وزیرستان‘ امریکی ڈرون حملے میں تین خطرناک دہشتگرد مارے گئے(تصاوہر)

صبح و شام طالبان کو رونے والوں کو اس قدر توفیق بھی نہ ہو گی کہ اس پر افسوس کا اظہار ہی کر دیں ۔
بچے طالبان کے جو ہیں ۔ دوسری طرف ذرا سی بات پر ایم جناح روڈ پر گلے پھاڑتے پھرتے ہیں :mad:
وسلام

افسوس؟ وہ تو "خس کم جہاں پاک" کہہ کر مسکرا رہے ہوں گے!
 
اس ميں کوئ شک نہيں ہے کہ کسی بھی معرکے اور جنگ ميں بے گناہ شہريوں کی ہلاکت قابل مذمت ہے۔ کسی بھی جنگ کے دوران اس تلخ حقيقت سے انکار ممکن نہيں ہے۔ ليکن ميں يہ واضح کر دوں کہ حکمت عملی کے اعتبار سے امريکہ کو بے گناہ شہريوں کی ہلاکت سے کوئ فائدہ حاصل نہيں ہوتا بلکہ اس کے برعکس سفارتی لحاظ سے بے شمار مشکلات پيدا ہوتی ہيں۔ اس کے برعکس بےگناہ شہريوں کی ہلاکت سےدہشت گردوں کو جذبات بھڑکانے، معاشرے کو دھمکانے اور واقعے کو "استعمال" کرنے کا موقع فراہم ہو جاتا ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے ليے آپ ان تنظيموں کے پوسٹرز، بينرز، ويب سائٹس اور ديگر اشتہاری مواد کا جائزہ ليں۔ يہ محض اتفاق نہيں ہے کہ دہشت گردوں کے پراپيگينڈے کا بنيادی مرکز اور خيال ہميشہ وہ تصاوير ہوتی ہيں جن ميں عورتوں اور بچوں کو ظلم کا شکار دکھايا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان واقعات کے حوالے سے حقائق اور اصل صورت حال کی تصديق کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہيں کی جاتی۔

يہ بات ياد رہنی چاہيے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مقصد ابتدا ميں بھی اور اس وقت بھی بے گناہ شہريوں کی جان کی حفاظت ہے۔ اس ميں مسلمان اور غير مسلم دونوں شامل ہيں۔ اس کے برعکس دہشت گرد دانستہ بے گناہ شہريوں کو حکمت عملی کے تحت نشانہ بناتے ہيں اور اس کے بعد بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کو اپنی کاروائيوں کے جواز کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔


دہشت گردی ايک بيماری ہے اور اس بيماری کا علاج نہ تو طے شدہ ہے اور نہ ہی مکمل۔ اگر آپ اس بيماری کا علاج روک ديں تو اس صورت ميں اس بيماری کی روک تھام ممکن نہيں اور يہ پورے جسم کو اثر انداز کرے گی۔ اس تناظر ميں آپ اس بيماری کے علاج کو ترک نہيں کر سکتے تا کہ کاميابی کا امکان برقرار رہے بصورت ديگر دہشت گردی کا مرض يقينی طور پر پھيلے گا اور سارے سماج پر اثرانداز ہو گا۔ اس کی ايک مثال ہم نے چند ماہ قبل سوات ميں ديکھی جب مسلح افراد نے تھوڑے ہی عرصے ميں باجوڑ اور دير کی طرف پيش قدمی شروع کر دی اور اس سے بھی آگے اپنے اثرو رسوخ ميں اضافے کے لیے ارادے ظاہر کر ديے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ ميں سب سے بڑا چيلنج يہ ہے کہ دہشت گرد کسی مخصوص يونيفارم ميں اپنے آپ کو منظر عام پر لے کر نہيں آتے اور نہ ہی وہ کسی عسکری معرکے ميں طے شدہ اصول و ضوابط کی پيروی کرتے ہيں۔ اس معرکے کے ليے کوئ ميدان جنگ بھی مخصوص نہيں ہے۔ دہشت گرد ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اپنے آپ کو نہ صرف عام شہريوں کی صف ميں شامل رکھيں بلکہ ضرورت پڑنے پر انھيں بطور ڈھال بھی استعمال کريں۔

