پنجاب میں نئے صوبے

پاکستان میں ریاستوں کی تشکیل اور کنفیڈریشن پاکستان کے مسائل کا حل ہے


  • Total voters
    34
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
تہاڈا پاکستان چھڈ دتا، ہن کاہدا فساد اے؟

تحریر صفدر عباس سید
اپنوں سے دور پردیس میں دکھ سکھ کی کہانیاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ کبھی کوئی کامیابی دستک دیتی ہے تو اردگرد کوئی ایسا چہرہ نہیں ہوتا جس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو دیکھ سکیں۔ غم اور ناکامی کا سامنا ہو تو کوئی مہربان آواز سنائی نہیں دیتی جو جینے کا حوصلہ دے سکے، ہمت دلا سکے۔

لیکن شاید دکھوں کی کہانی تو سب سے الگ ہے خاص طور سے جب کوئی اپنا بچھڑ جائے۔۔۔ ہمیشہ کیلئے۔۔۔ کوئی ایسا مہربان جدا ہو جائے جس کی مہربان دعائیں ہجرت کے سفر کی دھوپ میں سر پر سایہ کرتی ہیں۔
یہاں لندن میں خبر تو ملی ہے مجھے اپنے ماموں نذیر حسین کے وفات پا جانے کی۔ لیکن میں ایک لمبا سفر طے کرتا ہوا ساؤتھ ہال کے علاقے میں درشن سنگھ کے پاس کیسے آ گیا ہوں اور پھر مجھ سے زیادہ آنسو بوڑھے درشن سنگھ کی داڑھی کو بھگو رہے ہیں۔ درشن سنگھ جو اب آسانی سے چل پھر بھی نہیں سکتا۔ بوڑھے درشن سنگھ کی نوجوان پوتی وقفے وقفے سے کمرے میں آتی ہے اور حیرت سے اسے روتا دیکھتی ہے۔ سمجھ مجھے بھی نہیں آتا۔۔۔ یہ دکھ میرا ہے یا بوڑھے درشن سنگھ کا؟؟
اور ہاں!! یہ کہانی بھی درشن سنگھ کی ہے یا میری؟
آج سے تقریباً گیارہ سال پہلے درشن سنگھ سے میری پہلی ملاقات بھی عجیب تھی۔ لندن میں آپ کو سکھ اتنی تعداد میں د کھائی دیتے ہیں کہ شاید ہی کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں سکھ نہ پائے جاتے ہوں۔ یہی حال اب دیگر ایشیائی ممالک کے لوگوں کا بھی ہے۔ کئی علاقے تو ایسے ہیں جہاں گورے خال خال ہی نظر آتے ہیں۔
پُتر ذرا ہتھ پھڑائیں (بیٹا ذرا ہاتھ پکڑانا) ٹرین پر سوار ہونے کیلئے اس نے مجھے مدد کو پکارا۔ اسے چلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔ میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔ ہمارا سفر شروع ہوا۔ شاید یہ کہانی وہیں ختم ہو جاتی اگر بوڑھا سردار سلسلہ کلام آگے نہ بڑھاتا۔ لیکن کہانیاں تو شاید اپنے کرداروں کی تلاش میں رہتی ہیں اور کچھ کہانیاں تو اتنی عجیب ہوتی ہیں کہ یقین ہی نہیں آتا۔
سفر کے دوران بوڑھے سردار نے پیار سے پوچھا ’’کتھوں دا ایں؟‘‘ (کہاں سے ہو؟)
سردار جی! پاکستان! پنجاب توں! میں نے جواب دیا۔
کس علاقے توں؟ اس نے پھر پنجابی زبان میں سوال کیا۔
سردار جی۔ میرا گھر ملتان ہے باقی رشتہ دار لاہور تے ساہیوال رہندے نیءں!
منٹگمری! بوڑھے سردار نے گویا میری تصحیح کی۔
ہاں جی منٹگمری! میں نے کہا۔
منٹگمری وچ تیرا کون رہندا اے؟ (منٹگمری میں تمہارا کون رہتا ہے؟)
اس نے اگلا سوال کر دیا۔
