ڈارون ازم کی تردید از فتح اللہ گولن

سید شہزاد ناصر نے 'اسلام اور عصر حاضر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 23, 2013

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,366
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    چلیں آپ فیس بک پر ہی لکھ دیں لیکن یہاں ربط دے دیجیے گا کہ مستٍفیذ ہو سکیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  2. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,356
    موڈ:
    Asleep
    سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ جنہوں نے یہاں پر کمنٹ کیا ہے اور جنہوں نے آرٹیکل پوسٹ کیا ہے ان میں سے کتنے لوگوں نے ارتقا کی تھیوری سائنس کی کتاب سے پڑھ رکھی ہے؟ یا اس تھیوری کے ثبوتوں کے بارے میں جانتے ہیں؟ اور جنہوں نے پڑھا ہے تو ان کو اس پر کیا اعترازات ہیں؟

    آرٹیکل تو انٹرنیٹ پر بہت موجود ہیں، جن کو میں گوگل پر سرچ کر سکتا ہوں۔ تو مہربانی کر کے آرٹیکل پوسٹ نہ کریں۔ اپنے خیالات بیان کریں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ہاں اس میں کوئی مضائقہ نہیں
     
  4. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ اپنے خیالات بیان کریں اعتراض آپ نے اٹھایا ہے :)
     
  5. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    معلوماتی تحریر ہے لیکن مسئلہ پھر وہیں آ جاتا ہے کہ جاندار کے جسم میں خلیئے کی اتنی اہمیت ہے تو ہمیں اس پر ایک لفظ بھی قرآن پاک میں کیوں نہیں ملتا؟ اسی طرح کروموسومز، ڈی این اے وغیرہ کے بارے بھی قرآن پاک خاموش ہے۔ کیا یہاں آن کر قرآن پاک نعوذ باللہ انجان ہو جاتا ہے؟ یا ہم سائنس اور قرآن پاک کو غلط انداز میں ملانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
     
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  6. سید شہزاد ناصر

    سید شہزاد ناصر محفلین

    مراسلے:
    9,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس سوال کا جواب ذرا فرصت کا متقاضی ہے کبھی فرصت میں اس موضوع پر بات کروں گا یہاں پشاور میں سائٹ پر کیا کر سکتا ہوں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,356
    موڈ:
    Asleep
    آپ سب نے اصرار کیا ہے تو میں پہلے پوسٹ پر اپنے خیالات بیان کر رہا ہوں۔ باقی پوسٹ بہت لمبے ہیں اس لئے ان پر کچھ نہیں کہہ سکتا۔

    سب سے پہلی بات تو یہ صاحبِ تحریر فتح اللہ گولن سائنسدان نہیں ہیں، تو اگر وہ کسی بات میں کسی سائنسدان کا ریفرنس دیتے ہیں تو ٹھیک ورنہ تو ان کی بات کو ان کا خیال سمجھا جائے گا جس کی سائنس میں کوئی اہمیت نہیں ہے۔

    دوسری بات: "ڈارون ازم" نام کا کوئی سائنسی نظریہ نہیں ہے۔ "سوشل ڈارون ازم" ایک ترکیب ضرور ہے لیکن اس کا سائنس سے کوئی تعلق نہیں ہے تو میں اس پر بات نہیں کروں گا۔

    ڈارون نے جو نظریہ پیش کیا وہ نظریہ ارتقا یا Theory of evolution کہلاتا ہے۔
    اس کے سب سے اہم مفروضے یہ ہیں:
    - تمام جانداروں کا مورث اعلیٰ(ancestor) مشترک ہے۔
    - ایک ہی قسم کے جانداروں میں بھی مختلف individuals میں فرق ہوتا ہے، کوئی لمبا ہوتا ہے، کوئی زیادہ طاقتور ہوتا ہے وغیرہ۔ وہی جاندار زندہ رہتے ہیں جو ماحول سے زیادہ مطابقت رکھتے ہوں۔

