وزیراعظم نےاکانومک ایڈوائزری کونسل قائم کر دی: معروف ماہر اقتصادیات عاطف میاں کونسل کا حصہ ہوں گے

کیا آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ احمدی مرتد نہیں ہیں؟ یا یہ کہ مرتد کی سزا قتل نہیں ہے؟
وہ قادیانی جو اسلام ترک کرکے مرتد ہوں وہ مرتد ہیں
جو پیدائشی قادیانی ہو وہ مرتد نہیں بلکہ کافرہے
جو قادیانی اپنے آپکو مسلمان کہے اور قادیانی عقائد بھی رکھے زندیق ہے
 
وہ قادیانی جو اسلام ترک کرکے مرتد ہوں وہ مرتد ہیں
جو پیدائشی قادیانی ہو وہ مرتد نہیں بلکہ کافرہے
جو قادیانی اپنے آپکو مسلمان کہے اور قادیانی عقائد بھی رکھے زندیق ہے
اس سب میں ان کا کافر ہونا بائے ڈیفالٹ آجاتا ہے یہ بات ذہن میں ضرور رکھئیے گا
 

جاسم محمد

محفلین
ڈاکٹر عاطف میاں کا آفیشل بیان سامنے آگیا۔ تحریک انصاف حکومت پر علما کرام کا سخت دباؤ تھا۔ حکومت بچانے کیلئے استعفیٰ دیا۔
میں پاکستان میں پلا ، بڑا ہوا۔ ملک کی خدمت میرے ایمان کا حصہ ہے۔
میں امید رکھتا ہوں کہ اکانومک ایڈوائزری کونسل اپنے مینڈیٹ پر پورا اترے گی
میری دعائیں پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ملک و قوم کی خدمت کے لئے ہر دم تیار رہوں گا
 

جاسم محمد

محفلین
آپ کی حکومت ہے صاحب! آپ کس واسطے حیران و پریشان ہیں؟
اس واسطہ پریشان ہیں۔ ڈاکٹر عاطف میاں، ڈاکٹر اعجاز خواجہ کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل سے ایک اور ماہراقتصادیات نے استعفیٰ دے دیا۔ جو جو استعفیٰ دیتا جائے۔ اس کے بعد سب باآواز نعرہ لگائیں: دیگر مسلمان ماہرین اقتصادیت ختم ہو گئے ہیں؟
-------------------------------------
ڈاکٹر اعجاز خواجہ کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل کا ایک اور رکن مستعفی
عمران رسول نے اقتصادی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دیا ، ٹویٹر پیغام میں اعلان بھی کر دیا
pic_64cc1_1536338023.jpg._3

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08 ستمبر 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل سے عاطف میاں کی نامزدگی واپس لینے کےبعد گذشتہ روز ڈاکٹر اعجاز خواجہ نے کونسل سے استعفیٰ دیا جس کے بعد اب کمیٹی کے ایک اور رکن نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اقتصاری مشاورتی کونسل کے رکن عمران رسول نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بڑے دُکھ کے ساتھ میں نے آج صبح اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔عاطف میاں کو جن حالات میں رکنیت چھوڑنے کا کہا گیا میں ان سے اتفاق نہیں کرتا ، کسی کے مذہب کو بنیاد بنا کر اس طرح کے فیصلے کرنا میرے ان اصولوں اور اقدار کے خلاف ہے جو میں اپنے بچوں کو سکھا رہا ہوں۔
اقتصادی مشاورتی کونسل کے قیام سے پاکستان کی بہترین معاشی پالیسی کی تشکیل کا امکان پیدا ہو گیا تھا، انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10 دنوں میں پاکستانی سیاست کا بہترین اور بُرا چہرہ دیکھا گیا۔
ٹویٹر پیغام میں عمران رسول نے کہا کہ اگر میں سچ کہوں تو اقتصادی مشاورتی کونسل میں عاطف میاں ہی وہ انسان ہیں جن کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، میں نے کئی قابل طلبا، تنظیموں ، این جی اوز اور سرکاری افسران کے ساتھ کام کیا ہے۔
عمران رسول نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اقتصادی مشاورتی کونسل میں ایک متنازعہ شخصیت اور عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں کی شمولیت کے باعث بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کونسل میں شمولیت پر تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو مذہبی طبقے کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اسی شدید تنقید کے باعث مجبور ہو کر حکومت نے میاں عاطف کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے نامزدگی واپس لے لی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے عاطف میاں سے نامزدگی واپس لیے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ میاں عاطف کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے نامزدگی واپس لے لی ہے ۔اگر ایک شخص نامزدگی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کا آئیڈیل ریاست مدینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان عاشقان رسولؐ ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے،، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو کامیابی حاصل کی وہ بھی اسی نسبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت علماء اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ تاہم اب ایک اور رکن عمران رسول نے بھی اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
 

