وجے کمار مسلمان ہو گیا

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
بہت شکریہ ۔۔۔ !



ابھی کچھ مہینے پہلے میرے ایک شناسا کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا، اُن کی بہن کا انتقال ہوگیا تھا اور چالیسویں کے انتظام کے لئے اُن کے پاس رقم موجود نہیں تھی۔ اُنہوں نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے دفتر سے بیس ہزار روپے قرض لے رہے ہیں تاکہ چالیسویں کا بندوبست کیا جا سکے۔میں نے اپنے طور پر اُنہیں سمجھانے کی کوشش کی، لیکن بات اُن کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ میں نے اُنہیں کہا کہ اگر تمھاری گنجائش نہیں ہے تو یہ کرنا ضروری نہیں ہے، جہاں تک ہو سکے اُن کے لئے دعا کرو، اور اگر پھر بھی ایسا کرنا تم ضروری سمجھتے ہو تو محدود پیمانے پر اتنا ہی کرو جتنا تم قرض لئے بغیر کر سکتے ہو۔ کچھ کچھ بات اُن کی سمجھ میں بھی آئی لیکن آخری دلیل اُن کے پاس یہی تھی کہ رشتہ دار باتیں سنائیں گے کہ تم اپنی بہن کے لئے اتنا بھی نہیں کرسکتے۔ سو اُنہوں نے دفتر سے اُدھار لے کر اس کام کو انجام دیا اور اب تک اپنی تنخواہ میں سے کٹوتی کروا رہے ہیں۔

میرا خیال یہی ہے کہ ان تمام باتوں کو اگر دین کا حصہ نہیں بنایا جاتا تو میرے یہ دوست اتنا پریشان نہ ہوتے اور نہ ہی اُنہیں تنگی میں گزارہ کرنا پڑتا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے آسانیاں چاہتا ہے، ہم خود معاملات کو اپنے لئے مشکل بنا لیں تو ہم دینِ اسلام کو الزام نہیں دے سکتے۔
۔
بالكل درست ، يہ بہت اہم نكتہ ہے كہ وہ چيزيں جو دين ميں فرض اور سنت بھی نہيں ان كے ليے اس قدر اہتمام كيا جائے اور اصل دينى فرائض کو پس پشت ڈال ديا جائے۔ اللہ تعالى كی فرض كردہ مالى عبادات مثلا زكاة ، حج وغيرہ ميں شرط مالى وسعت ہے اگر كوئى استطاعت نہيں ركھتا تو اسے يہ عبادت معاف ہے ۔ ليكن يہ معاشرہ اور برادرى آپ پر جو مسلط كر دے اس سے معافى ملنا مشكل ہے ، ہمارا معاشرہ نماز نہ پڑھنے والے ، روزہ نہ ركھنے والے كو اس طرح نكو نہيں بناتا (كہ يہ اللہ اور بندے كا معاملہ ہے) جس طرح جہيز ، برسی، چاليسواں تيسرا نہ كرنے والے كو بنايا جاتا ہے ، شايد اس ليے كہ اس سے اپنے مالى فوائد اور پيٹ پوجا جڑی ہے ۔آپ نے اس كے قرض پر مجبور ہونے كا ذکر كيا ، اكثريت كا يہی حال ہے نت نئى خودساختہ رسومات كے غير تعميرى اخراجات نے افراد كی ہی نہيں ملت كى معاشيات كى کمر توڑ دی ہے ليكن
قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن​
والا حال ہے
اگر ميت كى طرف سے صدقہ مقصد ہے تو خاندان كے سفيد پوشوں كى خاموشى سے مدد كر دى جائے ؟ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے زمانے كے جاہل عرب بھی ميت پر كئى كئى مہينے سوگ مناتے تھے ، پيشہ ور بين اور نوحہ كرنے والوں كو ہائر كر كے نوحہ كرايا جاتا ، ميت كے گھر كئى كئى دن تك لنگر چلتا جو جتنا امير ہوتا اس حساب سے يہ سب انتظامات كرواتا اور پھر اس كا تذکرہ برسوں فخر سے ہوتا ، آپ آج بھی اس دور كے مراثى ميں يہ باتيں دیکھ سكتے ہيں ، يہ اسلام تھا جس نے امير غريب سب كا سوگ تين دن تك محدود كيا اور طبيعت انسانى كے عين مطابق قرار ديا كہ ميت کے غم سے نڈھال گھر والوں كو عزيز و اقارب اور پڑوسی كھانا بھجوائيں كيونکہ وہ صدمہ كے باعث كھانے پينے كے اہتمام كے قابل نہيں ہوں گے۔ كتنا بڑا ظلم ہے كہ جن كا عزيز داغ مفارقت دے گيا وہ صدمے سے چور ہوں اور لوگوں کے ہجوم كو کھلائيں پلائيں ؟ كيا تاريخ اسلام اس كى بات كى گواہ نہيں کہ نبي كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اپنے انتہائى محبوب چچا حضرت حمزہ رضى اللہ عنہ كى اندوہ ناك شہادت پر كس شدت سے غم محسوس كيا تھا ليكن ان كے بعد كھانے پينے كے متعلق كيا حكم ديا تھا ؟ كيا ان كو سيد الشھداء حضرت حمزہ رضي اللہ عنہ عزيز نہيں تھے ؟ يا ہمارے عزيز ہميں زيادہ عزيز ہيں ۔ اگر ميت سے محبت كا پيمانہ دعا ئے مغفرت كى بجائے تاج محل بنوانا يا برسى منانا ہے تو كوئى فقير محبت كى جرات نہيں كر سكتا ۔ اور غريب انسان كى نہ دنيا ہوئى نہ آخرت ؟
 