    ڈارون نے سمندری جہاز پر انیسویں صدی کے وسط میں جنوبی امریکہ کا سفر کیا اور وہاں پر بہت جانداروں کا تجزیہ کیا۔ اس میں Galapagos Islands جو کہ چند ایک جزیروں پر مشتمل سمندر میں واقعہ جزیروں کا ایک گروہ ہے۔ ان پر ڈارون کو پرندوں اور کچھوں کی ایسی اصناف ملیں جو ان سے بہت ملتی کلتی تھی جو اس نے جنوبی امریکہ کے جنگلوں میں دیکھی تھیں۔ لیکن وہ کچھ چیزوں میں کافی مختلف تھیں۔ یہ جزیرے خشکی سے اتنے دور ہیں کہ cormorant (پرندے کی قسم) پرندے اڑ کر وہاں پر نہیں جا سکتے۔ تو ایسے cormorant پرندے جو ان جزیروں پر کسی طرح سے (طوفانوں کے زریعے اڑ کر، یا لہروں پر) ان جزیروں پر پہنچ گئے، تو اب ان کے واپس جانے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ ڈارون نے دیکھا کہ حیرت انگیز طور پر جزیروں پر رہنے والے cormorant پرندے اڑنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان جزیروں پر پرندوں کو کھانے والے جاندار (بلیاں وغیرہ) نا پید تھیں تو ان کو اڑنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ پرندے اڑنے کی صلاحیت سے یکسر محروم ہو گئے اور یہ ایک الگ Specy بن گئے۔
    اس کے علاوہ یہاں پر کئی جزیرے تھے اور ہر جزیرے پر پودوں کی تعداد اور ان کی لمبائی مختلف تھی۔ تو ایسے خزیرے جہاں پر گھاس وافر مقدار میں میسر تھی وہاں کے کچھوں کی گردنیں چھوٹی تھیں، اور ایسے جزیرے جہاں گھاس ناپید تھیں اور پودے لمبے تھے وہاں کے کچھوں کی گردنیں لمبی تھیں۔
    [​IMG][​IMG]


    یہ تو میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کہ ڈارون ازم کسی سائنسی نظریے کا نام نہیں ہے۔ ڈارون اور والیس نے جو نظریہ پیش کیا اس کو نظریہ ارتقا کہتے ہیں۔ اور یہ نظریہ کبھی بھی مرا نہیں۔ سائنسدانوں میں یہ پہلے دن سے ہی مقبول تھا۔

    ایسا کوئی سائنسدان نہیں جس نے کسی peer reviewed جریدے میں ایسا کوئی مضمون چھاپا ہو جو اس نظرئے کو پرزہ پرزہ کرے۔ یہ صاحب تحریر کی خام خیالی ہے۔

    پہلے تو صاحب فرماتے ہیں کہ اکثر سائنسدان اس نظرئے کو تسلیم نہیں کرتے اور اب کہہ رہے ہیں کہ اپیکہ و روس مادہ پرست ہیں یعنی ان کی اکثریت اس نظرئے کو تسلیم کرتی ہے۔

    نظریہ ارتقا ایک سائنسی نظریہ ہے اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    پاکستان میں یہ نظریہ زیادہ زور و شور سے نہیں پڑھایا جاتا تو اکثر پڑھے لکھے لوگ اس کو نہیں مانتے۔

    جی ٹھیک ہے۔

    یہ نظریہ ارتقا کی بری ترین وضاحت ہو گی جو میں نے اب تک پڑھی ہے۔ سب سے پہلے پانی اور امینو اسیڈ والی بات جس کو abiogenesis کہتے ہیں نظریہ ارتقا کا حصہ ہی نہیں ہے۔ نظریہ ارتقا صرف یہ کہتا ہے کہ تمام جانداروں کا موروث اعلیٰ ایک ہے۔ اس میں زندگی کی شروعات کے بارے میں کوئی بات نہیں کی گئی۔ زندگی کی شروعات ایک پیچیدہ موضوع ہے اور اس پر بہت سی تھیوریاں ہیں لیکن کسی ایک تھیوری کو ہم ثبوت کی بنیاد پر کامیاب ترین نہیں کہہ سکتے۔ یہ نظریہ ارتقا کا سر درد ہی نہیں ہے۔ اس لئے اس پر تھوپا نہیں جا سکتا۔

