پاکستان کی تاریخ

اظہرالحق

محفلین
نبیل نہ ہی میں نے گفتگو کا رخ موڑا ہے اور نہ ہی کسی شخص پر بات کی ہے پلیز جب یہ کہا جائے “اوہ بای دا وے۔ اظہر کی بیان کردہ کتابیں دلچسپ ہیں مگر پاکستان کی تاریخ بیان نہیں‌کرتیں۔“

صرف ممتاز مفتی کی کتاب میں قیام پاکستان کے حوالے سے اور اسلامی لنک کے حوالے کچھ حوالے درج ہیں پلیز وہ دیکھیے

شہاب نامہ میں تو آپ کو صحیح پتہ چلتا ہے کہ کیسے شروع کے پاکستانی حکمران کیسے تھے ۔ ۔۔ اور کیا وجوہات تھیں ۔ ۔ ۔ کہ انہیں لوگ برداشت کرتے رہے

یہ سب تاریخی حوالے ہیں اسلئے میں نے ان کتابوں کا ریفرنس دیا ہے ۔ ۔ اور انشااللہ کچھ میرے پاس جو مواد ہے وہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ اصل پرابلم یہ ہے میرے ساتھ کہ میں ادھر امارات میں اپنی لائبرئیر ی ساتھ نہیں لایا ۔ ۔ ۔ پاکستان میں الحمدللہ میرے اپنے پاس بہت ساری کتابیں ہیں ۔ ۔ کچھ نایاب بھی ہیں انشااللہ اگر زندگی نے وفا کی تو کچھ وضاحت کے ساتھ پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ میرے لئے سب سے بڑا مسلہ ہی یہ ہے کہ آپ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون کہ رہا ہے یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کہ رہا ہے ۔ ۔ اور آپ کا مطالبہ حق بجانب ہے کہ میں تمام باتیں جو کرتا ہوں انکے کرنے کی وجوہات اور ثبوت پیش کروں ۔ ۔ ۔ جو کبھی میں پیش کر سکتا ہوں کبھی نہیں ۔ ۔ ۔

نبیل ۔ ۔ ۔ پاکستان کی تحریک بہت سارے ادوار سے گذری ہے ۔ ۔ ۔ اور اسلام کی بھی ۔ ۔ ۔ آج جہاں پاکستان کی بات ہوتی ہے وہیں اسلام کا نام آتا ہے ۔ ۔ ۔ میں 1947 ، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے بارے میں بہت کچھ پڑھ چکا ہوں اور دیکھ چکا ہوں ( مجھے کچھ عرصہ پاک آرمی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ) اسکے علاوہ ۔ ۔ ۔ کابل سے لے کر کلکتہ تک ہو آیا ہوں ۔ ۔ اور پاکستان کے کچھ اہم کرداروں سے بھی ملا ہوں ۔ ۔ ۔ سو جب بھی میں کوئی بات کرتا ہوں تو اسکے پیچھے بہت کچھ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ جسے آپ لوگ یک جنبش قلم ۔ ۔ (بلکہ کنجی تحتہ KeyBoard) سے رد کر دیتے ہو ۔ ۔ ۔ پلیز ایسا مت کریں ۔ ۔ ۔ آسان لفظوں میں اگر آپ مجھے بائیں بازو کی حمایت کرنے والا سمجھیں ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟ ۔ ۔ ۔ :wink:

یار رئیلی مجھے اس محفل میں بہت برا محسوس ہوتا ہے ، میں اصل میں ایک ہنسنے ہنسانے والا “بھانڈ“ ہوں سو زیادہ دیر سنجیدیگی سے بات نہیں کر سکتا ۔ ۔ اور لگتا ہے اب نہیں کر پاؤں گا ۔ ۔ سو پلیز ۔ ۔ ۔ پلیز پلیز ۔ ۔ ۔ (اس سے زیادہ انگریجی مجھے نہیں آتی )
 

نبیل

تکنیکی معاون
اظہرالحق نے کہا:
نبیل نہ ہی میں نے گفتگو کا رخ موڑا ہے اور نہ ہی کسی شخص پر بات کی ہے پلیز جب یہ کہا جائے “اوہ بای دا وے۔ اظہر کی بیان کردہ کتابیں دلچسپ ہیں مگر پاکستان کی تاریخ بیان نہیں‌کرتیں۔“

صرف ممتاز مفتی کی کتاب میں قیام پاکستان کے حوالے سے اور اسلامی لنک کے حوالے کچھ حوالے درج ہیں پلیز وہ دیکھیے

شہاب نامہ میں تو آپ کو صحیح پتہ چلتا ہے کہ کیسے شروع کے پاکستانی حکمران کیسے تھے ۔ ۔۔ اور کیا وجوہات تھیں ۔ ۔ ۔ کہ انہیں لوگ برداشت کرتے رہے

یہ سب تاریخی حوالے ہیں اسلئے میں نے ان کتابوں کا ریفرنس دیا ہے ۔ ۔ اور انشااللہ کچھ میرے پاس جو مواد ہے وہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ ۔ اصل پرابلم یہ ہے میرے ساتھ کہ میں ادھر امارات میں اپنی لائبرئیر ی ساتھ نہیں لایا ۔ ۔ ۔ پاکستان میں الحمدللہ میرے اپنے پاس بہت ساری کتابیں ہیں ۔ ۔ کچھ نایاب بھی ہیں انشااللہ اگر زندگی نے وفا کی تو کچھ وضاحت کے ساتھ پیش کروں گا ۔ ۔ ۔ میرے لئے سب سے بڑا مسلہ ہی یہ ہے کہ آپ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ کون کہ رہا ہے یہ نہیں دیکھتے کہ کیا کہ رہا ہے ۔ ۔ اور آپ کا مطالبہ حق بجانب ہے کہ میں تمام باتیں جو کرتا ہوں انکے کرنے کی وجوہات اور ثبوت پیش کروں ۔ ۔ ۔ جو کبھی میں پیش کر سکتا ہوں کبھی نہیں ۔ ۔ ۔