شاکرالقادری

لائبریرین
ميرے خيال ميں يہاں كسى كو كافر نہيں کہا گيا يہ ويسى ہی تحرير ہے جيسے اقبال نے فرمايا :
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود
یہ مسلماں ہیں جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
يا
يوں تو سید بھی ہو ، مرزا بھی ، افغان بھی ہو.
تم سبھی کچھ ہو ، بتاؤ تو مسلمان بھی ہو
اب اگر كوئى كہے كہ اقبال نے مسلم ساز اور كافر ساز فيكٹری لگا ركھی تھی تو اس كى سمجھ دارى پر كيا تبصرہ كيا جائے ؟
بہن چونکہ آپ نے میرے الفاظ ﹶﹶ” مسلم ساز اور کافر ساز فیکٹری،، کو کوٹ کر کے براہِ راست میری سمجھ داری پر تبصرہ کیا ہے تو مجھے بھی حق دیجئے کہ میں اقبال کی کہی ہوئی بات اور ”افسانہ نگار،، کی کہی ہوئی بات کا فرق بتا دوں
افسانہ نگار کہتا ہے:
"ارے بے وقوف! وجے کمار مسلمان نہیں ہوا ۔ مسلمان ہندو ہوگئے ہیں"
مسلمان کا ہندو ہوجانا۔ ۔ ۔ بطور کل (یعنی تمام مسلمانوں کا۔۔ ہر لحاظ سے) ہندو ہو جانا

اور اقبال کہتے ہیں:
وضع میں تم ہو نصاریٰ، تو تمدن میں ہنود

وضع۔۔۔۔ یعنی ظاہری شکل وصورت میں تم نے عیسائیوں سے مشابہت اختیار کر لی ہے
اور تمدنی اعتبار سے تم ہندوں کے مشابہ ہو گئے ہو
اس میں کہیں بھی عقائد کے اعتبار سے تبدیلی مذہب کا ذکر نہیں
===============

اب ذرا اپنی سمجھ داری پر بھی کچھ تبصرہ فرمایئے
 

شاکرالقادری

لائبریرین
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ”دو اسلام،، مضامین سے اختلاف کے باوجود امت مسلمہ کے اتحاد کے سلسلہ میں درد مندی اور اخلاص کی حامل کتاب ہے
 
