وزیراعظم نےاکانومک ایڈوائزری کونسل قائم کر دی: معروف ماہر اقتصادیات عاطف میاں کونسل کا حصہ ہوں گے

متفق ہوں۔ نادرا نے پچھلے کچھ سالوں میں 10000 مسلمانوں کا سٹیٹس بدل کر قادیانی یعنی مرتد کر دیا تھا۔ مگر حکومت وقت نے ان کو قتل نہیں کیا۔
یہ دس ہزار وہ قادیانی تھے جو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے سرکاری نوکریاں کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسائلم وغیرہ کے چکر میں خود کو ظاہر کرتے ہوئے قادیانی ڈکلیئر ہوئے ۔ یاد رہے کہ اگر اتنا ہی انتہا پسند معاشرہ ہوتا تو یہ دس ہزار لوگ یا تو قتل ہو چکے ہوتے یا پھر ان پر باقاعدہ مقدمات چل رہے ہوتے۔ یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائی کسی پرسی کیوشن کا نشانہ نہیں ہیں۔ وہ خود کو اقلیت تسلیم کر لیں تو محفوظ ہیں جیسے یہ دس ہزار لوگ بالکل محفوظ رہے نہ شور مچا نہ قتل و غارت گری ہوئی کیونکہ انہوں نے مرزائیت نئی قبول نہیں کی بلکہ خود کو اقلیت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آئین پاکستان کی تحویل میں دیا
 

زیک

مسافر
یہ دس ہزار وہ قادیانی تھے جو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے سرکاری نوکریاں کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسائلم وغیرہ کے چکر میں خود کو ظاہر کرتے ہوئے قادیانی ڈکلیئر ہوئے ۔ یاد رہے کہ اگر اتنا ہی انتہا پسند معاشرہ ہوتا تو یہ دس ہزار لوگ یا تو قتل ہو چکے ہوتے یا پھر ان پر باقاعدہ مقدمات چل رہے ہوتے۔ یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائی کسی پرسی کیوشن کا نشانہ نہیں ہیں۔ وہ خود کو اقلیت تسلیم کر لیں تو محفوظ ہیں جیسے یہ دس ہزار لوگ بالکل محفوظ رہے نہ شور مچا نہ قتل و غارت گری ہوئی کیونکہ انہوں نے مرزائیت نئی قبول نہیں کی بلکہ خود کو اقلیت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آئین پاکستان کی تحویل میں دیا
کتنے پاکیزہ اور پرہیزگار مسلمان تھے جنہوں نے مذہبی جواز کے ہوتے ہوئے قتل و غارتگری نہیں کی۔
 
کتنے پاکیزہ اور پرہیزگار مسلمان تھے جنہوں نے مذہبی جواز کے ہوتے ہوئے قتل و غارتگری نہیں کی۔
اگر کوئی غیر مسلم اپنی منافقت سے باز آکر خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیتا ہے تو اسے قتل کرنا کس مذہبی جواز میں ہے۔۔؟؟؟
 

جاسم محمد

محفلین
لگے رہو اپنے تعصب کی توجیہہ دینے
عاطف میاں کا بنیادی مسئلہ کیا ہے!
1*W4IHtlsqct1TG8-XK59arg.jpeg

آج کل عاطف میاں کا مسلہ سوشل میڈیا پر بہت زور و شور کے ساتھ جاری ہے. اگر آپ یہاں یہ پڑھنے کے لئے آئے ہیں کہ میں آپ کو جذباتی تقاریر کے حوالے سے عاطف میاں کے خلاف نکات بتاوں گا تو یہاں سے ہی پلٹ جائیں. اس آرٹیکل میں بحث مکمل علمی بنیادوں پر کی جائے گی اور امید ہے کہ اس کے اختتام تک آپ عاطف میاں کے حق میں اور ان کی مخالفت میں دلائل پڑھ کر اپنا ذہن بنا لیں گے. یہ بات میں بتاتا چلوں کہ میں ہر گز کوئی مولانا یا عالم نہیں ہوں. ایک گناہ گار انسان ہوں. خطائیں ہم سب کرتے ہیں لیکن مجھے صرف ایک بات پتہ ہے کہ میری محبت صرف میرے ملک پاکستان کے لئے ہے. میں اگر تحریک انصاف کا حمایتی بھی ہوں تو اس کی وجہ میری ملک سے محبت ہے اور مجھے یقین ہے کہ یہ پارٹی پاکستان کی تقدیر ضرور بدلے گی. یہاں ہم عاطف میاں کے حق اور مخالفت میں مختلف دلائل کا مکمل علمی طور پر جائزہ لیں گے لیکن اس سے پہلے عاطف میاں کا مختصر سا تعارف ہو جائے.

عاطف میاں کا شمار آئی ایم ایف کی جانب سے دنیا کے پہلے 25 ماہرین معاشیات میں کیا جاتا ہے. وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں معاشیات کے پروفیسر اور پبلک پالیسی کے ماہر سمجھے جاتے ہیں. موصوف ووڈرو ولسن سکول میں معاشیات کے ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی فائز ہیں. جہاں تک ان کی علمی قابلیت کا تعلق ہے. اس پر زیا دہ سوال نہیں اٹھائے جا سکتے کیونکہ وہ اپنے پروفائل کے مطابق حقیقت میں ایک قابل انسان سمجھے جا سکتے ہیں لیکن اس سب کے ساتھ ساتھ عاطف میاں ایک قادیانی بھی ہیں اور قادیانی بھی وہ صرف قادیانی گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے نہیں سمجھے جاتے. ان کی پیدائش ایک مسلمان گھرانے میں ہوئی تھی لیکن ان کے الفاظ کے مطابق اسلام سے انہیں اپنے سوالات کے جوابات نہیں ملے اس لئے وہ احمدی فرقہ سے تعلق رکھنے لگے. عاطف میاں کی اس بات کے ثبوت حاضر ہیں.

