ڈارون کا نظریہ ارتقا کیوں درست ہے؟

محمد سعد

محفلین
ہمممم۔

مجھے علم تھا آخر میں وہی پرانی ون ٹو تھری، فور۔۔۔ کی گردان چلے گی۔
بارہ۔
آصف اثر
اب تک آپ اس لڑی پر دس مراسلے لکھ چکے ہیں۔ ان میں سےایک میں بھی کوئی ایسی دلیل نہیں جو حقیقی دنیا کے مشاہدے اور ڈیٹا پر مشتمل ہو۔ کیا اس کا مطلب یہ سمجھا جائے کہ آپ کے پاس کوئی ایسی دلیل سرے سے ہے ہی نہیں، اس لیے موضوع بدلنے اور دوسروں کے ایمان پر اعتراضات اٹھانے کی red herring کا استعمال کیے جا رہے ہیں؟
 

محمد سعد

محفلین
آپ کو گنتی مبارک ہو۔
تیرہ۔
تیرہ تبصرے کر چکے۔ ایک بھی ایسی دلیل نہیں کہ جس میں آپ نے کسی ایسے حقیقی ڈیٹا کی طرف اشارہ کیا ہو جو ارتقاء کو غلط ثابت کرتا ہو۔
سارا زور دوسروں کے ایمان پر انگلیاں اٹھانے اور ان کو قادیانیوں کے ساتھ جوڑنے پر ہے۔
 

آصف اثر

معطل
تیرہ۔
تیرہ تبصرے کر چکے۔ ایک بھی ایسی دلیل نہیں کہ جس میں آپ نے کسی ایسے حقیقی ڈیٹا کی طرف اشارہ کیا ہو جو ارتقاء کو غلط ثابت کرتا ہو۔
سارا زور دوسروں کے ایمان پر انگلیاں اٹھانے اور ان کو قادیانیوں کے ساتھ جوڑنے پر ہے۔
آپ کے اس دعوے کی رو سے آپ یہ کہہ چکے ہیں کہ شریعت ارتقا کے حق میں اشارہ کرتی ہے۔

جہاں تک الوہی توجیہ کی بات ہے تو ارتقاء کی بھی الوہی توجیہ ہو سکتی ہے کہ خدا نے زندگی کو ارتقاء کے عمل کے ذریعے پیدا کرنا پسند کیا۔ ایسے میں حقیقتاً کیا ہوا، اس میں آپ فرق مذہبی اندازوں کے ذریعے کر ہی نہیں سکتے اور آپ کو بہرحال حقیقی دنیا کے مشاہدے کی طرف ہی آنا پڑے گا۔ تو مہربانی کر کے سائنس کی ڈومین میں آنے والے موضوع کو سائنس ہی کی طرح ٹریٹ کریں۔
البتہ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ ارتقا محض سائنس کی ڈومین کا موضوع ہے تو یہ آپ کے پہلے دعوے کی نفی کرنے کے ساتھ ساتھ اتنے اہم موضوع پر شرعی احکامات سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ جس کا ثبوت آپ کی جانب سے ویکیپیڈیا اور چند دیگر لنکس دے کر جان چھڑانے کی کوشش ہے۔
 

آصف اثر

معطل
تیرہ۔
تیرہ تبصرے کر چکے۔ ایک بھی ایسی دلیل نہیں کہ جس میں آپ نے کسی ایسے حقیقی ڈیٹا کی طرف اشارہ کیا ہو جو ارتقاء کو غلط ثابت کرتا ہو۔
سارا زور دوسروں کے ایمان پر انگلیاں اٹھانے اور ان کو قادیانیوں کے ساتھ جوڑنے پر ہے۔
اگر آپ شریعت کو اس قابل نہیں سمجھتے تو برملا کہہ دیں کہ شریعت میں اس حوالے سے کوئی رہنمائی نہیں ہے۔ بات اتنی سی ہے۔ لیکن آپ یہ بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ چیلنج سمجھ کر ہی کچھ ہمت کریں۔
 