نبیل ۔ ۔ ۔ پاکستان کی تحریک بہت سارے ادوار سے گذری ہے ۔ ۔ ۔ اور اسلام کی بھی ۔ ۔ ۔ آج جہاں پاکستان کی بات ہوتی ہے وہیں اسلام کا نام آتا ہے ۔ ۔ ۔ میں 1947 ، 1965 اور 1971 کی جنگوں کے بارے میں بہت کچھ پڑھ چکا ہوں اور دیکھ چکا ہوں ( مجھے کچھ عرصہ پاک آرمی کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ) اسکے علاوہ ۔ ۔ ۔ کابل سے لے کر کلکتہ تک ہو آیا ہوں ۔ ۔ اور پاکستان کے کچھ اہم کرداروں سے بھی ملا ہوں ۔ ۔ ۔ سو جب بھی میں کوئی بات کرتا ہوں تو اسکے پیچھے بہت کچھ ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ جسے آپ لوگ یک جنبش قلم ۔ ۔ (بلکہ کنجی تحتہ KeyBoard) سے رد کر دیتے ہو ۔ ۔ ۔ پلیز ایسا مت کریں ۔ ۔ ۔ آسان لفظوں میں اگر آپ مجھے بائیں بازو کی حمایت کرنے والا سمجھیں ۔ ۔ ۔ ۔ کیوں کیا خیال ہے ؟ ۔ ۔ ۔ :wink:

یار رئیلی مجھے اس محفل میں بہت برا محسوس ہوتا ہے ، میں اصل میں ایک ہنسنے ہنسانے والا “بھانڈ“ ہوں سو زیادہ دیر سنجیدیگی سے بات نہیں کر سکتا ۔ ۔ اور لگتا ہے اب نہیں کر پاؤں گا ۔ ۔ سو پلیز ۔ ۔ ۔ پلیز پلیز ۔ ۔ ۔ (اس سے زیادہ انگریجی مجھے نہیں آتی )

اظہرالحق، ویسے ہم نے آپ کی بذلہ سنجی کا پہلو کم ہی دیکھا ہے یہاں۔ آپ اور نعمان کی عمر میں کچھ فرق ہے۔ کچھ اس کا خیال رکھ کر ہی نعمان کی بات کا جواب دے دیا کریں۔ اگر نعمان کی provocation کی عادت ہے تو یہ کام تو آپ بھی کرتے ہیں۔

اور یہ دائیں بائیں بازو کی بحث بھی رہنے دیں۔ کسی زمانے میں دائیں بازو والے بائیں بازو والوں کو اصحاب الشمال کہتے تھے۔
 
نعمان نے کہا:
اظہر بھائی ہم یہاں پاکستان کی تاریخ پر بات کریں گے آپ براہ مہربانی اس گفتگو کو اپنی مرضی کے رخ پر نہ موڑیں۔

لگتا ہے میں پھر ایک کنٹروورسی پرووک کرنے جارہا ہوں۔ اللہ نبیل بھائی پر اپنا رحم و کرم اور زیادہ فرمائے۔

ہمت علی پاکستان کے قیام کا مقصد اللہ کے قانون کا نفاذ نہیں تھا۔ تاریخ پاکستان پڑھنی ہے یا وہی گھسی پٹی باتیں دہرانی ہیں جو دسویں جماعت کے مطالعہ پاکستان میں درج ہیں؟

میرے بھائی جب ہم تاریخ پڑھتے ہیں یا پڑھاتے ہیں تو ہم قطعیت سے حتی الامکان گریز کرتے ہیں۔ پاکستان کے قیام کا مقصد مسلمانوں کے لئیے ایک علیحدہ مملکت کا حصول تھا کیونکہ مسلمانوں کا یہ ماننا تھا کہ متحدہ ہندوستان میں ان کے حقوق غیر محفوظ ہونگے۔ علیحدہ مملکت مسلم اکثریتی علاقے میں اسلئیے بنائی گئی تاکہ وہاں مسلمان اکثریت میں ہوں اور اپنے حقوق کا تحفظ ممکن بناسکیں۔ یہ اللہ کے قانون والی چیز تو سیاست کی پیداوار تھی پاکستان میں اس کا نفاذ کبھی ویسے نہیں ہونا تھا جیسے آپ اور اظہر سمجھ رہے ہیں۔ اغراض و مقاصد قانون نہیں تھا بلکہ ایک خاکہ تھا اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں تھی۔ قانونی حیثیت میں یہ تب آیا جب بھٹو صاحب کے دور میں ملک کا پہلا متفقہ آئین تیار ہوا۔ اس دوران بہت لمبا گیپ ہے۔ بیچ میں اس کو مختلف آمروں نے آئین میں ڈالا مگر آمروں کے آئین متفقہ نہیں تھے اور اس پر بہت کنٹروورسی ہے۔

اس بارے میں غالبا ہمارے بھائی شعیب صفدر کچھ روشنی ڈال سکیں گے۔ کیونکہ وہ قانون کے طالبعلم ہیں۔ خصوصا اس بات پر کہ کس طرح ایک طرف ہمارے سیاستدان اور آمر اسلام کو شامل کرتے رہے اور دوسری طرف ان قوانین کو غیر موثر بھی بناتے رہے۔

تاریخ سے ہٹ کر دیکھیں تو میں بالکل نہیں سمجھتا کہ پاکستان کا مسلمان مایوس ہے۔ میری زاتی ترجیح سیکولرازم کے علاوہ میں نہیں سمجھتا کہ پاکستان میں لوگ طالبان سعودی عرب یا ایران کی طرح کا کوئی بھی نظام پسند کریں گے۔ میرے بھائیوں کو اپنے ملک کا کلچر بھی دیکھنا چاہئیے۔ جس ملک میں لاکھوں مرد اور عورتیں بسنت کے موقعے پر چھتوں پر بوکاٹا کے نعرے لگاتے ہوں اور رقص و موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہوں۔ جس ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے لڑکے لڑکیاں ایک سروے (سروے اور اعداد و شمار صحیح سے یاد نہیں لیکن کچھ تیس فیصد کے قریب تھا) میں یہ اعتراف کریں کہ وہ مخالف جنس کی قربت سے بغیر شادی کئیے لطف اندوز ہوچکے ہیں۔ جس ملک میں شیعہ سنی اسمائیلی بوہری بریلوی دیوبندی وغیرہ رہتے ہوں۔ اس ملک کو آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ وہاں لوگ اسلامی نظام کا نفاذ چاہتے ہیں؟ آپ لوگ پتہ نہیں کس احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ مگر پاکستان کے اتنہائی پسماندہ اور دورافتادہ پختون قبائلیوں کے علاوہ کوئی پاکستان میں اسلامی انقلاب نہیں چاہتا۔ حقائق کو سامنے رکھیں، رویوں کو دیکھیں اور سمجھیں۔ پاکستان کے کلچر کو دیکھیں میرے بھائی۔ یہ لوگ اسلامی انقلاب نہیں چاہتے ہاں ایک انصاف پر مبنی حکومت دیکھنا چاہتے ہیں مگر ایسی حکومت جو ان کے کلچر کو ڈنڈے کے زور پر تبدیل نہ کرے۔

