پیمرا نے تمام اینکرزپرٹی وی شوز میں تجزیہ دینے پر پابندی عائد کردی

جاسم محمد

محفلین
پیمرا نے تمام اینکرزپرٹی وی شوز میں تجزیہ دینے پر پابندی عائد کردی

پیمرا ڈکٹیشن لیکر آزادی اظہار رائے کے قانون کا مذاق اڑا رہا ہے، پیمرا کوکوئی حق نہیں کہ کسی اینکر پر دوسرے ٹی وی چینلزمیں بطور تجزیہ کار پابندی عائد کرے، میں جانتا ہوں کہ یہ پیمرا نہیں بلکہ کوئی اور ہے جواینکرز کو سننا نہیں چاہتا۔سینئر تجزیہ کار حامدمیر کا ٹویٹ


1530630006_admin.JPG._1
ثنااللہ ناگرہ اتوار 27 اکتوبر 2019 20:46
pic_49649_1560613078.jpg._3


لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین۔27 اکتوبر2019ء) پیمرا نے اینکرزپرٹی وی شوز میں بطور تجزیہ کار پابندی عائد کردی، سینئر صحافی حامد میر نے کہا کہ پیمرا ڈکٹیشن سے آزادی اظہار رائے کے قانون کا مذاق اڑا رہا ہے، پیمرا کوکوئی حق نہیں کہ کسی اینکر پر دوسرے ٹی وی چینلزمیں بطور تجزیہ کار پابندی عائد کرے۔ انہوں نے ٹویٹر پر اپنے ٹویٹ میں ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پیمرا ہمارے میڈیا کے قوانین کا مذاق اڑارہا ہے اور ڈکٹیشن دے رہا ہے کہ اینکرز کسی دوسرے ٹی وی شوز یا چینلز میں بطور تجزیہ کار یا تبصرہ دینے کیلئے نہیں جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلی تین دہائیوں سے صحافتی شعبے سے وابستہ ہوں۔ لہذا مجھے حق حاصل ہے کہ میں اپنی رائے کا اظہار اپنے کالم یا کسی بھی دوسرے ذرائع سے کرسکتا ہوں۔

حامد میر نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ پیمرا نہیں ہے بلکہ کوئی اور ہے کیونکہ وہ اینکرز کو سننا نہیں چاہتا۔واضح رہے گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیر اعظم نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیاد پر سماعت ہوئی تو ڈیل کی خبروں اور تبصروں پر عدالت نے 5 اینکرز کو بھی طلب کیا۔ عدالت میں پانچوں اینکرزکا نام پکارا گیاکہ ہمارے قابل احترام اینکرزآئے ہیں؟ جس پر سینئر صحافی اوراینکرزحامد میر، کاشف عباسی، سمیع ابراہیم، محمد مالک اور عامرمتین عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ سمیع ابراہیم بتائیں ڈیل کس کی ہے؟ کیا وزیراعظم نے ڈیل کی ہے؟ یہ کہنا کہ ہوسکتا ہے ڈیل ہورہی ہے، یہ بات درست نہیں۔اللہ کا حکم ہے سنی سنائی بات کو آگے مت کرو۔آپ عسکری اداروں اور منتخب وزیراعظم کو بھی بدنام کررہے ہیں۔ہرادارے میں اچھے برے لوگ ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم جو بھی فیصلہ دیتے ہیں پنڈورا باکس کھل جاتا ہے۔ طویل عرصے سے ڈیل کی باتیں سن رہے ہیں۔ ڈیل کی باتوں پر بڑے تحمل کا مظاہرہ کیا ،کیس کا فیصلہ بات میں آتا ہے لیکن میڈیا ٹرائل پہلے شروع ہوجاتا ہے۔ کیا عدلیہ اس ڈیل کا حصہ ہے؟ اسلام آباد ہائیکورٹ کے کسی جج پر کوئی اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ چیف جسٹس نے پیمرا کی بھی کلاس لی، انہوں نے کہا کہ بتائیں پیمرا نے کن کے خلاف ایکشن لیا؟ تاہم پانچوں سینئرزاینکرزسے تحریری جواب بھی طلب کیا گیا۔
 

جاسم محمد

محفلین
پیمرا کا یہ فیصلہ یا حکم نامہ یا ہدایت نامہ تکنیکی طور پر درست ہے، تاہم، اس کی ٹائمنگ مشکوک ہے۔
یہی میڈیا کل تاجروں کو بلا کر سوال کر رہا تھا کہ آپ لوگ ٹیکس کیوں نہیں دے رہے، پولیس سے سوال کرتا تھا کہ قیدیوں کو تحفظ کیوں نہیں دیا، ڈاکٹروں سے پوچھتا تھا کہ آپ حکومتی اقدامات پر عمل درآمد کیوں نہیں کر رہے، اور آج جب اپنی باری آئی ہے تو معاشرہ کے دیگر شعبوں کی طرح حکومت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔ دوسروں کو نصیحت خود میاں فضیحت۔ پاکستان میں اکثریت یہی چاہتی ہے کہ اسے چھوڑ کر باقی سب آئین و قانون پر عمل کریں۔ اور عمران خان اسی طرح معاشرہ میں تبدیلی لا کر دکھائے :)
 