محمد سعد

محفلین
آپ کے اس دعوے کی رو سے آپ یہ کہہ چکے ہیں کہ شریعت ارتقا کے حق میں اشارہ کرتی ہے۔
کیا واقعی؟ میرے الفاظ تو یہ ہیں۔
جہاں تک الوہی توجیہ کی بات ہے تو ارتقاء کی بھی الوہی توجیہ ہو سکتی ہے کہ خدا نے زندگی کو ارتقاء کے عمل کے ذریعے پیدا کرنا پسند کیا۔ ایسے میں حقیقتاً کیا ہوا، اس میں آپ فرق مذہبی اندازوں کے ذریعے کر ہی نہیں سکتے اور آپ کو بہرحال حقیقی دنیا کے مشاہدے کی طرف ہی آنا پڑے گا۔ تو مہربانی کر کے سائنس کی ڈومین میں آنے والے موضوع کو سائنس ہی کی طرح ٹریٹ کریں۔ آپ خود کو ہر جگہ سائنس کا طالب علم بتاتے ہیں۔ ایسے میں ارتقاء پر سائنسی نکتہ نظر سے بحث کرنے میں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہیے۔
اور یہ
ارتقاء کے متعلق مسلمانوں میں مختلف سکول آف تھاٹ اور ان کے دلائل کی تفصیل پر ایک مختصر ریسرچ پیپر۔
Ghafouri-Fard, S., & Akrami, S. M. (2011). Man evolution: An Islamic point of view. European Journal of Science and Theology, 7(3), 17-28.
PDF: https://www.researchgate.net/profil...nt_of_view/links/56b1c22308aed7ba3fec0c4e.pdf

اسی طرح وکیپیڈیا پر بھی کافی تفصیل دیکھی جا سکتی ہے کہ کیسے شرعی ذرائع ہی کی مختلف تشریحات کرتے ہوئے لوگ مختلف نتیجوں پر پہنچتے ہیں۔
Islamic views on evolution - Wikipedia

ایسے میں صرف مذہبی نصوص کی تصوراتی تشریحات پر مبنی اپروچ کی کمزوریاں واضح نظر آ رہی ہیں۔ ایک ایسی اپروچ جو مختلف لوگوں کو مختلف نتائج تک پہنچا رہی ہو، درست اور غلط کا فیصلہ کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ آپ کو حقیقی دنیا کے مشاہدے کی طرف بہرحال آنا ہی پڑے گا۔

اور آپ سے میرا یہ سوال ابھی تک حل طلب ہے۔
آپ حقیقی ڈیٹا کے تجزیے سے اتنا کترا کیوں رہے ہیں؟ یہ اصرار کیوں کر رہے ہیں کہ اسلام میں حقیقی مشاہدے کی کوئی گنجائش نہیں؟ کیا یہ جتا کر کہ اسلام حقیقی دنیا سے الٹ دعوے کرتا ہے، آپ اسلام کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں؟

چودہ۔
 

آصف اثر

معطل
دیکھیں میں دونوں تناظر میں بات کرنے کو تیار ہوں، بات صرف ترتیب کی ہے۔ جس سے آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
لیکن آپ شریعت کو مبہم بنا کر صرف انسانی خیالات کو ہی مستند ٹھہرانا چاہتے ہیں۔
 
آخری تدوین:

محمد سعد

محفلین
اگر آپ شریعت کو اس قابل نہیں سمجھتے تو برملا کہہ دیں کہ شریعت میں اس حوالے سے کوئی رہنمائی نہیں ہے۔ بات اتنی سی ہے۔ لیکن آپ یہ بھی ثابت نہیں کرسکتے۔ چیلنج سمجھ کر ہی کچھ ہمت کریں۔
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی ڈیٹا قرآن سے اختلاف کرتا ہے؟ ایسے میں مسئلہ تو آپ کی سوچ میں ہے کہ آپ اتنے بڑے بول بولنے کے باوجود شریعت کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ایک غیر جانبدار تجزیے میں اپنے آپ کو درست ثابت کر سکے۔