جاسم محمد

محفلین
عاطف میاں کا تنازع اور وزیر اعظم کی چندہ مہم
08/09/2018 سید مجاہد علی

وزیر اعظم عمران خان نے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ڈیم فنڈ کو وزیر اعظم فنڈ میں تبدیل کرتے ہوئے بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں سے چندہ دینے کی اپیل کی ہے۔ وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان 2025 تک نئےڈیم تعمیر کرنے میں کامیاب نہ ہؤا تو ملک کو پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس صرف تیس دن کی ضرورت پوری کرنے کے لئے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے حالانکہ ہر ملک کے پاس کم از کم 120 دن کی ضرورت پوری کرنے کا پانی ذخیرہ ہونا چاہئے۔ بھارت کے پاس ایک سو دن کی ضرورت کے لئے پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ وزیر اعظم نے واضح کیا ہے کہ دنیا اب پاکستان کو قرضے دینے کے لئے تیار نہیں ہے، اس لئے اسے خود اپنے وسائل پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لئے غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کو کم از کم ایک ہزار ڈالر فی کس اس فنڈ میں چندہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ رقم جمع ہوجائے تو پاکستان پانچ برس میں ضروری ڈیم تعمیر کرسکتا ہے۔
حیرت انگیز طور پر عمران خان نے قوم کے نام دوسرے خطاب میں اپنی حکومت کی اس اخلاقی کوتاہی ، سیاسی کم ہمتی اور آئینی کمزوری کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا ،جس کے بارے میں وزیر اطلاعات کے ایک ٹویٹ پیغام کو کافی سمجھا گیا ہے کہ پرنسٹن یونیورسٹی کے عالمی شہرت یافتہ پاکستانی نژاد ماہر معیشت عاطف میاں کو حکومت کی نامزد کردہ اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے علیحدہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ عاطف میاں کے احمدی عقیدہ سے متعلق ہونے کی وجہ سے کیا گیا کیوں کہ وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق ’حکومت علماء اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر ہی آگے بڑھنا چاہتی ہے اور اگر ایک نامزدگی سے مختلف تاثر پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں‘۔
عاطف میاں کو دنیا کے بیس بہترین اور قابل قدر معیشت دانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہیں وزیر اعظم عمران خان نے خود اس کمیٹی میں شامل کیا تھا تاکہ نئی حکومت ملک کی ابتر معاشی حالت کو سنبھالنے کے لئے بہترین رائے اور مشورہ کی بنیاد پر پالیسی بنا سکے۔ تاہم اس نامزدگی کے ساتھ ہی یہ تنازعہ بھی سامنے آگیا تھا کہ عاطف میاں احمدی عقیدہ سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ملک کے مذہبی گروہوں کے علاوہ سیاسی جماعتوں کے عناصر نے بھی اس نامزدگی کے خلاف واویلا شروع کیا تھا۔ حتیٰ کہ تحریک انصاف کے متعدد عناصر نے اس نامزدگی کو ختم کرنے کے لئے مہم جوئی کی تھی۔ البتہ دو روز قبل وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے یہ بیان دے کر اس نکتہ چینی کو مسترد کیا تھا کہ ملک کی اقلیتیوں کو بھی مساوی حقوق حاصل ہیں اور حکومت نے عاطف میاں کو معاشی مشاورت کی کمیٹی میں شامل کیا ہے انہیں کسی مذہبی یااسلامی نظریاتی کونسل میں شامل نہیں کیا گیا۔
