ساغر صدیقی "وقارِ یزداں نہ حسنِ انساں، ضمیرِ عالم بدل گیا ہے " ساغر صدیقی


بہارِ سر و سمن فسردہ، گلوں کی نگہت تڑپ رہی ہے
قدم قدم پر الم کدے ہیں، نگارِ عشرت تڑپ رہی ہے

شعور کی مشعلیں جلائیں، اُٹھو ستاروں کے ساز چھیڑیں
کرن کرن کی حسین مورت بحالِ ظلمت تڑپ رہی ہے

کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو
خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے

خیال کی چاندنی ہے پھیکی، نگاہ کے زاویے ہراساں
ہے شورِ مبہم صفاتِ نغمہ نوائے فطرت تڑپ رہی ہے

وقارِ یزداں نہ حسنِ انساں، ضمیرِ عالم بدل گیا ہے

کہیں مشیت پہ نیند طاری، کہیں معیشت تڑپ رہی ہے

ہے کوئی لاوا اگلتا پتھر کہ آدمی ہے نئے جہاں کا
نظر میں شعلے مچل رہے ہیں، جبیں پہ وحشت تڑپ رہی ہے

مجھے یقیں ہے کہ اس جہاں میں ضرور فرعون جی اُٹھا ہے
قدم قدم پر خدائے برتر تری فضیلت تڑپ رہی ہے

حیات منصور کی کہانی، زمانہ دار و رسن کا قصہ!
لٹا لٹا سا ہے ذوقِ شبلی جنوں کی عظمت تڑپ رہی ہے

تمام ماحول مضطرب ہے، کہاں تلاشِ قرار ساغرؔ
غزل کی لے ہے فغانِ حسرت، سخن کی دولت تڑپ رہی ہے

ساغر صدیقی
 
مدیر کی آخری تدوین:
بہار سر و سمن فسردہ گلوں کی نگہت تڑپ رہی ہے
قدم قدم پر الم کدے ہیں نگارِ عشرت تڑپ رہی ہے

شعور کی مشعلیں جلائیں، اُٹھو ستاروں کے ساز چھیڑیں
کرن کرن کی حسین مورت بحالِ ظلمت تڑپ رہی ہے

کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو
خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے

خیال کی چاندنی ہے پھیکی ،نگاہ کے زاویے ہراساں
ہے شورِ مبہم صفاتِ نغمہ نوائے فطرت تڑپ رہی ہے
سر محمد خلیل الرحمٰن یہ چار شعر بھی اس غزل کے ہیں شامل کر دیجئے ساغر کے آج ایک کلیات میں سے ملے
 
آخری تدوین:
بہار سر و سمن فسردہ گلوں کی نگہت تڑپ رہی ہے
قدم قدم پر الم کدے ہیں نگارِ عشرت تڑپ رہی ہے

شعور کی مشعلیں جلائیں، اُٹھو ستاروں کے ساز چھیڑیں
کرن کرن کی حسین مورت بحالِ ظلمت تڑپ رہی ہے

کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو
خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے

خیال کی چاندنی ہے پھیکی ،نگاہ کے زاویے ہراساں
ہے شورِ مبہم صفاتِ نغمہ نوائے فطرت تڑپ رہی ہے

وقارِ یزداں نہ حسنِ انساں، ضمیرِ عالم بدل گیا ہے
کہیں مشیت پہ نیند طاری، کہیں معیشت تڑپ رہی ہے

ہے کوئی لاوا اگلتا پتھر کہ آدمی ہے نئے جہاں کا
نظر میں شعلے مچل رہے ہیں، جبیں پہ وحشت تڑپ رہی ہے

مجھے یقیں ہے کہ اس جہاں میں ضرور فرعون جی اُٹھا ہے
قدم قدم پر خدائے برتر تری فضیلت تڑپ رہی ہے

حیات منصور کی کہانی، زمانہ دار و رسن کا قصہ!
لٹا لٹا سا ہے ذوقِ شبلی جنوں کی عظمت تڑپ رہی ہے

تمام ماحول مضطرب ہے، کہاں تلاشِ قرار ساغرؔ
غزل کی لے ہے فغانِ حسرت، سخن کی دولت تڑپ رہی ہے​
 
بہار سر و سمن فسردہ گلوں کی نگہت تڑپ رہی ہے
قدم قدم پر الم کدے ہیں نگارِ عشرت تڑپ رہی ہے

شعور کی مشعلیں جلائیں، اُٹھو ستاروں کے ساز چھیڑیں
کرن کرن کی حسین مورت بحالِ ظلمت تڑپ رہی ہے

کبھی شبستاں کے رہنے والو! غریب کی جھونپڑی بھی دیکھو
خزاں کے پتوں کی جھانجھنوں میں کسی کی عصمت تڑپ رہی ہے

خیال کی چاندنی ہے پھیکی ،نگاہ کے زاویے ہراساں
ہے شورِ مبہم صفاتِ نغمہ نوائے فطرت تڑپ رہی ہے
سر محمد خلیل الرحمٰن یہ چار شعر بھی اس غزل کے ہیں شامل کر دیجئے ساغر کے آج ایک کلیات میں سے ملے

تدوین کردی ہے جناب
 
Top