سردار جی منٹگمری دے نال اک شہر ہے چھوٹا جنا چیچہ وطنی۔ اوہدے نال اک پنڈ اے۔ اس پنڈ وچ میرے مامے رہندے نیءں!
(سردار جی منٹگمری کے ساتھ ایک شہر ہے چھوٹا سا چیچہ وطنی۔ اور اس کے ساتھ ایک گاؤں ہے۔ اس گاؤں میں میرے ماموں رہتے ہیں۔)
میں نے اپنی طرف سے بوڑھے سردار کو مطمئن کرنے کیلئے پورا پتہ دیا۔
اچھا! اس نے قدرے خوش ہو کر کہا۔ کیہڑا پنڈ اے؟ (کونسا گاؤں ہے؟)
مجھے خیال ہوا کہ بوڑھا سردار ضرور کسی خاص وجہ سے یہ سب پوچھ رہا ہے۔ میں نے جواباً کہا سردار جی چک نمبر 116 (چک نمبر ایک سو سولہ) اور اس کے بعد میری حیرت کی انتہاء نہ رہی جب سردار نے کہا ’’اوئے توں کسووال والے چک نمبر ایک سو سولہ بٹا بارہ ایل دا ایں؟‘‘
یہ وہ مکمل ایڈریس تھا جس کی وجہ سے ہمارے ہاں چک پہچانے جاتے ہیں۔ انگریزوں کے دور حکومت میں نہری پانی کے نظام اور دیہاتوں میں تقسیم کرنے کی غرض سے یہ نمبر الاٹ کیے گئے تھے۔
سردار جی! تسی کس طرح پہچاندے او میرے پنڈ نوں؟
(آپ کس طرح پہچانتے ہیں میرے گاؤں کو) میں نے شدید حیرت سے پوچھا!
پُترا میں وی اوس پنڈ دا آں (بیٹا میں بھی اس گاؤں کا ہوں)۔
مجھے اس اتفاق کی ابھی سمجھ ہی نہیں آ رہی تھی کہ بوڑھے سردار نے پوچھا ’’تیرے مامے دا کی ناں اے؟‘‘ (تیرے ماموں کا کیا نام ہے؟)
جی نذیر حسین! میں نے فوراً کہا۔
اوئے نجیر حسین تیرا ماما اے؟ (اوئے نذیر حسین تیرا ماموں ہے؟)
بوڑھے سردار نے فرطِ جذبات سے مغلوب آواز میں کہا۔
جی سردار جی! تسی جاندے او انہاں نوں؟ (آپ جانتے ہیں انہیں؟)
اوئے او تے میرا یار سی نجیر حسین (وہ تو میرا دوست تھا نذیر حسین)
اچھا! میں نے حیرت سے کہا۔
بوڑھے سردار نے پھر پوچھا! او ہن کتھے ہے؟ (وہ اب کہاں ہے؟)
سردار جی! ماما جی تے اسے پنڈ وچ رہندے نیءں (ماموں جی تو اسی گاؤں میں رہتے ہیں۔) میں نے جواب دیا۔
پھر اس کے بعد سردار جی مجھ سے گاؤں کے بارے میں اور لوگوں کے بارے میں پوچھتے رہے اور میں جواب دیتا رہا۔ ہر جواب اور ہر سوال کے ساتھ حیرت ہماری ہم سفر رہی۔ بوڑھے سردار نے اپنا نام بتایا درشن سنگھ۔ پھر کہنے لگا سنگھ کہتے ہیں شیر کو! اور میں تیرے ماموں کو چڑانے کیلئے کہتا تھا ’’میں شیر آں‘‘ (میں شیر ہوں۔) اور وہ آگے سے کہتا تھا ’’میں شیر کو ڈرانے والا ہوں!‘‘
ہم لوگ ایک ساتھ گاؤں کے سکول میں پڑھتے تھے۔ گھومتے تھے، پھرتے تھے، جوانی تھی، گاؤں کے لڑکے کبڈی کھیلا کرتے تھے۔ قریب کے گاؤں والوں کے ساتھ بھی ہمارے کبڈی کے مقابلے ہوا کرتے تھے۔ پھر جب ہم ایک ساتھ مل کر دوسرے گاؤں والوں کو مقابلے میں شکست دیتے تھے تو پورا گاؤں ہمیں خوشی سے کاندھے پر اٹھا کر گلے میں ہار پہنایا کرتا تھا۔ جب ہم شام کے وقت گاؤں کے درمیان والے کنویں سے پانی ڈول بھر بھر کر نکالتے تھے تو سارے لوگ قطار لگا کر اپنے برتن پانی سے بھرتے تھے۔ یہ بھی ایک طرح سے ہماری ہمت اور مقابلے کا امتحان ہوتا تھا اور پھر اچانک درشن سنگھ نے سوال کیا! پنڈا دا او کھوہ اجے وی ہے؟ (گاؤں کے درمیان میں جو کنواں تھا کیا اب بھی وہ وہاں موجود ہے؟)