خیر یہ ایک الگ بحث ہے کہ پاکستان کی عوام کیا چاہتے ہیں۔ لیکن تاریخ کے کریکشن کے لئیے ضروری ہے کہ میں یہ بتاتا چلوں کہ الہ آباد جلسے اور پاکستان کے قیام کے دوران جو واقعات ہوئے انہیں اسی طرح پڑھیں جس طرح پڑھا جانا چاہئیے نہ کہ اسطرح کہ جیسے آپ پڑھنا چاہتے ہیں۔ اور جب آپ ان واقعات پر قومی لیڈروں کا ردعمل دیکھیں تو یہ یاد رکھیں کہ وہ فرشتے نہیں معمولی انسان تھے جن کے سینوں میں دل تھے۔ جنہیں عزت، شہرت اور نام و نمود سے بھی غرض ہوسکتی ہے۔ وہ بے ایمان بھی ہوسکتے ہیں اور کینہ پرور بھی۔ سیاست میں بیان بازی اور نعرے بازی کا ایک اہم رول ہے۔ سیاستدان جو آج بھی قلابازیاں کھاتے ہیں تب بھی جھوٹ بولتے تھے۔ جلسے میں اگر زیادہ لوگ نہیں آئے تو نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے نعرے لگوادئیے۔ اس دور میں بھی ایسا ہی ہوتا تھا۔ آپ انہیں اسطرح پڑھیں جیسے آپ آجکل نوازشریف یا بینظیر کو پڑھتے ہیں۔ تو آپ کو تاریخ کی زیادہ سمجھ آئی گی۔ اسطرح کے غیر جانبدار مطالعہ سے آپ کو پاکستان سے اور بھی زیادہ محبت ہوجائے گی اور ایسا بالکل نہ سوچیں کہ ایسا کرنے سے آپ کی حب الوطنی میں کسی قسم کی کوئی کمی آجائے گی۔

اور جب آپ تاریخ پڑھیں تو یہ بات بھول جائیں کہ آپ کو مسلمانوں سے ہمدردی کرنی ہے کیونکہ پھر آپ کو مزہ بالکل نہیں آئے گا۔

ایمانداری کی بات ہے میں بھی پہلے سستے اردو ڈائجسٹوں میں ہی تاریخ پڑھتا تھا مگر انٹرنیٹ سے مجھے بہت مدد ملی۔ گرچہ میں جنگ ستمبر اور سقوط ڈھاکہ کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں مگر اس سے میرے اس جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی جو ملکہ ترنم میڈم نورجہاں کے نغمے سن کر دل میں بیدار ہوتا تھا۔ میں اب بھی جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار سنتا ہوں تو خوشی سے ناچنے لگتا ہوں۔ اور ہاں اس بات سے تو غالبا ہمارے اسلام پسند اور معتدل مزاج بھائی کوئی انکار نہیں کرے گا کہ پاکستان اپنی آبادی، رقبے اور پسماندگی کے باوجود انٹرنیشنل میڈیا کی نظروں میں رہتا ہے۔ بی بی سی پر اتنی خبریں بھارت کی نہیں ہوتیں جتنی پاکستان کی ہوتی ہیں۔ بھارت میں ہزار عورتیں ریپ ہوں اور سینکڑوں کو انصاف نہ ملے تو کوئی مسئلہ نہیں لیکن پاکستان کی ایک دلیر عورت ساری دنیا کے میڈیا کی توجہ اپنی طرف کرالیتی ہے۔ ان شارٹ ہم بہت عظیم قوم ہیں اور عظیم رہنے کے لئیے ضروری نہیں کہ ہم تاریخ کو الٹراماڈرن شعاعوں سے بچانے والے چشمے لگا کر پڑھیں۔

سب کی نظروں میں ۔۔۔ پاکستان
کبھی نہ بھولو

اوہ بای دا وے۔ اظہر کی بیان کردہ کتابیں دلچسپ ہیں مگر پاکستان کی تاریخ بیان نہیں‌کرتیں۔
نعمان اور نبیل۔ میں اپ دونوں کی رائے سے متفق ہوں۔
پاکستانی عوام کی اکثریت اسلام کا نفاذ نہیں چاہتی۔ یہ میری بھی feelings ہیں۔ اگرچہ اس کے ثبوت میں‌کوئی مواد پیش نہیں کرسکتا۔ نبیل کی بات کہ پوسٹنگ صرف موضوع پر ہونی چاہے سے بھی کوئی اختلاف نہیں۔
نعمان سے اور دوسرے معززین حضرات سے بھی عرض کرنی ہے کہ بات جب بھی کریں کو ئی بھی کریں لیکن اس سے دوسرے کا مذاق نہیں‌اڑانا چاھیے کسی کی تحضیک نہیں کرنی چاھیے اگرچہ اپ کتنی ہی مدلل اور پرمغز بات کررہے ہوں۔
قرارداد مقاصد دسویں جماعت میں پڑھائی جاتی ہے تو کہاں سے دلیل بن جاتی ہے کہ اس کا حوالہ نہ دیں۔ یہی قرارداد پاکستان کے ائین کی روح‌ہے۔ اگر اپ نے کلمہ شریف پہلی کلاس میں پڑھا تھا تو وہ اب بھی وہ درست ہے۔ مطلب یہ کہ حقائق حقائق ہوتے ہیں‌اور بدل نہیں جاتے۔
نعمان کی یہ بات سولہ انے درست ہے کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت وہ اسلام نہیں‌چاہتی جو اس وقت سعودی عرب میں ہے یا کبھی افغانستان میں تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ عوام اسلام سے دور ہوچکے ہیں۔ مگر یہ الگ موضوع ہے۔
بات پاکستان کی تاریخ کی ہورہی تھی اور میرے خیال میں‌ بات 1947 سے شروع ہونی چاہیے۔ شروع سے ہی ہماری قیادت نے غلط فیصلے کیے ہیں۔ شاید 1948 میں قائد اعظم نے پاکستان کی قومی زبان اردو کو قراردیا۔ جو کہ پاکستان کی عظیم اکثریتی بنگلہ عوام کو بہت گراں‌گزرا۔ میرا خیال ہے کہ یہ ان کی ایک عظیم غلطی تھی۔ ایک اور سانحہ یہ گزرا کہ مہاجرین میں‌شامل کالی بھیڑوں‌نے لوٹ مار اور قبضہ گیری کا ایک بازار گرم کردیا۔ غلط کلیم داخل کرکے، مکانوں‌پر قبضہ کرکے۔ اس سب کرپشن کا نتیجہ برا ہی نکلنا تھا۔
پاکستان بننے کے بعد حکومتوں‌کی تبدیلی بھی کرپشن کے سلسلے کا حصہ ہی تھا۔ فوج اس بہتے دریامیں‌کیوں‌ہاتھ نہ دھوتی جب کہ اس کے پاس ڈنڈا بھی تھا۔
پاکستان کی تاریخ جب بھی پڑھائی جاتی ہے تو یہ بھی نہیں‌بتایا جاتا کہ پنجاب میں یونسسٹ پارٹی کی حکمرانی تھی پاکستان بننے کے فورًا پہلے تک۔ اور اس میں‌وہ سارے جاگیر دار اور سردار شامل تھے جو پاکستان بننے کے بعد حکومت میں‌شامل رہے۔
فوج کے گھناونے کردار کا پردہ کبھی کتابوں میں‌نہیں پڑھایا جاتا۔ پاکستان کے دولخت ہونے کی واحد ذمہ دار فوج کے جرنیلوں‌کو پورا پروٹوکول دیا جاتا ہے۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
السلام علیکم ہمت علی اور آپکا شکریہ کہ آپ گفتگو کو ٹریک پر لائے۔ میرے خیال میں یہاں تواتر سے ایک موضوع جو زیر بحث آ رہا ہے وہ پاکستان کے مقصد کا قیام یا اسلام کا نفاذ ہے۔ کچھ عرصہ قبل اس تھریڈ پر یہ بات چلی تھی۔ اگر دوست چاہیں تو وہاں جا کر بات آگے بڑھا سکتے ہیں۔
 
