبلک ٹرانسپورٹ استعمال نہیں کرتے تو بھی اس سے ووٹ بینک پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہاں افراد کو نہیں، ان کی پارٹی کی پالیسی کو دیکھا جاتا ہے

یہاں ایک کہاوت ہے جس کا ترجمہ کچھ یوں ہے

“دو سو بندر (پارلیمنٹ کے ممبران کی تعداد) مل کر ہماری قسمت کا فیصلہ کرنے کے لئے بیٹھتے ہیں“
 

پاکستانی

محفلین
4600 یا 4000 ملتی کسے ہے قیصرانی بھیا
یہاں اپنے ڈی جی خان میں اب بھی 50 روپے روزانہ پر کام کرنے والے بہت ہیں۔
دوسری بات غریب کے گھر میں 3 بھی کمانے والے ہوں تو ٹوٹل آمدنی 13800 بنتی ہے (بشرط واقعی اتنی ملے) اس 13800 میں آٹھ نو افراد کا ماہانہ بجٹ تو بنا کر ذرا یہاں پیش کریں۔

بات وہی کہ کانٹا جسے لگتا ہے اس کے درد کا احساس اسے ہی ہوتا ہے۔


ویسے تین، چار ہزار کا ایک بجٹٰٰیہاں بھی موجود ہے۔
 
قیصرانی نے کہا:
یہ بات کیوں‌ بھول جاتے ہیں کہ غریب کے گھر میں ایک فرد کام نہیں کرتا، بلکہ عموماً دو یا زائد افراد کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر فرد کو اگر سرکاری طور پر مقرر کی گئی کم از کم اجرت یعنی 4600 روپے ملے تو آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی گھریلو حالت اتنی بری نہیں‌ ہوگی جتنی کہ پیش کی جا رہی ہے۔
قیصرانی بھائی! آپ کی یہ دلیل اکثریت پر لاگو نہیں ہوتی۔ مشترکہ خاندانی نظام (جوائنٹ فیملی سسٹم) تو اب یہاں تقریبا دم توڑ چکا ہے۔ لوگ الگ الگ ہی رہتے ہیں۔ بندے کی شادی ہوئی اور وہ الگ۔ اب تین چار سال میں اس کے ہاں بچوں کا اضافہ۔ اس حالت میں یہ دیکھیے کہ وہ اکیلا کمانے والا۔ اس کی تنخواہ 4600 ہے۔ ایسے لوگوں کی اکثریت ایسی ہوتی ہے کہ ان کا اپنا مکان بھی نہیں ہوتا۔ کرائے کے گھروں میں رہائش پذیر ہوتے ہیں۔ ڈھائی سے تین ہزار روپیہ تو اس نے مکان کا کرایہ دیدیا۔ اب باقی ڈیڑھ، دو ہزار میں وہ مہینہ کیسے گزارے گا؟ ہمارے تو اردگرد یہ کہانیاں بکھری پڑی ہیں نا۔۔۔!
 
کل “اے۔ ٹی وی“ پر ایک مباحثہ آرہا تھا “کرنٹ افیئرز وِد خلیل ملک“۔ اس میں خلیل ملک صاحب جو کہ میزبان تھے، اس بات پر مصر تھے کہ جو لوگ 4600 روپے کی تنخواہ پر رو رہے ہیں، ان کو چاہیے تھا کہ وہ زیادہ تعلیم حاصل کرتے تاکہ زیادہ آگے جاسکتے۔ مثال کے طور پر ان کے سامنے ایک بینکر صاحب بیٹھے تھے جنہوں نے بینک میں اپنی ملازمت کا آغاز 4000 روپے سے کیا تھا، اور اب ان کی تنخواہ تقریبا 40،000 سے زیادہ ہے۔ اس پر مباحثہ میں شریک ایک نوجوان استاد نے بڑی بہترین بات کی کہ بھائی! اس ملک کے سارے لوگ بینکر نہیں بن سکتے۔۔۔ مِلز کا پہیہ بھی چلنا ہے، دہقان نے ہل بھی چلانا ہے۔۔۔ ملک کے سارے شعبہ چلنے ہیں۔۔۔ اس لیے یہ دلیل دینا بالکل لغو ہے کہ زیادہ تعلیم حاصل کرلیں تو اچھی ملازمت پاسکیں گے اور اچھی تنخواہ ملے سکے گی۔


:!:
 

