وحدت الوجود کیا ہے؟

ابرار احمد نے 'تاریخ اسلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 22, 2009

  1. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    شیخ اکبر کے بارے میں خود حضرت مجدد الف ثانی نے لکھاہے ’’نصوص نے ہمیں فصوص سے بے نیاز کردیاہے‘‘شیخ اکبر کی فتوحات مکیہ ہوں یا فصوص الحکم ان دونوں میں ایسی باتیں ہیں جو مکمل طورپر شریعت کے مخالف ہین۔ان کے حامی یہ تاویل کرتے ہین کہ بعد میں کسی نے اس میں ملادیاہے ان کی اصل کتاب میں نہیں ہیں۔
    دوسری بات یہ وحدت الوجود بجائے خود کسی فتنہ سے کم نہیں۔ نہ حضور کے دور میں کبھی یہ بحث ہوئی۔ نہ صحابہ کے دور میں ،نہ تابعین کے دور مین اورنہ ہی تبع تابعین کے دور میں۔جب خیرالقرون کا تینوں دور اس بحث سے خالی ہے توپھر یہ ماننے میں کیوں تامل ہے کہ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ۔کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ وکل ضلالۃ فی النار۔ہر نئی چیز بدعت ہے اورہر بدعت گمراہی ہے اورہرگمراہی جنت میں لے جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. نایاب

    نایاب لائبریرین

    مراسلے:
    13,422
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Goofy
    السلام علیکم
    محترم ابن جمال جی
    یہ کہاں سے ثابت ہے کہ ہر گمراہی جنت میں لے جائے گی ۔ ؟
    آپ شائید جہنم لکھنا چاہتے تھے ۔
    لفظ ' حدیث " بذات خود " نئی اور جدید " کے مترادف ہے ۔
    اور بدعہت کیا ہے ۔ ؟
    احادیث قول رسول علیہ السلام کو صرف اتفاق اور اخوت بین المسلمین کے نظریئہ سے
    اور دین اسلام کے اوامر و نواہی کو سمجھنے کے لیئے استعمال بہتر نتائج فراہم کرتا ہے ۔
    نایاب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  3. ابن جمال

    ابن جمال محفلین

    مراسلے:
    468
    میں صرف یہ کہنا چاہ رہاتھا کہ جس بحث سےصحابہ اآشنارہے ہوں اوروہ ضروریات دین میں شامل نہ ہوتوپھر اس پر بحث کرنا بے کار ہے۔توجہ دلانے کا شکریہ میں واقعتا جہنم ہی لکھناچاہ رہاتھا لیکن بے خیالی میں جنت ٹائپ ہوگیا۔ مکرر شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. خرم

    خرم محفلین

    مراسلے:
    2,294
    صحابہ نے تو بلاواسطہ اکتساب علم کیا تھا۔ ان مباحث کی انہیں ضرورت نہ تھی کہ ان کی تعلیم تو معلم اعظم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمائی تھی۔ ہاں یہ تمام حقائق تعلیم صحابہ کے واسطے سے ہی ہوئے ہیں۔ بعد میں صوفیاء نے عوام کے سمجھانے کو ایک بات مختلف پیرائے میں بیان کی جس سے یاروں نے "فرقے" بنا ڈالے۔ اصل مقصد بات کا سمجھانا تھا حرف پکڑنا نہیں۔ آپ کو اس بات سے اختلاف ہے کہ وجود حقیقی صرف اللہ ہے کہ وہی حی القیوم ہے؟ باقی سب چیزیں فانی ہیں سو پل میں‌زیست سے نیست ہوجاتی ہیں اور وجود سے غیر وجود میں ڈھل جاتی ہیں۔ اگر اس چیز سے آپ کو اختلاف نہیں‌تو بس یہ حقیقت ہی آپ کو کافی ہے۔ اسے وحدت الوجود سمجھیں، ہمہ اوست کہیں ہمہ نیست یا ہمہ از اوست۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. ابو حسان