1*VzBTdFqTi4ajC6yf_zIE3g.jpeg

1*zSvfQZPAHkR6_dp2_e0_gQ.jpeg

1*QWOL64huvUc8BeYxjZ5zBg.jpeg

یہ سب صفحات احمدیوں کی کتاب” بائی دی ڈانز ارلی گلوری لائٹ” سے لئے گئے ہیں جس میں عاطف میاں کا بیانیہ شامل ہے کہ وہ اسلام سے متنفر ہوکر احمدیت کی جانب راغب ہو گئے. ان کے مسلمان والدین بھی اس عمل سے ناراض ہو گئے اور وہ قادیانی خلیفہ کے کافی قریب آ گئے.

عاطف میاں کے حق میں جو دلائل دیئے جاتے ہیں اب ہم ان کا ایک مکمل تنقیدی جائزہ لے کر اس پر بحث کریں گے کہ بنیادی مسلہ کہاں سے شروع ہوا.

پہلا سوال!

کیا قادیانی پاکستان میں نوکری کاروبار نہیں کر سکتے! کیا بحثیت اقلیت ان کے اتنے بھی حقوق نہیں کہ انہیں کوئی سرکاری عہدہ دیا جا سکے! کیا یہ قادیانیوں کے ساتھ ظلم نہیں ہے. کیا ان کو بھوکا مار دیا جائے.

جواب:

ایسا ہر گز نہیں ہے. قادیانیوں کو پاکستان میں وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو اقلیتوں کو حاصل ہیں. ہم قادیانیوں کے کسی کاروبار یا سرکاری عہدہ سنبھالنے پر اختلاف نہیں کرتے اور ابھی بھی بہت سے قادیانی پاکستان میں ڈاکٹر ایجنئیر اور سرکاری عہدوں ہر فائز ہیں. پاکستان کی فوج میں بھی بہت سے قادیانی کسی نہ کسی عہدہ پر موجود ہونگے. قادیانی کاروبار کا بھی مکمل حق رکھتے ہیں. جب قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم قرار دیا گیا تو آئین میں انہیں بحثیت اقلیت ان کے حقوق بھی فراہم کئے گئے.

سوال یہ اٹھتا ہے کہ عاطف میاں پر ہی اختلاف کیوں!

اس کی چند بنیادی وجوہات ہیں. جہاں اسلام میں اقلیتوں کے حقوق موجود ہیں. وہاں اسلام میں اقلیتوں اور مرتد میں فرق کیا جاتا ہے. اقلیت وہ ہوتے ہیں جو پیدائش سے ماں باپ کے دین پر موجود ہوں. لہذا آئین پاکستان کے مطابق وہ قادیانی جو پیدائش سے ہی قادیانی ہیں وہ غیر مسلم ضرور ہو سکتے ہیں لیکن مرتد نہیں کیوں کہ ان کو ان کے ماں باپ نے ہی غیر مسلم تربیت دی ہے جبکہ عاطف میاں کا مسلہ الگ ہے. عاطف میاں کی پیدائش ایک مسلم گھرانے میں ہوئی اور بعد میں وہ اسلام سے متنفر ہو کر قادیانی مذہب کا حصہ بن گئے. مرتد ہونے پر اسلام کے تمام فرقوں میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا. شرعی لحاظ سے مرتد کی سزا سب سے سخت ہے. مرتد کی توبہ تک قبول نہیں کی جاتی. اس کے متعلق اگر آپ صحاح ستہ کی مستند احادیث پڑھنا چاہتے ہیں تو لنک حاضر ہے.

مرتد کی سزاقرآن، سنت، اجماع اور عقل کی روشنی میں

مختصر یہ ایک مرتد کا شمار اقلیت کی بجائے مرتد میں ہی کیا جاتا ہے اور اسلامی ریاست اگر ایک مرتد کو کوئی سرکاری عہدہ دے تو اس میں اقلیتوں کے حقوق کا کوئی تعلق نہیں. یہ شرعی لحاظ سے غلط عمل ہے اور اس میں آپ شیعہ سنی وہابی بریلوی دیو بند کسی بھی مسلک کے کسی بھی عالم سے رابطہ کر لیں. آپ کو کوئی اختلاف نظر نہیں آئے گا یہ متفق علیہ بات ہے. اگر عاطف میاں پیدائشی قادیانی ہوتے تو انہیں عہدہ دینے پر اقلیت والے اصول کا استعمال کیا جا سکتا تھا لیکن وہ اقلیت والے کھاتے میں شامل نہیں ہوتے.

دوسرا سوال

کیا پاکستان کا آئیں عاطف میاں کو روکتا ہے! اگر پاکستان کا آئین عاطف میاں کو نہیں روکتا تو تم لوگ روکنے والے کون ہوتے ہو! یہ اس کا آئینی حق ہے کہ اس کو مشیر بنایا جائے!

جواب

پاکستان کا آئین کسی غیر مسلم کو کسی آئینی عہدے سے نہیں روکتا ماسوائے صدر ‘وزیر اعظم اور آرمی چیف کے عہدہ کے. لیکن جیسا کہ پہلے سوال کے جواب میں صاف صاف بتایا جا چکا ہے کہ عاطف میاں کا شمار اقلیت میں نہیں بلکہ مرتد میں ہوتا ہے جو کہ ان کے اپنے بیانیہ سے واضح ہے اس لئے ان پر آئین کی اقلیتی شک نہیں لگ سکتی.

لیکن ہم یہ بات باالفرض قبول کر بھی لیں کہ عاطف میاں کو آئین کے تحت عہدہ دیا جا سکتا ہے تو اس سے ایک سوال مزید اٹھ جاتا ہے.

کیا عاطف میاں بھی آئین کو قبول کرتا ہے یا نہیں.

اس سوال کا جواب ہم عاطف میاں کے پرانے ٹویٹس سے خود ڈھونڈ لیتے ہیں.

1*w5VUayju3gWtY5B8A2zRBA.jpeg

1*68jL_M3sUDsS9gFPcOdpzw.jpeg

جیسا کہ عاطف میاں کے پرانے ٹویٹس سے ظاہر ہے وہ پاکستان کے احمدیوں کو غیر مسلم کہنے اور توہین رسالت کے قوانین کے مخالف ہیں. جب ایک انسان آئین کو قبول نہیں کرتا تو پھر چاہے وہ مسلمان ہو یا قادیانی. آئینی طور پر اس کو کوئی بھی عہدہ دینا بذات خود آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے. آئین سے رو گردانی غداری کے زمرہ میں آتی ہے. اس لئے آئینی طور پر بھی عاطف میاں کو ایسا عہدہ دینے کی کسی قسم کی کوئی گنجائش نہیں بنتی.