ظاہر ہے کہ پاکستانی، امريکی اور نيٹو افواج کی جانب سے کيے جانے والے ہر فوجی آپريشن کی تفصيل ميرے پاس نہيں ہے۔ اس ليے اس تھريڈ پر پوسٹ کی جانے والی تصاوير کی حقيقت کے حوالے سے ميری رائے حقائق پر نہيں بلکہ قياس کی بنياد پر ہو گی۔ ليکن اس کے باوجود ميں يہ بات آپ کو پورے وثوق کے ساتھ بتا سکتا ہوں کہ امريکی افواج مشترکہ آپريشن سے پہلے وہ تمام ممکنہ اقدامات اٹھاتی ہيں جس کے نتيجے ميں شہريوں کی جان و مال کا تحفظ يقينی بنايا جا سکے۔ اس کے مقابلے ميں طالبان اور عسکريت پسند دانستہ عام شہريوں ہی کو اپنی کاروائيوں کا نشانہ بناتے ہيں۔

يہ کوئ ڈھکی چپھی بات نہيں ہے کہ امريکہ اور پاکستان دہشت گردی کے خلاف باہم اتحادی ہيں۔ انکی باہمی تعاون اور وسائل کا اشتراک اس حکمت عملی کا حصہ ہےجس کا مقصد افغانستان اور پاکستان کی سرحدوں کے دونوں طرف موجود اس مشترکہ دشمن کا خاتمہ ہے جو بے گناہ افراد کو بے دريخ قتل کر رہا ہے۔



فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

آپ کو بینرز اور تصاویر استعمال کرنے پر اعتراض ہے تو امریکہ بھی اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ کیلیے تصاویر اور وڈیوز ہی استعمال کرتا ہے۔ قتلِ عام کیلیے انسانی ڈھال والا بہانہ اب پرانا ہو چکا ہے کوئی نئی بات کریں۔ غزہ میں اسرائیلی درندوں نے قتلِ عام کا بھی یہی جواز پیش کیا تھا۔
اور ذرا یہ بھی فرما کر اپنی امریکہ نمک حلالی کا ثبوت فراہم کر دیں کہ فلسطین، افغانستان ، عراق اور دیگر مسلم ممالک سے آنے والی ایسے ہی کٹے پھٹے جسموں والی تصاویر دراصل کمپیوٹر کا کمال ہے اور امریکہ کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔
 

مغزل

محفلین
فواد صاحب اگر یہ بچے آپ کے ہوتے تو کیا تاثر ہوتا۔
دل سے بتائیں ڈالر کی چمک کو تھوڑی دیر کے لئے بھول جائیں


صدیق صاحب،

ان کے سینوں میں دل نہیں بلکہ ڈالر دھڑکتے ہیں ،
ان کی ہر سانس ’’ فی قلوبہم ‘‘ کی روش پر یا امریکہ یا امریکہ کے لیے طے ہے ۔
جانے بھی دیں ، وہ نمک حلالی کرکے جاچکے ہیں،
اب لکیر پیٹنے سے کیا فائدہ ،

والسلام
 

arifkarim

معطل
آپ کو بینرز اور تصاویر استعمال کرنے پر اعتراض ہے تو امریکہ بھی اپنے جھوٹے پراپیگنڈہ کیلیے تصاویر اور وڈیوز ہی استعمال کرتا ہے۔ قتلِ عام کیلیے انسانی ڈھال والا بہانہ اب پرانا ہو چکا ہے کوئی نئی بات کریں۔ غزہ میں اسرائیلی درندوں نے قتلِ عام کا بھی یہی جواز پیش کیا تھا۔
اور ذرا یہ بھی فرما کر اپنی امریکہ نمک حلالی کا ثبوت فراہم کر دیں کہ فلسطین، افغانستان ، عراق اور دیگر مسلم ممالک سے آنے والی ایسے ہی کٹے پھٹے جسموں والی تصاویر دراصل کمپیوٹر کا کمال ہے اور امریکہ کے خلاف ایک سازش ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔

جی ہاں اور ابھی آپنے اسامہ بن لادن کی جعلی ویڈیوز کا تبصرہ ہی نہیں‌کیا!
 