سید عاطف علی

لائبریرین
پیمرا کا یہ فیصلہ یا حکم نامہ یا ہدایت نامہ تکنیکی طور پر درست ہے
کیسے درست ہے ؟
اور اگر درست نہیں تو بھی کیسے ؟
اس کی وضاحت اور بنیاد ؟
یعنی نقطہءنظر تو ہر بندہ رکھتا ہے واقعات کا تجزیہ بھی ہر کوئی کر سکتا ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
کیسے درست ہے ؟
اور اگر درست نہیں تو بھی کیسے ؟
اس کی وضاحت اور بنیاد ؟
یعنی نقطہءنظر تو ہر بندہ رکھتا ہے واقعات کا تجزیہ بھی ہر کوئی کر سکتا ہے۔
اینکر پرسن کا کام سوال کرنا ہوتا ہے جنابِ اعلیٰ! اگر وہ بطور تجزیہ کار سامنے آنا چاہتے ہیں، تو کسی دیگر اینکر پرسن کے پروگرام میں اس حیثیت میں شریک ہو سکتے ہیں۔ :) ہمارے ہاں بدقسمتی سے اینکر پرسن تجزیہ نگار بنے ہوئے ہیں؛ اگر انہیں اپنا تجزیہ ہی پیش فرمانا ہوتا ہے تو کسی اور تجزیہ نگار کو اپنے پروگرام میں مدعو نہ کیا کریں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اس کی ایک اہم مثال ہیں؛ وہ اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم اس پروگرام میں اینکر پرسن اپنا تجزیہ پیش نہیں کرتی ہیں؛ اُن کا کام صرف سوال کرنا ہے اور جواب لینا ہے۔ جدید دور میں ابلاغِ عامہ کے جو ضوابط لاگو ہیں، پیمرا کا حکم نامہ یا ہدایت نامہ اس کے ساتھ مکمل مماثلت رکھتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اینکر پرسن کا کام سوال کرنا ہوتا ہے جنابِ اعلیٰ! اگر وہ بطور تجزیہ کار سامنے آنا چاہتے ہیں، تو کسی دیگر اینکر پرسن کے پروگرام میں اس حیثیت میں شریک ہو سکتے ہیں۔ :) ہمارے ہاں بدقسمتی سے اینکر پرسن تجزیہ نگار بنے ہوئے ہیں؛ اگر انہیں اپنا تجزیہ ہی پیش فرمانا ہوتا ہے تو کسی اور تجزیہ نگار کو اپنے پروگرام میں مدعو نہ کیا کریں۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اس کی ایک اہم مثال ہیں؛ وہ اپنا تجزیہ پیش کرتے ہیں جس سے اتفاق یا اختلاف کیا جا سکتا ہے تاہم اس پروگرام میں اینکر پرسن اپنا تجزیہ پیش نہیں کرتی ہیں؛ اُن کا کام صرف سوال کرنا ہے اور جواب لینا ہے۔ جدید دور میں ابلاغِ عامہ کے جو ضوابط لاگو ہیں، پیمرا کا حکم نامہ یا ہدایت نامہ اس کے ساتھ مکمل مماثلت رکھتا ہے۔
میرے خیال میں پیمرا پابندی اس بات پر لگا رہا ہے کہ جو اینکر پرسن باقاعدہ اور ریگولر اپنا شو کرتے ہیں وہ بطور تجزیہ نگار اپنے ہی چینل یا کسی اور چینل میں بطور تجزیہ نگار نہیں بیٹھ سکتے۔ مجھے تو ان الفاظ سے یہی کچھ سمجھ آ رہا ہے:
Therefore, anchors hosting exclusive regular shows should not appear in talk shows whether own or other channels as subject matter expert
مثال کے طور پر حامد میر بطور اینکر پرسن اپنا ایک ریگولر شو کرتے ہیں آٹھ بجے، اور پھر دس بجے اسی چینل کے ایک دوسرے شو میں بطور تجزیہ کار اپنی رائے بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ اور ہفتے میں کئی دن بطور تجزیہ نگار دوسرے چینلز پر بھی اظہار خیال کرتے ہیں، اسی طرح دوسرے اینکر پرسن بھی کرتے ہیں۔