قیصرانی

لائبریرین
پاکستانی نے کہا:
4600 یا 4000 ملتی کسے ہے قیصرانی بھیا
یہاں اپنے ڈی جی خان میں اب بھی 50 روپے روزانہ پر کام کرنے والے بہت ہیں۔
دوسری بات غریب کے گھر میں 3 بھی کمانے والے ہوں تو ٹوٹل آمدنی 13800 بنتی ہے (بشرط واقعی اتنی ملے) اس 13800 میں آٹھ نو افراد کا ماہانہ بجٹ تو بنا کر ذرا یہاں پیش کریں۔

بات وہی کہ کانٹا جسے لگتا ہے اس کے درد کا احساس اسے ہی ہوتا ہے۔


ویسے تین، چار ہزار کا ایک بجٹٰٰیہاں بھی موجود ہے۔
پاکستانی بھائی، یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ہم ابھی تو سب کے سب اتنے زور و شور سے کہہ رہے ہیں، لیکن کیا کل کو جب ہمیں کوئی مزدور درکار ہو تو ہم کیا کریں گے؟ کیا اسے پوری مزدوری دینا چاہیں گے؟

باقی جہاں آٹھ یا نو افراد کے کنبے کی بات ہے تو اس سلسلے میں‌ حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آٹھ یا نو افراد جو بھی ہوتے ہیں، یہ سب والدین کا اپنا کرشمہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھئے کہ غریب کے گھر میں ہر فرد کام کرتا ہے۔ وہاں چھوٹے یا بڑے کی کوئی قید نہیں ہوتی

تیرہ ہزار یا آٹھ میں بجٹ بنانا کوئی مشکل نہیں۔ غریبوں کے گھر نہ تو اے سی ہوتا ہے اور نہ ہی ٹیلی فون یا بجلی کے لمبے لمبے بل اور نہ ہی اسے ہوٹلنگ کا شوق ہوتا ہے۔ ڈیرہ شہر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں مزدور لوگ پانچ سو یا آٹھ سو روپے ماہوار کرائے میں رہتے ہیں۔ اکثر مزدور شہر کے باہر سے شہر آتے ہیں

کہنے کا مطلب یہ نہیں‌کہ صورتحال بالکل پرفیکٹ ہے۔ کہنے سے مراد یہی ہے کہ اتنی بری بھی نہیں جتنی کہ ہم دکھانا چاہ رہے ہیں
 

قیصرانی

لائبریرین
ایک سوال کا جواب اگر کوئی دے سکے؟

اگر موجودہ بجٹ اتنا ہی برا ہے، ملکی معیشی صورتحال اتنی ہی بری ہے، لوگ اتنے ہی غریب ہیں، سب کچھ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے تو پھر اس ملک کی اتنی بڑی آبادی کیسے زندہ ہے؟ یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟
 
اب یہ تو وہی بات ہوئی جیسے حکومت دلیل دیتی ہے کہ پانچ کروڑ لوگوں سے زیادہ اب موبائل فون استعمال کررہے ہیں، غربت کہاں ہے؟؟؟
اور ایک واقعہ میرے ذہن میں واضح نہیں۔۔۔ شاید ٹماٹروں کا تھا کہ پچھلے دنوں بہت مہنگے ہوگئے تو ایک وزیر صاحب کہنے لگے، ٹماٹر استعمال کرنا ہی چھوڑ دیں۔۔۔
اس طرح کی باتوں کرکے حقیقت سے منہ تو نہیں پھیرا جاسکتا۔ عوام میں آیئے، غیر سیاسی لوگوں سے بات کریں گے نا تو سب صرف ایک بات کہیں گے، مہنگائی ختم کروادو، حکومت بھلے یہی رہے۔۔۔ عام آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے۔
ڈیڑھ دو سال میں گھی کی قیمت چھیالیس (46) روپے فی کلو سے بڑھ کر 80، 86 روپے ہوگئی ہے۔۔۔ چینی کی قیمت 19،20 روپے سے اب تیس روپے کا ہندسہ عبور کرچکی ہے۔۔۔ عام آدمی کے لیے تو سب سے زیادہ مشکل یہ مہنگائی کھڑی کرتی ہے نا۔
فرضی باتیں چھوڑیئے۔۔۔ حقیقت کی بات بتاتا ہوں۔ میرے ساتھ دفتر میں ایک صاحب ہیں۔ شادی شدہ ہیں۔ اپنی بیگم اور تین بچیوں کے ساتھ رہتے ہیں۔ پچھلے سال ہی وہ یہاں آئے۔ ان کی تنخواہ 5000 روپے مقرر ہوئی۔ اب مختصرا ان کا خرچہ دیکھیے۔ 3000 روپے تو انہوں نے مکان کے کرائے میں دیدیے۔ 800 روپے کے قریب ان کا آنے جانے کا خرچہ ہوگیا۔ باقی بچے 1200 روپے۔ آپ سوچیں۔۔۔ کیا بارہ سو روپے میں گھر چل سکتا ہے اس مہنگائی کے عالم میں؟؟؟
 