اس بیان سے امید پیدا ہوئی تھی کہ عمران خان کی حکومت اس متنازعہ سوال پر سخت اور اصولی مؤقف پر قائم رہنے کا اعلان کررہی ہے ۔ اس طرح ملک کی اقلیتوں میں تحفظ کا احساس پیدا ہو گا اور انتہا پسند قوتیں پسپا ہوں گی۔ عمران خان کو عوامی مقبولیت حاصل ہے اور یہ توقع کی جارہی تھی کہ وہ ایک ناقص اور آئین سے متصادم مطالبہ کو تسلیم کرنے سے انکار کرکے ملک میں اعلیٰ جمہوری اقدار کے استحکام کے لئے کام کریں گے اور اس طرح دنیا بھر میں پاکستان سرخرو ہوگا۔ حکومت نے عاطف میاں کی ماہرانہ خوبیوں اور معیشت میں ان کے قابل قدر کام کی وجہ سے ان کی خدمات حاصل کرنے کی سعی کی تھی۔ اس فیصلہ سے مذہب اور فرقہ کی بنیاد پر ملک میں تفریق اور نفرت پیدا کرنے والی قوتوں کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ ملک کی نئی حکومت ان سرکش اور گمراہ قوتوں کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگی۔ تاہم آج صبح وزیر اطلاعات کی طرف سے اپنے ہی بیان کے برعکس عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے نکالنے کا اعلان کرکے حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرنے کے علاوہ یہ واضح کیا گیا کہ ملک میں مذہبی انتہا پسند پونے دو کروڑ ووٹ لے کر کامیاب ہونے والی حکومت کو بھی بلیک میل کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔
اس پس منظر میں آج شام عمران خان نے جب قوم سے خطاب کیا اور اپنی اپیل کو صرف تارکین وطن پاکستا نیوں سے ڈیم فنڈ میں چندہ مانگنے تک محدود رکھنے پر اکتفا کیا تو پانچ برس تک نواز شریف کی حکومت کو للکارنے والا عمران خان ایک بزدل ، کمزور اور کم ہمت لیڈر کے طور پر سامنے آیا۔ 22کروڑ آبادی کے ملک کا وزیر اعظم اگر اپنی حکومت کے ایک ایسے فیصلہ کے بارے میں بات کرنے کا حوصلہ نہ رکھتا ہو جو بنیادی انسانی ، اخلاقی اور قانونی اصولوں سے متصادم ہونے کے علاوہ عالمی چارٹرز کے بھی خلاف ہو اور جس کے بارے میں ملک بھر میں گزشتہ چند روز کے دوران سخت مباحث اور الزام تراشی کا سلسلہ دیکھنے میں آیا تھا۔
وزیر اطلاعات نے اقلیتوں کو ساتھ لے کر چلنے کے بلند بانگ دعوے کرنے کے بعد آج جب انتہا پسند ملاؤں کو خوش کرنے کے لئے اپنے مؤقف میں 180 ڈگری تبدیلی لاتے ہوئے یہ کہا کہ حکومت ایک نامزدگی سے قومی اتفاق رائے ختم نہیں کرسکتی تو انہوں نے محض تبدیلی کے دعوے اور حکومتی اختیار کا پول ہی نہیں کھولا بلکہ یہ بتایا ہے کہ حکومت ملک کے مٹھی بھر انتہا پسندوں کی پھیلائی ہوئی نفرت کے خلاف بند باندھنے اور ملک کے تمام شہریوں کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام ہونے کا اعلان کررہی ہے۔
حکومت آئین کی شق 25 کے تحت تمام اقلیتوں کو مساوی حقوق فراہم کرنے کی پابند ہے۔ عاطف میاں کی کسی سرکاری کمیٹی میں نامزدگی کسی اقلیتی باشندے کا بنیادی حق تو نہیں ہے لیکن ان کا نام شامل کرکے اور پھر شدید دباؤ کے بعد اسے واپس لے کر اس تاثر کو قوی کیا گیا ہے کہ حکومت اصولوں ، آئینی تقاضوں اور اخلاقی ضابطوں پر چلنے کا حوصلہ نہیں رکھتی بلکہ اشتعال انگیز گروہوں کی دھمکیوں سے متاثر ہو کر فیصلے کرنے کی روایت کو راسخ کرنے کا باعث بنی ہے۔ یہ تاثر کسی ملک کے جواز اور کسی بھی قوم کی شناخت کے اعتبار سے نہایت مہلک اور ضرررساں ہے۔
عمران خان سیاسی حوصلہ اور بڑے طوفانوں کا مقابلہ کرنے کے دعوے کرتے ہوئے اقتدار تک پہنچے ہیں۔ لیکن جس روز عاطف میاں کو اقتصادی مشاورتی کمیٹی سے نکالا گیا ہے، اسی روز قوم سے خطاب کرتے ہوئے اس متنازعہ اور افسوسناک معاملہ پر قوم کو اعتماد میں لینے سے گریز کرکے انہوں نے اپنی سیاسی کم ہمتی کے علاوہ ذاتی کمزوری اور بزدلی کا مظاہرہ بھی کیا ہے۔ عمران خان کو اپنی بہادری اور ہمت پر بہت ناز ہے لیکن اربوں ڈالر کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ڈیموں کی تعمیر کے لئے چندہ مانگتے ہوئے اور قوم کی مادی ضرورتوں کا ذکر کرتے ہوئے ، بنیادی اخلاقی اصول اور قانونی و آئینی معیار کے حوالے سے ایک بحث میں اپنی دو ٹوک رائے دینے اور عوام کے دلوں میں اٹھنے والے سوالوں کو نظر انداز کرکے عمران خان نے دراصل اپنی حکومت کی ناکامی کا بالواسطہ اعتراف کیاہے۔ جو حکومت اپنے ایک بے ضرر فیصلہ پر قائم رہنے کا حوصلہ نہ رکھتی ہو، اس سے بڑے فیصلے کرنے ، ملک کا عالمی امیج بہتر بنانے اور معاشرہ کی تعمیر نو جیسے عظیم منصوبہ میں مستقل مزاجی کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔
وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے عاطف میاں کی برطرفی کے فیصلہ کی وضاحت کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں یہ محیرالعقل پیغام دیا ہے : ’عمران خان کا آئیڈیل ریاست مدینہ ہے۔ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین عاشقان رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اور حال ہی میں گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر حکومت نے جو کامیابی حاصل کی ، وہ بھی اسی نسبت کا اظہار ہے ‘ ۔ اس بیان میں دو بنیادی مغالطے موجود ہیں۔ ایک تو یہ کہ کہیں سے اس امر کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ہالینڈ کے گیرٹ وایئلڈرز نے گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ منسوخ کرنے کا اعلان حکومت پاکستان کے دباؤ کی وجہ سے کیا تھا۔ پاکستان یا کوئی دوسرا مسلمان ملک اس سے قبل سلمان رشدی یا ڈنمارک میں شائع ہونے والے خاکوں سے پیدا ہونے والے تنازعہ میں یورپ و امریکہ کے کسی ملک کو دباؤ میں لانے میں کامیاب نہیں ہؤا تھا۔ اس لئے نوزائیدہ پاکستانی حکومت کا یہ دعویٰ کہ یہ اس کی سفارت کاری کا کمال ہے، اپنے منہ میاں مٹھو سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
اس طرح خود کو اور پاکستان کے عوام کو یہ دھوکہ دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت وہ کارنامے کرسکتی ہے جو دوسرے سرانجام دینے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ لیکن آج کے فیصلہ کے بعد تو بجا طور سے یہ سوال پوچھا جاسکتا ہے کہ جو حکومت اپنے ملک کے مٹھی بھر انتہا پسند مذہبی جنونیوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت اور ہمت نہیں رکھتی وہ یورپ کے ایک غیر متعلقہ ملک کے شدت پسند سیاست دان کو فیصلہ تبدیل کرنے پر کیسے مجبور کرسکتی ہے۔ دوسرا مغالطہ یہ ہے کہ وزیر اطلاعات کے ٹویٹ میں ختم نبوت کو سیاسی نعرہ بناتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا ہے کہ مدینہ کی جس ریاست کا تصور عمران خان اور ان کے ساتھی عام کرنا چاہتے ہیں ، اس میں حب رسول ﷺ کی وجہ سے اقلیتوں کو اپنے برابر نہیں سمجھا جائے گا۔ رسول پاک ﷺ کی سربراہی میں مدینہ میں قائم ہونے والی حکومت کے بارے میں مسلمان دانشور، وزیر اطلاعات کے اس دعویٰ کی تصدیق نہیں کریں گے۔ کیوں کہ عام تفہیم میں مدینہ میں مسلمانوں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مساوی احترام اور تحفظ فراہم کیا گیا تھا۔
اقتصادی کمیٹی سے عاطف میاں کی علیحدگی سے پاکستان کے معاشی مسائل حل کرنے کا کام متاثر ہو یا نہ ہو ۔ لیکن ان کا نام شامل کرکے انتہا پسند رائے کے تحت اسے نکالنے سے ملک کی شہرت، سیاست اور حکومت کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا گیا ہے۔ یہ واقعی ایسا کام ہے جس کے بارے میں عمران خان اور تحریک انصاف دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ جو کام دوسری پارٹیاں پانچ برس میں کرتی تھیں ، وہ ہم نے دو ہفتوں میں کر دکھایا ہے۔
 