میرے خیال میں ایسی پابندی غلط ہے۔ اینکر پرسن کو صرف اپنے شو کے لیے کسی تجزیے سے روکا جا سکتا ہے (میری نظر میں یہ بھی غلط ہے) لیکن اپنے شو کے علاوہ کہیں اور رائے دینے سے روک دینا تو سراسر غلط ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اینکر پرسن کا کام سوال کرنا ہوتا ہے جنابِ اعلیٰ! اگر وہ بطور تجزیہ کار سامنے آنا چاہتے ہیں، تو کسی دیگر اینکر پرسن کے پروگرام میں اس حیثیت میں شریک ہو سکتے ہیں۔
شاید ہوتا ہی بھی یہی ہے کہ اینکر حضرات دوسرے پروگراموں میں اپنا تجزیہ پیش کرتے نظر آتے ہیں ۔ خود آپنے پروگرام میں تو کوئی تجزیہ پیش نہیں کرتا اور اس میں تو کوئی پابندی والی بات نظر نہیں آتی ۔
 

محمداحمد

لائبریرین
ٹی وی والوں کو چاہیے کہ اینکر پرسنز کی جگہ کمپیوٹر بوٹ رکھ لیں جو لگے بندھے سوال پوچھتے رہیں۔

تجزیہ نگار بوٹ کو ڈائریکٹ لی خلائی مخلوق کے سرورز سے جوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ کوئی ایسا ویسا نقطہ نظر نہ پیش کر سکیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
اینکر پرسنز کے لیے اپنے پروگرام میں تجزیہ پیش کرنا مستحسن نہیں۔ تاہم، دوسرے پروگراموں میں اُن کے بطور تجزیہ نگار شریک ہونے پر پابندی لگانا واقعی مضحکہ خیز ہے۔
 
یہی میڈیا کل تاجروں کو بلا کر سوال کر رہا تھا کہ آپ لوگ ٹیکس کیوں نہیں دے رہے،
یہی میڈیا، کب یہ سوال حکومت سے کرے گا کہ، آپ ٹیکس کیوں نہیں لے رہے ؟ جدتوں کی اس دنیا میں کب ایف بی آر اس قابل ہوگا کہ ہم جیسا نکما یہ دیکھ سکے کہ کتنا ٹیکس واجب الدا ہے؟
ہر ٹرانسیکشن کا ریکارڈ کب ایف بی آر کے پاس جانا شروع ہوگا؟ کب بنک، صارفین کو ادا کئے ہوئے منافع کا ریکارڈ ، ایف بی آر کو جمع کروائیں گے؟ کب ایمپلائیر، اپنے ایمپلائیز کو دی جانے والی تنخواہ کا ریکارڈ ،ایف بی آر کو جمع کروائیں گے، کب تجارتی ادارے ، ادا کی جانے والی رقم کا ریکارڈ ایف بی آر کو جمع کروائیں گے؟ کب ہرا دائیگی ، گین قرار پائے گی اور ریکارڈ ایف بی آر کو جمع کروایا جائے گا؟ کب زراعت کے ہر منافع کا ریکارڈ ایف بی آر کو جمع کروایا جائے گا، کب انڈسٹری کی ہر سیل کا ریکارڈ ایف بی آر کو جمع کروایا جائے گا؟
میڈیا یہ سوال کرنا کب شروع کرے گا؟ عدالتیں ایف بی آر کو کب حاضر ہونے کا حکم دیں گی؟
 

جاسم محمد

محفلین
میرے خیال میں پیمرا پابندی اس بات پر لگا رہا ہے کہ جو اینکر پرسن باقاعدہ اور ریگولر اپنا شو کرتے ہیں وہ بطور تجزیہ نگار اپنے ہی چینل یا کسی اور چینل میں بطور تجزیہ نگار نہیں بیٹھ سکتے۔ مجھے تو ان الفاظ سے یہی کچھ سمجھ آ رہا ہے
جی نہیں۔ حکومت نے صرف subject matter expert بن کر تجزیے کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اب ریٹائرڈ جرنیل دفاعی امور کے علاوہ ٹالک شوز پر اور کوئی بات نہ کر سکیں گے۔ اسی طرح صحافی اور اینکرز معیشت کے حوالہ سے عوام کو گمراہ نہیں کر پائیں گے۔ صرف ٹالک شوز میں مدعو سیاست دان ہی سیاست پر بات کر پائیں گے۔ میرے خیال میں پیمرا کی طرف سے بہترین فیصلہ ہے۔ اس پر کتنا عمل درآمد ہوتا ہے وہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ کیونکہ اس سے دو ٹکے کے لفافیوں پر شدید ضرب لگی ہے۔ اب وہ ماضی کی طرح ہر موضوع کا ایکسپرٹ بن کر تجزیے نہیں کر سکیں گے۔
 