نبیل

تکنیکی معاون
یہ واقعی ایک حیرت انگیز بات ہے کہ ملک واقعی کیسے چل رہا ہے؟

میں نے غالباً شہاب نامہ میں پڑھا تھا کہ پاکستان ایک ایسی لاش کی مانند ہے جسے سب گدھوں کی طرح نوچ رہے ہیں لیکن یہ لاش ختم ہونے میں نہیں آ رہی۔

یہ بات آج سے قریباً چالیس سال پہلے کہی گئی تھی۔ اس تناظر میں تو لگتا ہے کہ لاش کے حجم میں اضافہ ہوگیا ہے۔

رہا یہ سوال کہ معیشت کی ایسی صورتحال میں آبادی کا اتنا بڑا حصہ کیسے زندہ ہے تو غربت کی سطح سے نیچے رہ کر بھی لوگ زندہ رہتے ہیں۔ بھوک اور افلاس کے مارے لوگ بھی زندہ رہتے ہیں۔ زندہ وہ بچے بھی رہتے ہیں جن کا کوئی والی وارث نہیں رہتا۔ ان کو جا کر اطلاع دینی چاہیے کہ وہ آفیشل فگر کے مطابق اتنی اوسط آمدنی رکھتے ہیں۔

دوسری بات بھی درست ہے کہ ہم خود مزدور کو اس کا حق کتنا ادا کرتے ہیں؟
 

پاکستانی

محفلین
قیصرانی نے کہا:
ڈیرہ شہر میں کئی علاقے ایسے ہیں جہاں مزدور لوگ پانچ سو یا آٹھ سو روپے ماہوار کرائے میں رہتے ہیں۔ اکثر مزدور شہر کے باہر سے شہر آتے ہیں

کہنے کا مطلب یہ نہیں‌کہ صورتحال بالکل پرفیکٹ ہے۔ کہنے سے مراد یہی ہے کہ اتنی بری بھی نہیں جتنی کہ ہم دکھانا چاہ رہے ہیں

پانچ سو یا آٹھ سو روپے والی کس دور کی بات ہے بھیا
ایوب یا ضیاء کے دور والی باتیں نہ کریں، مشرف دور کی بات کریں جہاں ایک ہی بار (یکمشت) 23 روپے کلو گھی کے پیچھے اضافہ کر دیا جاتا ہے۔
 

پاکستانی

محفلین
قیصرانی نے کہا:
ایک سوال کا جواب اگر کوئی دے سکے؟

اگر موجودہ بجٹ اتنا ہی برا ہے، ملکی معیشی صورتحال اتنی ہی بری ہے، لوگ اتنے ہی غریب ہیں، سب کچھ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے تو پھر اس ملک کی اتنی بڑی آبادی کیسے زندہ ہے؟ یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟

آپ کے خیال میں لوگ کیا کریں؟
کہیں مر مرا جائیں یا خودکشیاں کر لیں؟

اس دکھ اور کانٹے کے اس درد کو سمجھنے کے لئے آپ کو ایک رات کسی غریب کی جھوپڑی میں گزارنی ہو گی۔
 

پاکستانی

محفلین
قیصرانی نے کہا:
باقی جہاں آٹھ یا نو افراد کے کنبے کی بات ہے تو اس سلسلے میں‌ حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آٹھ یا نو افراد جو بھی ہوتے ہیں، یہ سب والدین کا اپنا کرشمہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی دیکھئے کہ غریب کے گھر میں ہر فرد کام کرتا ہے۔ وہاں چھوٹے یا بڑے کی کوئی قید نہیں ہوتی

اس میں والدین کا کون سا کرشمہ کارفرما ہے بھیا
جس گھر میں 3 افراد کمانے والے ہوں گے تو ان کی کم سے کم تعداد 8 تو بنتی ہی ہے۔ (یہ تعداد صرف بڑوں کی ہے ان میں بچے شامل نہیں ہیں۔




