چائے میں دافع کینسر تاثیر پائی جاتی ہے

میڈیکل سائنس کے محققین نے تحقیق سے ثابت کر دیا کہ کالی چائے میں دافع کینسر تاثیر پائی جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک کپ کالی چائے پینے سے کینسر کے خلیات چھوٹے ہو کر تباہ ہوجاتے ہیں، اس طرح سے چائے کینسر سے بچاؤ میں مددگار ہو سکتی ہے۔

کالی چائے کینسر کے بڑھنے سے مانع بنتی ہے۔ سالوں سے یہ خیال کیا جاتا تھا کہ چائے معدہ، قولون (بڑی آنت کا ایک حصہ) اور پستان میں کینسر ہونے کے خطرے کو گھٹاتی ہے، لیکن ابھی تک چائے اور کینسر کا خطرہ کم ہونے کے مابین کوئی رابطہ ثابت نہیں ہو سکا تھا، لیکن اب پیتھالوجیکل مطالعات سے پتہ چل گیا ہے کہ کالی چائے کینسر کے بڑھنے سے مانع بن سکتی ہے۔ بعض محققین نے تحقیق سے ثابت کیا ہے کہ کالی چائے میں TF-2 نامی ایک ترکیب قولونی مبرزی (کولوریکٹم) کینسر کے خلیات کو تباہ کرتی ہے، جبکہ یہ ترکیب صحتمند خلیات کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔
اس سے متعلق دو ریسرچ یہاں پیش کی گئی ہے۔
 

شمشاد

لائبریرین
بہت شکریہ ڈاکٹر صاحب ۔ چائے پینے والوں کو مزید چائے پینے کا ایک اور بہانہ مل گیا۔
 

مقدس

لائبریرین
اس کا بھی انتظام ہو گیا شمشاد بھیا۔۔ ذرا سعود بھیا والا تھریڈ دیکھیں آپ۔۔ اب کالی ہو بھی جاؤں تو کچھ نہیں ہو گا۔۔ ہی ہی ہی
 

شمشاد

لائبریرین
اب تو چائے پینے کی اجازت دینی ہی پڑے گی۔ لیکن شادی کے بعد، اس سے پہلے نہیں۔
 

وجی

لائبریرین
ڈاکٹر صاحب اس خبر کا بہت بہت شکریہ
لیکن یہ بھی وضاحت کردیں کہ کالی چائے سے کیا مراد ہے
قواہ تو نہیں یا بغیر دودھ والی چائے
 

hakimkhalid

محفلین
لیکن ڈاکٹر صاحب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمارے انکل اجمل کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔"کالی چائے مُضرِ صحت ہے

کالی چائے پتوں کو فرمنٹ کر کے بنائی جاتی ہے ۔ فرمنٹیشن کو اردو میں گلنا سڑنا کہا جائے گا ۔ اس عمل سے چائے کئی اچھی خصوصیات سے محروم ہو جاتی ہے ۔ اس میں اینٹی آکسی ڈینٹس ہوتے تو ہیں مگر فرمنٹیشن کی وجہ سے بہت کم رہ جاتے ہیں ۔ کالی چائے پینے سے ایڈکشن ہو جاتی ہے اور پھر اسے چھوڑنا مشکل ہوتا ہے ۔ ہر نشہ آور چیز میں یہی خاصیت ہوتی ہے ۔ کالی چائے بھوک اور پیاس کو مارتی ہے ۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھوک اور پیاس کے قدرتی نظام میں خلل ڈالتی ہے جو صحت کے لئے مضر عمل ہے ۔ کالی چائے پیٹ کے سفرا کا باعث بنتی ہے جس سے ہاضمہ کا نظام خراب ہوتا ہے ۔ مندرجہ بالا مضر خصوصیات کے اثرات کئی سالوں بعد ظاہر ہوتے ہیں ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی لوگ پیٹ خراب ہونے کی صورت میں یا زکام کو ٹھیک کرنے کے لئے کالی چائے بطور علاج کے پیتے ہیں حالانکہ کالی چائے دونوں کے لئے نہ صرف موزوں نہیں بلکہ مضر ہے ۔ جو ذیابیطس کے مریض بغیر چینی کے کالی چائے پیتے ہیں وہ اپنے مرض کو کم کرنے کی کوشش میں دراصل بڑھا رہے ہوتے ہیں کیونکہ کالی چائے گُردوں کے عمل میں خلّل ڈالتی ہے جِس سے ذیابیطس بڑھ سکتی ہے ۔"
مزید مطالعہ کےلئے کیجئے۔۔۔۔۔۔۔کلک
 
حکیم خالد صاحب
پہلی بات تو یہ کہ فرمنٹیشن کو سڑنا اور گلنا کہا جائے یہ درست نہیں ہے، اگرچہ سڑن اور گلن میں بھی فرمنٹیشن کا عمل ساتھ ہوتا ہے، سڑی گلی چیزوں میں زہریلے مادے ہوتے ہیں، لیکن فرمنٹیشن کی ایک مثال آٹے کو روٹی پکانے کے لئے خمیر بنانا ہے، جبکہ اس خمیر شدہ آٹے کو سڑا ہوا آٹا نہیں کہا جائے گا اور نہ ہی اس زہریلے مادے ہوتے ہیں بلکہ تخمیر کے بعد اس آٹے کی بعض مضر خصوصیات بھی زائل ہوجاتی ہیں۔ بسا اوقات فرمنٹیشن کے عمل سے گذارنے کے بعد خواص مزید بڑھ جاتے ہیں۔ چائے اگرچہ بدہضمی، قبض اور امراض معدہ سبب بن سکتی ہے، اور اکثر حالات میں ماڈرن میڈیکل سائنس سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر حضرات بھی چائے سے پرہیز کی ہدایت دیتے ہیں، تاہم چائے میں چند عناصر ایسے پائے جاتے ہیں جو سرطانی خلیات کی افزائش (پیداوار) میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ تحقیق میری اپنی نہیں، صرف الفاظ میرے ہیں، تحقیق تو میڈیکل سائنس کے محققین کی ہے، جس کا تذکرہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر کیا ہے، شاید آپ نے ویب سائٹ کی طرف رجوع نہ کیا ہو، اس لئے تفصیل ضرور دیکھ لیں۔
 
Top