تیسرا سوال:

جاہل مسلمان داڑھی اگا کر گناہ کرتے ہیں اور ادھر ایک قادیانی پڑھ لکھ جائے تو ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں. وہ آئی ایم ایف کے پہلے 25 ماہرین اقتصادیات میں شامل ہے

جواب:

اگر کوئی بھی مسلمان گناہ کر تا ہے تو قانون کے مطابق اسے سزا ملتی ہے. زینب کا قاتل اگر مولوی تھا تو اسے بھی پھانسی کی ہی سزا ہوئی. اس کا دین یا فرقہ اس کے کسی کام نہیں آیا. یہ ریاست کے چلنے کا بنیادی طریقہ ہے.

رہی بات عاطف میاں کی تو وہ پہلے ہی ثابت کیا جا چکا ہے کہ آئینی اور اخلاقی طور پر ان کو مقرر کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا.

فرض محال ہم آئی ایم ایف والی بات قبول کر لیتے ہیں کہ وہ دنیا کے پہلے 25 ماہرین اقتصادیات میں شامل ہیں تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ آئی ایم ایف کی اپنی کیا کریڈیبلٹی ہے. آئی ایم ایف دنیا بھر میں ملکوں کا خون نچوڑنے کے لئے مشہور ادارہ ہے. آئی ایم ایف کے سکینڈل دنیا بھر میں مشہور ہیں. یہ ہم نہیں پوری دنیا کہتی ہے. خود پڑھ لیں

How the World Bank and the IMF destroy Africa

IMF and World Bank have destroyed every nation they have ‘helped’

The IMF Destroys Iceland and Latvia | HuffPost

https://www.globalresearch.ca/how-t...s-way-to-become-a-third-world-country/5383475

ایسے میں آئی ایم ایف جو کہ پہلے ہی بدنام ادارہ ہے. وہ اگر کسی کو پہلے 25 ماہرین اقتصادیات میں شامل کرے تو کیا یہ چیز ہمارے لئے اچھی ثابت ہوگی یا پریشان کن. اس بات کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے.

چوتھا سوال

تم لوگوں کو کس نے حق دیا ہے کہ بتاو کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر. یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے. تم یہ فیصلہ کرنے والے کون ہو

جواب

بے شک یہ اللہ کا ہی فیصلہ ہے. یہ اللہ پاک نے ہی قرآن کریم میں ارشاد فرما یا تھا

1*Y57YPMZMzvrxDeCe_I0WIQ.jpeg

جب اللہ پاک کا واضح ارشاد ہے تو اس پر عمل کرنا ہمارے دین کاحصہ ہے. یہ منطق اتنی ہی فضول ہے جیسے کوئی شخص بولے کہ میں تمام ہندو بتوں کو خدا مانتا ہوں لیکن میں مذہبی طور پر مسلمان ہوں. جب اسلام نے مسلمان کے بنیادی اصول پیش کر دئے ہیں تو اس پر مزید بحث کا حق کسی کو بھی نہیں. ہر چیز روز روشن کی طرح عیاں ہے.

پانچواں سوال

جب قائد اعظم نے ایک قادیانی سر ظفر اللہ خان کو مشیر بنایا تھا تو ہم کیوں نہیں بنا سکتے.

جواب

بلا شبہ قائد نے ایک قادیانی سر ظفر اللہ کو وزیر بنایا تھا لیکن وہ شخص پیدائشی قادیانی تھا. وہ عاطف میاں کی طرح اسلام سے منہ پھیر کر مرتد نہیں ہوا. پیدائشی قادیانی پاکستانی آئین کی رو سے اقلیت ہیں اور انہیں اب بھی اقلیتوں کے مکمل حقوق حاصل ہیں.

چھٹا سوال:

جب لندن میں کوئی مسلمان مئیر بنتا ہے تو آپ تالیاں بجاتے ہو لیکن پاکستان میں کسی اقلیت کو مشیر بھی نہیں لگنے دیتے.

جواب:

پہلی بات تو یہ ہے کہ کہ عاطف میاں اقلیت میں شمار ہی نہیں ہوتے جیسا کہ پہلے بتایا گیا ہے کہ وہ دین اسلام چھوڑ کر مرتد ہوئے ہیں. وہ آئین بھی نہیں مانتے.

مجھے کسی ایسے مغربی ملک کی مثال دیں جہاں کوئی ایسا مسلمان کسی سرکاری عہدہ پر فائز ہو جو وہاں کا آئین نہ مانتا ہو. صادق خان جو لندن کے مئیر بنے. انہوں نے قرآن میں ہم جنس پرستی کے متعلق صاف احکامات کے موجود ہوتے ہوئے بھی اپنے الیکشن میں ہم جنس پرستوں کا دفاع کر کے الیکشن جیتا. اس بنیاد پر وہ لوگ مسلمان تو نہیں البتہ سیکولر ضرور کہلائے جا سکتے ہیں. ایک مسلمان بے شک گناہ گار ہو لیکن قرآن کے خلاف احکامات کے بارے میں نہیں بولے گا. یہ لندن اور امریکہ کی مثالیں ہمیں تب دی جائیں جب وہ داڑھی رکھنے والے کسی عبادت گزار کو سرکاری عہدہ دیں.

ساتواں سوال:

عاطف میاں بہت پڑھے لکھے ہیں اور ان کے بغیر ملک کی معیشت نہیں چل سکتی. ہمارے پاس اتنی قابلیت کا کوئی بندہ نہیں

جواب:

یہ بھی صریح جھوٹ ہے. اقتصادی کونسل کی لسٹ ملاحظہ فرمائیں.

1*uoYEI-5tamEG7TZ_e-baWQ.jpeg

لسٹ میں نمبر 10 پر ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ ہیں جو ہارورڈ کینیڈی سکول میں پروفیسر اور پی ایچ ڈی ڈاکٹر ہیں. ان کی قابلیت بھی زیادہ اور ہارورڈ کا رینک امریکہ میں نمبر 1 پر یے. نمبر 11 پر موجود ڈاکٹر عمران رسول بھی لندن کے بہترین معیشت دان سمجھے جاتے ہیں. بس آئی ایم ایف کے قریب نہیں اس لئے آئی ایم ایف ان کا شمار نہیں کرتی. قابلیت اور تعلیم میں یہ دونوں عاطف میاں سے آگے ہیں

بنیادی ایجنڈا اور مسلہ کیا ہے.

