پاکستان کا لبیک دھرنا

ہم لبرلز تو 18 سال سے کہتے آ رہے ہیں کہ پرویز مشرف لبرل نہیں۔ اب مشرف نے سنی تحریک وغیرہ کے ساتھ اتحاد کر کے اور لشکر طیبہ کی حمایت کر کے ایک بار پھر ثابت بھی کر دیا

Musharraf calls himself 'greatest supporter of LeT' - Pakistan - DAWN.COM

کیا مذہبی جنونی اب مشرف کے حامی بن جائیں گے؟

بہت شکریہ۔ ہمچھوٹے چھوٹے واقعات پر فوکس کررہے ہیں۔ بات ذرا پرانی ہے کہ پاکستانی فوجی قیادت کی سوچ کیا ہے؟ پاکستانی فوجی قیادت ہمیشہ سے مذہبی جماعتوں کی پروردہ رہی ہے۔ یہی فوجی قیادت جب دیکھتی ہے کہ ان کا بجٹ کم ہو رہا ہے یا کوئی بھی حکومتی اہلکار، انڈیا سے جھگڑا کم کرنے کی بات کرتا ہے کہ ٹٰنشن کم ہو، تو فوجی بجٹ کم ہو تو یہی فوجی قیادت پرایشان ہو جات ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے فوجی حکمران ہی حکومت پر قابض رہے ہیں۔ سکندر مرزا، ایوب خان، یحیی خان، پرویز مشرف۔ اور اب قمر باجوہ۔

کس کو یاد نہیں مشرقی پاکستان (اب بنگلہ دیش) میں مجیب الرحمان کی مخالفت میں ، فوج اور جماعت اسلامی کا گٹھ جوڑ ، اور اس کے نتیجے میں مالی نقصان، عورتوں کی آبرو ریزی ، جس میں فوج اور ملاء دونوں آگے آگے تھے۔ آج بھی دل کو دہلانے والی کہانیوں کی بنگلہ دیش میں باز گشت جاری ہے۔

کس کو یاد نہیں فوجی قیادت کا بھٹو مخالفت میں ملاؤں کو آگے لاکر پہیہ جام کرنا ، پھر ضیاء الحق کا پاکستان پر جابرانہ قبضہ ، اور مذہبی شیاسی بازیگروں کی مدد سے بھٹو کو ہٹا کر پھانسی دینا، سارے پاکستان کو معظل کرکے رکھ دیا تھا۔ کس نے ، فوجی قیادت نے ،

اب ایک بار پھر فوجی قیادت، یعنی قمر باجوہ جو کہ ایک مذہبی جنون پسند ہے، جانتا ہے کہ سی پیک کا مطلب ہے ، سول انتظامیہ کی مظبوطی، اس لئے فوج کے کہنے پر ، ان مذہبی جنونیوں کا طوفان بد تمیزی کھڑا کیا، تاکہ نواز شریف کے بعد تمام ایسے لوگوں کو ہٹایا جائے جو سی پیک کے حق میں ہیں۔

اس وقت ضروری ہے کہ دو ایکشن لئے جائیں۔

1۔ "پاکستان کی طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، انکی معیشیت ، ان کے ہی کام سے پاکستان ، پاکستان کی انتظامیہ اور پاکستان کی فوج چلتی ہے۔ لہذا ، تما م تر طاقت پاکستان کے منتخب کردہ عوام کے نمائندوں کے ہاتھ میں ہو۔
2۔ فوجی قیادت واضح طور پر سول انتظامیہ کے تحت ہو تاکہ فوجی قیادت مشرقی پاکستان ، پہیہ جام اور فیض آباد دھرنے جیسی بچکانہ لیکن بہیمانہ سازشیں 31۔ سی آئی اے کی طرز کی ایک ایسی مظبوط تنظیم کا سول انتظامیہ کے تحت قیام جو پاکستانی جنرلوں پر بھی نظر رکھ سکے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قمر باجوہ ، اور اس کے پروردہ جنرل، اپنی انا کی جنگ میں پاکستان کو داؤ پر4 لگائے ہوئے ہیں، اس بارے میں جسٹس شوکت صدیقی کا بیان پڑھنے کے لائق ہے جس کا لنک اوپر الف نظامی نے فراہم کیا ہے

