چھ دسمبر آج ٹوپیاں پہنے اور پہنانےکادن ہے۔

حکومت نے6دسمبر کو سندھی ٹوپی اور اجرک کا دن منانے کا اعلان کیا ہے۔
لہذاچھ دسمبر آج ٹوپیاں پہنے اور پہنانےکادن ہے۔
ملک بحرانوں اور دہشت گردی کا شکار
مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئےحکومت کی ایک کوشش
 

آفت

محفلین
بھائی عوام کے ساتھ مذاق کس نے شروع کیا ہے کیا آپ اتنے بے خبر ہیں؟؟؟؟؟؟
سندھی ٹوپی سندھ کی ثقافت ہے اور اس کا مذاق اڑا کر کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی گئی ہے ۔ سندھیوں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایسے مذاق کا پر امن جواب دیں ۔ کسی کی بھی ثقافت کا مذاق بنانا انتہائی گھٹیا حرکت ہے ۔
ذرا فرصت ملے تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفٰی عزیز آبادی کی نظم پڑھ لیجئے گا ۔
 
بھائی عوام کے ساتھ مذاق کس نے شروع کیا ہے کیا آپ اتنے بے خبر ہیں؟؟؟؟؟؟
سندھی ٹوپی سندھ کی ثقافت ہے اور اس کا مذاق اڑا کر کروڑوں لوگوں کی دل آزاری کی گئی ہے ۔ سندھیوں کو پورا حق حاصل ہے کہ وہ ایسے مذاق کا پر امن جواب دیں ۔ کسی کی بھی ثقافت کا مذاق بنانا انتہائی گھٹیا حرکت ہے ۔
ذرا فرصت ملے تو ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی کے رکن مصطفٰی عزیز آبادی کی نظم پڑھ لیجئے گا ۔

3بار پہلے بھی تو حکومت میں رہے جب سندھ کی ثقافت یاد نہیں آئی۔
سندھ میں اور بھی قومیں آباد ہیں مگر ایک مخصوص طبقے کی ثقافت سب پر زبردستی تھوپی جارہی ہے
 

شعیب صفدر

محفلین
حکومت نے6دسمبر کو سندھی ٹوپی اور اجرک کا دن منانے کا اعلان کیا ہے۔ لہذاچھ دسمبر ٹوپیاں پہنانے کادن ہے
ملک بحرانوں کا شکار
مسائل سے توجہ ہٹانے کیلئے عوام کے ساتھ ایک اور مذاق
وجہ کوئی بھی ہو آپ کو اس قسم کے جملے سے پرہیز کرنا چاہئے تھا جبکہ آپ نے اس جملے کے لئے یہ دھاگا شروع کیا!!
مجھے آپ کی اس حرکت پر بہت افسوس ہے!!
ملکی و علاقائی ثقافت کا مذاق اچھا نہیں!
 
چھ دسمبر کو تو بابری مسجد کی شہادت کے لئے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اور آج ہندوستان کے اخبارات خصوصاً اردو اخبارات میں اس موضوع پر کچھ نہ کچھ ضرور ہوگا۔ خیر میں تو ذاتی طور پر اس حادثے کا سالانہ سوگ منانے کے خلاف ہوں۔

ویسے غالباً 2002 میں چھ دسمبر کو عید بھی تھی اور تب میں نے ایک عدد مراسلہ بھی لکھا تھا "اردو ٹائمز ممبئی" اخبار میں اسی حوالے سے۔
 

سویدا

محفلین
مصطفی عزیز آبادی کی کیا نظم ہے ؟ اگر کوئی بھائی یہاں‌لکھ دیں‌تو عنایت ہوگی

اور یہ سندھی ٹوپی کے بارے کیا کسی نے کچھ کہا تھا ؟
 

گرائیں

محفلین
3بار پہلے بھی تو حکومت میں رہے جب سندھ کی ثقافت یاد نہیں آئی۔
سندھ میں اور بھی قومیں آباد ہیں مگر ایک مخصوص طبقے کی ثقافت سب پر زبردستی تھوپی جارہی ہے

اگر برداشت کا یہی عالم رہا تو انشا ٕ اللہ جلد ہی پورے ملک میں حق پرستوں کی حکومت ہو گی۔
اپنے صوبے میں رہنے والوں کی شناخت تو برداشت نہیں ہو رہی، اور چلے ہیں گلگت بلتستان میں حق پرستی کا پرچم بلند کرنے۔
 