پاکستان کے بد ترین معاشی حالات کی ایک وجہ جہاں کرپشن’ بد عنوانی اور کرپٹ حکمران ہیں. اس کے ساتھ ہی غیر ملکی طاقتیں بھی ہیں جو کہ پاکستان کو دنیا کی اکلوتی اسلامی نیوکلئیر طاقت کے طور پر قبول نہیں کر سکتیں. ان ریاستوں کی کوشش ہے کہ پاکستان کو معاشی دیوالیہ کر کے ہمارے نیوکلئیر اثاثے گروی رکھوا لئے جائیں.

یہ بات ہم نہیں. نواز لیگ کے سابقہ سینیٹر انور عزیز نے خود تسلیم کی ہے.

1*j9TukvL9rQ6BdeMRm3YcEA.jpeg

لنک https://www.thenews.com.pk/magazine/instep-today/77352-chasing-imperfection

ایسے حالات میں اگر ایک ایسے شخص کو مشیر بنایا جائے جو کہ پہلے ہی آئین سے مخالفت کرتا ہے اور آئی ایم ایف کا قریب ترین تصور ہوتا ہے. یہ ملک اور ریاست دونوں کے ساتھ زیادتی ہے.

آخری سوال

کیا عاطف میاں کے مشیر آنے سے قادیانیوں یا دیگر اقلیتوں کو تخُظ ملے گا

جواب

بالکل نہیں. عاطف میاں تو بیرون ملک موجود ہیں لیکن یہ تمام اقلیتیں پاکستان میں موجود ہیں. اکیلے عاطف میاں کے تقرر کی وجہ سے ان کے خلاف نفرتیں بڑھ رہی ہیں اور بعض حضرات اس پر خوب چہک رہے ہیں. اس سے دیگر اقلیتیں مخفوظ ہونے کی بجائے مزید غیر محفوظ ہونگی. کسی بھی وقت یہ اشتعال انگیزی کسی فساد کا پیش خیمہ بن سکتی ہے.

کم از کم میری تحریک انصاف کی قیادت سے گزارش یہی ہے کہ جہاں آپ کی کوشش ملک کو بحران کی نکالنے کی ہے وہاں اس معاملے پر نظر ثانی ضرور کریں. ہر عمل کے فوائد اور نقصانات دیکھ کر فیصلہ کیا جانا چاہئے اور مجھے عاطف میاں کے فیصلے سے نقصانات زیا دہ اور فائدہ کوئی بھی نظر نہیں آرہا.
 

جاسم محمد

محفلین
عاطف میاں کو معاشی کونسل سے علیحدہ کرنے کے فیصلے کی اندرونی کہانی
07/09/2018
نیوز ڈیسک



پاکستان تحریک انصاف نے عاطف میاں کو معاشی کونسل سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کر لیاہے جس کا اعلان پی ٹی آئی کے رہنماؤں فواد چوہدری اور جاوید خان نے سوشل میڈیا کے ذریعے کیا ہے تاہم اب اس کی اندرونی کہانی منظر عام پر آ گئی ہے ۔

ایک نجی ٹی وی کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وزیر مذہبی امور نورالحق سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان سے عاطف میاں کے معاملے پر رائے طلب کی جبکہ عمران خان نے گزشتہ روز بابر اعوان اور اسد عمر سے بھی مشاورت کی تھی اور مشاورت کے بعد عاطف میاں سے بات کی گئی۔ عاطف میاں نے عہدے سے ہٹنے پر رضامند ی کا اظہار کر دیا تھا جس کے بعد گزشتہ روز ہی عاطف میاں کو تبدیل کر نے کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔

آج پی ٹی آئی رہنما جاوید خان نے ٹویٹر پر جاری پیغام میں کہا تھا کہ ”عاطف میاں سے مستعفی ہونے کو کہا تھا اور وہ رضامند ہوگئے ہیں ، متبادل کا اعلان بعد میں ہوگا“َ۔
 

جاسم محمد

محفلین
عاطف میاں کا معاشی منصوبہ سامنے آ گیا
07/09/2018
ہم سب نیوز


عمران خان کے اقتصادی مشاورتی کونسل کے لئے منتخب کردہ ممبر عاطف میاں نے اپنا اقتصادی منصوبہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہے…

پاکستان کے یوم آزادی پر اس بات کا تجزیہ کرنا چاہئے کہ آخر کیوں پاکستان اب تک معاشی طور پر آزاد نہیں ہوسکا؟

میں پچھلے پانچ برس کی معاشی پالیسیوں کو بطور مثال لے کر اس پر اپنے تجزیے کے ذریعے دکھاتا ہوں کہ ماضی میں کیسی پالیسیاں اختیار کی گئیں جو نقصان دہ ثابت ہوئیں۔

معاشی ترقی کا مکمل انحصار کسی بھی ملک کی مقامی پیداوار کی نمو پر ہوتا ہے۔ سب سے اہم امر یہ ہے کہ افراد اور اداروں کی بہترب پر سرمایہ کاری کی جائے۔

مگر پاکستان کی حکومت نے ہمیشہ ترقی کے لئے دوسرے ممالک کی جانب دیکھا ہے۔ میں اسے درآمد شدہ ترقی کہوں گا جو ہمیشہ ناکام ہوتی ہے۔

یہ نظریہ کہ دوسرے ممالک کو ملکی ترقی کی ذمہ داری سونپی جائے اور وہ آپ کے ملک کا بنیادی ڈھانچہ تعمیر کریں، یا آپ کے ملک کے ادارے تعمیر کریں اور ہم پھر معجزات کا انتظار کریں کبھی بھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتا۔

اس رویے کی حالیہ مثال 2013 میں شروع ہوئی جب مسلم لیگ ن حکومت میں آئی اور اس نے پاکستان کی ترقی کا ٹھیکا چین کو دے دیا۔ میں ان پانچ برسوں کی معاشی پالیسیوں کو بطور ثبوت پیش کروں گا کہ آخر کیوں ایسی پالیسیاں ناکام ہوتی ہیں۔

