چاند پر جانے کا امریکی دعویٰ جھوٹ نکلا ۔۔۔۔!

متلاشی نے 'متفرقات' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 12, 2015

  1. زاہد لطیف

    زاہد لطیف محفلین

    مراسلے:
    204
    یہ تو ایک سوال ہے کسی پہ الزام نہیں۔ میرے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہماری نظریں دوسروں کی خامیاں تلاش کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ اپنے گھر کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چونکہ صاحب مضمون اسی ملک سے وابستہ معلوم ہوتے ہیں تو ہمارے کا لفظ اسی تناظر میں ہے۔ باقی ملکوں کی کامیابی اور ناکامی کے ذمہ دار ہم نہیں ہیں۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 22, 2020
    • متفق متفق × 2
  2. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,041
    موڈ:
    Asleep
    اس زمانے میں بھی 70mm کی فلم پر وڈیوز بنائی تھیں انہوں نے۔ اس پر ایک ڈاکیومنٹری بھی حال میں آئی ہے۔ ٹی وی پر تو ظاہری بات ہے کوالٹی اتنی اچھی نہیں ہو گی۔ :)

    Apollo 11 (2019) - IMDb
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1
  3. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    یہ خبر پہلی دفعہ چاند پر جانے کے بارے میں ہے۔اس وقت واقعئ روس سے مقابلہ میں سبقت لے جانے کے چکر میں جعلی طور پر فلمایا گیا تھا۔ بعد میں روس اور امریکا دونوں اپنے اپنے مشن میں کامیاب ہو گئے تھے
     
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 2
  4. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    7,041
    موڈ:
    Asleep
    امریکہ کا تو سب کو معلوم ہے کہ 1969 میں گئے یا اس دھاگے میں کچھ لوگوں کے مطابق اس کا دعوا کیا۔ روسیوں نے کب چاند پر پہلا قدم رکھا تھا اور اس خلا باز کا کیا نام تھا۔ کچھ اس پر روشنی ڈالنا پسند کریں گے؟
     
    • زبردست زبردست × 1
  5. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    انسان کے چاند پر اترنے سے متعلق اختلافی نظریات
    آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
    Jump to navigationJump to search
    21 جولائی 1969ء کو دنیا کے کئی ممالک میں live TV پر امریکا نے اپنے دو خلانوردوں کو چاند کی سطح پر اترتے ہوئے دکھایا اور 50 کروڑ لوگوں نے اسے دیکھا۔ لیکن کچھ ہی سالوں میں خود امریکا میں اس بات پر شک و شبہ ظاہر کیا جانے لگا کہ کیا واقعی انسان چاند پر اترا تھا؟ [1][2]
    15 فروری 2001ء کو Fox TV Network سے نشر ہونے والے ایک ایسے ہی پروگرام کا نام تھا ?Conspiracy Theory: Did We Land on the Moon۔ یہ نشریات 19 مارچ کو دوبارہ نشر کی گئی۔

    وجوہات[ترمیم]
    امریکا کے ایٹمی ہتھیار روس کے ایٹمی ہتھیاروں سے زیادہ بہتر اور چھوٹے سائز کے تھے اس لیے انہیں میزائلوں میں استعمال کرنے کے لیے چھوٹے راکٹوں کی ضرورت پڑتی تھی۔ اس کے برعکس روسیوں کو اپنے بھاری ایٹمی ہتھیاروں کے لیے بہت بڑے راکٹوں کی ضرورت تھی اور اس وجہ سے روسی راکٹ سازی میں امریکا سے کہیں آگے نکل گئے۔ امریکا کو شدید خطرہ تھا کہ نہ صرف اس کے علاقے روسی ایٹمی ہتھیاروں کی زد میں ہیں بلکہ سرد جنگ کی وجہ سے شروع ہونے والی خلائی دوڑ میں بھی انہیں مات ہونے والی ہے۔ جنگ ویتنام میں ناکامی کی وجہ سے امریکیوں کا مورال بہت نچلی سطح تک آ چکا تھا۔