و تعز من تشاء و تذل من تشاء
-----------------------------------------
ماتم تو جاری رہنا ہے
مرزے کے پیروکاروں میں
سب لبرل بابا بستوں میں
خفیہ ہم جنس پرستوں میں
آئین وطن کا کہتا ہے
اسلام سوا قانون نہیں
اب حملے کرتے رہتے ہیں
کافر - لبرل - ہم جنس پرست
چھپ چھپ کر آنے کی کوشش
کرتے ہیں لیکن روتے ہیں
قانون بدل دیں کسی طرح
آئین بدل دیں کسی طرح
ایسا ہونا ممکن ہی نہیں
جب تک ہم ہیں ممکن ہی نہیں
 
باقی دو ماہرین اقتصادیات جنہوں نے کونسل سے استعفیٰ دیا ہے وہ قادیانی نہیں ہیں۔ سچے کھرے مسلمان ہیں۔
دین کے معاملے میں مسلمان اسلام کے مقابل اگر کسی مرتد یا کافر کا ساتھ دیں تو ایسے مسلمان پر لخ دی لعنت وہ تو خود ہی مرتد ہوگئے - ایسے لوگ اگر سونے کے پہاڑ بھی بنا لائیں تو ایسے سونے کے پہاڑوں پر بھی لخ دی لعنت۔
 

زیک

مسافر
اس واسطہ پریشان ہیں۔ ڈاکٹر عاطف میاں، ڈاکٹر اعجاز خواجہ کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل سے ایک اور ماہراقتصادیات نے استعفیٰ دے دیا۔ جو جو استعفیٰ دیتا جائے۔ اس کے بعد سب باآواز نعرہ لگائیں: دیگر مسلمان ماہرین اقتصادیت ختم ہو گئے ہیں؟
-------------------------------------
ڈاکٹر اعجاز خواجہ کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل کا ایک اور رکن مستعفی
عمران رسول نے اقتصادی مشاورتی کونسل سے استعفیٰ دیا ، ٹویٹر پیغام میں اعلان بھی کر دیا
pic_64cc1_1536338023.jpg._3