پاکستان کی حکومت نے چین کے ذریعے سی پیک کے انفراسٹرکچر کے پراجیکٹس کو فنڈ کیا جس سے پاکستان کا قرضہ 62 ارب ڈالر سے بڑھ کر 90 ارب ڈالر تک چلا گیا۔ اتنی بڑی مقدار میں بیرونی قرضہ لینے سے مقامی طلب میں مصنوعی اضافہ ہوگیا جس سے مہنگائی بڑھی اور پاکستان کی برآمدی لاگت میں اضافہ ہوگیا۔

معاشی طور پر مشہور ’ڈچ بیماری‘ اسے ہی کہتے ہیں۔ پاکستان بھی اس کا شدت سے شکار ہوگیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان کی حقیقی شرح تبادلہ یا پیداواری لاگت دوسرے مسابقتی ممالک سے 20 فیصد بڑھ گئی مگر پاکستان کی برآمداد میں پچھلے پانچ برس میں کوئی بھی اضافہ نہ ہوسکا۔

معاملات تب مزید بگڑ گئے جب پاکستان کے وزیر خزانہ نے سٹیٹ بینک کی خود مختاری سلب کر کے روپے کی قیمت کو مصنوعی طور پر مستحکم رکھنے کی شدید ناقص پالیسی اختیار کی۔ اب پاکستان کی ’ڈچ بیماری‘ سٹیرائڈز پر تھی چل رہی تھی۔

اسی دوران سی پیک پر کسی بھی قسم کے آزادانہ تجزئے پر مکمل پابندی رہی۔ آپ اس پر کوئی بھی سوال پوچھیں تو آپ کو قومی مفاد کے منافی سازش میں شریک متصور کیا جاتا۔

میڈیا اس جنون میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے اس منصوے کو ’گیم چینجر‘ بتاتا رہا جو راتوں رات پاکستان کی قسمت بدل دے گا۔

اس سے اور تو کچھ نہ ہوا بلکہ گوادر میں زمین کی مصنوعی طلب بڑھ گئی۔ جب کہ گوادر ابھی تک محض ریتلا صحرا ہی ہے۔

اس زمین کی قیمتوں کی مصنوعی بڑھوتری سے ملک میں مقامی طلب مصنوعی طور پر بڑھ گئی اور شرح تبادلہ کی ناقص پالیسی کی وجہ سے پاکستان کی ’ڈچ بیماری‘ معیشت کی جڑوں میں بیٹھ گئی۔

یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ابھی ہم نے اس بات کا تجزیہ نہیں کیا کہ جو قرضہ ڈالر میں لیا گیا ہے پاکستان اسے واپس دینے کی پوزیشن میں ہے بھی کہ نہیں؟ معیشت کی تباہی تو اس کی واپسی سے پہلے ہی شروع ہوچکی ہے۔

تو اب قرضوں کی واپسی پر بات کرتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہئے کہ آپ ڈالر میں قرض لے رہے ہیں جب کہ تمام پراجیکٹس میں جو آمدن ہوگی وہ روپے میں ہوگی۔ جیسے کہ مقامی طور پر ٹرانسپورٹ یا انرجی کے منصوبوں سے ہونے والی آمدن۔

جو بڑی پریشانی ہے اس کی دو وجوہات ہیں۔

پہلی بات یہ ہے شرح مبادلہ اس سارے معاملے پر اثر انداز ہوگی۔ اگر مستقبل میں پاکستانی روپے کی قیمت کم ہوتی ہے، جو ناقص شرح مبادلہ کی پالیسی کا لازمی نتیجہ ہوگی، تو ایسے میں ان منصوبوں سے حاصل ہونے والا منافع کم یا ختم ہو جائے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ ملک کو وافر مقدار میں اضافی برآمدات پیدا کرنی ہوں گی ورنہ وہ ایکسپورٹ بڑھانے کی خاطر مزید غریب ہونے پر مجبور ہو جائے گا تاکہ پیسہ واپس کر پائے۔

قرضوں کی واپسی سے متعلق ایک اور بڑا سوال یہ ہے کہ سی پیک سے متعلق قرضوں کی شرائط کو خفیہ رکھا گیا ہے۔ کوئی بھی نہیں جانتا کہ کیا ہو رہا ہے۔

مثال کے طور پر سی پیک کے سرمائے کی کیا قیمت ہے؟ ایک قرض لینے کے معاہدے میں تو لکھا ہوگا کہ وہ یہ محض دو فیصد آسان سود پر دیا جا رہا ہے۔ مگر کیا یہ صرف دو فیصد ہے؟

ان منصوبوں کے لئے کھلے عام بولی نہیں لگائی جاتی اور تمام کے تمام منصوبوں سے متعلق چینی کمپنیاں فیصلہ کرتی ہیں۔ وہ ہمیں تو 100 ڈالر چارج کرتے ہیں مگر کم قیمت ساز و سامان استعمال کرتے ہیں جو انہیں بس 80 ڈالر کا پڑتا ہے۔

جس سے اس سرمائے کی جو قیمت ہے وہ 27.5 فیصد تک پہنچ جاتی ہے کیوں کہ ہم نے تو دراصل 80 کا ہی مال لیا مگر ادا کئے 102 ڈالر۔

یہ بھی درست ہے کہ پاکستان اور چین ایک دوسرے سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر معاہدے سوچ سمجھ کر اور ملک کی جاری معاشی صورت حال کو دیکھ کر کرنے پڑتے ہیں۔ مگر افسوس ایسا بالکل بھی نہ کیا گیا۔

ہم اس بات کی تمنا رکھ سکتے ہیں کہ اس بار معاشی پالیسیوں میں دانائی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
 

جاسم محمد

محفلین
پچھلے چند دنوں سے عوام کی اکثریت کا ردعمل اس فیصلے کے خلاف جا رہا تھا۔ گو کہ فیصلہ جناح اور اقبال کے پاکستان کے عین مطابق تھا۔ مگر یہ 2018 ہے 1947نہیں۔ قادیانیوں کے خلاف بغض و نفرت جدید پاکستانیت کا حصہ بن چکی ہے۔ یو ٹرن لینا بنتا تھا۔
قائد کا پاکستان، عاطف میاں کا پاکستان ہے
07/09/2018
عالیہ شاہ