میرے خیال میں پاکستان کے قیام کی بات تب تک نامکمل رہے گی جب تک ہم کانگریس کے بننے کی تاریخ سے بات کو شروع نہ کریں اور یہ جائزہ نہ لیں کہ کیوں مسلم لیگ کی ضرورت پیش آئی اور کیوں ایسے رہنما جو کانگریس میں تھے وہ مسلم لیگ میں آئے اور کیسے ان دونوں جماعتوں کی چپقلش جاری رہی۔ لکھنو پیکٹ ، تحریکِ خلافت ، قائد اعظم کا کانگریس چھوڑنا، نہرو کے نکات، قائد اعظم کے چودہ نکات، الہ آباد کا جلسہ، گول میز کانفرنسیں، کانگریسی وزارتیں، عبوری حکومتیں یہ سب زیرِ بحث لانا ہوں گے اور پھر ہم صحیح طور پر دیکھ سکیں گے کہ پاکستان کیوں بنا۔ اس کے بعد ایک دوسرا دور شروع ہوگا کہ پاکستان بننے کے بعد کیا ہوا۔ ان دونوں تواریخ کے لیے علیحدہ علیحدہ تھریڈ ہونے چاہیے۔
دوسرے میں مبحثین سے درخواست کروں گا کہ ایک دوسرے پر طنز کرنے کی بجائے دلائل اور تاریخ کو مد نظر رکھا جائے۔ہر شخص کی تاریخ میں کچھ جانب داری اور تعصب لازمی ہوگا اورکوئی بھی اس سے بری الزمہ نہیں ہو سکتا۔ اظہر الحق پر کچھ زیادہ ہی تنقید ہو رہی ہے اور میرا خیال ہے یہ مناسب نہیں، ہمیں اپنا نقطہ نظر پیش کرکے فیصلہ قاری پر چھوڑ دینا چاہیے۔ یہی صحت مندانہ بحث کا اصول ہے اور اسے ہمہ وقت پیشِ‌نظر رکھنا چاہیے۔ جتنے تاریخی حوالے ہوں گے اتنا بہتر ہوگا اور تاریخ ناولز اور فسانوں میں بھی چھپی ہوتی ہے ہمیں اسے حقیر نہیں جاننا چاہیے۔ تقسیمِ ہند پر منٹو اور امرتا پریتم کے افسانے ایک گراں قدر تاریخ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جہاں تک تنقید کی بات ہے تو وہ تو ابنِ خلدون اور ابنِ جریر کی تاریخ پر بھی لوگ کرتے ہیں ، آج کل کے تاریخ نویس کس قطار شمار میں ہیں۔
 

نعمان

محفلین
فکشن چاہے وہ کتنے ہی عمدہ کیوں نہ ہوں اور چاہے کتنی ہی مستند تجربات سے استفادہ کرنے کے بعد لکھے گئے ہوں تب بھی وہ تاریخی حوالہ جات کے طور پر استعمال نہیں کئیے جانا چاہئیے۔ یہ ایک جانا مانا تحقیقی اور استدلالی رویہ ہے جو تاریخ کے مطالعے کے لئیے ضروری ہے۔

قیام پاکستان کے بعد ہیروازم کے شوق میں ہم نے قائداعطم کو غیرانسانی مخلوق بنادیا۔ حالانکہ وہ ایک منجھے ہوئے سیاستدان تھے اور انہیں اسی طرح دیکھا جانا چاہئیے۔ اردو کو قومی زبان بنانے کا فیصلہ سیاسی مجبوری تھا لیکن قائداعظم اس بات کا اندازہ نہ لگائے پائے کہ یہ مسئلہ کس قدر اہم ہوجائے گا۔

وہاب کے سوال کا جواب کہ قائداعظم نے سرحد کی اسمبلی کیوں توڑ دی۔

پاکستان کے قیام کے فورا بعد سرحد میں انگریز گورنر کننگہم تعینات تھے۔ جنہوں نے اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے سرحد کی اسمبلی ڈیزالو کی کیونکہ سرحد کی کابینہ اور خان صاب نے پاکستان کے جھنڈے کو سلوٹ کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس سے بعدازاں پاکستان کے قبائلیوں کو کشمیر پر قبضے کی کوششوں میں بہت آسانی ہوگئی۔ اور کننگہم اس لشکر کشی پر مستعفی ہونا چاہتے تھے تاقتیکہ قائد نے انہیں قائل کیا کہ نوزائیدہ مملکت کے لئیے ان قبائلیوں پر کنٹرول رکھنا بہت مشکل کام ہے۔ میرے خیال میں سرحد کی حکومت کو ڈزالو کرنا بہت اچھا کام تھا کیونکہ نوزائیدہ مملکت سرحد کابینہ کی خودسری اور علیحدگی پسندی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر تھی۔ دوسری بات یہ کہ یہ لوگ پاکستان کے قیام کے مخالف رہے تھے اور نئی مملکت جو پہلے ہی اتنی مسائل سے دوچار تھی اس کے پاس زیادہ آپشن نہیں تھے۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ صحیح تھا مگر ان حالات کے تناظر میں یہی حل بہتر تھا۔