کمال ہے آپ کو یہ تینوں افراد کنوارے ہی کیوں نظر آتے ہیں :lol:
 

فرحت کیانی

لائبریرین
قیصرانی نے کہا:
ایک سوال کا جواب اگر کوئی دے سکے؟

اگر موجودہ بجٹ اتنا ہی برا ہے، ملکی معیشی صورتحال اتنی ہی بری ہے، لوگ اتنے ہی غریب ہیں، سب کچھ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے تو پھر اس ملک کی اتنی بڑی آبادی کیسے زندہ ہے؟ یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟
بہت اچھی بحث ہو رہی ہے۔۔ کانٹے کے درد کا احساس وہی کر سکتے ہیں جن کو کبھی کانٹا چبھا ہو۔۔۔
قیصرانی آپ کی اس بات کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ اگر صرف سانس کے آنے جانے کو آپ زندگی کہتے ہیں تو واقعی یہ لوگ زندہ ہیں۔۔ورنہ غربت کی لائن سے نیچے زندگی گزارنے والوں سے لیکر سفید پوش مڈل کلاس پاکستانی جس طرح کی زندہ ہیں ۔۔وہ وہی جانتے ہیں۔۔اور کبھی قومی اخباروں کے اندرونی صفحوں کو بھی دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ کس طرح کیڑے مکوڑوں کی طرح زندگیاں ختم ہو رہی ہیں اس غربت کے ہاتھوں۔۔
 

ابوشامل

محفلین
میرے خیال میں‌ زمینی حقائق کو مدنظر رکھا جائے اور حقیقت یہ ہے کہ غریب کا حال روز بروز پتلا ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت صرف اعلان کرتی ہے کہ کم از کم تنخواہ 4600 ہوگی۔ جبکہ اس پر سوائے سرکاری دفاتر کے کہیں‌ عملدرآمد نہیں‌ ہوتا۔ اور سب کو معلوم ہوگا کہ سرکاری نوکریوں‌ پر عرصۂ دراز سے پابندی عائد ہے۔ مزدور 50 سے 100 روپے روزانہ (دیہاڑی) پر کام کرتے ہیں، اور ان روپوں کی کیا حیثیت ہے؟ کبھی آزما کر دیکھیے گا۔

قیصرانی بھائی! میں‌ تمام اراکین محفل کے ساتھ ساتھ آپ کی بے حد عزت کرتا ہوں‌ لیکن آپ نے جو جملے لکھے ہیں، براہ کرم ایسے جملے ادا کرکے ان غریبوں‌ کے زخموں‌ پر نمک نہ چھڑکیے، کم از کم ہم ان کی مدد نہیں‌ کر سکتے تو ان کا دل تو نہ توڑیں۔ برا نہ منائیے گا میرا مقصد ہر گز آپ کی دل آزاری نہیں‌ بلکہ ایک دوست سمجھتے ہوئے اصلاح ہے۔ خصوصا مجھے آپ کے درج ذیل چند جملوں سے بہت تکلیف پہنچی ہے کہ آپ کو ان کے درد کا احساس ہی نہیں:

جہاں آٹھ یا نو افراد کے کنبے کی بات ہے تو اس سلسلے میں‌ حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے۔ آٹھ یا نو افراد جو بھی ہوتے ہیں، یہ سب والدین کا اپنا کرشمہ ہوتا ہے۔

اور

تیرہ ہزار یا آٹھ میں بجٹ بنانا کوئی مشکل نہیں۔ غریبوں کے گھر نہ تو اے سی ہوتا ہے اور نہ ہی ٹیلی فون یا بجلی کے لمبے لمبے بل اور نہ ہی اسے ہوٹلنگ کا شوق ہوتا ہے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
میری رائے میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن یا ناخواندگی نہیں ہے، بلکہ سب سے پہلے نمبر پر آبادی کا بے ہنگم اضافہ ہے۔

ہمیں اس موضوع پر الگ ڈورا شروع کرنا چاہیے اور اسکے عوامل پر غور کرنا چاہیے۔ مجھے بہت حیرت ہو رہی ہوتی ہے کہ ہمارے ملک کے چند طبقے خاندانی منصوبہ بندی کے اتنے خلاف کیوں ہیں۔

(اور اگر کھل کر کہنے کی اجازت ہو تو یہ طبقے زیادہ تر شدید مذھبی لگاؤ رکھتے ہیں اور اس بنیاد پر خاندانی منصوبہ بندی کی بند آنکھوں سے مخالفت کرتے ہیں (اس مسئلے پر انکو کوئی دلیل دینا بھینس کے آگے بین بجانا کے برابر ہے)