اللہ پر ایمان لانا اور اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ جاننا
اللہ کے تمام رسولوں پر ایمان لانا
اللہ کے فرشتوں پر ایمان لانا
اللہ کی طرف سے نازل کی گئی تمام کتابوں پر ایمان لانا
یوم آخرت÷ یوم حساب پر ایمان رکھنا
مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھا
اور خیر و شر کے اندازہ کا اللہ کی جانب سے ہونے پر ایمان رکھنا
یہی بنیادی شرائط ہیں جن کی بنا پر کسی کو مسلم یا غیر مسلم قرار دیا جا سکتا ہے اس کے علاوہ جو کچھ ہے وہ محض انتشار ہے مثال کے طور پر آپ نے چھوٹے چھوٹے پوسٹر دیکھے ہونگے
فلان کا منکر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر
فلاں کا منکر۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کافر
وغیرہ
درست فرمايا محترم۔ اللہ سبحانہ وتعالى ، اور خاتم النبيين حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور قرآن مجيد پر ايمان يل كا تقاضا يہ ہے كہ ان كے احكام بلاچون و چرا تسليم كيے جائيں
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّ۔هُ وَرَ‌سُولُهُ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّ۔هَ وَرَ‌سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦﴾
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا (36)
سورة الاحزاب :36
گمراہ مسلمان ہونا كوئى اچھی بات ہے ؟
قرآن كريم ميں ايمان كى ايك شرط دیکھیے :
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں (65)
سورة النساء 65
يہ ايمان كى شرط ہے ۔
وما علينا الا البلاغ
 

نایاب

لائبریرین
بہن چونکہ آپ نے میرے الفاظ ﹶﹶ” مسلم ساز اور کافر ساز فیکٹری،، کو کوٹ کر کے براہِ راست میری سمجھ داری پر تبصرہ کیا ہے تو مجھے بھی حق دیجئے کہ میں اقبال کی کہی ہوئی بات اور ”افسانہ نگار،، کی کہی ہوئی بات کا فرق بتا دوں
افسانہ نگار کہتا ہے:

مسلمان کا ہندو ہوجانا۔ ۔ ۔ بطور کل (یعنی تمام مسلمانوں کا۔۔ ہر لحاظ سے) ہندو ہو جانا

اور اقبال کہتے ہیں:


وضع۔۔۔ ۔ یعنی ظاہری شکل وصورت میں تم نے عیسائیوں سے مشابہت اختیار کر لی ہے
اور تمدنی اعتبار سے تم ہندوں کے مشابہ ہو گئے ہو
اس میں کہیں بھی عقائد کے اعتبار سے تبدیلی مذہب کا ذکر نہیں
===============

اب ذرا اپنی سمجھ داری پر بھی کچھ تبصرہ فرمایئے
محترم شاکر بھائی
سچی بات کہ افسانہ پڑھتے ہی جو تلخ کمنٹس کر کے دو دن پچھتاتا رہا ۔ وہ اسی تاثر کی پیداوار تھے ۔
کہ " کل " کا تاثر ابھرتا ہے ۔۔
 
اور پورا سال ۔ ۔ ۔ ظاہر ہے کہ۔ ۔ ۔ ۔ تیسرے۔ ۔ ۔ ساتویں۔ ۔ ۔ چالیسویں اور برسی۔ ۔ ۔ تمام کو محیط ہو تا ہے
اور یہ بھی کہ
پورے سال کا غم بھی ۔ ۔ ۔ سنت مطہرہ سے ثابت ہے
بات غم كى نہيں ہو رہی سوگ كى رسومات كى ہو رہی ہے كسى واقعے پر غم زدہ ہونا الگ بات ہے اور سوگ منانا برسى منانا تيسرا چاليسواں منانا الگ با ت ۔
كيا برسى ، تيسرا ، چاليسواں سنت مطہرہ سے ثابت ہے ؟
كيا عام الحزن ميں ان سب ہستيوں كى برسى منائى گئی ؟
ان كا تيسرا يا چاليسواں کيا گيا ؟
غم فطرى چيز ہے جس كى ممانعت نہيں ، انسان كسى واقعے پر بہت عرصہ غم گين رہ سكتا ہے ليكن سوگ كی حدود شريعت نے مقرر كر دى ہيں ۔
حضرت انس﷜ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابو سیف﷜ کے ہاں گئے ابراہیم﷜ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے، آپ نے انہیں گود میں لیا، فرطِ غم سے آپ کے آنسو بہنے لگے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے ابن عوف! یہ رحمت ہے، پھر آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غم زدہ ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیم! ہم تیرے فراق میں غمگین ہیں۔
صحیح البخاری، کتاب الجنائز، صحیح مسلم، کتاب الفضائل
آنکھ روتی ہے، دل غم زدہ ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیم! ہم تیرے فراق میں غمگین ہیں۔ صحیح البخاری
محترم