جی سردار جی! اجے وی ہے او کھوہ! پر ہن اوہدا پانی پین والا نہیں رہیا!
(اب بھی ہے وہ کنواں!! لیکن اب اس کا پانی پینے والا نہیں رہا) میں جواب دیا۔
جدوں فساد شروع ہوئے سی! اوس کھوہ تے میرے چاچے نوں قتل کیتا گیا سی! (جب فساد شروع ہوئے تھے! اسی کنویں پر میرے چچا کو قتل کیا گیا تھا۔)
سردار درشن سنگھ کی آواز غم اور دکھ سے بھر آئی تھی!
ہر طرف اچانک فساد ہو گئے۔ سارے رشتے ختم ہو گئے۔ سردار کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔
میں نے بوڑھے درشن سنگھ کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔
کچھ دیر بعد اچانک بولا ’’اس زمانے وچ اسی ڈردے نیءں سی کسے توں!!‘‘
اماں توں ڈردے سی!! تیری نانی نوں اسی سارے وڈی اماں کہندے سی!! او سی وی وڈی اماں، سارے پنڈ دی وڈی اماں! بڑا رعب سی اوہدا۔ تیرے مامے تے پنڈ دے دوجے یار بیلی ساہنوں سب توں بچا کے بارڈر تک چھڈن آئے سی۔
(اس زمانے میں ہم ڈرتے نہیں تھے کسی سے۔ لیکن اماں سے ڈرتے تھے۔ تیری نانی کو ہم سب بڑی اماں کہتے تھے۔ وہ تھی بھی بڑی اماں۔ سارے گاؤں کی بڑی اماں۔ بڑا رعب تھا اس کا۔ تیرے ماموں اور دوسرے یار دوست ہمیں سب سے بچا کر بارڈر تک چھوڑنے آئے تھے۔)
بوڑھا درشن سنگھ بولتا رہا۔ اس کی آواز جیسے صدیوں کا سفر طے کر رہی تھی۔ دھیرے دھیرے وہ بولتا رہا۔ آنسو بہتے رہے۔
کچھ دیر بعد ساؤتھ ہال اسٹیشن آ چکا تھا۔ سب مسافروں کو جلدی جلدی اپنی منزل پر پہنچنا تھا۔ سب کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ درشن سنگھ اور میں اتنے آہستہ چل رہے تھے گویا صدیوں کے سفر کی تھکان طاری ہو گئی ہو اور ٹرین بچھڑے ہوؤں کو یکجا کر کے اگلی منزل کو روانہ ہو گئی تھی۔
میں درشن سنگھ سے ملتا رہتا۔ وہ فون پر میرے ماموں سے بات بھی کرتا۔ دونوں دوست ایک دوسرے کی آواز سن کر بے حد خوش ہوتے۔ وہ دونوں بوڑھے جب باتیں کرتے تو یوں لگتا ان کے اندر وہی جوانی پھر سے لوٹ آئی ہو۔ دونوں دوست اپنی بچپن اور جوانی کی یادوں کو تازہ کرتے۔
کچھ عرصہ پہلے ماموں بیمار ہو گئے۔ میں نے درشن سنگھ کو بتایا تو وہ بے چین ہو گیا۔ ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے دونوں گزرے زمانوں کو یاد کرتے ہوئے روتے رہے۔
پھر اچانک درشن سنگھ نے کہا! بھائی نجیر حسین! اک گل تے دس ایہی پاکستان توں کدی چنگی خبر کیوں نیءں آندی؟
(بھائی نذیر حسین ایک بات تو بتاؤ۔ یہ پاکستان سے کبھی کوئی اچھی خبر کیوں نہیں آتی؟)
ماموں نے کہا۔ کوئی گل نئیں۔ آہستہ آہستہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
درشن سنگھ نے شرارت بھرے لہجے میں مجھ سے کہا۔ اوئے ہن تے خوش ہو جاؤ۔ ہن تے اسی نکل گئے آں۔ ہن تے اساں چھڈ دتا اے تہاڈے پاکستان نوں۔ ہن کاہدا فساد اے؟ ہن تسی آپس اچ ای لڑنا شروع کر دتا اے۔ ہن تے پیار نال رہنا سکھ لو
 