    روسی خلائی برتری[ترمیم]
    پہلا مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجنے کے معاملے میں روس کو سبقت حاصل ہو چکی تھی جب اس نے 4 اکتوبر 1957ء کو Sputnik 1 کو کامیابی کے ساتھ زمین کے مدار میں بھیجا۔ روس 1959ء میں بغیر انسان والے خلائی جہاز چاند تک پہنچا چکا تھا۔ 12 اپریل 1961ء کو روسی خلا نورد یوری گاگرین نے 108 منٹ خلا میں زمیں کے گرد چکر کاٹ کر خلا میں جانے والے پہلے انسان کا اعزاز حاصل کیا۔ 23 دن بعد امریکی خلا نورد Alan Shepard خلا میں گیا مگر وہ مدار تک نہیں پہنچ سکا۔ ان حالات میں قوم کا مورال بڑھانے کے لیے صدر کینڈی نے 25 مئی 1961ء میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ ہم اس دہائی میں چاند پر اتر کر بخیریت واپس بھی آجائیں گے۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ دہائی کے اختتام پر بھی اسے پورا کرنا امریکا کے لیے ممکن نہ تھا اس لیے عزت بچانے اور برتری جتانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔ امریکا کے ایک راکٹ ساز ادارے میں کام کرنے والے شخص Bill Kaysing کے مطابق اس وقت انسان بردار خلائی جہاز کے چاند سے بہ سلامت واپسی کے امکانات صرف 0.017% تھے۔ اس نے اپولو مشن کے اختتام کے صرف دو سال بعد یعنی 1974ء میں ایک کتاب شائع کی جس کا نام تھا We Never Went to the Moon: America's Thirty Billion Dollar Swindle
    3 اپریل 1966ء کو روسی خلائی جہاز Luna 10 نے چاند کے مدار میں مصنوعی سیارہ چھوڑ کر امریکیوں پر مزید برتری ثابت کر دی۔

    ڈراما[ترمیم]
    21 دسمبر 1968ء میں NASA نے Apollo 8 کے ذریعے تین خلا نورد چاند کے مدار میں بھیجے جو چاند کی سطح پر نہیں اترے۔ غالباً یہ NASA کا پہلا جھوٹ تھا اور جب کسی نے اس پر شک نہیں کیا تو امریکا نے پوری دنیا کو بے وقوف بناتے ہوئے انسان کے چاند پر اترنے کا یہ ڈراما رچایا اور لندن کے ایک اسٹوڈیو میں جعلی فلمیں بنا کر دنیا کو دکھا دیں۔ آپولو 11 جو 16جولائی 1969ء کو روانہ ہوا تھا درحقیقت آٹھ دن زمین کے مدار میں گردش کر کے واپس آ گیا۔
    1994ء میں Andrew Chaikin کی چھپنے والی ایک کتاب A Man on the Moon میں بتایا گیا ہے کہ ایسا ایک ڈراما رچانے کی بازگشت دسمبر 1968ء میں سنی گئی تھی۔
    اعتراضات
    چاند تک پہنچنے کے لیے انسانوں کو وان ایلن ریڈیئشن بیلٹ (Van Allen radiation belts) سے گزرنا پڑتا ہے جو صحت کے لیے سخت خطرہ بن سکتی ہیں۔ زمین کے قریبی مداروں میں جانے کے لیے ان خطرناک تابکار بیلٹ میں سے نہیں گزرنا پڑتا۔ اس کے باوجود زمین کے بہت نزدیک خلائی مداروں میں جانے کے لیے انسان سے پہلے جانوروں کو بھیجا گیا تھا اور پوری تسلی ہونے کے بعد انسان مدار میں گئے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ چاند جیسی دور دراز جگہ تک پہنچنے کے لیے پہلے جانوروں کو نہیں بھیجا گیا اور انسانوں نے براہ راست یہ خطرہ مول لے لیا۔
    کچھ لوگ یہ اعتراض بھی کرتے ہیں کہ اگر انسان چاند پر پہنچ چکا تھا تو اب تک تو وہاں مستقل قیام گاہ بن چکی ہوتی مگر معاملہ برعکس ہے اور چاند پر جانے کا سلسلہ عرصہ دراز سے کسی معقول وجہ کے بغیر بند پڑا ہے۔ اگر 1969ء میں انسان چاند پر اتر سکتا ہے تو اب ٹیکنولوجی کی اتنی ترقی کے بعد اسے مریخ پر ہونا چاہیے تھا مگر ایسا نہیں ہے۔ ناسا کے مطابق دسمبر 1972ء میں اپولو 17 چاند پر جانے والا آخری انسان بردار خلائی جہاز تھا۔
    ناسا نے انسان کی چاند پر جو تصویریں اور ویڈیو دکھائی تھیں ان میں کبھی آسمان پر کوئی ستارہ نظر نہیں آیا۔ چونکہ چاند پر کرہ ہوائی نہیں ہے اس لیے وہاں دن کو بھی تارے نظر آنے چاہیئں۔
    گمشدہ ٹیپ[ترمیم]
    چاند پر انسان کی پہلی چہل قدمی کی فلم کا سگنل دنیا تک ترسیل کے بعد slow scan television -SSTV فارمیٹ پر اینالوگ Analog ٹیپ پر ریکارڈ کیا گیا تھا۔ ان ٹیپ پر ٹیلی میٹری کا ڈیٹا بھی ریکارڈ تھا۔ عام گھریلو TV اس فارمیٹ پر کام نہیں کرتے اس لیے 1969ء میں اس سگنل کو نہایت بھونڈے طریقے سے عام TV پر دیکھے جانے کے قابل بنایا گیا تھا۔ اب ٹیکنولوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایسے سگنل کو صاف ستھری اور عام TV پر دیکھنے کے قابل تصویروں میں بدل دے۔ جب ناسا سے SSTV کے اصلی ٹیپ مانگے گئے تو پتہ چلا کہ وہ ٹیپ دوبارہ استعمال میں لانے کے لیے مٹائے جا چکے ہیں اور Nasa آج تک اصلی ٹیپ پیش نہیں کر سکا ہے۔
    گمشدہ ڈرائنگ[ترمیم]
    چاند پر جانے اور وہاں استعمال ہونے والی مشینوں کے بلیو پرنٹ اور تفصیلی ڈرائنگز بھی غائب ہیں۔