    انسان ارتقائی مراحل کی آخری کڑی نہیں ہے۔ کیونکہ انسان بھی ارتقائی منازل سے گذر رہا ہے۔ اور ہر جاندار جو ابھی زندہ ہے وہ بھی کسی نہ کسی طور پر ارتقائی عمل سے گزر رہا ہے۔

    ایک اور بات یہ کہ انسان کو بندروں کی ارتقائی شکل کہا جاتا ہے، جو کہ غلط ہے۔ حقیقت میں انسان اور apes (گوریلا اور چمپینزی جو بندروں سے مختلف ہیں) کا موروث اعلیٰ ایک تھا، اور ان دونوں سے مختلف تھا۔ اس کو Australopithecus کہا جاتا ہے۔

    ان ڈھانچوں کی تقسیم اور شجرہ اپنی مرضی سے نہیں بنایا گیا بلکہ ان کو ان ادوار کے مطابق بنایا گیا ہے جن میں ان کے fossil ملے ہیں۔ fossil جانداروں کی لاشیں ہوتی ہیں جو لاکھوں سالوں سے زمین میں دبنے کی وجہ سے پتھر بن جاتی ہیں۔ ان پر مختلف سائنسی طریقے لگا کر ان کی عمر معلوم کی جاتی ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کونسا جاندار کتنا قدیم ہے۔ مثلاً انسان یعنی homo sapiens کا قریم ترین ڈھانچہ دو لاکھ سال پرانا ہے۔ اس سے پہلے انسان نما مخلوق کے ڈھانچے بھی ملے ہیں مثلاً homo erectus وغیرہ اور کچھ fossil تو بیس لاکھ سال پرانے ہیں۔ فوسیلز کی جانچ پرکھ اور ان کی ومر کا تعین کرنا اور ان کی صحیح طرح سے شناخت کرنا سائنس کا ایک حصہ ہے اور اس کو Paleontology کہتے ہیں۔

    جیسے کہ میں بیان کر چکا ہوں نظریہ ارتقا کا مفروضہ ہے کہ جاندار اپنے ماحول کے مطابق تبدیل ہوتا ہے۔ اگر کوئی بہت لمبے عرصے سے تبدیل نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جاندار مختلف ماحولوں میں رہنے کے قابل ہے ہا پھر جیسا کہ سمندری مخلوق میں ہوتا ہے کہ سمندر کے کچھ حصوں کے ماحول میں خاطر خواہ تبدیلی بہت کم آتی ہے اس لئے جاندار کو تبدیل ہونے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

    ارتقا ہر جاندار میں ہوتا ہے لیکن بعض میں بہت زیادہ ہوتا ہے اور بعض میں کم۔ تو کچھ مچھلیاں ایسی ہیں جن میں بہت کم ارتقا ہوا ہے، لیکن ہوبہو ویسی نہیں ہیں جس طرح 500 ملین سال پہلے تھیں۔

    اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ماننا زیادہ بعید از عقل ہے کہ تخلیق کا عمل دنیا میں کروڑوں مرتبہ ظہور پزیر ہوا یا پھر یہ کہ ایک مرتبہ تخلیق کا ومل ہوا اور پھر اس میں تنوع آتا گیا؟ ظاہری بات ہے کہ اگر تخلیق کا عمل اتنا ہی وافر مقدار میں ہوتا رہا کی ہر طرح کے ڈھانچے جو ہمیں ملے وہ سب نئی تخلیق کا نتیجہ ہے تو انسان کو باشعور ہوئے 8000 سال کے قریب ہو گئے ہیں تو ہمیں اسی تخلیق کے عمل کا کوئی مظہر نظر آ جاتا، لیکن ایسا نہیں ہے۔

    شہد کی مکھی کی آج بھی ہزاروں اقسام ہیں، اور ہر قسم دوسری سے کسی نہ کسی طرح مختلف ہے۔ شہد کی مکھی ایک فیملی کا نام ہے جو کی اپنے جسم میں ایک میٹھی رطوبت بنانے کے قابل ہو۔ اس طرح تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ آنکھیں تو کروڑوں سال پہلے وجود میں آ گئی تھیں اور اب بھی ہیں، ان میں تبدیلی کیا آئی؟