پندرہ۔
 

آصف اثر

معطل
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ حقیقی ڈیٹا قرآن سے اختلاف کرتا ہے؟ ایسے میں مسئلہ تو آپ کی سوچ میں ہے کہ آپ اتنے بڑے بول بولنے کے باوجود شریعت کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ وہ ایک غیر جانبدار تجزیے میں اپنے آپ کو درست ثابت کر سکے۔

پندرہ۔
میرے نزدیک شریعت کی اہمیت انسانی ڈیٹا سے زیادہ ہے۔ جب کہ آپ صرف انسانی ڈیٹا پر اصرار کرکے شریعت سے بھاگنا چاہتے ہیں۔

نتیجہ:
میں دونوں طرح سے تیار ہوں۔
آپ شریعت سے فرار ہوکر صرف ڈیٹا پر مصر ہیں۔
 

محمد سعد

محفلین
میرے نزدیک شریعت کی اہمیت انسانی ڈیٹا سے زیادہ ہے۔ جب کہ آپ صرف انسانی ڈیٹا پر اصرار کرکے شریعت سے بھاگنا چاہتے ہیں۔
یہ تو الفاظ گھما کر آپ یہی کہہ رہے ہیں کہ شریعت، حقیقی دنیا کے مشاہدے کے مقابلے میں غلط ثابت ہوتی ہے۔
ورنہ اگر آپ کے نزدیک انسان کا اکٹھا کیا ہوا ڈیٹا غلط ہے تو آپ اس کی کمزوریاں کیوں نہیں بیان کر دیتے؟

سترہ۔
 

محمد سعد

محفلین
آصف اثر
آپ کو کھلی دعوت ہے۔ اگر آپ کے نزدیک ارتقاء ایک غلط "انسانی خیال" ہے تو آپ حقیقی مشاہدے کی روشنی میں اس کی کمزوریاں اجاگر کر کے دین کی خدمت کر سکتے ہیں۔
 