حق پرست عوام کو مبارک ہو
پنجاب قوم پرستی پر کاری ضرب پڑی ہے اور قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے صوبے کی قرارداد منظور کرلی ہے
امید ہے کہ اس سے پنجاب میں کئی اور صوبوں کی راہ ہموار ہوگی
سب کو مبارک
 

ساجد

محفلین
حق پرست عوام کو مبارک ہو
پنجاب قوم پرستی پر کاری ضرب پڑی ہے اور قومی اسمبلی نے جنوبی پنجاب کے صوبے کی قرارداد منظور کرلی ہے
امید ہے کہ اس سے پنجاب میں کئی اور صوبوں کی راہ ہموار ہوگی
سب کو مبارک
ہمت بھیا ، یہ "حق پرست عوام" کون ہیں ؟۔
 
پاکستان کے عوام جو حق کے ساتھ ہیں۔ جو ظلم کے خلاف ہیں
ویسے میں نے سب کو بھی مبارک دی اپ سمیت
 
کوئی بات نہیں
جلد ہی پنجاب میں نئے صوبوں کی قرارداد بھی منظور ہوگی انشاللہ
شاید ہزارہ صوبے کی قرارداد بھی کل ہو ہوجاوے
 

محمد امین

لائبریرین
ہمت بھائی، حق پرست عوام والی بات آپ گول کر گئے :) ۔ حق پرست تو ایم کیو ایم والے ہی کہلاتے ہیں۔۔۔۔خیر چھوڑیے

ایک دفعہ پھر رسہ کشی ہورہی ہے، نواز لیگ نے بہاولپور صوبے کو الگ اور جنوبی پنجاب کو الگ بنانے کی قرارداد پیش کردی ہے۔

اور ہاں۔۔ اوف دی ریکورڈ۔۔۔کراچی میں آجکل مہاجر صوبے کی تحریک ایک دفعہ پھر نئے زور و شور سے شروع ہوگئی ہے، مگر خاموشی کے ساتھ۔ اور ظاہر ہے اس میں درپردہ ایم کیو ایم کا ہی ہاتھ ہے۔ میں "مہاجر صوبے" والی بات سے شدید اختلاف کرتا ہوں کیوں کہ یہ مزید نفرتوں اور کشاکشوں کا جنم دے گا۔ جن لوگوں کو مہاجر سے تعبیر کیا جا رہا ہے ان کی تیسری نسل بھی پاکستان کی ہی پیداوار ہے۔۔۔!
 

شمشاد

لائبریرین
فکر نہ کریں کوئی بھی نیا صوبہ نہیں بنے گا۔

یہ سب کے سب مداری اپنی سیاست چمکانے کے لیے کبھی یہ صوبہ اور کبھی وہ صوبہ بنانے کی باتیں کرتے ہیں۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
ہمت بھائی، حق پرست عوام والی بات آپ گول کر گئے :) ۔ حق پرست تو ایم کیو ایم والے ہی کہلاتے ہیں۔۔۔ ۔خیر چھوڑیے

ایک دفعہ پھر رسہ کشی ہورہی ہے، نواز لیگ نے بہاولپور صوبے کو الگ اور جنوبی پنجاب کو الگ الگ بنانے کی قرارداد پیش کردی ہے۔

اور ہاں۔۔ اوف دی ریکورڈ۔۔۔ کراچی میں آجکل مہاجر صوبے کی تحریک ایک دفعہ پھر نئے زور و شور سے شروع ہوگئی ہے، مگر خاموشی کے ساتھ۔ اور ظاہر ہے اس میں درپردہ ایم کیو ایم کا ہی ہاتھ ہے۔ میں "مہاجر صوبے" والی بات سے شدید اختلاف کرتا ہوں کیوں کہ یہ مزید نفرتوں اور کشاکشوں کا جنم دے گا۔ جن لوگوں کو مہاجر سے تعبیر کیا جا رہا ہے ان کی تیسری نسل بھی پاکستان کی ہی پیداوار ہے۔۔۔ !
دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسری نسل کے پاکستانی پیداوار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک 'مہاجر' ہیں اور پاکستان سے برطانیہ ہجرت کرنے کے بعد برطانوی پاسپورٹ کے ساتھ ایک فخریہ تصویر بنوائی جاتی ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ہم 'برطانوی شہری' ہیں۔
 