ایدھی صاحب نے کہا تھا ۔ مقدس کتاب روح میں کھلنی چاہئے ، گود میں نہیں۔ کاش ہم نے اپنی مقدس کتاب اپنی روح میں کھولی ہوتی تو آج قائد کے پاکستان میں عاطف میاں کے لئے جگہ کم نہ پڑتی۔ آپ نے مقدس کتاب اپنی گود میں کھولی ہے یا روح میں؟ اگر آپ اپنی مقدس کتاب صرف گود میں کھول کر اس کے الفاظ کا رٹا لگاتے ہیں یا بنا سمجھے پڑھتے ہیں تو یقینا آپ کی نظر میں عاطف میاں ایک معیشت دان کے بجائے ایک عام انسان ہے جس کا ایک خاص مسلک ہے اور اس مسلک سے نفرت کی بنا پر آپ کو اس سے بھی نفرت ہے۔ لہذا وہ اس ملک کی معیشت کو درست کر نے قابل نہیں۔ لیکن اگر قرآن آپ کی روح میں کھلتا ہے۔ تو دنیا کے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی ذہین معیشت دان آپ کی معیشت ٹھیک کرنے کے قابل ہو گا اور آپ کو اس کے انتخاب پر کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

یقین مانئے ایک عاطف میاں نے ہم سب کو شکست دے دی۔ چاروں خانے چت کر دیا آپ سب کو۔ ایک شخص کے خلاف ماشاللہ ، کمر کس لی سب نے ۔کیا ہمارا ایمان اور عقائد اتنے نازک ہیں یا وہ اتنا بڑا انسان ہے؟ ایک آدمی نے ایک قوم کو شکست دے دی؟ ایک انتہائی ذہین وفطین شخص کو ملک کی معیشت درست کرنے کے لئے منتخب کیا کیا گیا کہ سب کے سروں کے سینگ باہر آگئے۔ اب ہر کوئی یہ سینگ اٹھائے مذہب کی چھڑی ہاتھ میں پکڑے ان لوگوں کو مرنے مارنے پر تلا ہے جو عقل کی بنیاد پر اس انتخاب کی داد دے رہے ہیں۔ گذشتہ چالیس برس سے جو قوم لمبی تان کر سوئی ہوئی تھی۔ خواب خرگوش کے مزے لے رہی تھی ۔ عاطف میاں نے اس قوم کو جھنجھوڑ کر جگا دیا۔

سب سے پہلے وزیراعظم صاحب کے انتخاب کی داد دینا بنتا ہے۔ ان کے بارے میں مخالفین کے تعصب سے لبریز اندازے پارہ پارہ ہوتے نظر آرہے ہیں ۔ وہ ایک کے بعد ایک ایسا فیصلہ کر رہے ہیں جس نے ان مخالفین کے منہ بند کر دئے ہیں جو انھیں شدت پسند سوچ کا کا طعنہ دیتے تھے۔ وزیراعظم نے بنا رنگ و نسل تفریق اس شخص کو اکنامک ایڈ وائزری کونسل کے لئے منتخب کیا جس کی ذہانت اور قابلیت کی دنیا داد دیتی ہے۔ جس شخص سے دنیا کی بڑی معیشتیں مشورے مانگتی ہیں۔ وزیراعظم نے اپنے ملک کی معیشت کی درستی کے لئے اسی شخص کا انتخاب کیا۔ا گر پی پی نے کسی ایسے شخص کا انتخاب کیا ہوتا تو روشن خیال لوگوں کی جانب سے تعریف کے ڈونگرے برسائے جاتے، لیکن عمران خان صاحب کے معاملے میں روشن خیالوں کو ایک خاص پرخاش ہے۔ سیلوٹ ہے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری کو جنھوں اتنے نازک مسئلے پر دو ٹوک موقف اپنایا۔ ببانگ دہل کہا کہ کہ عاطف میاں دنیا کے مانے ہوئے معیشت دان ہیں لہذا ہمیں معیشت درست کرنے کے لئے ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔ انھوں نے کیا زبردست بات کہی کہ :

قائداعظم نے سر ظفراللہ کو وزیرخارجہ بنایا تھا ہم محمد علی جناح کے اصولوں کی پیروی کریں گے، شدت پسندوں کے اصولوں کی نہیں۔ کیا پاکستان سے اقلیتوں کو اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ دنیا عاطف میاں کو نوبل پرائز دینے والی ہے۔ ہم نے معاشی مشیر لگایا ہے اسلامی نظریاتی کونسل کا ممبر نہیں بنایا۔ پاکستان اقلیتو ں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا اکثریتوں کا۔ اعتراض کرنے والے انتہا پسند ہیں۔ انتہا پسندوں کے آگے نہیں جھکیں گے۔ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ صرف حکومت کا نہیں ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔

اس سے پہلے کسی وزیر یا مشیر کی جانب سے اتنے حساس موضوع پر کبھی بھی کھل کر ایسا بیان نہیں آیا۔ ہمارے جیسی جذباتی قوم کے سامنے یہ موقف اپنانا بڑے دل جگرے کا کام ہے۔ فواد چودھری یقینا ایک بہادر انسان ہیں۔ جب سب چپ ہوں اور ایک شخص بولے تو وہ دلیر ہی کہلاتا ہے۔ اس بیان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت اس ملک کی صرف معیشت ہی نہیں بلکہ بیانیہ بھی در ست کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہے ۔معیشت کی بحالی کے ساتھ شدت پسند بیانیے کو شکست دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔فوج اور حکومت بہت عرصے کے بعد ایک ہی پیج پر نظر آرہے ہیں۔ یہی بہترین وقت ہے کہ دونوں مل کر اس قوم کو شدت پسند بیانیے سے باہر نکالیں۔

رسول پاک نے فرمایا تھا ۔۔۔ علم حاصل کرو چاہے چین ہی کیوں نہ جانا پڑے۔

اب ظاہر ہے اگر آپ چین علم حاصل کرنے جائیں گے تو آپ کو کسی دوسرے مسلک یا مذہب کے اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنا ہو گی۔ اگر آپ کسی دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے والے کو اپنا استاد بنا سکتے ہیں تو اس سے اپنی معیشت درست کیوں نہیں کر وا سکتے۔؟