    ابو حسان محفلین

    مراسلے:
    73
    آپ تمام سے گزارش ہے کے یہ جان لین کے شیطان انتظار میں ہے کے کوئ غلط کہے اور وہ اسے بہکائے ، اس موضوع سے اچھا ہے کے اسلام نکلا ہے (س ل م ) سے یعنی سلم کا مطلب ہے حوالے کرنا ، اپنے آپ کو اپنے اللہ کی محبت کے حوالے کریں اور انتظار کریں کے وہ بغیر حساب کتاب کے (اگر آپ کو یقین یے کے وہ قادر مطلق ہے) آپ کو جنت میں داخل کرے بجائے اس کے کے آپ کی غلط بات سے وہ ناراض ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    میرے خیال میں سارے کا سارا وحدت الوجود اس آیت میں ہے۔۔۔
    ھو الاول والآخر والظاھر والباطن و ھو بکل شِی علیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    طریقت آپ صلعم کے زمانے میں بھی اور صحابہ کرام سے بھی ثابت نہیں۔ یہ گذشتہ پانچ صدیوں کی ایجاد ہے۔ ہاں شریعت میں ہر چیز کا علاج موجود ہوتاہے۔
    میں نے تو طریقت کے نام پر لوگوں کو پیسے بٹورتے دیکھا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    جناب ہر جمعے کے خطبے میں بھی پڑھا جاتا ہے ۔ دوسرا میں اس دن بڑا حیران و پریشان ہوا جس دن میرے ایک دوست نے کہا کہ میرے پیر صاحب نے میری نمازیں معاف کر دی ہیں پیر صاحب کہتے ہیں کہ جو میں کہتا ہوں ویسا ہی کرو اور قیامت کے دن میں آگے ہونگا اور میری پگڑی پکڑ کر آپ لوگ میرے ساتھ جنت میں داخل ہونگے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمود احمد غزنوی

    محمود احمد غزنوی محفلین

    مراسلے:
    6,435
    موڈ:
    Torn
    محترم اپکے آخری جملے سے اختلاف ممکن نہیں ھے۔ عین ممکن ھے کہ آب کو ایسا ھی تجربہ ھوا ھو لیکن آب کے پہلے جملے میں باہمی ربط تلاش کرنے کی کوشش کر رہا ھوں۔ یعنی اس دعوے میں کہ طریقت گذشتہ 5 صدیوں کی "ایجاد" ھے اور اس بات میں کہ ھاں "شریعت میں ھر چیز کا علاج موجود ھے" کیا مطابقت ھے؟
    ویسے اطلاعاً عرض ھے کہ کشف المحجوب، رسالہ قشیریہ ، کتاب اللمع جیسی کتب آج سے ایک ھزار سال پہلے لکھی گئی تھیں۔:)

    ً
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    تلاش کرنے کی کیا ضرورت ہے شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ علیہ کے کتب کا مطالعہ کر لیجئے ۔ انہوں نے صوفی ایزم کے طریقے سے اسلام کی خدمت کی لیکن بعد میں وہ خود بھی خفا تھے کہ بعد میں چل کر یہ طریقہ غلط اور بدعات و شرک کے لئے استعمال کیا جائے گا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    یعنی خود دوا کھالی لیکن اگر کوئی اور کھائے تو سائڈ ایفیکٹس ہو سکتے ہیں! :idontknow:
     
  12. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ظاہر ہے ان کو اپنی اس غلطی کا احساس تھا۔
     
  13. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    دوستو ، ساتھیو !
    اس لڑی کا موضوع ’’ وحدت الوجود کیا ہے ؟ ‘‘ ہے ، گفتگو میں حصہ لینے سے پہلے سوچ لیا کیجے کہ آیا ہم اس موضوع پر بات کرنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں، لمحہ بھر کی غفلت ہمارے اعمال اکارت کرنے کوکافی ہوسکتی ہے ، پھر نفسِ مضمون کے مطابق ہی بات کی جائے تو حصولِ‌علم کا دروازہ کھل سکتا ہے ، کھمبیوں کے طرح اگنے کے بعد ہم ہر موضوع پر منھ مارنے کے عادی ہوگئے ہیں، یہی ہماری خرابی کی جڑ ہے ، وحدت الوجود اور وحدت الشہود پر پڑھنے کی بجائے مجھ سمیت سبھی احباب اپنے اپنے ’’ کامل ‘‘ علم کے ڈونگرے برسارہے ہیں جیسے یہ ’’ موضوع ہمارے گھر کی کھیتی ہو ‘‘ اگر ’’علم ‘‘ کی تلاش ہے تو طالب رہیے ۔۔ اور اس موضوع پر کتب پڑھنے کے بعد اہلِ معاملہ سے مجلسی علم حاصل کیا جاتا ہے ، نہ کہ یہ ’’ کہ میں ، میں ، میرا علم ، میرا نظریہ میرا مکتبہ فکر ،،، اور میں میں ‘‘ ۔۔ خیر اس موضوع پر محی الدین ابنِ عربی کی کتاب ہے ، جس کے تراجم بھی دستیاب ہیں ، جامعہ اظہر مصر کا نسخہ بھی موجود ہے ، ذہین شاہ تاجی سمیت سبھی نسخے موجود ہیں ، علم کی تلاش ہو تو میں یہ کتابیں آپ کو پڑھنے کو فراہم کرسکتا ہوں، ۔۔ لہذا گزارش ہے کہ بشمول میرے ہم اپنی اپنی ہانکنے کی بجائے اصل موضوع پر ہی بات کریں ۔ والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  14. arifkarim