آپ دیکھیں گے کہ پاکستان کی سپریم کورٹ کے جج بھی فوجی قیادت سے دہلے اور ناراض ہیں اور فوج سے سوال کررہے ہیں کہ یہ دھرنا کس جنرل کے حکم سے وجود پذیر ہوا؟
 
صاحب! ہم تو اعلانیہ طور پر دائیں بازو سے متعلق ہیں تاہم سچ بات یہ ہے کہ مذہبی افراد کی شدت پسندی زیادہ خطرناک ہے۔ مذہب کے نام پر قتل و غارت نہیں ہونی چاہیے۔ تشدد پر آمادہ مذہبی ٹولے کو روکنا ہمارا فرض ہے۔ یہ دین فروشی نہیں ہے تو کیا ہے کہ آپ ایک مسئلے پر سیاست بھی چمکا رہے ہوں، لوگوں کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہوں، ملک میں فتنہ فساد بھی پھیلا رہے ہوں اور مال پانی بھی بنا رہے ہوں۔ جید علمائے کرام کا یہ شعار نہیں؛ وہ آخر دم تک احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہاں تو ریاست کو ماسی جی کا گھر سمجھا ہوا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے، دو چار ہزار بندہ ساتھ لگائے، دارالحکومت پر یلغار کر دیتا ہے۔ سپہ سالار سے ثالثی کروا کر سینہ چوڑا کر کے جی ٹی روڈ کی راہ لیتا ہے۔ ہم اگر خود کو دائیں بازو سے وابستہ سمجھتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے خلاف خود کھڑے ہو جائیں۔ ان گلی محلے کے مولویوں نے دین کا نام خوب بدنام کر رکھا ہے۔ جس کی دلیل میں بھی جان نہ ہو تاہم اس کے ساتھ ایک جتھہ ہو تو اب وہ بھی دل ہی دل میں یہ خواہش پال رہا ہو گا کہ ہم بھی چلتے ہیں۔ مفت کی شہرت اور فساد فی سبیل اللہ۔ حضرت! یہ سلسلہ چل نکلا تو اس کے بعد مذہب بے زاری عام ہوتی جائے گی۔
جسٹس شوکت صدیقی نے پوچھا ہے کہ ، یہ دھرنا کس فوجی جنرل کی ایماء پر کیا گیا۔ اور اربوں کا نقصان کرنے والوں کو اس طرح کس کے حکم پر جانے دیا گیا۔ جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان بدمعاش ملاؤں کو بھگایا جائے تو ان کی مدد کو قمر باجوہ کیوں آیا؟

میں کہتا ہوں کہ ہارے ہوئے قمر باجوہ اور ہارے ہوئے جنرل نیازی میں کیا فرق ہے ۔ ایک مکتی باہنی سے ہارا اور ایک بدمعاش قسم کے ملاؤں سے ؟
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
جسٹس شوکت صدیقی نے پوچھا ہے کہ ، یہ دھرنا کس فوجی جنرل کی ایماء پر کیا گیا۔ اور اربوں کا نقصان کرنے والوں کو اس طرح کس کے حکم پر جانے دیا گیا۔ جب عدالت نے حکم دیا تھا کہ ان بدمعاش ملاؤں کو بھگایا جائے تو ان کی مدد کو قمر باجوہ کیوں آیا؟

میں کہتا ہوں کہ ہارے ہوئے قمر باجوہ اور ہارے ہوئے جنلر نیازی میںکیا فرق ہے ۔ ایک مکتی باہنی سے ہیارا اور ایک بدمعاش قسم کے ملاؤں سے ؟