ایک طرف اس قوم کوقائداعظم سے بے پناہ محبت ہے ۔ قائداعظم کے جائے پیدائش پر ہر روز ٹھٹ کے ٹھٹ جمع ہوتے ہیں ۔ نوجوان سیلفیاں اتار کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے ہیں۔ بڑی عقیدت سے وہاں فاتحہ پڑھنے جاتے ہیں ۔ قائداعظم کو کوئی برا بھلا کہہ دے تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں لیکن جناح کے ان احکامات پر غور کرنے کو ہرگز تیار نہیں جن کی رو سے عاطف میاں کو ایک معیشت دان کے طور پر اکنامک ایڈ وائزری کونسل کا حصہ بنانے پر کوئی پہاڑ نہیں ٹوٹ پڑتا۔ ایسے وقت میں ہمارے نوجوانوں کو اور علما کوقائداعظم اچھے نہیں لگتے ہیں۔ جو لوگ عاطف میاں کی مخالفت کر رہے ہیں ان سے عرض یہ کرنا ہے کہ کیا آپ محمد علی جناح سے زیادہ ذہین یا ان سے زیادہ فرشتہ صفت اور مہان ہیں ؟ اگر نہیں تو ان کے اقوال کی رو سے تو اس انتخاب میں کوئی خرابی نہیں۔ آپکی یہ غلط فہمی بھی دور کیے دیتے ہیں کہ آپکو قائداعظم سے شدید محبت و عقیدت ہے۔ ایسا ہر گز نہیں ۔ نوجوانوں کی یہ محبت صرف مزار قائد پر سیلفیوں تک محدود ہے۔ یا پھر ان کے جائے پیدائش پر چھٹی منانے سے۔

قائداعظم نے فرمایا تھا: آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لئے، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لئے۔ آپ آزاد ہیں اپنی عبادت گاہوں میں جانے کے لئے۔ اس مملکت پاکستان میں آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا عقیدے سے ہو مملکت کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔ انصاف اور غیر متعصابانہ رویے سے ہم اس قوم کو عظیم قوم بنائیں گے۔

نبی پاک کی عظیم ترین شخصیت تو ہے ہی سب کی آئیڈیل۔ یہ دونوں شخصیات یعنی ایدھی اور جناح بھی بیشتر پاکستانیوں کے لئے آئیڈیل کا درجہ رکھتے ہیں لیکن میری آپ سے گزارش ہے کہ یا تو ان دونوں کے افکار کی عزت کیجئے یا منافقت چھوڑ دیجئے ۔ براہ مہربانی یہ نہ کریں دونوں کا جو قول پسند آئے اس پر ان کی پوجا شروع کر دیں اور جو بات آپ کی روایت پرستی، مذہبی تعصب، کم نظری، سے ٹکرائے اس کو رد کر کے برا بھلا کہنا شروع کر دیں۔ ایک بار فیصلہ کر لیں کہ ایدھی صاحب اور قائداعظم آپ کے آئیڈیل ہیں یا نہیں ۔ ہم کو ایک مفرور اشتہاری بطور وزیر خزانہ قبول تھا لیکن ایک شخص جس کو معیشت کے شعبے میں کمال حاصل ہے وہ ہمیں قبول نہیں۔ جو لوگ عاطف میاں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ اس سب کے بعد یہ عہدہ قبول نہ کرے ان سے گزارش ہے کہ آپ اپنی ذات کے گنبد میں قید اس قدر خود غرض ہو گئے ہیں کہ کسی بھی صورت اس ملک کی معیشت کو پھلتے پھولتے نہیں دیکھ سکتے۔ آپ عاطف میاں کو یہ مشورہ اس لئے دے رہے ہیں کیونکہ آپ کو ڈر ہے کہ کہیں وہ سچ مچ اس ملک کی معیشت کو ٹھیک نہ کر دے۔



عاطف میاں کو دنیا کے بیس بہترین معیشت دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی کتاب House of Debt کو معیشت کی بائبل کا درجہ ملنے والا ہے۔ انھوں نے پی ایچ ڈی اکنامکس اور S.B Mathematics with computer science کر رکھا ہے۔ وہ پرنسٹن یونیورسٹی میں پروفیسر آف اکنامکس ، پبلک پالیسی آف فنانس ، پبلک افیئرز، پڑھاتے ہیں۔ وہ سنٹر فار پبلک پالیسی اینڈ فنانس کے ڈائرکٹر ہیں۔ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا ، برکلے میں پروفیسر آف اکنامکس اینڈ فنانس رہے۔ رئیل اسٹیٹ اینڈ اربن اکنامکس کی چیئر کو ہیڈ کیا۔ یونیورسٹی آف شکاگو میں پڑھایا۔ وہ امپیریکل ماکرو فنانس، میکرو اینڈ فنانشل پالیسی، رئیل اسٹیٹ فنانس ، انٹرنیشنل فنانس، ایمرجنگ مارکیٹ فنانس، اینڈ کارپوریٹ فنانس پڑھاتے ہیں۔ ان کے لکھے ہوئے پیپرز کی تعداد لکھنے بیٹھ جائیں تو یہاں پر جگہ کم پڑ جائے۔ وہ تمام خواتین و حضرات جو عاطف میاں کا ایک تعصب کی بنا پر مقاطعہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ اپنے بودے دلائل سے ان کی تعلیمی اسناد کی نفی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ ذرا اپنی تعلیمی اسناد اور قابلیت کا موازنہ عاطف میاں کی تعلیمی اسناد اور قابلیت سے کر لیں۔ شائد آپ کو محسوس ہو کہ علم، عقل ، توازن، دلیل، قابلیت، ذہنی استعداد، اعلی ظرفی میں عاطف میاں نے آپ کو پچھاڑ دیا ہے۔ اگر آپ کو لگے کہ عاطف میاں نے آپ کو مات دے دی ہے۔ تو تعلیم اور عقل کے میدان میں آپ بھی ان کو شکست دینے کی کوشش کریں۔ اور قائداعظم سے مصنوعی محبت کا اظہار کرنا بند کر دیں۔ ہمارے نبی پاک نے علم جہاں سے بھی ملے حاصل کر لو، کا مشورہ دیا ہے۔ جبکہ ہم اس کے بر خلاف خرافات میں پڑ گئے ہیں۔ شاید اسی بنا پر علامہ اقبال نے کہا تھا حقیقت خرافات میں کھو گئی ۔ یہ امت روایات میں کھو گئی۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
پاکستانی مذہبی مسلمان تمام احمدیوں کو جان سے مارنا چاہتے ہیں۔ اس سے کم پر وہ راضی نہیں ہوں گے۔
نہیں بلکہ پاکستانیوں کو ان لوگوں کے اسلام کا نام استعمال کرنے پر اعتراض ہے۔اقلیت ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں۔
 