    arifkarim معطل

    مراسلے:
    29,828
    جھنڈا:
    Norway
    موڈ:
    Happy
    اصل تھریڈ کی پہلی پوسٹ:
    مطلب ان صاحب نے ہم جیسی "کھمبیوں" سے ہی وحدت الوجود کی تعریف پوچھی ہے۔ شاید انکو علماکرام کی فتویٰ سازی کا پہلے سے علم ہوگا۔
     
  15. dxbgraphics

    dxbgraphics محفلین

    مراسلے:
    5,088
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    عارف کریم آپ کی بات کا واضح مطلب سمجھ نہیں آرہا
     
  16. طارق راحیل

    طارق راحیل محفلین

    مراسلے:
    442
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    تصوف کی تعریف اور تصوف پر اعتراضات کی وجوہات:

    تصوف یا صوفی ازم بالعموم اس فن اور طرز زندگی کو کہا جاتا ہے جس کا تعلق روحانیت سے ہو۔ تصوف سے وابستہ حضرات "صوفی" کہلاتے ہیں۔

    صوفی دو طرح کے ہوتے ہیں: مخلص صوفی اور وہ لوگ جو مخلص نہیں ہوتے مگر انہوں نے دنیاوی مفادات کے لیے صوفیت کا لبادہ اوڑھ رکھا ہوتا ہے۔ ان لوگوں میں "تزکیہ نفس" کا معاملہ نہیں پایا جاتا البتہ دیگر امور میں وہ پیش پیش ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مخلص صوفیاء میں تزکیہ نفس سمیت اوپر بیان کردہ تمام امور پائے جاتے ہیں۔

    ان امور کا اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ امور صرف مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہیں۔ دیگر مذاہب میں بھی ایسے لوگ بکثرت پائے جاتے ہیں جو دنیا ترک کر کے اپنی زندگی کو خالصتاً اپنے معبود کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ ان میں بھی بالعموم اوپر بیان کردہ تمام چیزیں پائی جاتی ہیں۔ عیسائیوں کی رہبانیت، یہودیوں کا کبالہ، ہندوؤں اور بدھوں کا یوگ اور سنیاس ان مذاہب کا تصوف ہی ہے۔

    تصوف کے بعض ناقدین کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے تصوف پر دیگر اقوام کے تصوف کااثر پڑا ہے مگر اہل تصوف اس بات کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کا تصوف خالصتاً دین اسلام سے ماخوذ ہے۔
    تصوف کا مقصد: اہل تصوف ، تصوف کا مقصد وہ بیان کرتے ہیں جو قرآن کریم کی ان آیات کریمہ میں بیان ہوا ہے:

    نفس کی قسم اور اس [اللہ] کی جس نے اسے سنوارا۔ پھر اس نے اس کی برائی اور اس کا تقوی اس کی جانب الہام کر دیا۔ جس نے اسے پاکیزہ کر لیا، وہ فلاح پا گیا اور جس نے اسے دبا دیا، وہ نامراد ہوا۔ (الشمس)
    اہل تصوف کا کہنا یہ ہے کہ اسی نفس انسانی کو سنوارنے اور اس کا تزکیہ کرنے کا نام تصوف ہے۔ تما م دینی احکام کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک ظاہری اور دوسرا باطنی۔ مثال کے طور پر زکوۃ کو لیجیے۔ ایک اس کا ظاہری پہلو ہے جس میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ زکوۃ کب دینی ہے؟ کتنی دینی ہے؟ کس مال پر زکوۃ عائد ہو گی اور کس پر نہیں؟ ان سب سوالات کا جواب "علم الفقہ" میں ملتا ہے۔ زکوۃ کا باطنی پہلو یہ ہے کہ زکوۃ خالصتاً اللہ تعالی کے لیے دی جائے۔ اس میں دکھاوا نہ ہو اور نہ ہی جس شخص کو مال دیا جائے، اسے ذلیل کیا جائے۔ اہل تصوف کا کہنا یہ ہے کہ اس باطنی پہلو کی اصلاح "علم التصوف" کا کام ہے۔