جاسم محمد

محفلین
اینکر پرسنز کے لیے اپنے پروگرام میں تجزیہ پیش کرنا مستحسن نہیں۔ تاہم، دوسرے پروگراموں میں اُن کے بطور تجزیہ نگار شریک ہونے پر پابندی لگانا واقعی مضحکہ خیز ہے۔
صحافت اور میڈیا آزادی سے متعلق ٹالک شوز میں بطور subject matter expert اینکر پرسنز کو مدعو کرکے رائے لینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ ہاں اگر وہی اینکر پرسنز معیشت، سیاست، دفاع، تعلیم، صحت وغیرہ کے بارہ میں ایکسپرٹ بن کر اپنی رائے دیں گے تو پابندی لگے گی۔
 

فرقان احمد

محفلین
صحافت اور میڈیا آزادی سے متعلق ٹالک شوز میں بطور subject matter expert اینکر پرسنز کو مدعو کرکے رائے لینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ ہاں اگر وہی اینکر پرسنز معیشت، سیاست، دفاع، تعلیم، صحت وغیرہ کے بارہ میں ایکسپرٹ بن کر اپنی رائے دیں گے تو پابندی لگے گی۔
یہ تو خیر پیمرا نے اپنی حدود سے تجاوز کیا ہے۔ ہمارا موقف وہی پرانا ہے کہ اینکر پرسن کو اپنے پروگرام میں تجزیوں سے گریز کرنا چاہیے تاہم اگر انہیں کسی اور پروگرام میں بطور تجزیہ کار بلایا جائے تو وہ کھل کر اپنی رائے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ پیمرا نے کب سے کرنا شروع کر دیا ہے کہ کون کس معاملے میں مہارت رکھتا ہے۔ یہ تو کُلی طور پر چینلز کی صوابدید ہے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود اینکر پرسن بھی رہے ہیں اور دوبارہ بن بھی سکتے ہیں۔ وہ ایک تجزیہ نگار بھی ہیں۔ کیا انہیں کسی سیاسی پروگرام میں بطور تجزیہ نگار بلانا غلط ہو گا؟
 

سید عاطف علی

لائبریرین
صحافت اور میڈیا آزادی سے متعلق ٹالک شوز میں بطور subject matter expert اینکر پرسنز کو مدعو کرکے رائے لینے پر کوئی پابندی نہیں لگائی ہے۔ ہاں اگر وہی اینکر پرسنز معیشت، سیاست، دفاع، تعلیم، صحت وغیرہ کے بارہ میں ایکسپرٹ بن کر اپنی رائے دیں گے تو پابندی لگے گی۔
پاکستان کا میڈیا سپیشلسٹ ایپروچ سے کوسوں بلکہ برسوں دور ہے۔ یہان تو ایک ہی اینکر بیک وقت معیشت سیاست حتی کہ کھیل پر بھی اسی مستعدی سے پروگرام کرتا ھے جیسے ساری عمر
قومی ٹیم کا کوچ رہا ہو۔ اممیچورٹی کے تمام مظاھرے ہمارے چینلوں پر وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں ۔ بس ذرا زور سے بولنا آتا ھو۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جی نہیں۔ حکومت نے صرف subject matter expert بن کر تجزیے کرنے پر پابندی لگائی ہے۔ جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ اب ریٹائرڈ جرنیل دفاعی امور کے علاوہ ٹالک شوز پر اور کوئی بات نہ کر سکیں گے۔ اسی طرح صحافی اور اینکرز معیشت کے حوالہ سے عوام کو گمراہ نہیں کر پائیں گے۔ صرف ٹالک شوز میں مدعو سیاست دان ہی سیاست پر بات کر پائیں گے۔ میرے خیال میں پیمرا کی طرف سے بہترین فیصلہ ہے۔ اس پر کتنا عمل درآمد ہوتا ہے وہ ابھی دیکھنا باقی ہے۔ کیونکہ اس سے دو ٹکے کے لفافیوں پر شدید ضرب لگی ہے۔ اب وہ ماضی کی طرح ہر موضوع کا ایکسپرٹ بن کر تجزیے نہیں کر سکیں گے۔
بالکل بھی نہیں، حکومت کو اس بات کا قطعی کوئی حق نہیں ہے کہ وہ فیصلہ کرے کہ کس موضوع پر کون بولے اور کون نہیں۔ پرائیوٹ چینلز ہیں اور سب ریاست کے شہری ہیں جنہیں آزادی رائے کا حق حاصل ہے، حکومت نے اس قانون کو لاگو کرنا ہے تو پی ٹی وی پر کرے۔
 

La Alma

لائبریرین
یہ کیا بات ہوئی۔ اب یہاں کے مخفلینز کو ہی دیکھ لیجیے، ہر زمرے میں تبصرے کرتے پائے جاتے ہیں۔ بیچارے اینکر پرسنز بھی آخر ہماری طرح کے انسان ہی ہیں۔ :):)
 
Top