زیک

مسافر
ہم لوگوں کے نزدیک ایسا ہونا تو شریعت اسلامیہ کے احکام کے ذیل میں آتا ہے اور اس پر عمل کا اختیار عوام الناس کو نہیں بلکہ حکومت کو ہونا چاہیئے کہ کوئی واجب القتل ہے تو اسے قتل کرنا کیسا۔ لیکن آپ کی پوسٹس سے یہ ٹپک ٹپک کر ظاہر ہو رہا ہے کہ قادیانیت نوازی میں آپ خود کو ملت اسلامیہ سے باہر تصور کرنا شروع ہو چکے ہیں۔
اسلام ترک کر کے دوسرا دین اختیار کرنے والا ہماری نظر میں تو مرتد کہلاتا ہے آپ کی نظر میں اسے کیا کہتے ہیں
واجب القتل ہونا اور وجوب قتل پر عملدرآمد کروانا الگ الگ باتیں ہیں واجب القتل تو ہر مرتد ہوتا ہے لیکن اسے قتل کا اختیار عوام الناس کو اپنے آپ نہیں ہوتا یہ کام حکومت وقت کا ہے

یہ دس ہزار وہ قادیانی تھے جو مسلمان ظاہر کرتے ہوئے سرکاری نوکریاں کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد اسائلم وغیرہ کے چکر میں خود کو ظاہر کرتے ہوئے قادیانی ڈکلیئر ہوئے ۔ یاد رہے کہ اگر اتنا ہی انتہا پسند معاشرہ ہوتا تو یہ دس ہزار لوگ یا تو قتل ہو چکے ہوتے یا پھر ان پر باقاعدہ مقدمات چل رہے ہوتے۔ یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرزائی کسی پرسی کیوشن کا نشانہ نہیں ہیں۔ وہ خود کو اقلیت تسلیم کر لیں تو محفوظ ہیں جیسے یہ دس ہزار لوگ بالکل محفوظ رہے نہ شور مچا نہ قتل و غارت گری ہوئی کیونکہ انہوں نے مرزائیت نئی قبول نہیں کی بلکہ خود کو اقلیت تسلیم کرتے ہوئے اپنے آپ کو آئین پاکستان کی تحویل میں دیا

اگر کوئی غیر مسلم اپنی منافقت سے باز آکر خود کو غیر مسلم تسلیم کر لیتا ہے تو اسے قتل کرنا کس مذہبی جواز میں ہے۔۔؟؟؟

نہیں بلکہ پاکستانیوں کو ان لوگوں کے اسلام کا نام استعمال کرنے پر اعتراض ہے۔اقلیت ہونے میں کوئی مسئلہ نہیں۔

کیا آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ احمدی مرتد نہیں ہیں؟ یا یہ کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے؟
 

جاسم محمد

محفلین
بقیہ چار برس گیارہ ماہ میں کیا کیا تماشے ہوں گے، ہم تو اس تصور میں غلطاں و پیچاں ہیں ۔۔۔!
جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔تقدیر کے مطابق بالکل درست ہو رہا ہے۔ اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے۔ اس نے عوام کو ان کی اوقات دکھا دی جو کہتے تھے پورے عالم اسلام میں حکومت کو ایک قادیانی ماہر اقتصادیات ہی ملا؟ باقی سب مر کھپ گئے ہیں؟
اکانومک اڈوائزری کونسل میں حکومت نے مغربی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ، قابل ترین 3 ماہرین اقتصادیات کو چنا۔ جن میں سے ایک کو قادیانی ہونے کی وجہ سے فارغ کر دیا گیا۔ دوسرا فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے گیا۔ جبکہ تیسرے نے کونسل سے متعلق توقعات اور وعدوں پر سوالیہ نشان اٹھا دئے۔

تحریک انصاف حکومت سے درخواست ہے کہ ان خالی آسامیوں پر مولانا خادم حسین رضوی اور اوریا مقبول جان کو بھرتی کیا جائے۔ ایسے بہترین اقتصادی دماغ تو اہل مغرب کے پاس بھی نہیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
جو کچھ بھی ہو رہا ہے۔تقدیر کے مطابق بالکل درست ہو رہا ہے۔ اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے۔ اس نے عوام کو ان کی اوقات دکھا دی جو کہتے تھے پورے عالم اسلام میں حکومت کو ایک قادیانی ماہر اقتصادیات ہی ملا؟ باقی سب مر کھپ گئے ہیں؟
اکانومک اڈوائزری کونسل میں حکومت نے مغربی یونیورسٹیوں سے تعلیم یافتہ ، قابل ترین 3 ماہرین اقتصادیات کو چنا۔ جن میں سے ایک کو قادیانی ہونے کی وجہ سے فارغ کر دیا گیا۔ دوسرا فیصلے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفیٰ دے گیا۔ جبکہ تیسرے نے کونسل سے متعلق توقعات اور وعدوں پر سوالیہ نشان اٹھا دئے۔

تحریک انصاف حکومت سے درخواست ہے کہ ان خالی آسامیوں پر مولانا خادم حسین رضوی اور اوریا مقبول جان کو بھرتی کیا جائے۔ ایسے بہترین اقتصادی دماغ تو اہل مغرب کے پاس بھی نہیں۔
آپ کی حکومت ہے صاحب! آپ کس واسطے حیران و پریشان ہیں؟ بہتر ہو گا کہ بطور احتجاج آپ کم از کم ایک آدھ دن کے لیے اپنا اوتار بدل دیجیے۔ :)
حالی کا یہ مصرعہ گنگنائیے۔۔۔!
چلو تم اُدھر کو، ہوا ہو جِدھر کی!
 
Top