    اہل تصوف کے جن عقائد پر تنقید کی جاتی ہے، وہ یہ ہیں:
    ×- وحدت الوجود اور عقیدہ حلول
    ×-اللہ تعالی سے براہ راست تعلق کا دعوی
    ×-امور آخرت کا استخفاف

    عملی تصوف پر تنقید ان پہلوؤں سے کی جاتی ہے:
    ×-نفسیاتی غلامی
    ×-رہبانیت اور ترک دنیا
    ×-تزکیہ نفس کے طریقے
    ×-مخالفت شریعت

    صوفیاء کے عقائد میں جو عقیدہ سب سے زیادہ تنقید کا نشانہ بنا ہے، وہ وحدت الوجود کا عقیدہ ہے۔ اسی سے متعلق حلول کا عقیدہ ہے جو بعض صوفیاء کے ہاں پایا جاتا ہے۔

    وحدت الوجود اورعقیدہ حلول:
    وحدت الوجود کا عقیدہ صوفیاء کے اندر تقریباً متفق علیہ نظریہ ہے تاہم اس کی تفصیل کے بارے میں ان کے ہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ عقیدہ حلول بھی بعض صوفیاء کے اندر پایا جاتا ہے جبکہ بعض اس سے انکار کرتے ہیں۔

    وحدت الوجود کے فلسفے کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ صرف اور صرف ایک ہی وجود ہے اور وہ ہے اللہ تعالی۔ اس کی ذات کے علاوہ کوئی اور وجود نہیں پایا جاتا ہے۔ اگر اس بات کو مان لیا جائے تو پھر خالق و مخلوق میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا بلکہ انسان، حیوانات،نباتات، بے جان اشیاء، حتی کہ غلاظت اور شیطان بھی نعوذ باللہ، اللہ تعالی ہی کے وجود کا حصہ قرار پاتے ہیں۔ اس کے بعد اسلام اور کفر اور حلال و حرام میں بھی فرق کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی کیونکہ حلال و حرام معاذ اللہ سبھی خدا ہی ہیں۔

    حلول کے عقیدے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کسی انسان کے اندر حلول کر جاتا ہے۔ اس عقیدے کو اگر وسیع معنوں میں لیا جائے تو پھر خدا ہر چیز کے اندر حلول کر جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوؤں کے ہاں بہت سے جانوروں جیسے گائے، سانپ اور بندر کا بڑا احترام کیا جاتا ہے کیونکہ ان کے نقطہ نظر کے مطابق بھگوان ان کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ان کے ہاں یہ تصور بھی موجود ہے کہ بھگوان اپنے خاص بندوں کے اندر حلول کر جاتا ہے جو کہ"اوتار"کہلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو پیروں فقیروں، جوگیوں اور سادھوؤں کی انتہائی تعظیم کرتے ہیں اور ان کی عقیدت کا یہ معاملہ ان کے اپنے بزرگوں تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دیگر مذاہب کے صوفیاء کی بھی ویسی ہی تعظیم کرتے ہیں۔

    پابند شریعت صوفیاء حلول کے عقیدے سے انکار کرتے ہیں اور وحدت الوجود کے عقیدے کی مختلف تشریح کرتے ہیں۔ اس ضمن میں صوفی اکابرین کی جن عبارتوں پر اعتراض کیا جاتا ہے، وہ یا تو ان کی تاویل کرتے ہیں اور یا پھر انہیں الحاقی قرار دیتے ہیں۔ مناسب ہو گا کہ مختلف فریقوں کے نقطہ ہائے نظر بیان کرنے سے پہلے وحدت الوجود اور حلول سے متعلق اکابر صوفیاء کی عبارتیں پیش کر دی جائیں تاکہ اس نظریے کی وضاحت ہو جائے۔ ہم یہاں ترجمے کے ساتھ ساتھ اصل عربی عبارات تاکہ عربی دان حضرات خود ان کا مطالعہ فرما لیں۔

    شیخ عبداللہ الہروی (d. 481/1088) کی کتاب منازل السائرین میں یہ بات لکھی ہوئی ہے:

    والتوحيد على ثلاثة وجوه: الوجه الأول توحيد العامة الذي يصح بالشواهد والوجه الثاني توحيد الخاصة وهو الذي يثبت بالحقائق والوجه الثالث توحيد قائم بالقدم وهو توحيد خاصة الخاصة فأما التوحيد الأول فهو شهادة أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له الأحد الصمد الذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا أحدَ. هذا هو التوحيد الظاهر الجلي الذي نفى الشرك الأعظم وعليه نصبت القبلة وبه وجبتالذمة وبه حقنت الدماء والأموال وانفصلت دار الإسلام من دار الكفر ... وأما التوحيد الثاني الذي يثبت بالحقائق فهو توحيد الخاصة وهو إسقاط الأسباب الظاهرة والصعود عن منازعات العقول وعن التعلق بالشواهد وهو أن لا تشهد في التوحيد دليلا ولا في التوكل سببا... وأما التوحيد الثالث فهو توحيد اختصه الحق لنفسه واستحقه بقدره وألاح منه لائحا إلى أسرار طائفة من صفوته وأخرسهم عن نعته وأعجزهم عن بثه والذي يشار به غليه على ألسن المشيرين أنه إسقاط الحدث وإثبات القدم.
    توحید کے تین درجے ہیں: پہلا درجہ عام لوگوں کی توحید ہے جس کی صحت دلائل پر مبنی ہے۔ دوسرا درجہ خاص لوگوں کی توحید ہے جو کہ حقائق [یعنی روحانی تجربات] سے ثابت ہوتی ہے۔ توحید کا تیسرا درجہ خاص الخاص لوگوں کی توحید ہے جو کہ ذات قدیم [اللہ تعالی ] ہی کی بنیاد پر قائم ہے۔جہاں تک پہلی توحید کا تعلق ہے جو کہ یہ گواہی دینا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اس کا کوئی بھی شریک نہیں، وہ بے نیاز ہے، نہ وہ کسی کا باپ ہے نہ بیٹا اور اس کا کوئی ہمسر نہیں۔ یہ ظاہر روشن توحید ہے جو کہ بڑے شرک کی نفی پر مبنی ہے۔ اسی کی بنیاد پر قبلہ کو نصب کیا گیا اور [غیر مسلموں] کو ذمی قرار دیا گیا۔ اسی کی وجہ سے خون اور مال محفوظ ہوتے ہیں اور دار الاسلام، دار الکفر سے الگ ہوتا ہے ۔۔۔۔دوسری قسم کی توحید وہ ہے جو حقائق پر مبنی ہے۔ یہ خاص لوگوں کی توحید ہے اور اس میں ظاہری اسباب کو چھوڑ دیا جاتا ہے اور عقلی دلائل اور شواہد کے ساتھ تعلق سے بلند ہو کر دلیل کے بغیر توحید کو مانا جاتا ہے اور توکل کے لیے کسی سبب کو تلاش نہیں کیا جاتا ہے۔۔۔۔توحید کا تیسرا درجہ وہ ہے جس حق تعالی نے اپنے لیے خاص کر لیا ہے اور بقدر ضرورت اس کے اسرار کو منتخب افراد پر ظاہر کرتا ہے۔ اس کی صفات بیان کرنےاور [اس کی تفصیلات] پھیلانا ممکن نہیں ہے۔ جس کی طرف اشارہ کرنے والوں نے یہ اشارہ کیا ہے کہ یہ حادث [مخلوق] کی نفی اور قدیم [اللہ تعالی] کا اثبات ہے۔


    شیخ ابن عربی (558-638/1164-1240) کی کتاب "ٖفصوص الحکم" میں درج ہے:
    وأن نفيها عين إثباتُها، علم أن الحق المنزة هو الخلق المشبه، وإن كان قد تميز الخلق من الخالق. فالأمر الخالق المخلوق، والأمر المخلوق الخالق. كل ذلك من عين واحدة، لا، بل هو العين الواحد وهو العيون الكثيرة. فانظر ما ذا ترى "قال يا أبت افعل ما تؤمر": والولد عين أبيه. فما رأى يذبح سوى نفسه. "وفداه بذبح عظيم" فظهر بصورة كبش من ظهر بصورة إنسان. وظهر بصورة ولد: لا، بل بحكم ولد من هو عين الوالد. "وخلق منها زوجها": فما نكح سوى نفسه. فمنه الصاحبة والولد والأمر واحد في العدد....