شعیب صفدر

محفلین
مصطفی عزیز آبادی کی کیا نظم ہے ؟ اگر کوئی بھائی یہاں‌لکھ دیں‌تو عنایت ہوگی

؟
یہ لیں!
وہ، جس کی جنبشِ ابرُو سے ہو کر
پرندے اپنا رستہ ناپتے ہیں
وہ، جس کے رعبِ سلطانی سے ڈر کر
سفیرانِ وطن بھی کانپتے ہیں
کہیں مل جائے وہ سلطاں تو کہنا
سنبھل جاؤ! دسمبر آگیا ہے

اِدھر ہے اک سمندر، مال وزر کا
اُدھر، ہر ایک گھر میں مفلسی ہے
وہاں خوشحال ہیں بس چند گھرانے
یہاں فاقہ کشی ہے، خودکشی ہے
یہ کیسا دورِ بدتر آگیا ہے
سنبھل جاؤ! دسمبر آگیا ہے

اصول وظرف سے کیا کام اُن کو
فقط دولت ہو جن کا دین وایماں
ہیں جن کے واسطے کیڑے مکوڑے
غریبی میں سسکتے روتے انساں
ہے جو مشہور رہزن، سارے جگ میں
وہ بن کے آج رہبر آگیا ہے
سنبھل جاؤ! دسمبر آگیا ہے

دیا تھا جس نے مشکل میں سہارا
اسی کو داغِ رسوائی دیا ہے
دیئے جس نے بھروسے کے خزانے
اسے ہر گام پہ دھوکا دیا ہے
جسے سمجھا گیا تھا دوست، اب وہ
لئے ہاتھوں میں خنجر آگیا ہے
سنبھل جاؤ! دسمبر آگیا ہے

کہاں تک اب رفیقانِ چمن بھی
تمہارے درد کے رشتے نبھائیں
یہی بہتر ہے سب کچھ بھول کر ہم
اب اپنے راستوں کو لوٹ جائیں
جہاں پر زہر بن جائے رفاقت
سفر میں اب وہ منظر آگیا ہے
سنبھل جاؤ! دسمبر آگیا ہے
 

arifkarim

معطل
اچھی نظم ہے پر کسی حکمران کے پاس اسے پڑھنے کا وقت نہیں‌ہے۔ وہ تو اپنا سارا وقت کرسیاں بچانے میں لگا دیتے ہیں!
 

آفت

محفلین
میرے خیال میں سندھیوں نے کسی پر اپنی ثقافت نہیں تھوپی بلکہ انہوں نے یہ احتجاج ایک ٹی وی اینکر کے ریمارکس پر کیا ہے جس نے سندھ کی خوبصورت ثقافت پر تبصرہ کیا گیا تھا ۔ ایم کیو ایم کے قائدین اور آصف زرداری نے انتخابات کے بعد سندھ کی یہی روایتی ٹوپی ایک دوسرے کو پہنا کر بھائی چارہ قائم کیا تھا ۔ اب مصطفٰی عزیز آبادی نے اپنی نظم میں این آر او کے کیسز کھلنے پر آصف زرداری اور پیپلز پارٹی کے دوسرے راہنماؤں کو ڈرانے کی کوشش کی ہے ۔ جس پر دونوں طرف سے تند و تیز بیان بازی شروع ہوئی ۔ الطاف حسین اور زرداری نے وقتی طور پر ایسے بیانات سے اپنے کارکنوں کو روک دیا ہے ۔ لیکن کل صوبائی وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا نے پھر سخت زبان استمعال کی ۔ آج کل سندھ کارڈ استمعال کرنے کے حوالے سے بھی باتیں ہو رہی ہیں ۔ آصف زرداری کو فی الحال تو بطور صدر رعائت حاصل ہے کہ ان کے خلاف کیس ری اوپن نہیں ہو سکیں گے ۔ بہرحال آخری فیصلہ سپریم کورٹ کرے گی ۔
3بار پہلے بھی تو حکومت میں رہے جب سندھ کی ثقافت یاد نہیں آئی۔
سندھ میں اور بھی قومیں آباد ہیں مگر ایک مخصوص طبقے کی ثقافت سب پر زبردستی تھوپی جارہی ہے
 
Top