گرائیں

محفلین
بے چارہ اُسامہ، بے چارہ اس لئے کہ گردے فیل ہو رہے تھے اس کے، اور ایسا مریض جس کے گردے فیل ہو رہے ہوں، صرف دو آپشن استعمال کر کے بچ سکتا ہے، یا تو مسلسل ڈائلسس ہوتا رہے یا پھر ٹرانسپلانٹ۔
اگر یہ معلومات میرے پاس ہیں تو کیا امریکی ایجنسیوں کے پاس نہیں ہوں گی؟ مجھے اس بات پر شک ہے کہ اسامہ ابھی تک زندہ ہے۔ اپنی بیماری کے ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ 2001 اور 2002 کے حالات میں جب اسےمسلسل سفر کے باعث ڈائلسس کی سہولت شائد میسر نہ تھی، لمبے عرصے تک جی نہیں سکتا تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس اخبار میں ایک امریکی کے حوالے سے ایک خبر شائع ہوئی تھی جس میں اس نے کہا تھا کہ اسامہ کی موت دبئی کے امریکی ہسپتال میں 2003 میں ہو چکی ہے۔ اس کے بعد صرف اس کا ہوا ہی ہمیں ڈرانے کے لئے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

بالفرض اسامہ زندہ بھی ہے تو ڈایلسس میں استعمال ہونے والے فلٹریٹ کی فروخت کی نگرانی کر کے اس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ مگر یہ ایک سازشی تھیوری ہے کیونکہ یہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے مفادات کی ترجمانی نہیں کرتی۔
اس پر یقیں اپنی ذمہ داری پر کریں۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

جی ہاں اور ابھی آپنے اسامہ بن لادن کی جعلی ویڈیوز کا تبصرہ ہی نہیں‌کیا!

اسامہ بن لادن کی مبينہ جعلی ويڈيوز کے حوالے سے ميں نے متعدد بار جواب ديا ہے۔ اس ضمن ميں پاکستان کے ممتاز صحافی رحيم اللہ يوسف زئ اور حامد مير کے خيالات يہاں پيش کر رہا ہوں جو انھوں نے مورخہ 5 اگست کو جيو ٹی وی کے پروگرام جرگہ ميں بيان کيے تھے۔ اس پروگرام ميں آپ اسامہ بن لادن کی وہ ويڈيوز بھی ديکھ سکتے ہیں جو 911 کے واقعے سے پہلے کی ہيں جن ميں بن لادن نے يہ واضح اشارے ديے تھے کہ وہ امريکہ کے اندر کسی بڑے حملے کی تياری کر رہے ہیں۔

http://www.friendskorner.com/forum/f160/debate-jirga-6th-august-2009-a-129964/

سب جانتے ہيں کہ حامد مير پاکستانی ميڈيا ميں امريکہ کے سخت ترين نقاد شمار کيے جاتے ہیں۔ امريکہ کے حوالے سے کسی بھی قسم کی سازشی کہانی کو منظر عام پر لانے اور اس کی تشہير کرنے ميں ان کی شہرت عام ہے۔ ليکن 911 اور اسامہ بن لادن کے حوالے سے ناقابل تردید ثبوتوں اور حقائق کی بدولت سازشی کہانيوں پر يقين رکھنے والے حامد مير جيسے صحافی کے لیے بھی يہ ممکن نہيں کہ وہ سچائ کو رد کريں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

طالوت

محفلین
اگرچہ بات موضوع سے متعلق نہیں مگر یہ گولا ہضم نہیں ہوتا کہ امریکہ جیسے ملک میں اسامہ بن لادن 4 امریکی طیاروں کے ساتھ حملہ آور ہو سکتا ہے ۔ کم از کم عقلی طور پر تو مجھے یہ درست نہیں لگتا ۔ رہی کسر 9/11 فارن ہایٹ نے پوری کر دی تھی ۔ پر سمجھائیں تو سمجھائیں کیسے ۔
وسلام
 

arifkarim

معطل
حامد میر کی دوغلی پالیسیوں سے ہم سب آگاہ ہیں۔ انکو وہی دکھتا ہے جو آپکو ڈالرز میں۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