جس طریقے سے پاکستان کی آبادی بڑھ رہی ہے، تو بے شک آپ عمران خان کو لا کر بٹھا دیں اور وہ بھی اس سے بہتر بجٹ نہیں بنا سکے گا۔ بات وہی ہے کہ پاکستان کے مسائل کے لحاظ سے ہمیں ہمیشہ ایسا ہی بجٹ دیکھنے کو ملے گا چاہے حکومت میں آپ جس کو چاہے بٹھا دیں۔ یہاں مسئلہ یہ ہو رہا ہے کہ چونکہ مشرف صاحب حکومت میں ہیں اس لیے ساری توپوں کے نشانے انہی کی طرف ہیں۔
 

قیصرانی

لائبریرین
اب میں اس بارے کیا کہہ سکتا ہوں کہ آپ لوگوں نے جو ایک نظریہ قائم کر لیا، اس میں تبدیلی لانا گوارا نہیں کرتے

دس ہزار میں تو اچھے خاصے کھاتے پیتے بلکہ چھلکاتے گھرانے کا بھی بجٹ بن سکتا ہے، اگر اس میں بجلی (اے سی وغیرہ)، فون اور عیش و عشرت کو نہ ڈالا جائے

کبھی یہ سوچا ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں، جو بجٹ کے پیچھے ہم پڑ جاتے ہیں، کیا ہماری اپنی بھی کوئی کمی ہے اس میں؟ پاکستانی بھائی اور دیگر دوست، براہ کرم، ایک بار، سچے دل سے یہ بتائیں کہ آپ کتنے ایسے افراد کو ذاتی طور پر جانتے ہیں جو دن میں کم از کم ایک یا دو وقت بھوکے رہتے ہیں اور جن کے پاس پہننے کو کپڑے نہیں ہیں؟ یا وہ کسی ایسی بیماری میں مبتلا تھے جس کا علاج ان کے اپنے بس سے باہر تھا۔ یہ خیال رہے کہ ایسے افراد نشہ، سیگرٹ وغیرہ کی لت سے پاک ہوں (کیوں کہ میں نہیں‌سمجھتا کہ یہ نشے یا لتیں ایسی ہیں جن میں دوسروں کا قصور ہے)

یہ ہم سب ناشکری کرتے ہیں کہ اچھے بھلے لوگوں کو غریب بن جانے کا شوق چڑھتا ہے۔ میرے علم میں ایک لطیفہ ہے

ایک صاحب مسٹر ایکس فرض کر لیں، ان کے پاس کوئی سو مربعے نہری زمین ہے، دریا کے کنارے۔ ایک بار بجٹ کا سن کر وہ فرما رہے تھے کہ یار یہ کیا بکواس ہے۔ غریبوں کے لئے اس میں‌کیا فائدہ ہے؟ ایسا بجٹ بنانے والوں کو تو گولی مار دینی چاہیئے۔ میں نے سوال کیا کہ غریبوں سے کیا مراد ہے آپ کی؟ تو وہ کہنے لگے کہ تم بتاؤ، مجھے کیا فائدہ پہنچا اس بجٹ سے؟

پاکستان کو لاش کی مثال دینا غلط ہوگا۔ میرا ہمسائیہ ہے یہاں، سکاٹش ہے وہ۔ کل اس کے سمر کاٹیج پر ہم لوگ گئے ہوئے تھے۔ اس نے ایک سوال کیا کہ پاکستان کو ہر سیاستدان اور ہر لیڈر نوچ رہا ہے۔ ہر ممکن چیز کو کھایا اور بیچا جا رہا ہے۔ پاکستان ابھی تک بچا کیسے ہوا ہے؟ اگر یہ حشر انگلینڈ یا امریکہ کے ساتھ کیا جائے (یعنی انہیں اتنے لمبے عرصے تک کھایا جائے) تو وہ بھی ختم ہو جائیں گے

پاکستانی بھائی، بات ہوئی تھی غریبوں کے جھونپڑ کی۔ ڈیرہ غازی خان میں نئی بکر منڈی کے آس پاس جو کچی آبادی ہے، اس میں بجلی کے کنکشن کے ساتھ تین سے پانچ سو روپے میں رہائش مل جاتی ہے۔ جھونپڑ سے مراد یہاں گھاس پھونس نہیں، کچا مکان ہے۔ ایوب دور کی بات کرنے سے کیا فائدہ؟ اب براہ کرم یہ مت کہیئے گا مزدور کو یا پھر غریب کو شہر کے مرکز میں رہائش کی مثال کیوں نہیں دی