جان

محفلین
وہی ہوا نا جس کا تذکرہ ہم نے شروع میں ہی کر دیا تھا۔ تاریخ ایک ایسا سبق ہے جو ہمیں وقت سے پہلے بتا دیتا ہے کہ ہمارے کس عمل کا کیا نتیجہ نکل سکتا ہے!
میں مختصراً بیان کرنا چاہوں گا کہ یہ مسئلہ صرف برصغیر پاک و ہند تک ہی محدود نہیں اور نہ ہی اسلام تک محدود ہے۔ ماضی میں جتنے بھی نبی آئے اور امتیں آئیں سب میں ہی یہ مسئلہ مشترک ہے کیونکہ سب میں انسان اور اس کی فطرت مشترک ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ نبی آتا ہے، اللہ کا پیغام دیانتداری سے پھیلاتا ہے، نبی وہ شخص ہوتا ہے جو اس معاشرے میں سب سے زیادہ آزاد خیال ہوتا ہے کیونکہ رجعت پسند سوچ میں تبدیلی لانے کی قوت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔ وہ رجعت پسندوں کے عقائد کے خلاف بات کرتا ہے تو رجعت پسندوں کو تکلیف ہوتی ہے کیونکہ وہ اپنے باپ دادا کے مذہب کے خول سے باہر نکلنے کا حوصلہ ہی نہیں رکھتے۔ نبی اپنا کام بخوبی انجام دیتا ہے اور دنیا سے رحلت فرما جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ہوتا ہے کہ دھیرے دھیرے رجعت پسندوں کا مذہب پہ پھر قبضہ ہو جاتا ہے، وہ اپنے خیالات سے مذہب کی تشریح کرتے ہیں اور اسے سیاسی قوت حاصل کرنے کے لیے ایک آلہ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب چونکہ فطری مشاہدات کے ان خیالات پر مبنی تشریح کے برعکس ہونے کے امکانات موجود ہوتے ہیں تو جو بھی شخص اس بات کی طرف نشاندہی کرتا ہے اسے مذہب کا سہارا لے کر کافر قرار دے کر سزا دی جاتی ہے اور ذلیل کرنے کے سارے آمرانہ طریقے اختیار کیے جاتے ہیں اور اپنی قوت و 'ایمان' دونوں بچائے جاتے ہیں۔ یہ سلسلہ یونہی چلتا رہتا ہے اور زور پکڑتا رہتا ہے کہ اللہ میاں نیا نبی بیجھتے ہیں اور پھر سی وہی سائیکل شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیے ایسی سوچ کا مظہر نہ تو نیا ہے اور نہ ہی قابلِ تعجب، خاص کر اس شخص کے لیے جو تاریخ کو مقدس بنانے کی بجائے اس سے سبق سیکھتا ہے۔ قران کریم میں نبیوں اور ان کی قوم کے متعلق واقعات موجود ہیں جو اگر تاریخ میں دلچسپی نہیں رکھتا وہ یہ نتائج قران پاک سے بھی اخذ کر سکتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر یہ دعوی بھی کرتے ہیں کہ ان کو خواب میں نبی کریم کی زیارت ہوئی اور انہوں نے اسے کوئی بشارت دی، غور کریں کہ پادری بھی صلیبوں جنگوں میں ایسے ہی دعوے کرتے رہے ہیں اور صرف عیسائی ہی نہیں بلکہ یہودی بھی ماضی میں ایسے ہی دعوے کرتے رہے ہیں۔ تاریخ بھری پڑی ہے ایسے واقعات کی اس لیے ایسی سوچ رکھنا کوئی انوکھی بات نہیں، بس اسے محسوس کرنے کے لیے بغض سے پاک تجسسانہ فطرت چاہیے!
آپ قادیانیوں کی طرح شریعت کواس قابل نہ سمجھ کر یہ ابہام پھیلانا چاہتے ہیں
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ارتقاء کا نظریئے کائناتی زندگی کے بارے میں تمام (نوعیت کے) سوالات کا جواب دیتا ہے ؟
زیادہ عمومی انداز میں یہ کہ ارتقاء کے نظریئے کی حدود کیا ہیں ؟
کیا یہ بلا حدود و ثغور ایک "مکمل" مسلمہ حقیقت ہے ؟
ماڈرن بیالوجی کو ارتقاء کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے
 

آصف اثر

معطل
یہ تو الفاظ گھما کر آپ یہی کہہ رہے ہیں کہ شریعت، حقیقی دنیا کے مشاہدے کے مقابلے میں غلط ثابت ہوتی ہے۔
ورنہ اگر آپ کے نزدیک انسان کا اکٹھا کیا ہوا ڈیٹا غلط ہے تو آپ اس کی کمزوریاں کیوں نہیں بیان کر دیتے؟

سترہ۔
فرض کرتےہیں آپ کے پاس مشاہداتی ڈیٹا نہ ہو تو پھر آپ کے ایمان کا کیا ہوگا؟
کیا یہ بہانا کرکے کہ ہمارے پاس چوں کہ ڈیٹا موجود نہیں لہذا قرآن سے ختمی فیصلہ نہیں کرایا جاسکتا، ایک مسلمان کے لیے درست طرز فکر ہوسکتاہے؟
اس کو ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھیے کہ آج سے سو سوا سو سال تک ہی سہی، قرآن مجید کو نازل ہوئے تقریبا 1300 سال ہوئے ہیں۔ کیا اس دوران معاذاللہ قرآن مجید اس بات کو بیان کرنے سے قاصر رہا کہ جو کتابِ مبین انسان جیسی عظیم الشان مخلوق پر نازل ہوئی، وہ خود ان ہی کے حوالے سے مبہم رہا، حالاں کہ قرآن کا مخاطب ہی انسان ہے؟
 