اگرچہ بات موضوع سے متعلق نہیں مگر یہ گولا ہضم نہیں ہوتا کہ امریکہ جیسے ملک میں اسامہ بن لادن 4 امریکی طیاروں کے ساتھ حملہ آور ہو سکتا ہے ۔ کم از کم عقلی طور پر تو مجھے یہ درست نہیں لگتا ۔ رہی کسر 9/11 فارن ہایٹ نے پوری کر دی تھی ۔ پر سمجھائیں تو سمجھائیں کیسے ۔
وسلام


ميں نے 911 کے حوالے سے تمام ويڈيوز ديکھ رکھی ہيں۔ اس ايشو کے حوالے سے جو دلائل اور "ثبوت" انتہائ جذباتی انداز ميں پيش کيے جاتے ہیں، ان کی بنياد ہی میں واضح تضاد موجود ہے۔ ايک طرف تو يہ دعوی کيا جاتا ہے کہ امريکی حکومت کے اندر موجود کچھ عناصر 911 کے واقعات کے ذمہ دار تھے۔ اس تھيوری کو درست تسليم کرنے کا مطلب يہ ہے کہ يہ عناصر انتہائ طاقتور اور اثر ورسوخ کے حامل ہيں جن کے اختيارات کو چيلنج کرنا ممکن نہيں ہے۔ يہ عناصر اپنی عياری سے نہ صرف يہ کہ ہزاروں کی تعداد ميں موجود اس واقعے کے چشم دید گواہوں کو دھوکہ دينے ميں کامياب ہو گئے بلکہ کڑوروں کی تعداد ميں جن لوگوں نے دنيا کے کونے کونے ميں ٹی وی پر براہراست يہ مناظر ديکھے، وہ بھی اس چالبازی کو نہيں سمجھ سکے۔ اس کے علاوہ امريکی حکومت کے اندر موجود يہ پراسرار عناصر ہزاروں کی تعداد ميں ماہرين اور درجنوں نجی تنظيموں اور اداروں کی تحقيقات کو بھی اپنے اثرورسوخ اور اختيارات کی بدولت دھوکہ دينے ميں کامياب ہو گئے۔ صرف يہی نہيں بلکہ القائدہ کی ليڈرشپ سميت ہزاروں کی تعداد ميں جو افراد اس عظيم سازش کا حصہ تھے، وہ بھی پچھلے 8 سالوں سے اس راز پر پردہ ڈالے ہوئے ہیں۔

مگر دوسری جانب يہی حکومتی عناصر اتنے کمزور اور بے بس ہو جاتے ہيں کہ کوئ بھی شخص جو کمپيوٹر تک رسائ رکھتا ہے اور ويڈيو ايڈيٹنگ کی بنيادی سمجھ بوجھ کے ساتھ ايک تخليقی سوچ رکھتا ہے، وہ اس مکمل اور عظيم ماسٹر پلان کی دھجياں بکھير سکتا ہے۔ وہی طاقتور اور بااختيار حکومتی عناصر جو دنيا کے بڑے بڑے اداروں اور ماہرين کو دھوکہ دينے ميں کامياب ہو سکتے ہيں وہ ان سازشی ويڈيوز کے تخليق کاروں کے سامنے بالکل بے بس اور ان کے رحم و کرم پر ہيں۔

حقيقت يہ ہے کہ جو لوگ تمام تر عقلی دليل اور منطق کو نظرانداز کر کے ان ويڈيوز کی حقيقت کو صرف اس ليے تسليم کرنے پر آمادہ ہیں کيونکہ يہ اس مخصوص سياسی سوچ کی عکاس ہيں جو آئے دن پاکستان ميں "گو امريکہ گو" ريليوں کی صورت ميں دکھائ ديتی ہے اور جس کا واحد نقطہ يہی ہے کہ دنيا کے تمام مسائل کا ذمہ دار امريکہ ہے۔