    فالحق خلق بهذا الوجه فاعتبروا ..........وليس خلقا بذاك الوجه فادكروا من يدر ما قلت لم تخذل بصيرتهَ..........وليس يدريه إلا من له بصر جمع وفرق فإن العين واحدة ............وهي الكثيرة لا تبقي ولا تذر

    اس کی نفی عین اثبات ہے۔ وہ جان گیا کہ حق منزہ ہی خلق مشبہ ہے اگرچہ وہ خلق کو خالق سے بظاہر علیحدہ سمجھتا ہو۔ تو معاملہ یہ ہے کہ خالق کا معاملہ مخلوق ہے اور مخلوق کا معاملہ خالق ہے۔ یہ سب ایک ہی سرچشمہ سے ہیں۔ نہیں بلکہ یہی ایک سرچشمہ ہےجو ان سب کثیر حقائق میں موجود ہے۔ دیکھیے آپ کی کیا رائے ہے؟ [اللہ تعالی نے ابراہیم و اسماعیل علیہما الصلوۃ والسلام کی قربانی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا] "وہ [اسماعیل علیہ السلام] بولے: اباجان! جس کام کا آپ کو حکم دیا گیا ہے، کرگزریے۔" تو بیٹا عین اپنا باپ ہے، تو انہوں نے کیا دیکھا کہ وہ اپنے آپ کو ذبح کر رہے ہیں۔ "پھر ہم نے اس کے فدیہ میں ایک بڑی قربانی کر دی۔" تو دنبہ کی صورت میں وہی ظاہر ہوا جو کہ انسان کی صورت میں ظاہر ہوا یعنی بیٹے کی صورت میں ظاہر ہوا۔ نہیں، بلکہ وہ بیٹے کے حکم میں ظاہر ہوا کہ وہ عین وہی تھا جو کہ والد ہے۔"اور اس (آدم) میں سے اسی کا جوڑا تخلیق کیا"۔ تو انہوں نے اپنے علاوہ کس سے نکاح کیا۔ انہی میں سے ان کی بیوی، اولاد سبھی نکلے۔ تو ان متعدد انسانوں میں اصل معاملہ ایک ہی ہے۔۔۔۔تو جان لو کہ اس اعتبار سے حق [تعالی] مخلوق ہے اور اُس اعتبار سے مخلوق نہیں ہے۔ اس بات کو یاد کر لو۔ جو میں کہہ رہا ہوں، اسے جو جانتا ہے، وہ اپنی بصیرت کو رسوا نہ کرے گا۔ اسے وہی جانتا ہے جس کے پاس "نگاہ" موجود ہے۔ اس نے اسے اکٹھا اور علیحدہ کیا کہ وہ سرچشمہ ایک ہی ہے اور یہ کثرت باقی نہ رہے گی اور نہ ہی چھوڑ دی جائے گی۔ [ii]


    ابن عربی سے تین صدیاں پہلے منصور حلاج (244-309/858-922) کا واقعہ بہت مشہور ہے اور تمام کتب تصوف میں بیان ہوا ہے کہ انہوں نے خدائی کا دعوی کرتے ہوئے "انا الحق" یعنی "میں حق ہوں" کہا تھا۔ اگر وہ محض ایک آدھ بار غلبہ سکر میں ایسا کر دیتے تو کچھ نہ ہوتا مگر وہ پورے ہوش و حواس کے ساتھ اس دعوے کی باقاعدہ تبلیغ کرتے رہے۔ بادشاہ کے حکم سے انہیں گرفتار کر کے علماء کے سامنے پیش کیا گیا مگر وہ اپنے دعوی پر قائم رہے۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں موت کی سزا دی گئی۔اس وقت سے لے کر آج تک وہ تمام صوفیاء، خواہ وہ مخالف شریعت ہوں یا پابند شریعت، کے ہیرو اور شہید سمجھے جاتے ہیں۔ پنجابی کی ایک مشہور قوالی کا شعر ہے ؎ جیہڑے نشہ عشق وچ رہندے او انا الحق ہی کہندے


    ان کے اس طرز عمل کی توجیہ کرتے ہوئے بعض صوفیاء کہتے ہیں کہ منصور نے یہ دعوی خود نہیں کیا تھا بلکہ وہ ذات باری تعالی کے مشاہدے میں اس درجے میں غرق تھے کہ اللہ تعالی نے ان کی زبان کو آلہ بنا کر خود یہ الفاظ کہے تھے۔ یہ بالکل ایسا ہی تھا کہ جیسے ریڈیو میں سے آواز نکلتی ہے مگر بولنے والا اس کے اندر نہیں بیٹھا ہوتا۔ اسی طرح منصور کی زبان ایک ایسا ریڈیو تھا جس میں سے اللہ تعالی کی آواز آئی تھی۔