ايك نظر ہندو مت ميں ماتمى رسومات پر ضرور ڈال ليں ۔ ميت كے ليے چاول تل وغيرہ دينے كى كيا اہميت ہے ۔ پندا کیا ہے؟ اشوكا كيا ہے؟ مردے کے پہلے تين اور دس دنوں ميں (بقول ان كے) روح كی كيا كيا ضروريات ہيں وغيرہ وغيرہ ۔ آپ كو ہندو فرقوں ميں بالكل ايسى رسومات مليں گی۔
 
بہن چونکہ آپ نے میرے الفاظ ﹶﹶ” مسلم ساز اور کافر ساز فیکٹری،، کو کوٹ کر کے براہِ راست میری سمجھ داری پر تبصرہ کیا ہے تو مجھے بھی حق دیجئے کہ میں اقبال کی کہی ہوئی بات اور ”افسانہ نگار،، کی کہی ہوئی بات کا فرق بتا دوں
افسانہ نگار کہتا ہے:
مسلمان کا ہندو ہوجانا۔ ۔ ۔ بطور کل (یعنی تمام مسلمانوں کا۔۔ ہر لحاظ سے) ہندو ہو جانا
اور اقبال کہتے ہیں:
وضع۔۔۔ ۔ یعنی ظاہری شکل وصورت میں تم نے عیسائیوں سے مشابہت اختیار کر لی ہے
اور تمدنی اعتبار سے تم ہندوں کے مشابہ ہو گئے ہو
اس میں کہیں بھی عقائد کے اعتبار سے تبدیلی مذہب کا ذکر نہیں
===============
اب ذرا اپنی سمجھ داری پر بھی کچھ تبصرہ فرمایئے
اور اقبال کہتے ہیں:
بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے ؟ :)
 

شاکرالقادری

لائبریرین
بات غم كى نہيں ہو رہی سوگ كى رسومات كى ہو رہی ہے كسى واقعے پر غم زدہ ہونا الگ بات ہے اور سوگ منانا برسى منانا تيسرا چاليسواں منانا الگ بات ۔
كيا برسى ، تيسرا ، چاليسواں سنت مطہرہ سے ثابت ہے ؟
كيا عام الحزن ميں ان سب ہستيوں كى برسى منائى گئی ؟
ان كا تيسرا يا چاليسواں کيا گيا ؟
تیسرے ساتویں چالیسویں اور برسی میں کوئی ایک بات تو بتائیں جو از روئے شریعت مطہرہ حرام ہو
کچھ قرآن خوانی
کچھ کھانا تقسیم کرنا
وغیرہ وغیرہ
اس میں کونسی ہندوانہ رسم ہے
یا کونسے عقیدہ کی خرابی ہے جس کی بنا پر افسانہ نگار کو یہ کہنا پڑا کہ ” مسلمان ہندو ہو گئے ہیں”

غم فطرى چيز ہے جس كى ممانعت نہيں ، انسان كسى واقعے پر بہت عرصہ غم گين رہ سكتا ہے ليكن سوگ كی حدود شريعت نے مقرر كر دى ہيں ۔
حضرت انس﷜ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ابو سیف﷜ کے ہاں گئے ابراہیم﷜ زندگی کی آخری سانسیں لے رہے تھے، آپ نے انہیں گود میں لیا، فرطِ غم سے آپ کے آنسو بہنے لگے، حضرت عبد الرحمن بن عوف رضي الله عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! آپ رو رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اے ابن عوف! یہ رحمت ہے، پھر آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا: آنکھ روتی ہے، دل غم زدہ ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیم! ہم تیرے فراق میں غمگین ہیں۔
صحیح البخاری، کتاب الجنائز، صحیح مسلم، کتاب الفضائل
آنکھ روتی ہے، دل غم زدہ ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہو، اے ابراہیم! ہم تیرے فراق میں غمگین ہیں۔ صحیح البخاری