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔ 08 ستمبر 2018ء) : پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے اقتصادی مشاورتی کونسل سے عاطف میاں کی نامزدگی واپس لینے کےبعد گذشتہ روز ڈاکٹر اعجاز خواجہ نے کونسل سے استعفیٰ دیا جس کے بعد اب کمیٹی کے ایک اور رکن نے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ اقتصاری مشاورتی کونسل کے رکن عمران رسول نے مائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ بڑے دُکھ کے ساتھ میں نے آج صبح اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔عاطف میاں کو جن حالات میں رکنیت چھوڑنے کا کہا گیا میں ان سے اتفاق نہیں کرتا ، کسی کے مذہب کو بنیاد بنا کر اس طرح کے فیصلے کرنا میرے ان اصولوں اور اقدار کے خلاف ہے جو میں اپنے بچوں کو سکھا رہا ہوں۔
اقتصادی مشاورتی کونسل کے قیام سے پاکستان کی بہترین معاشی پالیسی کی تشکیل کا امکان پیدا ہو گیا تھا، انہوں نے کہا کہ گذشتہ 10 دنوں میں پاکستانی سیاست کا بہترین اور بُرا چہرہ دیکھا گیا۔
ٹویٹر پیغام میں عمران رسول نے کہا کہ اگر میں سچ کہوں تو اقتصادی مشاورتی کونسل میں عاطف میاں ہی وہ انسان ہیں جن کی پاکستان کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے، میں نے کئی قابل طلبا، تنظیموں ، این جی اوز اور سرکاری افسران کے ساتھ کام کیا ہے۔
عمران رسول نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اقتصادی مشاورتی کونسل کے مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتا ہوں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی اقتصادی مشاورتی کونسل میں ایک متنازعہ شخصیت اور عالمی شہرت یافتہ ماہر اقتصادیات عاطف میاں کی شمولیت کے باعث بڑا تنازعہ کھڑا ہوگیا تھا۔ عاطف میاں کی اقتصادی مشاورتی کونسل میں شمولیت پر تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو مذہبی طبقے کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔اسی شدید تنقید کے باعث مجبور ہو کر حکومت نے میاں عاطف کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے نامزدگی واپس لے لی۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے عاطف میاں سے نامزدگی واپس لیے جانے کی تصدیق کی اور کہا کہ میاں عاطف کی اقتصادی مشاورتی کونسل سے نامزدگی واپس لے لی ہے ۔اگر ایک شخص نامزدگی سے اختلاف پیدا ہوتا ہے تو یہ مناسب نہیں۔ فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کا آئیڈیل ریاست مدینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے ارکان عاشقان رسولؐ ہیں۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا حصہ ہے،، گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر جو کامیابی حاصل کی وہ بھی اسی نسبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت علماء اور تمام معاشرتی طبقات کو ساتھ لے کر آگے بڑھنا چاہتی ہے۔حکومت کے اس فیصلے کے بعد اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عاصم اعجاز خواجہ نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ تاہم اب ایک اور رکن عمران رسول نے بھی اقتصادی مشاورتی کونسل کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا ہے۔
یہ فرق ہے غیرملکی پاکستانیوں میں۔ اب شاید تمام غیرملکی استعفی دے چکے لہذا مزید استعفے نہیں آئیں گے
 
آپ ایسے پیغام ڈیلیٹ کر کر کے کیا پیغام دینا چاہ رہے ہیں۔ مجھے اس پوسٹ کے بیانیئے سے اختلاف ہے۔ اگر پوسٹ کرنے والا اپنا بیانیہ رکھنے میں آزاد ہے تو مجھے کیوں بار بار ڈیلیٹ کیا جا رہا ہے۔
 
تیرہ برس کے ریکارڈ میں پہلی پوسٹس کا ڈیلیٹ ہونا ایک نیا آزادی اظہار کا بیانیہ ہے۔ جو میری پوسٹ برداشت نہیں کر سکتے امید کرتے ہیں کہ میں ایک قادیانی کی حمایت پر اپنے جواب کو بھی ان کی پسند کے الفاظ پہنا کر پیش کروں
 
Top