خان عبدالغفار خان صاحب انگریزوں سے ایک الگ پختون ریاست کا مطالبہ کررہے تھے کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ پختون عوام پاکستان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ کیونکہ وہاں ان کی منتخب حکومت تھی اور کانگریس کا بھی مسلسل دباؤ تھا لہذا انگریزوں نے وہاں ریفرنڈم کرایا جس میں سرحد کے عوام سے پوچھا گیا کہ آیا وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں یا بھارت کے۔ خان صاحب کو اعتراض یہ تھا یہاں بھارت کے بجائے آزاد پختونستان کا سوال کیا جائے جسے انگریز اسلئیے منظور نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس سے ہندوستان کے دیگر صوبوں میں انارکی پھیلتی اور صوبوں یا ریاستوں کو آزادی کا آپشن دینے کے نہرو اور جناح دونوں مخالف تھے۔ انگریز کی تقسیم کا پلان تیار تھا اور اس میں اسقدر بڑی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ریفرنڈم ہوا اور مسلم لیگ انگریزوں کے پروپگینڈے کو استعمال کرتے ہوئے پختونوں کو یہ کنونس کرانے لگی کہ بھارت ایک ہندو ملک ہوگا اور پاکستان ایک اسلامی ملک۔ پختونوں کا گراؤنڈ رئیلیٹی بھی دیکھنا تھی۔ تقسیم کے بعد اور ریفرنڈم کے وقت بھی بھارت اور سرحد میں ثقافتی اور جغرافیائی خلیج بہت بڑی تھی اسلئیے انہیں اسلام کے نام پر پاکستان کے ساتھ منسلک ہونا زیادہ سہل نظر آیا۔ چونکہ خان صاحب تو بائیکاٹ کرچکے تھے اسلئیے انہیں اس پر کوئی اعتراض کرنے کا حق نہیں تھا۔ اعتراض کرنے کا حق انہیں اسلئیے بھی نہیں تھا کیونکہ خود سرحد میں اسوقت ان کی حکومت تھی اور اعتراض کا مطلب یہ تھا کہ اب انہیں عوامی نمائندگی حاصل نہ رہی تھی۔

اگر خان صاحب کی حکومت تب ڈسمس نے کی جاتی تو کچھ دن بعد کرنا پڑجاتی کیونکہ ان کا سوکالڈ پختون نیشنلزم مسلم لیگ نے صرف دوسال میں ٹھکانے لگادیا تھا۔ اور ریفرنڈم کے بعد حکومت پاکستان اس پوزیشن میں تھی کہ ان کے پاس سرحد حکومت ڈزالو کرنے کے لئیے کافی اہم وجوہات موجود تھیں۔

سرحد اسمبلی کے توڑے جانے کا الزام قائد پر لگانا نامناسب ہے۔ کیونکہ مسلم لیگ ایک باقاعدہ سیاسی جماعت تھی اور آزادی کے بعد ایک عرصے تک برطانوی راج بالواسطہ اقتدار میں شریک تھا۔ مسلم لیگ، پاکستان اور برطانوی حکومت تینوں کے مشترکہ مفاد یہ تھا کہ سرحد میں خان صاحب کی حکومت ڈزالو کردی جائے۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئیے کہ گورنر جنرل پاکستان اتنے طاقتور نہیں تھے کہ اس فیصلے کے سامنے کچھ کرسکتے۔ یہ اور بات ہے کہ انہوں نے اس کی مخالفت بھی نہیں کی کیونکہ اس کے پیچھے بڑی ٹھوس وجوہات موجود تھیں۔ اسے کانگریس کی حکومت کہنا اسلئیے غلط ہوگا کیونکہ خان صاحب کانگریس پر کھلے عام خدائی خدمتگاروں سے غداری کا الزام لگا چکے تھے۔ اور قیام پاکستان کے سے کچھ عرصہ پہلے اور فورا بعد میں پختون نیشنلزم کا فروغ یقینا کانگریس کی پالیسی میں نہیں تھا جو کہ قیام پاکستان کے مجوزہ منصوبے کو قبول کرچکی تھی۔ اور ریفرنڈم کے بعد خان صاحب کی حکومت کے ایلیکٹوریٹ پر بھی شکوک کے سائے منڈلانے لگے تھے۔

http://pakistanspace.tripod.com/47.htm
http://www.tribuneindia.com/2000/20000716/spectrum/books.htm#3
http://www.khyber.org/publications/001-005/pakhtunethnicnationalism.shtml
 

نعمان

محفلین
شاید میری پوسٹ سے وہاب کے سوال کا جواب واضح نہیں ہوا اسلئیے یہ لکھ رہا ہوں۔ وہاب پوچھتے ہیں کہ یہ جمہوری عمل تھا یا غیر جمہوری۔

یہ بالکل جمہوری عمل تھا کیونکہ خان صاحب بھارت کے ساتھ تو جا نہیں سکتے تھے اور آزاد مملکت علیحدگی پسند شورش کو اسلئیے برداشت نہ کرسکتی تھی کیونکہ ان کے پاس جمہوری جواز ریفرنڈم کی صورت میں موجود تھا۔
 
جواب

ویسے جناب نعمان صاحب یہی ملک کے غدار جب مرے تو کیوں ہم لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ کاش اس ملک کو اگر عبدالغفار اور ولی خان جیسے غدار کچھ اور ملتے تو پاکستان کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہوتا۔ کیونکہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے ان لوگوں کی جتنی خدمات ہیں شاید ہی کسی کی ہوں۔ ان لوگوں کا تو شروع سے ہی یہ مطالبہ رہا کے صوبوں کو اپنے حقوق دو اور وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارا ت کی تقسیم منصفانہ طریقے سے ہو۔اگر ہم اس پر عمل کر لیتے تو شاید پاکستان کبھی تقسیم نہ ہوتا۔ ویسے کتنے دکھ کی بات ہے کہ پاکستان میں اپنے حقوق کی بات کرنے والے ہر شخص کو ہم لوگوں نے غدار کا لیبیل لگا کر ذلیل کیا۔ آپ کی رائے سے اگر اتفاق کیا جائے کہ سرحد حکومت علیحدہ سٹیٹ کا مطالبہ کرنا چاہتی تھی۔ تو وہ ریفرنڈم پر اثر انداز کیوں نہ ہو سکی۔ بقول آپ کے مرکز کمزور تھی۔ لیکن پھر بھی ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں فیصلہ ہوا۔ جب کہ حکومت کانگرس کی رہی۔ اور اگر آپ اس فیصلے کو صحیح تصور کرتے ہیں کہ اسمبلی کو توڑنا بجا تھا۔ تو پھر تو یہ ایک ایسا بہانہ ہے جس کے ذریعے نجانے کتنی اسمبلیاں توڑی گئیں۔ اور بہانہ یہی بنایا گیا کہ یہ لوگ یا تو غدار تھے یا ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو رہے تھے۔ پھر تو پاکستان میں جس جس موقعے پر جمہوریت کا قتل ہوا وہ سب صحیح تھا۔ خواہ وہ غلام محمد نے کیا ایوب نے کیا ضیا نے کیا یا مشرف نے۔ یہ سب صحیح تھے۔ کیونکہ اگر یہ لوگ نہ آتے تو بقول آپ کے اور ان صاحبان کے جن کا میں نے اوپر ذکر کیا ہے۔ پاکستان تباہ ہو جاتا۔ میرے خیال میں مسئلہ کچھ بھی نہیں‌تھا دراصل ڈاکٹر خان صاحب اور عبدالغفار کا جھکاو چونکہ سوویت بلاک کی طرف تھا۔ جس کی انھیں سزا ملی۔اس کے بعد خان صاحب کا قتل بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ جس کے بعد ہمیں اپنے وزیر اعظم خان لیاقت علی خان سے ہاتھ دھونا پڑا۔
 