سر! ملا ملٹری الائنس کی کہانی تو چلتی رہتی ہے تاہم اب ملاؤں کے نئے نئے ورژن مارکیٹ میں آ گئے ہیں، ہمیں تو ان سے زیادہ خطرہ معلوم ہو رہا ہے۔ آرمی کو تو نکیل ڈالی جا سکتی ہے تاہم ان ملاؤں نے اگر "سُر" پکڑ لی تو آرمی والے بھی ان جناتی روحوں کو روک نہ پائیں گے۔
 
عروہ خان جی، کون کیا ہے اس سے میری ذات پر تو کچھ خاص فرق نہیں پڑتا البتہ مجھے ایسی بحث سے الجھن ضرور ہوتی ہے جس میں کوئی محض پانی میں مدہانی ڈالے رکھے کیونکہ اس سے نہ تو مکھن بنتا ہے نہ ہی لسی!!
باقی آپس کی بات ہے میں عاطف نہیں میری اماں نے میرا نام شہزاد رکھا ہے!
رہی بات نبی علیہ السلام کو آخری رسولﷺ ماننے کی تو جو انﷺ کو آخری نبی نہ مانے وہ بلاشبہ ان ﷺ کے دین کا منکر ہے اب وہ چاہے قادیانی بنے ناگہانی بنے یا ایرانی بنے اس سے مجھے کچھ سروکار نہیں ہے
آداب عرض
برادر محترم ، دین کا بہانہ ہے، کوئی بھی فرد رہتی دنیا تک رسول اکرم کی ہتک کر ہی نہیں سکتا۔ یہ بہانہ ہے اللہ کی زمین میں فساد کرنے کا اور اپنی سیاست چمکانے کا۔ اس سے بڑی توہین ہو ہی نہیں سکتی۔ پاکستان ان ملاؤں پر توین رسالت کا مقدمہ قائم کریں۔ جن لوگوں نے اربوں کا نقصان کیا ہے۔ ناموس رسالت کا تو کوئی ایشو ہی نہیں تھا۔ اسمبلی پہلے ہی ترمیم از خود ختم کر چکی تھی۔
 

زیک

مسافر
پہلے مجھے بھی مذہبی افراد کی شدت پسندی زیادہ پسند نہیں تھی...
لیکن اب لبرلز، ایتھٹس اور لادینوں کی شدت پسندی کے مقابلے میں مذہبی لوگوں کا دم غنیمت لگنے لگا...
یہ اعمال میں جیسے چاہے شدت پسند ہوں مگر ایمان تو بچا لے گئے...
ہر گزرتا دن شدت سے اس بات کا احساس دلا رہا ہے کہ دین اور ایمان بچانا ہے تو دین داروں کی صحبت از حد ضروری ہے...
ورنہ لبرلز اور ایتھسٹ جو بلا تاویل شیطان کے پجاریوں کا ٹولہ ہے سب کا دین بہا لے جائے گا...
یہ خود تو تباہ ہوئے دوسروں کو بھی برباد کررہے ہیں...
ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے!!!
یعنی آپ آخر میں اپنے قبیلے کے ساتھ ہیں
 