    ایک آدمی نے جعل سازی کی شہرت کے لئے یا پھر کسی اور وجہ سے تو یہ پوری سائنسی برادری کی سازش ہو گئی؟ سائنسدان تو اس معاملے میں بہت سخت ہوتے ہیں اور اگر جعل سازی ثابت ہو جائے تو اس شخص کا سائنسی کیرئر فوراً ختم ہو جاتا ہے۔

    مکھی کی کیا بات کرتے ہیں آجکل تو بائو ٹیکنولوجی اور بائو کیمسٹری کے سبب ایسی گائے بنائی گئی ہے جس کے دودھ میں ریشم نکلتا ہے۔ ریشم بنانے والی مکڑی کے جینز کو گائے کی جینز سے ملا کر ایسی گائے بنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ ایسے بیکٹیریا بنائے گئے ہیں جو الکوحل کی جگہ ڈیزل بناتے ہیں۔

    معلوم نہیں کونسی خفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ایسی باتیں تو بہت ہوتی ہیں اس میں خفت والی کیا بات ہے۔

    اگر اس نظریے میں اتنی خرابیاں ہیں تو پھر صاحب تحریر اپنا نظریہ پیش کریں۔ اگر وہ کہیں کہ سب کچھ اللہ نے ایک ساتھ تخلیق کیا۔ تو اگلا سوال ہوگا کہ کیسے کیا؟ اور اگر ایک ساتھ کیا تو ان کو ڈھانچے مختلف ادوار میں کیوں پائے جاتے ہیں اور کچھ جاندار دنا سے ختم کیوں ہو گئے ہیں۔ انسانی ذہن سوالات کرتا ہے اور اس کے تسلی بخش جواب ڈھونڈھتا ہے۔ یہ بات کافی نہیں کہ اللہ نے تخلیق کیا۔ اس طرح تو تحقیق کے تمام دروازے بند ہو جائیں گے۔ ہمیں معلوم کرنا ہے کہ کونسے طریقے سے تخلیق کا عمل وجود میں آیا۔ اور اس کے لئے سب سے بہتر وضاحت نظریہ ارتقا ہی کر سکتا ہے۔

    اب ان باتوں کا کوئی کیا جواب لکھے۔ یعنی ہزاروں لاکھوں سائنسدان جو اس نظرئے کو مانتے ہیں اور اس پر کام کر رہے ہیں دھوکے باز، جھوٹے اور مکار ہیں۔ بہت عجیب و غریب بات ہے۔ ان کو آپ غلط کہہ سکتے ہو لیکن جھوٹا اور مکار کہنا کافی فضول بات ہے۔


    پرانے مسلمان سائنسدان نظریہ ارتقا کے بارے میں کیا کہتے ہیں: ربط
     
    • زبردست زبردست × 10
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,796
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    آسٹریلوپیتھکس فاسل 2 سے 4 ملین سال پرانے ملے ہیں جبکہ انسان اور چمپینزی کا مورث اعلی 6 سے 8 ملین سال پہلے تھا۔ اگر گوریلا کو بھی شامل کر لیا جائے تو مورث اعلی شاید 10 ملین سال پہلے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. حاتم راجپوت

    حاتم راجپوت لائبریرین

    مراسلے:
    1,594
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ڈارون ازم ایک سائنسی تھیوری ہے جس میں حیاتیاتی ارتقاء پر بات کی گئی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,356
    موڈ:
    Asleep
    سائنسدان اس کو تھیوری آف آیوولوشن ہی کہتے ہیں۔ چونکہ ڈارون کے بعد یہ تھیوری کافی تبدیل ہو چکی ہے، اس لئے اس کو ڈارونزم کہنا غلط ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 15, 2014
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • متفق متفق × 1
  11. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,356
    موڈ:
    Asleep
    درستگی کے لئے شکریہ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    38,796
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Bookworm
    ماڈرن تھیوری کے دو اہم ستون ڈارون کی نیچرل سیلکشن کی تھیوری اور مینڈل کا جینز پر کام ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 1

اس صفحے کی تشہیر