محمد امین

لائبریرین
فکر نہ کریں کوئی بھی نیا صوبہ نہیں بنے گا۔

یہ سب کے سب مداری اپنی سیاست چمکانے کے لیے کبھی یہ صوبہ اور کبھی وہ صوبہ بنانے کی باتیں کرتے ہیں۔

انتظامی معاملات میں اکھاڑ پچھاڑ تو ضرور ہونی چاہیے مگر نیت بھی تو ٹھیک ہو۔۔۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسری نسل کے پاکستانی پیداوار ہونے کے باوجود وہ ابھی تک 'مہاجر' ہیں اور پاکستان سے برطانیہ ہجرت کرنے کے بعد برطانوی پاسپورٹ کے ساتھ ایک فخریہ تصویر بنوائی جاتی ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ اب ہم 'برطانوی شہری' ہیں۔

صحیح کہہ رہی ہیں آپی۔ بعض باتیں مجھے بھی بہت گراں گزرتی ہیں حالانکہ ایم کیو ایم نسبتاً بہتر جماعت ہے مگر نہ جانے کیوں بہت سی باتوں میں جہالت دکھاتے ہیں یہ لوگ۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
تیسری نسل خود کو کیا کہلوانا پسند کرتی ہے ؟

پاکستانی۔۔۔یا ۔۔۔karachiite... بہت سے لوگ اردو اسپیکنگ بھی کہتے ہیں مگر یہ میری نظر میں ایک غلط اصطلاح ہے۔ اردو اسپیکنگ کو ایک ethnicity سمجھنا غلط ہے۔ multiethnic میٹروپولیٹن شہروں میں اس طرح کی اصطلاح کا رواج منطقی طور پر غلط ہے۔
 

عثمان

محفلین
پاکستانی۔۔۔ یا ۔۔۔ karachiite... بہت سے لوگ اردو اسپیکنگ بھی کہتے ہیں مگر یہ میری نظر میں ایک غلط اصطلاح ہے۔ اردو اسپیکنگ کو ایک ethnicity سمجھنا غلط ہے۔ multiethnic میٹروپولیٹن شہروں میں اس طرح کی اصطلاح کا رواج منطقی طور پر غلط ہے۔
یہ صرف آپ کی اپنی رائے ہے یا کراچی کے اکثریتی نوجوانوں کی رائے ہے ؟
کیا سیاسی اور سماجی شناخت کے لئے وہ اپنے لئے وہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جن کا ذکر آپ نے کیا ہے ؟
 

محمد امین

لائبریرین
یہ صرف آپ کی اپنی رائے ہے یا کراچی کے اکثریتی نوجوانوں کی رائے ہے ؟
کیا سیاسی اور سماجی شناخت کے لئے وہ اپنے لئے وہی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جن کا ذکر آپ نے کیا ہے ؟

اکثریت کا تو نہیں پتا۔ لیکن میرے ہم خیال لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ویسے بہت سے لوگ جو "بڑے صوبے" والوں اور "سندھو دیش" والوں کی زیادتیوں سے تنگ ہیں جان بوجھ کر خود کو مہاجر کہتے ہیں جیسا کہ یہ مہاجر صوبہ تحریک۔ اور یہ حقیقت ہے، میں اس بات کو endorse کروں گا کہ زیادتیاں یقیناً ہیں۔ معاشرے میں ابھی بھی ہندوستان سے نقلِ مکانی کرکے آنے والوں کی اولادوں کو ڈھنگ سے پاکستانی نہیں سمجھا گیا۔ کتنے ہی سیاست دانوں کے بیانات اور مثالیں میں دے سکتا ہوں۔ خآص کر سندھی قوم پرست اور آجکل اے این پی کے شاہی سید صاحب بہت اچھل رہے ہیں کہ یہ مہاجر یہاں پناہ گزین ہیں ان کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہیں ہے۔ بنگالیوں اور بہاریوں سے بھی اے این پی والوں اور سندھی قوم پرستوں کو خاصی مخاصمت ہے۔۔
 

محمد امین

لائبریرین
اور نوجوان طبقہ اکثریتی طور پر اپنے لیے Karachiite کی اصطلاح استعمال کرتا ہے نہ کہ مہاجر۔ لفظ مہاجر اب زیادہ تر بڑی عمر کے افراد جو اپنے بچپن سے استعمال کرتے آرہے ہیں، وہ کرتے ہیں یا پھر سیاسی افراد۔۔۔۔۔۔!
 