سید عمران

محفلین
صاحب! ہم تو اعلانیہ طور پر دائیں بازو سے متعلق ہیں تاہم سچ بات یہ ہے کہ مذہبی افراد کی شدت پسندی زیادہ خطرناک ہے۔ مذہب کے نام پر قتل و غارت نہیں ہونا چاہیے۔ تشدد پر آمادہ مذہبی ٹولے کو روکنا ہمارا فرض ہے۔ یہ دین فروشی نہیں ہے تو کیا ہے کہ آپ ایک مسئلے پر سیاست بھی چمکا رہے ہوں، لوگوں کی زندگیوں سے بھی کھیل رہے ہوں، ملک میں فتنہ فساد بھی پھیلا رہے ہوں اور مال پانی بھی بنا رہے ہوں۔ جید علمائے کرام کا یہ شعار نہیں؛ وہ آخر دم تک احتیاط کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔ یہاں تو ریاست کو ماسی جی کا گھر سمجھا ہوا ہے۔ جس کا جی چاہتا ہے، دو چار ہزار بندہ ساتھ لگائے، دارالحکومت پر یلغار کر دیتا ہے۔ سپہ سالار سے ثالثی کروا کر سینہ چوڑا کر کے جی ٹی روڈ کی راہ لیتا ہے۔ ہم اگر خود کو دائیں بازو سے وابستہ سمجھتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے خلاف خود کھڑے ہو جائیں۔ ان گلی محلے کے مولویوں نے دین کا نام خوب بدنام کر رکھا ہے۔ جس کی دلیل میں بھی جان نہ ہو تاہم اس کے ساتھ ایک جتھہ ہو تو اب وہ بھی دل ہی دل میں یہ خواہش پال رہا ہو گا کہ ہم بھی چلتے ہیں۔ مفت کی شہرت اور فساد فی سبیل اللہ۔ حضرت! یہ سلسلہ چل نکلا تو اس کے بعد مذہب بے زاری عام ہوتی جائے گی۔
اس معاملے سے متعلق بات نہیں کی ایک عمومی بات کہی...
عام غلطیوں سے متعلق نہ کہ اجتماعی...
دین سے بے زار وہی ہوگا جو دین داروں سے دور ہوگا...
کسی کی چند بری باتوں کی وجہ سے ساری اچھی باتوں پر یکسر پانی پھیر دینا کیا دانائی کی بات ہے؟؟؟
 
عزت اسی میں ہے کہ راہ گم کردہ قبیلے کا ساتھ دینے کے بجائے ان کا ساتھ دیا جائے جو منزل پر پہنچادیں!!!

جناب کا اشارہ اگر ملاؤں کی طرف ہے تو یہ صرف اور صرف غرق کرسکتے ہیں۔ ان کا مسئلہ بہت ہی بڑا ہے، یہ لوگ دیکھ چکے ہیں کہ مذہبی سیاسی بازیگری کس طرح عباسی خلفاء کے دور میں پنپتی رہی اور کس طرح اس کا مغلیہ دور میں استعمال کیا گیا۔ پاکستانی قوم کو ایک بار یہ دفعہ 295 سی پاس کروا کر شکست دے چکے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اب جس کو چاہیں گے دفعہ 295 سی کی مدد سے تہہ تیغ کردیں گے۔ فساد اور توہین رسالت کا جو جرم ان مذہبی سیاسی بازیگروں نے رسول کی ناموس کی نام پر توین رسول کر کے کیا ہے، وہ ارزل ترین جرم ہے۔ آج قمر باجوہ کا ساتھ ہے۔ تو کوئی ان کے خلاف 295 سی کے تحت مقدمہ قائم نہں کرسکتا۔ لیکن ایک دن یہی 295 سی کی تلوار سے یہ تہہ تیغ کئے جائیں گے۔
 

فرقان احمد

محفلین
اس معاملے سے متعلق بات نہیں کی ایک عمومی بات کہی...
عام غلطیوں سے متعلق نہ کہ اجتماعی...
دین سے بے زار وہی ہوگا جو دین داروں سے دور ہوگا...
کسی کی چند بری باتوں کی وجہ سے ساری اچھی باتوں پر یکسر پانی پھیر دینا کیا دانائی کی بات ہے؟؟؟
اگر آپ انہیں دین دار سمجھتے ہیں جو کہ دین کے نام پر سیاست چمکاتے ہوں تو پھر کیا کہا جا سکتا ہے محترم! ہم جید علمائے کرام کا احترام کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
 

فرقان احمد

محفلین
چند نام ارشاد فرمائیے گا جو آپ کے معیار پر پورا اترتے ہوں۔
قریب قریب ہر مسلک اور مکتبہء فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے علمائے کرام جو فساد فی الارض وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے اور تواتر سے سنجیدہ علمی مسائل پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ کم از کم چندہ جمع کرنے والے مولوی اور مناظرہ باز ملا ہمارے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ان فسادی ملاؤں سے ہٹ کر جو بھی ہیں، وہ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔
 

