طارق شاہ

محفلین


1.jpg
غزل
شفیق خلشؔ​
پھر آج دوشِ باد بہت دُور تک گئی​
خوشبو رَچی تھی یاد، بہت دُور تک گئی

نِسبت سے کیا ہی خُوب نظارے تھے پَیش رُو​
اِک یاد لے کے شاد بہت دُور تک گئی

ہم ڈر رہے تھے کوس قیادت پہ زِیست کی !​
لے کر پُر اعتماد بہت دُور تک گئی

منزِل کی رَہنُمائی پَزِ یرائی سے مِلی!​
پہلی غَزل کی داد بہت دُور تک گئی

گُم گشتہ سیپیوں کو کنارے پہ ڈُھونڈنے​
پِھر لہرِاِجتہاد بہت دُور تک گئی

چیخ اِک سُنی گئی نہ وَطن کی کہیں کبھی​
آوازِ شاد باد بہت دُور تک گئی

سب ہی شَریکِ لُطف تھے تحرِیر پر خلشؔ​
یُوں شُہرتِ سَواد بہت دُور تک گئی

شفیق خلشؔ​

​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top