    علامہ ابن قیم (691-751/1292-1350)نے حلولی صوفیاء سے متعلق لکھا ہے کہ یہ اصل میں ایرانی النسل تھےاور انہیں "نساک" کہا جاتا تھا۔ یہ زمانہ قدیم سے ہی حلول کے عقیدے کے قائل تھے۔ اسلام لانے کے بعد یہ گروہ مسلم صوفیاء کے ساتھ مل گیا اور ان کے اندر حلول و اتحاد کا نظریہ پیدا کردیا۔ (دیکھیے مدارج السالکین، باب التوحید)


    مخالف شریعت صوفیاء کا نقطہ نظر:
    مخالف شریعت صوفیاء کے ہاں وحدت الوجود اور حلول کے عقیدے کے وہی نتائج برآمد ہوتے ہیں جو کہ اس کا منطقی تقاضا ہے۔ جب اس کائنات کی ہر ہر چیز کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ ایک ہی وجود کا حصہ ہے تو پھر ہر ہر خدا ہی ہوئی۔ پھر ہر انسان خدا ہی ٹھہرا۔ اس کے بعد نہ تو کسی حلال کی ضرورت رہتی ہے اور نہ حرام کی اور شریعت کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔ یہ وحدت الوجود کے عقیدے کا منطقی تقاضا ہے۔ مخالف شریعت صوفیاء نے اس عقیدے کو اسی طرح سمجھا ہے۔ بعض صوفیاء کے متعلق ان کی اپنی کتب میں درج ہے کہ وہ پاخانہ تک کھا لیا کرتے تھے اور ماں اور بہن سے ازدواجی تعلق قائم کرنے میں قباحت محسوس نہیں کرتے تھے اور خود اپنی ذات کو خدا سمجھا کرتے تھے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جب ہر چیز ہی خدا ٹھہری تو پھر خدا کا ایک حصہ دوسرے حصے سے جو بھی معاملہ کرے، وہ درست مانا جاتا ہے۔ ابن عربی کے شاگرد ابن فارض کے چند اشعار صوفیانہ حلقوں میں بہت مشہور ہیں:

    لها صلاتي بالمقام أقيمها وأشهد أنها لي صلت كلانا مصل عابد ساجد إلى حقيقة الجمع في كل سجدة

    وما كان صلى سواي فلم نكن صلاتي لغيري في إذاء كل ركعة وما زلت إياها وإياي لم تزل ولا فرق بل ذاتي لذاتي أحبت

    ففي الصحو بعد المحو لم أك غيرها وذاتي بذاتي إذا تحلت تجلت

    جس مقام پر میں فائزہوں، اس پر فائز رہتے ہوئے یہ گواہی دیتا ہوں کہ میں نے اس ّ[اللہ] کے لیے نماز پڑھی اور [نعوذ باللہ] اس نے میرے لیے۔ ہم دونوں ہی نماز پڑھنے والے ہیں، عبادت کرنے والے ہیں، اور ہر سجدے میں ایک متحد حقیقت کو سجدہ کرنے والے ہیں۔اس نے میرے سوا نماز نہ پڑھی تو ہر رکعت کی ادائیگی میں میری نماز میرے علاوہ کسی کے لیے نہ تھی۔ میں وہ رہا، اور وہ میں رہا۔ کوئی فرق نہیں بلکہ میری ذات میری ہی ذات سے محبت کرتی ہے۔ فنا ہونے کے بعد ہوش میں آ کر بھی میں اس سے الگ نہیں اور میری ذات جب میری ہی ذات میں حلول کرتی ہے تو آشکار ہو جاتی ہے۔[iii]

    حلول کے عقیدے کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں یہ مان لیا جائے کہ اس میں خدا حلول کر گیا ہے تو پھر اس کے ساتھ وہی معاملہ کیا جانا چاہیے جو کہ اللہ تعالی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پھر اس کی ویسی ہی تعظیم کی جائے گی، اسے سجدے کیے جائیں گے، اس کے حکم پر بلا چون و چرا عمل کیا جائے گا، اس کے اشارہ ابرو پر جان بھی قربان کی جائے گی، مال و دولت کو اس کی نذر کیا جائے گا اور زندگی کا ہر معاملہ اس کے حکم کے مطابق چلایا جائے گا۔ اہل تشیع میں اسماعیلی حضرات کا یہ نقطہ نظر ہے کہ خدا ان کے امام میں حلول کر جاتا ہے، چنانچہ وہ اپنے ائمہ کے ساتھ یہی معاملہ کرتے تھے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ بہت سے صوفیاء کا ہے جن کا بظاہر دعوی ہے کہ وہ حلول کے عقیدے کے قائل نہیں ہیں مگر وہ یہ سب معاملات اپنے پیرو مرشد کے ساتھ کرتے ہیں ۔ ان واقعات کے لیے کسی حوالے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا مشاہدہ پنجاب یا سندھ کے کسی بھی آستانے کے بزرگ کے ساتھ کیا جا سکتا ہے۔