جہاں تک سازشی ويڈيوز کا سوال ہے تو ميں آپ کو يقين دلاتا ہوں کہ آپ دنيا کے کسی بھی اہم واقعے کے بارے ميں اسی طرح کی ويڈیوز ديکھ سکتے ہيں، وہ چاہے انسان کا چاند پر جانے کا واقعہ ہو، پرل ہاربر يا شہزادی ڈيانا اور مائيکل جيکسن کی موت، ہر موضوع پر اسی طرح کی ويڈيوز موجود ہيں۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 

طالوت

محفلین
قسم لے لیں جو ذرا بھی کچھ پلے پڑا ہو ۔ فواد میرا کہنے کا مقسد یہ ہے کہ ٹریلین ڈالرز سیکورٹی پر خرچ کرنے والا ملک جس کے سیکورٹی ادارے دنیا بھر میں زیادہ مہارت ، زیادہ با صلاحیت اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں ان کی موجودگی میں ایک عام دولت مند سعودی شہری اتنا بڑا منصوبہ کیونکر بنا سکتا ہے ؟ جبکہ 9/11 سے قبل بھی امریکہ بن لادن سے نا صرف اچھی طرح واقف تھے بلکہ عربوں پر امریکہ میں خاص نظر رکھی جاتی تھی ۔ اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہ اتنی بڑی کاروائی کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقینا امریکی شہریوں کی ایک بڑی کھیپ جو بااثر بھی ہو اس کا اس میں ملوث ہونا بھی ضروری ہو جاتا ہے ۔ جبکہ 9/11 سے متعلق اب تک صرف عربوں کا ہی ذکر آتا ہے میرے علم میں نہیں کہ اس سلسلے میں کسی غیر مسلم امریکی کو بھی ملوث کیا گیا ہو ۔
وسلام
 

arifkarim

معطل
قسم لے لیں جو ذرا بھی کچھ پلے پڑا ہو ۔ فواد میرا کہنے کا مقسد یہ ہے کہ ٹریلین ڈالرز سیکورٹی پر خرچ کرنے والا ملک جس کے سیکورٹی ادارے دنیا بھر میں زیادہ مہارت ، زیادہ با صلاحیت اور طاقتور سمجھے جاتے ہیں ان کی موجودگی میں ایک عام دولت مند سعودی شہری اتنا بڑا منصوبہ کیونکر بنا سکتا ہے ؟ جبکہ 9/11 سے قبل بھی امریکہ بن لادن سے نا صرف اچھی طرح واقف تھے بلکہ عربوں پر امریکہ میں خاص نظر رکھی جاتی تھی ۔ اور اگر بالفرض مان بھی لیا جائے کہ یہ اتنی بڑی کاروائی کرنے میں کامیاب ہو گئے تو یقینا امریکی شہریوں کی ایک بڑی کھیپ جو بااثر بھی ہو اس کا اس میں ملوث ہونا بھی ضروری ہو جاتا ہے ۔ جبکہ 9/11 سے متعلق اب تک صرف عربوں کا ہی ذکر آتا ہے میرے علم میں نہیں کہ اس سلسلے میں کسی غیر مسلم امریکی کو بھی ملوث کیا گیا ہو ۔
وسلام
مجھے حیرت ہے کہ آپ کس کاپی پیسٹر سے بحث کر رہے ہیں۔ فواد صاحب کی تمام پوسٹس ایک ڈیٹا بیس میں موجود ہیں جنکو وہ موقع محل کی مناسبت سے یہاں کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ اور وہاں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اینٹری کہ "ہمنے بیوقوف" بنا لیا! :grin:
لیکن یاد رہے کہ ہم پاکستانیوں کو بیوقوف بنانا آسان نہیں ہے۔ 9/11 کی ڈرامے بازی کے بارہ میں مجھے پہلے دن سے شک تھا اور بعد میں پیش کردہ ہزاروں ثبوتوں نے دنیا ہلا کر رکھ دی۔ اب چاہے یہ لاکھ اپنے "اعداد و شمار" پیش کر دیں۔ جو سامنے ہوا اسکی حقیقت سے کیسے گمراہ کر سکتے ہیں؟!
 