آصف اثر

معطل
آپ کے مسلسل ایک جگہ دھرنا دینے پر میں اپنے پیشکش کو کچھ اور بڑا کرتاہوں۔
میرا شروع سے چوں کہ مؤقف واضح ہے کہ ایک ایسے فرد سے جو خود کو مسلمان کہتا ہو، ارتقا کے حوالے سے سب سے پہلے شریعت کے تناظر میں بات ہوگی پھر انسانی ڈیٹا کے تناظر میں۔ یہ کبھی بھی نہیں ہوسکتا کہ ایک طرف تو ایمان کا دعوی ہو اور دوسری طرف وہ ایمان ڈیٹا کا محتاج ہو۔ اوپر سے کھلم کھلا احکامِ الہی کے بارے میں ابہام پھیلانے کا قادیانی طرزِ عمل۔
لہذا اس ضمن میں اگر آپ کسی بھی صورت صرف اور صرف ڈیٹا پر اصرار کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تو پھر کسی ایسے فرد کو یہاں آئی ڈی بنا کر دیجیے جو غیر مسلم ہو اور خصوصا ملحد ہو، تاکہ میرا یہ بہانا ختم ہوسکے کہ پہلے شرعی احکامات کی روشنی میں بات ہوگی پھر ڈیٹا کے سہارے۔
بالفاظ دیگر آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ آپ ڈیٹا کی مدد سے یہ بات ثابت ہوتا دیکھ سکے کہ ارتقا مشاہداتی پیمانے پر کیوں غلط ہے۔
اگر آپ اس پر بھی راضی نہیں ہے تو دیکھتے ہیں کوئی اور حل نکل آئے۔

جب کہ آپ دوسروں کے کمزور دلائل پر تکیہ کرنے کے بجائے خود اس بات کی وضاحت کریں کہ کیوں شریعت اتنے اہم واقعے کے حوالے سے ہماری رہنمائی نہیں کرسکتی۔
نوازش ہوگی۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
ماڈرن بیالوجی کو ارتقاء کے بغیر سمجھنا ناممکن ہے
بائیو ڈائیورسٹی کی جو تشریح ارتقاء کے ذریعے ہوئی اس سے بہتر کوئی تھیوری ہے ہی نہیں کیوں کہ اسے سائنسی مشاہدات کی تصدیق سے اخذ کیا گیا ہے ۔ یہ نظریہ کئی اشکال میں سیکڑوں سالوں سے موجود ہے لیکن ہمارے ہاں عموماََ (چارلس ڈارون) سے منسوب کردیا جاتا ہے ۔ اس نے بائیو ڈائیورسٹی کے متعلق گہرے مشاہدات اکٹھے کیے اور ان تمام مشاہدات کو چرچ کے روایتی تصورات سے تصادم کی شکل بھی دی۔ اس طرح یہ ارتقاء مذہبی پابندیوں سے چھٹکارا پانے کا ایک ذریعہ اور رفتہ رفتہ اسے ایک جدید مذہب بنا دیا گیا جو سائنسی مشاہدات کی بنیادوں پر استوار ہونے کی وجہ سے بطور ٹوٹل سالوشن پیکج بن گیا :) بے مذہب لوگوں کو سوار ہونے کے لیے ایک رافٹ مل گئی ۔ حقیقت میں اس کا مذہب سے کوئی اصلی تعلق نہیں ۔

مولانا روم کی مثنوی (بارویں صدی) کی ایک جھلک دیکھیئے ۔ جس میں مولانا انسان کی تخلیق کے مراحل بیان کرتے ہیں ۔ کچھ الفاظ پر غور کریں مکمل ترجمے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ یہ بہت تفصیلی اور شاعرانہ انداز بیان ہے صرف منتخب لائنز یہ ہیں ۔یاد رہے یہ ہزاروں ابیات پر مشتمل مثنوی علوم مذاہب اور معرفت کا خزانہ سمجھی جاتی ہے اور تقریبا ہر زبان میں مترجم ہو گی ۔