    ناسا کی تردید[ترمیم]
    ناسا ہمیشہ ایسے اعتراضات کی تردید کرتی آئی ہے۔
    2002ء میں ناسا نے James Oberg نامی شخص کو پندرہ ہزار ڈالر اس بات پر انعام دیے کہ اس نے چاند پر پہنچنے کو ناسا کا ڈراما کہنے والوں کے اعتراضات کا نقطہ بہ نقطہ جواب دیا۔
    غالباً ایسی ہی کسی وجہ سے Myth Busters کی سیریل میں ایسے اعتراضات کو غلط ثابت کیا گیا ہے۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غمناک غمناک × 1
  6. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,836
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
  7. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    8,603
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    جواب نہیں ملا
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    95
    حُبِّ اہلِ بیت جزوِ ایمان ہے

    بھائی بالکل پڑتا ہے۔ ان صاحب نے اپنے علماء اور بزرگوں کا دفاع کرنے میں یہ الفاظ استعمال کئے کہ توحید میں اچھائی اور برائی دونوں ہوسکتی ہے۔ اگر تو یہ صرف پیروکار ہیں تو کوئی اتنا بڑا ایشو نہیں ہے لیکن اگر یہ عالم ہو کر ایسی باتیں کر رہے ہیں تو انتہائی تشویشناک بات ہے۔ جب اہلِ علم ایسی باتیں کرنے لگ جائیں تو پھر دین میں کیا باقی رہ جائے گا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  9. فہد مقصود

    فہد مقصود محفلین

    مراسلے:
    95
    جزاکم اللہ خیر واحسن الجزاء فی الدنیا والاخرۃ

    بہت اچھا لکھا ہے بھائی اور سچ لکھا ہے۔ مرزا قادیانی کی باطل تعلیمات اور قادیانی اور برصغیر کے دیگر علماء کی تعلیمات میں مماثلت پر بات کرنے کا ارادہ ہے اور انشاء اللہ جلد ہی کی جائے گی۔ آپ نے اختصار سے کام لیتے ہوئے بڑا جامع لکھا ہے۔ آپ کے اس مراسلے کا لنک کاپی کر کے رکھ لیا ہے اور جب اس موضوع پر لکھنا شروع کروں گا تو آپ کے اس مراسلے کو بھی کاپی کرنا چاہوں گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • زبردست زبردست × 1
  10. محمد سعد

    محمد سعد محفلین

    مراسلے:
    2,425
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bored
    Fun fact: Luna 15 Accompanied Apollo 11 to the Moon
    روس نے امریکہ کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کا Luna 15 مشن، اپولو 11 کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گا۔ یہ وعدہ انہوں نے پورا بھی کیا۔
    روس جیسا شدید روایتی حریف، امریکی مشن کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار تھا اور یہاں بیٹھے جغادری، بغیر کسی سائنس و انجنئیرنگ کے علم کے، یہ ماننے کو تیار نہیں کہ امریکہ وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو پایا ہے۔ حد ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  11. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,181
    میری والدہ نے کنونشن سینٹر جا کر لائیو دیکھا تھا۔ امریکیوں نے ہر اتحادی ملک میں اسے لائیو دکھانے کا انتظام کیا ہوا تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 4
  12. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    18,181
    اگر امریکہ چاند پر نہ گیا ہوتا تو اس کا سب سے پہلے بھانڈا اس کا سب سے بڑا حریف روس پھوڑ چکا ہوتا۔ جبکہ روس نے آج تک اسے جھوٹ نہیں کہا!
    1989 میں روس نے اقرار کیا کہ وہ امریکہ سے چاند پر پہلے پہنچنے کی جنگ ہار چکے ہیں۔
    Russians Finally Admit They Lost Race to Moon
     
    • معلوماتی معلوماتی × 2

اس صفحے کی تشہیر