نعمان

محفلین
آپ کی رائے سے اگر اتفاق کیا جائے کہ سرحد حکومت علیحدہ سٹیٹ کا مطالبہ کرنا چاہتی تھی۔ تو وہ ریفرنڈم پر اثر انداز کیوں نہ ہو سکی۔ بقول آپ کے مرکز کمزور تھی۔ لیکن پھر بھی ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں فیصلہ ہوا۔ جب کہ حکومت کانگرس کی رہی۔ اور اگر آپ اس فیصلے کو صحیح تصور کرتے ہیں کہ اسمبلی کو توڑنا بجا تھا۔ تو پھر تو یہ ایک ایسا بہانہ ہے جس کے ذریعے نجانے کتنی اسمبلیاں توڑی گئیں۔ اور بہانہ یہی بنایا گیا کہ یہ لوگ یا تو غدار تھے یا ملک کے لیے سود مند ثابت نہیں ہو رہے تھے۔

وہاب صاحب آپ وہی غلطی کررہے ہیں یعنی فیکٹس کو فکشن اور اخباری زبان میں خلط ملط کررہے ہیں۔ سرحد حکومت الگ اسٹیٹ کا نہیں آزاد پختونستان کا مطالبہ کررہی تھی۔ صوبائی خودمختاری ایک الگ چیز ہے اور ریاست کے وجود ہی کو تسلیم نہ کرنا ایک یکسر مختلف چیز۔

دوسرا سوال یہ کہ وہ ریفرنڈم پر اثرانداز کیوں نہ ہوسکے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب انگریز نے الگ ریاست کا مطالبہ مسترد کرکے ریفرنڈم صرف پاکستان اور بھارت کے دو آپشن رکھے تو خان صاحب کے گروہ نے اس کا بائیکاٹ کیا۔ یہاں ایک مثال دینا چاہوں گا کہ کراچی میں مشرف کے زیرانتظام ہونے والے پہلے بلدیاتی انتخابات کا ایم کیو ایم نے بائیکاٹ کیا اور یوں ایم کیو ایم بلدیہ سے دور ہوگئی۔ مگر خان صاحب کے بائیکاٹ میں اور ایم کیو ایم کے بائیکاٹ میں یہ فرق ہے کہ خان صاحب کے بائیکاٹ کے باوجود پختون عوام نے اطمینان بخش تعداد میں ریفرنڈم میں حصہ لیا یوں ریفرنڈم کی جمہوری اور قانونی حیثیت تو مسلمہ مانی ہوگئی لیکن اس سے خان صاحب کی حکومت کا عوامی نمائندگی کا دعوی اب درست نہیں رہا تھا۔ کیونکہ ہونا یہ چاہئیے تھا کہ خان صاحب کے بائیکاٹ کی صورت میں پختون عوام کو رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لینا چاہئیے تھا مگر ایسا نہیں ہوا۔

پاکستان بننے کے بعد اگر آپ پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے تو کس طرح آپ اس ملک کے ایک صوبے پر حکومت کرنے کے دعوی دار بن سکتے ہیں جبکہ اس صوبے کی عوام پاکستان کے حق میں ووٹ دے چکی ہے؟ صوبائی خودمختاری پر تو تب ہی بات ہوسکتی تھی جب پاکستان کا آئین تشکیل پالیتا مگر اسوقت پاکستان کے پاس ایسا کوئی آئینی ڈھانچہ نہیں تھا جو صوبوں کے اختیارات میں ترمیم کا طریقہ کار تجویز کرتا۔

اس بہانے کو جمہوریت پر دیگر حملوں سے مماثل سمجھنا غلط بات ہے۔ کیونکہ یہ جمہوریت پر حملہ نہیں تھا بلکہ نوزائیدہ مملکت کی عوام کے فیصلے کہ وہ پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں پر عملدرآمد کے لئیے ضروری تھا۔

سوویت بلاک کی طرف ان جھکاؤ محض ڈھکوسلا تھا کیونکہ یہی خان صاحب کی حکومت تھی جو سلطنت برطانیہ سے ریڈیو اسٹیشن کھولنے کی فرمائش کرتی تھی تاکہ سوویت پروپگینڈے کا توڑ کیا جاسکے۔ علاوہ ازیں سوویت بلاک ایک ایسے پختونستان کے حق میں تھا جس کا مرکز کابل میں ہو نہ کہ پشاور میں جب کہ خاں صاحب کا گروہ ایسے کسی پختونستان کو قبول نہ کرسکتا تھا۔
 