ہمارا گاؤں پنجاب کے بلکہ پاکستان کے پسماندہ ترین علاقوں میں سے ایک ہے جہاں نہری پانی نہیں اور ساری کاشتکاری بارشوں کے سہارے ہوتی ہے۔ ادھر بھی میں نے آج تک کوئی ایسا بندہ نہیں دیکھا جو کہ دن میں دو یا تین بار کھانا نہ کھاتا ہو اور ہر دوسرے یا تیسرے دن گوشت یا موسم کی تازہ سبزی (یہ اس لئے کہا کہ غربت کو ناقص خوراک سے بھی جوڑا جاتا ہے) اس کے گھر نہ پکتی ہو یا وہ ننگا پھرتا ہو

کبھی آپ لوگوں نے یہ سوچا کہ ہمارے ہوٹلوں، چائے کے ڈھابوں پر جو سینکڑوں افراد روز سارا سارا دن گذارتے ہیں، وہ کہاں سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں؟ سارا دن ٹی وی دیکھنا، چائے پینا، سیگرٹ سے شوق کرنا اور پھر کھانا بھی ہوٹل پر کھانا، اس کے باوجود بھی وہ لوگ غریب کہلاتے ہیں

دن میں‌ ہم کتنے ایسے افراد کو دیکھتے ہیں جو ہر ممکن جگہ پر اپنا وقت ضائع کرتے ہیں، لیکن کوئی کام ان سے نہیں‌ ہوپاتا؟

غربت کے لئے یہ بات بھی یاد رہے کہ ہماری آبادی کا ایک بڑا حصہ کاشتکاری سے وابستہ ہے۔ ان کی اکثریت کے پاس کھانے کو اتنا کچھ ہوتا ہے کہ قتل و غارت گری تک نوبت آ جاتی ہے
 

ساجداقبال

محفلین
قیصرانی نے کہا:
ًًُدوسری بات، ہمارے حزب مخالف کے سیاست دان اور اکثر کالم نگار یہ بات بڑے شوق اور وثوق سے کہتے ہیں کہ 4600 روپے میں‌ بجٹ بنانا ایک ناممکن امر ہے۔ یہ بات کیوں‌ بھول جاتے ہیں کہ غریب کے گھر میں ایک فرد کام نہیں کرتا، بلکہ عموماً دو یا زائد افراد کام کر رہے ہوتے ہیں۔ ہر فرد کو اگر سرکاری طور پر مقرر کی گئی کم از کم اجرت یعنی 4600 روپے ملے تو آپ خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان کی گھریلو حالت اتنی بری نہیں‌ ہوگی جتنی کہ پیش کی جا رہی ہے۔ البتہ یہ ایک امر محال ہے کہ ہم لوگ غریب کو اس کی سرکاری طور پر طے کردہ کم سے کم اجرت دینے پر تیار ہو جائیں
ایک سوال کا جواب اگر کوئی دے سکے؟
اگر موجودہ بجٹ اتنا ہی برا ہے، ملکی معیشی صورتحال اتنی ہی بری ہے، لوگ اتنے ہی غریب ہیں، سب کچھ اتنا ہی برا ہے جتنا کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے تو پھر اس ملک کی اتنی بڑی آبادی کیسے زندہ ہے؟ یہ ملک کیسے چل رہا ہے؟
قیصرانی بھائی معاف کیجیے آپ سے ایسی باتوں کی اُمید نہیں تھی۔ غریب کے گھر ایک بندہ کام نہیں کرتا، یہ کیسی بات ہے؟ اگر کوئی بچہ والدین کا واحد سہارا ہو تو؟ یا اسکے علاوہ ساری بہنیں ہوں تو؟ اور مثال 4 بھائی اور والد ہوں تو اس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ سب کو روزگار ملے گا؟ اور کیا یہ بھی ضروری ہے کہ تمام کی تنخواہ4600ہوگی؟
دوسری بات کہ آبادی کیسے زندہ ہے۔ تو جناب اطلاعا عرض ہے کہ غریب لوگوں کو اللہ پالتا ہے۔ امراء ممکن ہے یہ سمجھتے ہوں کہ انہیں انکے ممی ڈیڈی پالتے ہیں۔
 
Top