اطوار و منازل خلقت آدمي از ابتدا
آمده اول به اقليم جماد
وز جمادي در نباتي اوفتاد
سالها اندر نباتي عمر کرد
وز جمادي ياد ناورد از نبرد
وز نباتي چون به حيواني فتاد
نامدش حال نباتي هيچ ياد
باز از حيوان سوي انسانيش
مي کشيد آن خالقي که دانيش
 

محمد سعد

محفلین
فرض کرتےہیں آپ کے پاس مشاہداتی ڈیٹا نہ ہو تو پھر آپ کے ایمان کا کیا ہوگا؟
کیا یہ بہانا کرکے کہ ہمارے پاس چوں کہ ڈیٹا موجود نہیں لہذا قرآن سے ختمی فیصلہ نہیں کرایا جاسکتا، ایک مسلمان کے لیے درست طرز فکر ہوسکتاہے؟
اس کو ایک دوسرے پہلو سے بھی دیکھیے کہ آج سے سو سوا سو سال تک ہی سہی، قرآن مجید کو نازل ہوئے تقریبا 1300 سال ہوئے ہیں۔ کیا اس دوران معاذاللہ قرآن مجید اس بات کو بیان کرنے سے قاصر رہا کہ جو کتابِ مبین انسان جیسی عظیم الشان مخلوق پر نازل ہوئی، وہ خود ان ہی کے حوالے سے مبہم رہا، حالاں کہ قرآن کا مخاطب ہی انسان ہے؟
اٹھارہ۔
 

محمد سعد

محفلین
اوپر سے کھلم کھلا احکامِ الہی کے بارے میں ابہام پھیلانے کا قادیانی طرزِ عمل۔
ایک بار پھر اصل موضوع پر بات کرنے کے بجائے لوگوں کے ایمان پر انگلیاں اٹھانا اور ان پر "قادیانی" کا لیبل لگانا۔

لہذا اس ضمن میں اگر آپ کسی بھی صورت صرف اور صرف ڈیٹا پر اصرار کرنے سے پیچھے نہیں ہٹتے تو پھر کسی ایسے فرد کو یہاں آئی ڈی بنا کر دیجیے جو غیر مسلم ہو اور خصوصا ملحد ہو، تاکہ میرا یہ بہانا ختم ہوسکے کہ پہلے شرعی احکامات کی روشنی میں بات ہوگی پھر ڈیٹا کے سہارے۔
ڈیٹا پر بات کرنے کے لیے کسی کا ملحد ہونا ضروری کیوں ہے؟ غیر متعلقہ۔

بالفاظ دیگر آپ کے لیے ایک سنہری موقع ہے کہ آپ ڈیٹا کی مدد سے یہ بات ثابت ہوتا دیکھ سکے کہ ارتقا مشاہداتی پیمانے پر کیوں غلط ہے۔
یہ کام آپ خود بھی کر سکتے ہیں اگر آپ اس معاملے پر کوئی علم رکھتے ہیں۔ ورنہ جب علم نہ ہو تو خاموشی اختیار کرنا بہتر طرز عمل ہوتا ہے۔

جب کہ آپ دوسروں کے کمزور دلائل پر تکیہ کرنے کے بجائے خود اس بات کی وضاحت کریں کہ کیوں شریعت اتنے اہم واقعے کے حوالے سے ہماری رہنمائی نہیں کرسکتی۔
آپ یہ بتائیں کہ آپ کو یہ خوف کیوں ہے کہ اگر آپ نے حقیقی مشاہدے کا جائزہ لیا تو وہ شریعت سے متصادم ہو جائے گا؟ مسلمان کا یقین تو یہ ہوتا ہے کہ حقیقی دنیا کا مشاہدہ قرآن کی پوزیشن کو مضبوط کر سکتا ہے، کمزور نہیں۔

انیس۔
 
Top