    پابند شریعت صوفیاء کا نقطہ نظر:
    وحدت الوجود کے ضمن میں پابند شریعت صوفیاء کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس نظریے کو سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے۔ یہ حضرات وحدت الوجود اور توحید کے متضاد نظریات کو ہم آہنگ (Reconcile) کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اس معاملے میں ان کے ہاں دو نقطہ ہائے نظر پائے جاتے ہیں۔ ایک نقطہ نظر وحدت الوجود کی ایسی تشریح کا ہے جو خلاف شریعت نہ ہو اور دوسرا نقطہ نظر "وحدت الشہود" کے ماننے والوں کا ہے۔ پہلے نقطہ نظر کے تحت وجود باری تعالی کو حقیقی اور مخلوقات کے وجود کو مجازی مان لیا جاتا ہے۔

    اہل تصوف کا دوسرا گروہ "وحدت الشہود" کا قائل ہے۔ اسے وہ "وحدت الوجود" کا حقیقی مطلب قرار دیتے ہیں۔ ان کا موقف یہ ہے کہ وحدت الوجود کا مطلب یہ ہے کہ ایک سالک کو اللہ تعالی کی عظمت کے مشاہدے میں ایسا محو ہو جاتا ہے کہ پھر اسے کوئی مخلوق نظر ہی نہیں آتی۔ ایسے موقع پر اس کی زبان سے "لا موجود الا اللہ" قسم کے کلمات نکل جاتے ہیں۔ یہ نقطہ نظر شیخ احمد سرہندی (971-1034/1564-1624) نے پیش کیا اور اسے "وحدت الشہود" کا نام دیا۔ اس کے لیے وہ یہ مثال دیتے ہیں کہ جب سورج نکل آئے تو ستارے نظر نہیں آتے۔ بالکل اسی طرح سالک جب مشاہدہ الہی میں غرق ہو جاتا ہے تو پھر اسے مخلوق نظر نہیں آتی۔


    صوفیاء کے ایک گروہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حلول و اتحاد سے متعلق یہ عبارتیں صوفیاء کی کتب میں داخل کی گئی ہیں۔ شامی صوفی شیخ عبدالقادر عیسی (1919-1991) لکھتے ہیں:


    اس میں کوئی شک نہیں کہ [حلول و اتحاد] کا یہ نظریہ صریح کفر ہے اور امت کے عقائد کے خلاف ہے۔ صوفیاء جو اسلام، ایمان اور احسان کے حصول کے لیے سرگرداں تھے اس گمراہی و کفر میں پڑنے والے نہ تھے۔ کسی انصاف پسند صاحب ایمان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ وہ بغیر تحقیق و ثبوت کے اور ان کی بات کو سمجھے ان پر اس کفر کا الزام لگائے۔ [iv]



    عبداللہ انصاری الہروی (396-481/1006-1089)۔ منازل السائرين. قسم النهايات. باب التوحيد. ص135-136۔ ٍ بیروت: دار الکتب العلمیہ(1998)۔ www.al-mostafa.com (ac. 6 May 2011)


    [ii]ابن عربی(558-638/1164-1240)۔ (تحقیق: ابو العلاء عفیفی) فصوص الحكم۔ فص ادریسیہ۔ ص 79۔ بیروت: دار الکتاب العربی۔ www.islamic-sufism.com (ac. 13 Oct 2011)


    [iii]طارق عبدا لحلیم اور محمد العبدہ (ترجمہ: مدثر احمد لودھی)۔ صوفیت کی ابتدا و ارتقاء۔ ص 54۔ www.kitabosunnat.com (ac. 27 Apr 2011)


    [iv]عبدالقادر عیسی۔ حقائق عن التصوف۔ ص 497َ ۔ حلب: دار العرفان۔ www.daraleman.org (ac. 11 Mar 2006)

    مندرجہ بالا تحریر"اسلامک اسٹڈیز پروگرام"کے کورس "مذاہب عالم کا تقابلی مطالعہ"کے "ماڈیول 5 "کے باب نمبر 1اور4سے لی گئی ہے۔


     
    آخری تدوین: ‏نومبر 21, 2014

اس صفحے کی تشہیر