جواب

پھر تو جناب کسی بھی ایسے سیاسی ریفرنڈم یا انتخاب کو بنیاد بنا کر کسی بھی جمہوری ملک میں کسی کی بھی حکومت کو برخاست کیا جا سکتا ہے۔ محترم یہاں آپ یہ سوال بھی کر سکتے ہیں۔ کہ اس کے بعد انتخابات ہوئے تو عوامی نیشنل پارٹی اکثریت اتنے سالوں میں کیوں نہیں‌ حاصل کر سکی۔ محترم میں خود اس پارٹی کا رکن تو نہیں لیکن جناب یہاں اقتدار میں آنے کے لیے آپ کو اسٹبلشمنٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور بدقسمتی سے یہ پارٹی صرف اور صرف نواز شریف کے دور میں اسٹبلشمنٹ کا کھلونا بنی اور کمال کی بات ہے انہوں نے نواز لیگ کے ساتھ مل کر حکومت بھی بنائی۔ محترم کوئی بھی ریفرینڈم عوامی انتخاب کا نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ جس کو بنیاد بنا کر کسی کی بھی حکومت گرا دی جائے۔ اگر جمہوری طریقے سے انتخابات ہوتے اور ڈاکٹر خان کی پارٹی ہار جاتی تو یہ الگ بات تھی۔ چلو مان لیتے ہیں خان صاحب غدار تھے۔اور انہوں نے پاکستان کی اس وقت کی کمزور حکومت جس کو محاذ پر لڑنے کے لیے قبائلیوں کی ضرورت تھی نے برطرف کر دیا کیونکہ وہ اس کمزور حکومت سے الگ ہو کر اپنا ایک الگ ملک بنانے کا خواہاں تھا۔ مگر حیرت کی بات ہے ایسا پھر بھی نہیں ہوا اور سرحد آج بھی پاکستان کا حصہ ہے۔ کیونکہ خان عبدالغفار خان جمہوریت پر یقین رکھتے تھے۔ وہ کبھی بھی غیر جمہوری طریقے سے ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ لیکن یار ویسے بھٹو جیسا غدار بھی کوئی نہیں تھا اس کی حکومت گرا دی گئی تو اچھا ہی ہوا۔ ایک طرف اس کے دور حکومت میں پاکستان میں بدامنی پھیلی اور دوسری طرف وہ پاکستان کو توڑنے کا بھی ذمہ تھا۔ اور ہاں اگر نواز شریف کی حکومت نہ گرائی جاتی تو نجانے پاکستان کا دیوالیہ نکل جاتا۔ ایسی تاویلیں ہزاروں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن جناب کیا ان تاویلیوں کے ذریعے ہم کسی بھی طرح سے جمہوریت کا گلا گھونٹا جائز قرار دے سکتے ہیں۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
وہاب۔ تم نے یہ موضوع تو اچھا شروع کیا تھا لیکن اب خود ہی گفتگو کو پٹڑی سے اتار رہے ہو۔ اے این پی یا نیپ کے با اصول ہونے میں کسی کو کلام نہیں، چاہے جو بھی ان کے اصول تھے۔ باچا خان نے ساری عمر پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور نہ ہی یہاں دفن ہونا گوارا کیا۔ چلو ان کی مرضی۔ انہوں نے کبھی منافقت سے تو کام نہیں لیا۔

میرے خیال میں ہمیں کسی ایک سیاستدان یا سیاسی پارٹی پر گفتگو محدود نہیں کر دینی چاہیے۔ پاکستان کی تاریخ کے کئی موضوعات ابھی تشنہ ہیں، خاص طور پر مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور وہاں محصور پاکستانیوں کا معاملہ۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس پر بھی بات ہو گی۔
 
جواب

جناب دراصل دلائل دیتے ہوئے میں شخصیات کی جانب نکل گیا تھا۔ اور یہ صرف اسی وجہ سے ہوا کہ میں شاید ثابت کرنا چاہتا تھا کہ یہ فیصلہ ایک غیر جمہوری عمل تھا۔ جہاں تک 71 تک پاکستان کی تاریخ کا سوال ہے۔ تو میرے پاس حمود الرحمن کمشن کا جو حصہ منظر عام پر لایا جا چکا ہے موجود ہے۔ میری کوشش ہوگی کہ اسے ڈیجیٹل لائبریری میں شامل کر سکوں۔ لیکن خیر اس سلسلے میں‌پہلا اختلاف زبان کی وجہ سے اٹھا۔ جس نے آگے چل کر ایک تحریک کی شکل اختیار کی اس کے لیے لنک ملاحظہ کریں۔
 

نعمان

محفلین
اگر ہم تاریخ ڈسکس کررہے ہیں تو کسی فعل کے صحیح یا غلط ہونے سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہئیے۔ وہاب اسے غیر جمہوری سمجھتے ہیں ان کی مرضی مگر میں اسے غیر جمہوری نہیں سمجھتا اور نہ ہی یہ سمجھتا ہوں کہ قائداعظم نے یہاں کسی قسم کی آمریت کا مظاہرہ کیا۔ کیوں کہ یہ فیصلہ برطانیہ، انگریز گورنر اور مسلم لیگ کی تمام قیادت کا مشترکہ فیصلہ تھا۔ ریفرنڈم کی جمہوری حیثیت ہوتی ہے لیکن یہاں مسئلہ یہ تھا کہ برطانوی راج اگر پختونستان پر ریفرنڈم کراتا تو دیگر ریاستیں اور صوبے بھی تھے سرحد کے ساتھ اسطرح کا امتیازی سلوک کیا جاتا تو منقسم ہندوستان میں انارکی پھیلتی جو کانگریس مسلم لیگ اور برطانیہ تینوں کو منظور نہیں تھی۔
 

جیسبادی

محفلین
کچھ اصحاب نے پاکستان میں سکولوں کے تاریخ کے نصاب کو الزام دیا ہے۔ اس سلسلہ میں عرض کرنا ہے کہ دنیا بھر کے سکولوں میں تاریخ سیاہ و سپید میں ہی پڑھائی جاتی ہے۔ یہ جا کر یونیوسٹی کی سطح پر ہوتا ہے کہ چیزوں کو تنقیدی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر ملک میں تعلیم دو سطح پر دی جاتی ہے۔ ایک جو عام لوگوں کو، جہاں سے فوجی وغیرہ بھرتی کرنے ہوتے ہیں۔ دوسرے اس چھوٹے گروہ کو جس نے برسرِاقتدار طبقہ ruling elite بننا ہوتا ہے۔

جہاں تک تاریخ سے سبق سیکھنے کا تعلق ہے، تو میری نظر میں یہ نظریہ قابل بحث ہے۔ اگر یورپی ایک پورے براعظم کی نسل کشی کر کے قابظ ہو جاتے ہیں تو کیا وہ یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب ہونگے کہ ان کا یہ عمل اچھا تھا تو اس کے اچھے نتائج برآمد ہوئے؟ اگر جاپان دوسری جنگ ہار جاتا ہے تو کیا یہ نتیجہ اخذ کرے کہ اس کی تہذیب غلط رویوں پر مبنی ہے اور اسے مغربی تہذیب اپنا لینی چاہیے؟