الف نظامی

لائبریرین
قریب قریب ہر مسلک اور مکتبہء فکر سے تعلق رکھنے والے ایسے علمائے کرام جو فساد فی الارض وغیرہ پر یقین نہیں رکھتے اور تواتر سے سنجیدہ علمی مسائل پر توجہ مرکوز رکھے ہوئے ہیں۔ کم از کم چندہ جمع کرنے والے مولوی اور مناظرہ باز ملا ہمارے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ان فسادی ملاؤں سے ہٹ کر جو بھی ہیں، وہ ہمارے لیے قابلِ احترام ہیں۔
کیا آپ کی نظر میں احمدی (قادیانی ، لاہوری) کو غیر مسلم کہنا فساد فی الارض ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟

میری نظر میں فساد فی الارض کا سب سے بڑا ذمہ دار کوئی مولوی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو ماحولیاتی دھشت گردی سے دنیا کے ماحول کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور ظھر الفساد فی البر و البحرکا مصداق ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
کیا آپ کی نظر میں احمدی (قادیانی ، لاہوری) کو غیر مسلم کہنا فساد فی الارض ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟

میری نظر میں فساد فی الارض کا سب سے بڑا ذمہ دار کوئی مولوی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو ماحولیاتی دھشت گردی سے دنیا کے ماحول کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور ظھر الفساد فی البر و البحرکا مصداق ہے۔

جناب! آپ قادیانیوں کو مرکزی حیثیت کیوں دے رہے ہیں؟ خیریت! ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے آپ نے جو فرمایا ہے، وہ کافی حد تک درست ہے۔
 

الف نظامی

لائبریرین
جناب! آپ قادیانیوں کو مرکزی حیثیت کیوں دے رہے ہیں؟ خیریت! ڈونلڈ ٹرمپ کے حوالے سے آپ نے جو فرمایا ہے، وہ کافی حد تک درست ہے۔
اِس لیے کہ اس دھاگے کا موضوع اسی کے گرد گھومتا ہے جس کے ردعمل میں "مولوی" عتاب کا شکار ہیں۔

برائے تفہیم:
جناب حضورِ اقدس ﷺ نے دو باتوں کی تعلیم دی۔
توحید و عمل صالح۔
تیسری حجۃ الوداع کے دن فرمایا:
میں آخری نبی ہوں ، تم آخری امت ، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ گویا میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت اور یہ شرف کسی اور امت کو نہیں نصیب ہوا
(ابو انیس محمد برکت علی لدھیانوی)
 

فرقان احمد

محفلین
اِس لیے کہ اس دھاگے کا موضوع اسی کے گرد گھومتا ہے جس کے ردعمل میں "مولوی" عتاب کا شکار ہیں۔

برائے تفہیم:
جناب حضورِ اقدس ﷺ نے دو باتوں کی تعلیم دی۔
توحید و عمل صالح۔
تیسری حجۃ الوداع کے دن فرمایا:
میں آخری نبی ہوں ، تم آخری امت ، میرے بعد کوئی نبی نہیں اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں۔ گویا میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت اور یہ شرف کسی اور امت کو نہیں نصیب ہوا
(ابو انیس محمد برکت علی لدھیانوی)