عسکری

معطل
یار کسی دن مہوش بہن اور جواد بھائی کی بحث کرا دو محفل کے سارے مسئلے ختم یہ دونوں کئی سال تک بزی رہ سکتے ہیں:rollingonthefloor:
 

arifkarim

معطل
یار کسی دن مہوش بہن اور جواد بھائی کی بحث کرا دو محفل کے سارے مسئلے ختم یہ دونوں کئی سال تک بزی رہ سکتے ہیں:rollingonthefloor:

مہوش بہن جذبات کیساتھ جنگ کرتی ہیں جبکہ ہمارے فواد بھائی ڈیجیٹل "اعدادوشمار" کیساتھ۔ میرا نہیں خیال یہ جنگ زیادہ عرصہ تک چلے گی۔ :)
 

arifkarim

معطل
یا اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ فواد صاحب اور مہوش بہن کی سوچ امریکہ کے حوالے سے تقریباً ایک جیسی ہی ہے۔ چونکہ مہوش بہن مغربی میڈیا کے زیر اثر ہیں اسلئے انکی کئی پوسٹس میں میں نے ’’دہشت گردوں‘‘ اورٹون ٹاوورز کے گرانے سے متعلق پڑھا ہے۔ ظاہر ہے آج ۸ سال بعد بھی آپ اسی مفروضہ پر قائم ہیں کہ جو ہمیں ٹی وی پر دکھایا گیا وہی سچ ہے! :grin:
 

عسکری

معطل
اچھا مجھے سوچنے دو اس میں کیا کر سکتا ہوں اچھا فواد صاحب ایم کیو ایم کو کیا سمجھتے ہیں بقول ڈیجیٹل ان رینیج :grin:
 

arifkarim

معطل
ہاں بیشک انکل کو پی ایم کر دو۔ دیکھتے ہیں کیا جواب دیتے ہیں۔ ویسے 90 فیصد کاپی پیسٹ جواب ہی ہوتا ہے۔
 

Fawad -

محفلین
Fawad – Digital Outreach Team – US State Department

مجھے حیرت ہے کہ آپ کس کاپی پیسٹر سے بحث کر رہے ہیں۔ فواد صاحب کی تمام پوسٹس ایک ڈیٹا بیس میں موجود ہیں جنکو وہ موقع محل کی مناسبت سے یہاں کاپی پیسٹ کر دیتے ہیں۔ اور وہاں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ایک اینٹری کہ "ہمنے بیوقوف" بنا لیا! :grin:


آپ نے بالکل درست کہا ہے۔ ميرے پاس واقعی جوابات کی ڈيٹابيس موجود ہے۔ اس کی وجہ بالکل سادہ ہے۔ ميں نے متعدد بار يہ واضح کيا ہے کہ ميں اردو کے بے شمار فورمز پر مختلف موضوعات کے حوالے سے سوالات کے جواب ديتا ہوں۔ بلکہ ميری عمومی طور پر کوشش ہوتی ہے کہ ايسے سوالات کا انتخاب کروں جو ايک سے زائد فورمز پر کيا جا رہا ہے تا کہ بيک وقت کئ فورمز پر جواب پوسٹ کر سکوں۔

ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ ميرے جوابات امريکی حکومت کی پاليسی اور نقطہ نظر کو واضح کرتے ہيں اور ان کی تصديق کسی بھی سرکاری ريفرنس يا بيان سے کی جا سکتی ہے۔

جيسا کہ ميں نے پہلے بھی واضح کا تھا کہ ميرا مقصد نہ تو حقائق سے گمراہ کرنا ہے اور نہ ہی امريکہ کی خارجہ پاليسی کے فيصلوں کے لیے حمايت حاصل کرنا ہے اور اس کا سب سے واضح ثبوت يہ ہے کہ ميں اپنی ہر پوسٹ سے پہلے امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ سے اپنی وابستگی واضح کرتا ہوں۔ مجھے کچھ بھی چھپانے يا پوشيدہ رکھنے کی ضرورت نہيں ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
 
Top