جہاں تک تاریخ میں غیر جانبداری کا تعلق ہے، تو یہ بھی زیادہ تر ایک شعبدہ بازی ہی ہوتی ہے۔ نظریاتی اساس کے بغیر تاریخ کو دیکھنا مشکل ہے۔ مثال کے طور پر پیغمبروں نے کئ انقلاب برپا کیے۔ مصر کی عظیم الشان سلطنت کو نظریاتی اختلافات کی وجہ سے تباہ کر دیا۔ دنیا کی سپر پاور کو ختم کر کے ترقی کی راہ روک دی۔ مگر ایسا کوئی نہیں کہتا کیونکہ اس وقت دنیا میں جو لوگ برسر اقتدار ہیں وہ تاریخی اعتبار سے کسی پیغمبر کے ہی پیروکار ہونے کا دعوٰی کرتے ہیں۔

اس وقت اسلام کے پیروکار چونکہ کم پڑھے لکھے ہیں، اس لیے بات کرنے کے وہ گُر نہیں جانتے جو دوسروں کو اعلٰی تعلیم کی بنا پر معلوم ہوتے ہیں، یعنی کس طرح بات اپنے نظریے کی ہی کی جائے مگر غیرجانبداری کا لبادہ اوڑھ کر۔ چنانچہ اس فورم پر منتظمین سے ڈانٹ کھاتے رہتے ہیں کہ "تم جنگلی آدمی بات کرتے ہوئے مذہب کو درمیاں میں لا کر فورم کی فضا کیوں خراب کرتا ہے؟"
 

دوست

محفلین
لو جی میں جیسادی سے بالکل متفق ہوں۔
کچے ذہنوں‌میں‌اگر یہ بات بٹھا دی جائے کہ پاکستان میں‌یہ یہ غلطیاں‌ہوئیں تو کام خراب ہوسکتاہے۔ اس وقت کئی ایسےسوال پیدا ہوسکتے ہیں جو بچے کی حب الوطنی کو مجروح کرسکتے ہیں۔ اس لیے یہ جو ایک قسم کا پروپیگنڈہ ہی ہے ضروری ہے ، بعد میں‌ چاہے بچہ کچھ بھی کرتا رہے۔
جنگوں‌میں‌ اوپر کی سطح‌پر جو کچھ ہوا سو ہوا۔ مگر فوجیوں‌اور نچلے افسروں‌کا جذبہ مثالی تھا
یا نہیں؟؟؟؟
شاید کوئی اب یہ کہہ دے کہ پاکستا نی فوج میں‌اب ککھ بھی نہیں‌رہا یا اس وقت سارے کےسارے نامرد تھے۔
بھائی جذبہ تھا تو کچھ کیانا انھوں‌نے۔ بات پھر وہی کہ جو ایلیٹ‌کلاس ہے وہ ہمارے جوڑوں‌میں‌بیٹھ گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کسی پاسے جوگا نہیں‌رہا۔
 

نعمان

محفلین
کہا یہ جاتا ہے کہ پاکستانی فوج نے بےدریغ سینکڑوں عورتوں کی آبروریزی کی اور ہزارہا پاکستانیوں (جو بعد میں بنگالی بنیں گے) کو قتل کیا۔ اور مغربی پاکستان کی عوام ان سارے مظالم سے قطعا بے خبر رہی۔
 

الف نظامی

لائبریرین
اور صرف پاکستان اور تاریخ اسلام کو کیوں نشانہ بنایا ہوا ہے تم نے۔
ذرا ہندوستان کی تاریخ، یہودیوں کی تاریخ، امریکہ کی تاریخ، روس کی تاریخ پر بھی موضوع شروع کرو۔
 

نبیل

تکنیکی معاون
دوست نے کہا:
لو جی میں جیسادی سے بالکل متفق ہوں۔
کچے ذہنوں‌میں‌اگر یہ بات بٹھا دی جائے کہ پاکستان میں‌یہ یہ غلطیاں‌ہوئیں تو کام خراب ہوسکتاہے۔ اس وقت کئی ایسےسوال پیدا ہوسکتے ہیں جو بچے کی حب الوطنی کو مجروح کرسکتے ہیں۔ اس لیے یہ جو ایک قسم کا پروپیگنڈہ ہی ہے ضروری ہے ، بعد میں‌ چاہے بچہ کچھ بھی کرتا رہے۔
جنگوں‌میں‌ اوپر کی سطح‌پر جو کچھ ہوا سو ہوا۔ مگر فوجیوں‌اور نچلے افسروں‌کا جذبہ مثالی تھا
یا نہیں؟؟؟؟
شاید کوئی اب یہ کہہ دے کہ پاکستا نی فوج میں‌اب ککھ بھی نہیں‌رہا یا اس وقت سارے کےسارے نامرد تھے۔
بھائی جذبہ تھا تو کچھ کیانا انھوں‌نے۔ بات پھر وہی کہ جو ایلیٹ‌کلاس ہے وہ ہمارے جوڑوں‌میں‌بیٹھ گئی ہے جس کی وجہ سے پاکستان کسی پاسے جوگا نہیں‌رہا۔

شاکر، ایک پاکستان ہی نہیں، تاریخ کو مسخ کرنےکی مثالیں دنیا کے اور ممالک میں بھی ملتی ہیں۔ یہ تعلیم کا عجیب و غریب نظریہ ہے کہ اپنی نظریاتی ضررت کی خاطر تاریخ کو ڈسٹارٹ کیا جائے اور یہ سوچا جائے کہ بچے کو بڑے ہو کر خود ہی سچ پتا چل جائے گا۔ بس اسی نظریہ ضرورت کے تحت پاکستان 1965 کی جنگ میں فاتح ہے اور 1971 کا سانحہ سراسر سیاستدانوں کا قصور ہے۔

بچوں کو ایسی تاریخ پڑھانا جسے وہ بعد میں غلط پائیں، مجموعی طور پر قوم کے ساتھ بد دیانتی ہے۔ یہ کام انڈیا میں بھی فراوانی سے ہو رہا ہے۔

مجھے یہاں یونان کی مثال یاد آ رہی ہے۔ یونانی ترکوں سے شدید نفرت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ یونان صدیوں تک عثمانی ترکوں کے زیر نگیں رہا تھا۔ اسی نفرت کو justify کرنے کے لیے ان کے نصاب میں پڑھایا جاتا ہےکہ کس طرح عثمانی ترکوں نے یونانی کلچر اور زبان کو کچلنے کی کوشش کی، حالانکہ اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ بات ایک عام یونانی بھی جانتا ہے۔ بہرحال مسخ شدہ تاریخ پر مبنی نصاب ان کے ذہنوں پر منفی انداز میں اثر انداز ہوتا ہے۔
 
Top