حضرت! اس لڑی میں ایک بار پہلے بھی اپنے عقیدے کی وضاحت کر چکا ہوں۔ میرا ختم نبوت پر ایمان ہے۔ شاید آپ مجھ سے ایک بار پھر کلمہ پڑھوانا چاہتے ہیں؟ :) تاہم، فساد فی الارض کی تو ہر جید عالم نفی ہی کرے گا۔ اس میں آپ کو شک ہے؟ مزید تفصیل یہ کہ جہاد کا اعلان صرف ریاست کر سکتی ہے۔ کم از کم ہمارے خیال میں، کسی بھی گروہ کو ریاست کے اندر فتنہ پھیلانے اور جتھے بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اب دیکھ لیجیے، ملک میں کس طرح کا ہیجان پیدا کیا گیا۔ مولویوں نے اسلام کو کس حد تک اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔۔۔ کیا آپ اسے اسلام کی خدمت تصور کرتے ہیں؟ کیسے کیسے سادہ لوح افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟ ان مولویوں کو تو محض راشن پانی اور چندے سے لگاؤ ہے یا انہیں سیاست چمکانے کے لیے لاشیں درکار ہیں۔ ان کا دین کی بنیادی تعلیمات سے کیا لینا دینا؟ اک ذرا گرد بیٹھنے دیں، پھر دیکھیے گا، اس دھرنے کی اصل کہانی بھی سامنے آ جائے گی۔ آپ ہمیں بھی کسی ایسے اسٹیج پر کھڑا کر دیں اور ہم بھی لبیک لبیک کے نعرے لگا دیں تو سمجھیے، کام بن گیا تاہم اس کے لیے چندہ وغیرہ جمع کرنے کی ضرورت پڑے گی؛ خاکی فرشتے بھی مدد کے لیے آن پہنچیں گے، امکان غالب ہے۔ :)
 
آخری تدوین:

الف نظامی

لائبریرین
اب دیکھ لیجیے، ملک میں کس طرح کا ہیجان پیدا کیا گیا۔ مولویوں نے اسلام کو کس حد تک اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا ۔۔۔ کیا آپ اسے اسلام کی خدمت تصور کرتے ہیں؟ کیسے کیسے سادہ لوح افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے؟
ہیجان کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی بے بصیرتی اور نا اہلی ہے۔ اور لوگوں کی جانوں کا ضیاع بھی انتظامیہ کی نااہلی سے ہوا کیوں کہ مظاہرین کلی طور پر نہتے تھے اور ان کی تعداد بھی حکومتی ذرائع کے مطابق 150 تھی۔
 
کیا آپ کی نظر میں احمدی (قادیانی ، لاہوری) کو غیر مسلم کہنا فساد فی الارض ہے؟ اگر ہے تو کیسے؟

میری نظر میں فساد فی الارض کا سب سے بڑا ذمہ دار کوئی مولوی نہیں بلکہ ڈونلڈ ٹرمپ ہے جو ماحولیاتی دھشت گردی سے دنیا کے ماحول کو تباہ کرنے کے درپے ہے اور ظھر الفساد فی البر و البحرکا مصداق ہے۔

ہی ہی ہی ہی ۔
 

فرقان احمد

محفلین
ہیجان کی بنیادی وجہ حکمرانوں کی بے بصیرتی اور نا اہلی ہے۔ اور لوگوں کی جانوں کا ضیاع بھی انتظامیہ کی نااہلی سے ہوا کیوں کہ مظاہرین کلی طور پر نہتے تھے اور ان کی تعداد بھی حکومتی ذرائع کے مطابق 150 تھی۔
جی ہاں! مولوی صاحبان کا ہرگز کوئی قصور نہ تھا۔ وہ اسلام آباد میں دھرنا دینے کے لیے جمع ہوئے تھے اور حکومت نے ان کے لیے تمام راستے بند کر دیے تھے۔ انہیں پریڈ گراؤنڈ پر متعین جگہ فراہم کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا وگرنہ وہ تو جی جان کی بازی لگا کر پر امن دھرنے کے لیے متعین مقام تک پہنچنا چاہتے تھے۔ :) مزید یہ کہ، جڑواں شہروں کی زندگی بھی حکومت نے ہی اجیرن بنا رکھی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان نہتے مظاہرین کے نام پر مولویوں نے خوب ٹسوے بہائے، چندہ سمیٹا، سیاسی جماعت کے قیام کی نوید سنائی اور چلتے بنے۔ :) سبحان اللہ ۔۔۔!!!
 
Top