ہمارے ہاں بھی جب تعزیتی چٹائی بچھائی جاتی ہے (جس کو عرف عام میں ۔۔ پھوہڑی کہتے ہیں) ۔۔ تو تعزیت کے لیے آنے والا ہر شخص لواحقین اور پسماندنگان کے سامنے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کے بعد ان الفاظ میں تعزیت کرتا ہے

”حق کا راستہ ہے،،

اس کے جواب میں پسماندگان کہتے ہیں

”جی ! حق ہوا ہے،،

دیکھیے کتنے جامع الفاظ ہیں جو حدیث آپ نے نقل فرمائی ہے اس کی ترجمائی کس قدر خوبصورت انداز میں ہو رہی ہے


ايك نظر ہندو مت ميں ماتمى رسومات پر ضرور ڈال ليں ۔ ميت كے ليے چاول تل وغيرہ دينے كى كيا اہميت ہے ۔ پندا کیا ہے؟ اشوكا كيا ہے؟ مردے کے پہلے تين اور دس دنوں ميں (بقول ان كے) روح كی كيا كيا ضروريات ہيں وغيرہ وغيرہ ۔ آپ كو ہندو فرقوں ميں بالكل ايسى رسومات مليں گی۔
حیراں ہو دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
 

ساجد

محفلین
اب تو معاملہ بڑے لوگوں میں جا پہنچا ہے میری کیا اوقات کہ کسی سے اختلاف کروں بس ایک بات ہے جو فی البدیہہ زبان پر آ رہی ہے کہ جب ایمان کی اولین شرط اللہ کو اس کی ذات و صفات میں یکتا ماننا اور حضرت محمد علیہ صلوۃ والسلام کو آخری نبی ماننا ہے اور وجے کمار ان میں سے کسی چیز کا اقرار نہیں کرتا تو پھر محض تیسرے اور چالیسویں کے منانے پر محترم احمد بھائی نے وجے کمار کے مسلمان ہونے کا اعلان کیوں کر کر دیا؟۔ حالانکہ اگلے ہی سانس میں میرے پیارے بھائی انہی رسومات کو ہندو مت سے خاص کرتے ہوئے مسلمانوں کو کافر قرار دے رہے ہیں؟۔اسے شعوری کوشش کہئیے یا افسانہ نگاری کا اناڑی پن کہ مصنف کو کہانی کے پلاٹ پر عبور حاصل نہ تھا۔
جبکہ خالد صاحب کہہ بھی چکے تھے کہ "مسلمان ہندو ہو گئے ہیں" انہوں نے پھر بھی اپنے افسانے کا عنوان "وجے کمار مسلمان ہو گیا " کیوں رکھا؟۔
ایک آخری بات کہ افسانے کے بارے میں احمد بھائی خود کیا نظریات رکھتے ہیں اور وہ ان کی نظر میں اسلام سے کس قدر موافق ہیں اس کا بھی کچھ بیان ہو جائے تو ہماری موٹی عقل کچھ نہ کچھ سمجھ ہی لے گی۔
ویسے دوستوں کی دور بیں نگاہیں میرے الفاظ کے بعد ان خطوط پر بہت لمبا سفر طے کر چکی ہوں گی جو خیالات کی کجیوں سے شروع ہو کر الفاظ کی جادو گری تک کے مراحل کے محرم راز ہوتے ہیں۔;)
 