عثمان

محفلین
اکثریت کا تو نہیں پتا۔ لیکن میرے ہم خیال لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے۔ ویسے بہت سے لوگ جو "بڑے صوبے" والوں اور "سندھو دیش" والوں کی زیادتیوں سے تنگ ہیں جان بوجھ کر خود کو مہاجر کہتے ہیں جیسا کہ یہ مہاجر صوبہ تحریک۔ اور یہ حقیقت ہے، میں اس بات کو endorse کروں گا کہ زیادتیاں یقیناً ہیں۔ معاشرے میں ابھی بھی ہندوستان سے نقلِ مکانی کرکے آنے والوں کی اولادوں کو ڈھنگ سے پاکستانی نہیں سمجھا گیا۔ کتنے ہی سیاست دانوں کے بیانات اور مثالیں میں دے سکتا ہوں۔ خآص کر سندھی قوم پرست اور آجکل اے این پی کے شاہی سید صاحب بہت اچھل رہے ہیں کہ یہ مہاجر یہاں پناہ گزین ہیں ان کا پاکستان میں کوئی اسٹیک نہیں ہے۔ بنگالیوں اور بہاریوں سے بھی اے این پی والوں اور سندھی قوم پرستوں کو خاصی مخاصمت ہے۔۔
آپ کے بیان سے انکار یا اختلاف نہیں۔ محض موقف سے آگہی مقصود تھی۔ :)
میرے نزدیک اگر کوئی گروہ کسی بھی طور اپنی شناخت کے لئے کوئی لفظ استعمال کرتا ہے تو کوئی دوسرا ، کسی دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والا اسے کسی بنیاد پر چیلنج نہیں کرسکتا۔ مثلاً اگر اکثریت اپنی سیاسی اور سماجی پہچان کے لئے لفظ "مہاجر" استعمال کرتی ہے تو محض اسے اس کی لغوی یا تاریخی توجیہہ کی بنیاد پر مستردنہیں کیا جا سکتا۔ اگر مہاجر خود کو بحثیت مجموعی مہاجر کہلوانا پسند کرتے ہیں (مفروضہ) تو ان کو ان کی خواہش کے مدنظر مہاجر (بطور اسم معرفہ) ہی کہا جائے گا۔ اس کے خلاف کوئی لغوی توجیہہ بطور استدلال نہیں اٹھائی جا سکتی۔
 

محمد امین

لائبریرین
آپ کے بیان سے انکار یا اختلاف نہیں۔ محض موقف سے آگہی مقصود تھی۔ :)
میرے نزدیک اگر کوئی گروہ کسی بھی طور اپنی شناخت کے لئے کوئی لفظ استعمال کرتا ہے تو کوئی دوسرا ، کسی دوسرے گروہ سے تعلق رکھنے والا اسے کسی بنیاد پر چیلنج نہیں کرسکتا۔ مثلاً اگر اکثریت اپنی سیاسی اور سماجی پہچان کے لئے لفظ "مہاجر" استعمال کرتی ہے تو محض اسے اس کی لغوی یا تاریخی توجیہہ کی بنیاد پر مستردنہیں کیا جا سکتا۔ اگر مہاجر خود کو بحثیت مجموعی مہاجر کہلوانا پسند کرتے ہیں (مفروضہ) تو ان کو ان کی خواہش کے مدنظر مہاجر (بطور اسم معرفہ) ہی کہا جائے گا۔ اس کے خلاف کوئی لغوی توجیہہ بطور استدلال نہیں اٹھائی جا سکتی۔

اس بات پر ہم پہلے بھی گفتگو کر چکے ہیں :) ۔ یہاں مہاجر لفظ اس لیے مناسب نہیں ہے کہ یہ ہجرت معاشی مقاصد کے لیے نہیں تھی۔ جیسا کہ انڈین مہاجرین جو دوسرے ممالک میں بوجہِ روزگار مقیم ہیں، خود کو NRI کہتے ہیں، تو اس سے ان کی آئیڈیولوجی پر ضرب نہیں پڑتی۔ جب کہ ہندوستانی مسلمان جنہوں نے پاکستان کے لیے ہجرت کی اور خود کو پاکستانی سمجھتے ہیں، تو ان کے لیے خود کو مہاجر کہلانا اس نظریے سے متصادم ہے جس کی خاطر انہوں نے ملک بنایا۔ اس طرح تو یہ لفظ ان کی دونوں شناختوں کا نمائندہ ہے۔ جب کہ اصل میں تو وہ ہندوستان کی شہریت بالارادہ ترک کرچکے تھے۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top