شاکرالقادری

لائبریرین
ساجد آپ نے خوب تجزیہ کر دیا ہے! یہ افسانہ نگار کا اناڑی پن ہے اور غیر محتاط رویہ بھی۔ ۔ ۔جس کی وجہ سے نہ صرف دل آزاری کا پہلو سامنے آیا بلکہ ایک لاحاصل بحث کو بھی ہوا بھی ملی۔ ۔ ۔ اور فرقہ وارانہ منافرت کو بھی اس سے کوئی افاقہ نہ ہوا۔
یار لوگوں نے اس قسم کے جاہلانہ اور ظریفانہ افسانے اور لطیفے بہت سے گھڑ رکھے ہیں
مثلا
گنڈا سنگھ ۔ ۔ ۔ دکاندار کی کسی وجہ سے پیربخش سے ان بن ہو گئی
تو پیر بخش نے گنڈا سنگھ کو کاروباری نقصان پہنچانے کے لیے گاؤں میں مشہور کرنا شروع کر دیا کہ:
بھائیو ۔ ۔ ۔ ۔! گنڈا سنگھ وہابی ہو گیا ہے:)
پھر کیا تھا
لوگوں نے وہابی ہونے کے جرم میں گنڈا سنگھ کی دکان سے خریدار بند کردی
ناچار گنڈا سنگھ کو
بذریعہ اعلان۔ ۔ ۔ ۔ تردید کرنا پڑی کہ وہ وہابی نہیں ہوا ہے
بلکہ بدستور۔ ۔ ۔ گنڈا سنگھ ہے:)
=================
اس دھاگے کا آغاز بھی اسی قسم کی ایک جاہلانہ بات سے ہوا اور پھر چل سو چل۔ ۔ ۔ ۔
اب اس دھاگے کو بند ہی کر دیجئے
ورنہ شاید اب کی بار
گنڈا سنگھ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کو بریلوی یا شیعہ ہونے کے جرم میں معاشی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑ جائے
 

عثمان

محفلین
انفرادی معاملات کو جب سماجی ٹھیکہ داری کے ضمن میں لیا جائے تو یہی کچھ سامنے آتا ہے جو اس دھاگے میں چل رہا ہے۔ :)
 

ساجد

محفلین
درست فرمايا محترم۔ اللہ سبحانہ وتعالى ، اور خاتم النبيين حضرت محمد صلى اللہ عليہ وسلم اور قرآن مجيد پر ايمان يل كا تقاضا يہ ہے كہ ان كے احكام بلاچون و چرا تسليم كيے جائيں
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّ۔هُ وَرَ‌سُولُهُ أَمْرً‌ا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَ‌ةُ مِنْ أَمْرِ‌هِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّ۔هَ وَرَ‌سُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦﴾
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ کے بعد اپنے کسی امر کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا، (یاد رکھو) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی جو بھی نافرمانی کرے گا وه صریح گمراہی میں پڑے گا (36)
سورة الاحزاب :36
گمراہ مسلمان ہونا كوئى اچھی بات ہے ؟
قرآن كريم ميں ايمان كى ايك شرط دیکھیے :
فَلَا وَرَ‌بِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ‌ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنفُسِهِمْ حَرَ‌جًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا ﴿٦٥
سو قسم ہے تیرے پروردگار کی! یہ مومن نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تمام آپس کے اختلاف میں آپ کو حاکم نہ مان لیں، پھر جو فیصلے آپ ان میں کر دیں ان سے اپنے دل میں اور کسی طرح کی تنگی اور ناخوشی نہ پائیں اور فرمانبرداری کے ساتھ قبول کر لیں (65)
سورة النساء 65
يہ ايمان كى شرط ہے ۔
وما علينا الا البلاغ
بہن ام نور العین ، قرآنی احکامات کی صداقت سے کس مسلمان کو مفر ہے اور کون ہے جو ان سے رو گردانی کرے؟۔آیات کے حوالے سے دیکھئیے کہ مسلمانوں کو بغیر کسی ثبوت کے کافر کہہ کر رسولِ خدا کے احکامات ( کسی مسلم کو کافر کہنے کی ممانعت) کی نا فرمانی کا شائبہ نہیں ہوتا؟۔
خالد صاحب نے مجھے عجیب سی نظر سے دیکھا اور کہا۔"ارے بے وقوف! وجے کمار مسلمان نہیں ہوا ۔ مسلمان ہندو ہوگئے ہیں" اُن کے لہجے کا غصّہ اب تاسُف کا روپ دھار چکا تھا اور اُن کی آنکھیں اپنے پیروں کے پاس فرش پرگڑھی ہوئی تھیں۔
 
حیرت ہے کہ قرانی خوانی اور لوگوں کو کھانا کھلانے پر اعتراض کیوں؟ آخر اس میں برائی ہی کیا ہے؟ ظاہر ہے کہ یہ اسلام کی بنیاد نہیں بلکہ ایک اچھا عمل ہی سمجھا جائے گا۔ جو لوگ اس کی مخالفت میں انتہا پر چلے جاتے ہیں مجھے ان کی عقل پر شک ہونے لگتا ہے
ویسے سعودی عرب میں مرگ پر سوگ منانا بہت سادہ اور اچھا لگا۔ اپنے مالک مکان کے فوت ہونے پر اس کے گھر جانے کا اتفاق ہوا۔ تین دن تک اسکے گھر شام کے وقت لوگ جمع ہوتے ہیں اور تعزیت کرتے ہیں ساتھ ہی ساتھ قران خوانی بھی ہوتی رہتی ہے۔ اور احباب کی تواضع چائے سے ہوتی ہے۔

مگر قرانی خوانی کی کثرت اور لوگوں کو کھانا کھلانے پر ہرج ہی کیا ہے۔ اگرچہ وہ قرض لے کر ہی کیا گیا ہو۔ ظاہر ہے اس قرانی خوانی کی کرنے اور کھانا کھلانے سے ثواب ہی ملے گا اور نہ کرنے سے مسلمانی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ اس کی مخالفت اتنی سخت کیوں؟ مسلمان تو اپنے مسلمانوں کے لیے نرم ہوتے ہیں۔

میرا خیال ہے کہ دونوں طرف کے لوگوں کو نرم رویہ رکھنا چاہیے۔ کئی مرتبہ میں نے واقعے سنیں ہیں کہ بڑے لوگوں نے قرض لے لے مانگنے والوں کی حاجت پوری کی ہے۔ حاجت پوری کرنے سے ثواب ہی ملے گا۔ قران پڑھنے سے ثواب ہی ملےگا۔
 
ہم نے اپنے پچھلے مراسلے میں بھی اس بات تا اظہار کیا تھا کہ بشمول صاحب تحریر، احباب کی آراء دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں باتیں کرنے والی اکثریت کو "ہندو" لفظ سے کراہئیت سی محسوس ہوتی ہے۔ ہندو کوئی مذہب نہیں بلکہ ایک جغرافیائی و معاشرتی نام ہے جو بر صغیر ہند کے لوگوں کے لئے بالعموم استعمال کیا جاتا ہے۔ ویویکانند اور کئی مسلم اسکالرز اس بات پر متفق ہیں کہ ہندوئزم کو مذہب کہنا ایک غلطی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے انگلستان کے لوگوں کو انگریز اور عرب ممالک کے لوگوں کو عربی کہا جاتا ہے یا پھر نیپال کے لوگ نیپالی کہلاتے ہیں۔ جس طرح ایک عربی شخص اپنی تمام تر علاقائی رسومات کے ساتھ مسلمان یا عیسائی ہو سکتا ہے ویسے ہی ایک ہندو یا اہل بر صغیر ہند اپنی تمام تر معاشرتی رسم و رواج کے ساتھ ساتھ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ مذہب، قومیت اور معاشرت کو ایک ساتھ ملا کر دیکھنے پر بات سمجھ میں آنے کے بجائے الجھ جائے گی۔ تحریر کی کا عنوان دیکھ کر اور پھر مضمون پڑھ کر ہمیں محض اتنا لگا کہ اس میں ایک معاشرتی رواج کو ایک مذہبی رواج سے باہم دگر ہوتے دکھایا گیا ہے۔ وجے کمار نام میں بھی کوئی قباحت نظر نہیں آتی حالانکہ بعض احباب نے اس سے بھی کراہئیت کا اظہار کیا ہے۔ وجے کا مطلب ہے فتح اور کمار لڑکے کو کہتے ہیں۔ یعنی اگر کسی مسلم کا نام وجے کمار ہو تو اس میں کوئی بھی قباحت نہیں۔ کئی مسلم ممالک میں عربی ناموں کے بجائے علاقائی زبان میں نام رکھنے کا رواج عام ہے۔ ظاہر ہے کہ دیگر احباب اپنے اپنے ماحول میں جس انداز میں پرورش پاتے ہیں ان کے خیالات و تاثرات اسی طرح مختلف ہو سکتے ہیں۔ اور ضروری نہیں کہ دیگر احباب کے تاثرات کا ہمارے تاثرات سے دور کا بھی علاقہ ہو۔ :)

اگر صاحب تحریر کی اس تحریر سے بعض احباب کو قلبی ٹھیس پہونچی ہے تو یہاں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اول تو یہ کہ ہمیں تحریریں لکھتے ہوئے مزید احتیاط کی ضرورت ہے اور دوم یہ کہ تحریریں پڑھتے ہوئے مزید وسعت نظری اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ :)

مزید برآں یہ کہ محفل اسٹاف میں سے کوئی بھی اپنی رائے یہاں شامل کریں تو اس کو ان کی ذاتی رائے تصور کیا جانا چاہئے تا آنکہ وہ انتطامی امور سے متعلق بات ہو۔ تمام ناظمین و مدیران محفل کے اسٹاف کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ عام محفلین بھی ہیں۔ اور ان کو اپنی رائے کے اظہار کا اتنا ہی حق حاصل ہے جتنا دیگر احباب کو۔ محفل کا اپنا کوئی مسلک نہیں! :)
 

محمد وارث

لائبریرین
بے اختیار قبلہ و کعبہ غالب دہلوی کا ایک شعر یاد آگیا :)

خوش بَوَد فارغ ز بندِ کفر و ایماں زیستن
حیف کافر مُردن و آوخ مسلماں زیستن

کفر اور ایمان کی الجھنوں سے آزاد زندگی بہت خوشی اور سکون سے گزرتی ہے، حیف کافر مرنے پر اور افسوس مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے پر۔
 

یوسف-2

محفلین
بے اختیار قبلہ و کعبہ غالب دہلوی کا ایک شعر یاد آگیا :)

خوش بَوَد فارغ ز بندِ کفر و ایماں زیستن
حیف کافر مُردن و آوخ مسلماں زیستن

کفر اور ایمان کی الجھنوں سے آزاد زندگی بہت خوشی اور سکون سے گزرتی ہے، حیف کافر مرنے پر اور افسوس مسلمان کی سی زندگی بسر کرنے پر۔
:eek::eek::eek:
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
تیسرے ساتویں چالیسویں اور برسی میں کوئی ایک بات تو بتائیں جو از روئے شریعت مطہرہ حرام ہو
کچھ قرآن خوانی
کچھ کھانا تقسیم کرنا
وغیرہ وغیرہ
اس میں کونسی ہندوانہ رسم ہے
یا کونسے عقیدہ کی خرابی ہے جس کی بنا پر افسانہ نگار کو یہ کہنا پڑا کہ ” مسلمان ہندو ہو گئے ہیں”



ہمارے ہاں بھی جب تعزیتی چٹائی بچھائی جاتی ہے (جس کو عرف عام میں ۔۔ پھوہڑی کہتے ہیں) ۔۔ تو تعزیت کے لیے آنے والا ہر شخص لواحقین اور پسماندنگان کے سامنے مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کے بعد ان الفاظ میں تعزیت کرتا ہے

”حق کا راستہ ہے،،

اس کے جواب میں پسماندگان کہتے ہیں

”جی ! حق ہوا ہے،،

دیکھیے کتنے جامع الفاظ ہیں جو حدیث آپ نے نقل فرمائی ہے اس کی ترجمائی کس قدر خوبصورت انداز میں ہو رہی ہے



حیراں ہو دل کو روؤں کہ پیٹوں جگر کو میں
السلام علیکم شاکر صاحب ہندوانہ رسم سے ایک بات یاد آ گئی۔ ایک دفعہ بحث ہو رہی تھی کسی سے اس نے کہا تم لوگ جب بہن یا بیٹی کی شادی کرتے ہو۔ تو رخصتی کے وقت اس کے سر کے اوپر قران رکھتے ہو یہ ہندوانہ رسم ہے۔:D کچھ سمجھ آئی یعنی ہندو بھی اپنی بہن بیٹیوں کے سر پر قران رکھا کرتے تھے
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top