واہ کینٹ میں خود کش حملہ

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

مہوش علی

لائبریرین
معاف کیجیے گا لیکن اب میرا اعتبار ایسی ویڈیوز پر سے اٹھ چکا ہے۔ براہِ مہربانی کوئی ایسا ثبوت فراہم کریں کہ جس پر میں یقین کر سکوں۔

طالبان و القاعدہ کے واضح طور پر دو گروہ ہیں:

1۔ ایک اصل طالبان [افغانی و پاکستانی] اور القاعدہ:
یہ اصل لڑنے والے، خود کش حملے کرنے والے جو ہیں ۔۔۔۔۔ یہ اب کھل کر گیارہ ستمبر کے واقعات سے لیکر خود کش بم حملوں میں قتل عام اور لوگوں کو ذبح کرنے تک سب کا دعوی سینہ تان کر کرتے ہیں۔

2۔ دوسرا حامد میر جیسے طالبان حامیان کا طبقہ:
دونوں طبقات میں کچھ فرق نہیں اور دونوں ہی طالبانی نظریات کے ماننے والے ہیں۔ لیکن انکا کام و فریضہ یہ ہے کہ قوم کو اذہان میں طالبان کے اس قتل و غارت گری اور خود کش حملوں کے متعلق ہر طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں تاکہ قوم ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے اور اس انتہا پسندی کے خلاف کوئی بھی موثر قدم اٹھانے سے قاصر ہو کر رہ جائے۔
پروپیگنڈہ کے میدان میں حامد میر جیسے لوگ اس طبقے کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں اور "مولوی عمر" تو پاکستانی اخبارات و چینلز و صحافیوں کو سینہ ٹھونک کر خود کش حملوں کو قبول کرتا ہے، مگر حامد میر اپنے کالموں میں اپنے ٹالک شوز میں، اپنی رپورٹوں میں قوم کو گمراہ کرتا ہے کہ یہ دہشت گردی ہمارے اپنے اندر موجود نہیں بلکہ یہ صرف انڈیا کی "را" کی طرف سے خود کش حملے ہو رہے ہیں، چنانچہ مولوی عمر کے اقبالیہ بیانات و انٹرویوز کی کوئی اہمیت نہیں اور طالبان ان خود کش حملوں میں بہنے والے لہو سے بالکل پاک صاف و منزہ ہیں۔

افسوس کہ پاکستانی میڈیا میں بھی یہ دوسرا طالبانی طبقہ بہت چھایا ہوا ہے [خصوصا اردو اخبارات میں] اور پاکستان کو اصل طالبان سے کہیں زیادہ نقصان یہ دوسرا طالبانی طبقہ اپنے پروپیگنڈا سے پھیلا رہا ہے۔
 

خاور بلال

محفلین
طالبان و القاعدہ کے واضح طور پر دو گروہ ہیں:

1۔ ایک اصل طالبان [افغانی و پاکستانی] اور القاعدہ:
یہ اصل لڑنے والے، خود کش حملے کرنے والے جو ہیں ۔۔۔۔۔ یہ اب کھل کر گیارہ ستمبر کے واقعات سے لیکر خود کش بم حملوں میں قتل عام اور لوگوں کو ذبح کرنے تک سب کا دعوی سینہ تان کر کرتے ہیں۔

2۔ دوسرا حامد میر جیسے طالبان حامیان کا طبقہ:
دونوں طبقات میں کچھ فرق نہیں اور دونوں ہی طالبانی نظریات کے ماننے والے ہیں۔ لیکن انکا کام و فریضہ یہ ہے کہ قوم کو اذہان میں طالبان کے اس قتل و غارت گری اور خود کش حملوں کے متعلق ہر طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں تاکہ قوم ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے اور اس انتہا پسندی کے خلاف کوئی بھی موثر قدم اٹھانے سے قاصر ہو کر رہ جائے۔
پروپیگنڈہ کے میدان میں حامد میر جیسے لوگ اس طبقے کا سب سے بڑا سرمایہ ہیں اور "مولوی عمر" تو پاکستانی اخبارات و چینلز و صحافیوں کو سینہ ٹھونک کر خود کش حملوں کو قبول کرتا ہے، مگر حامد میر اپنے کالموں میں اپنے ٹالک شوز میں، اپنی رپورٹوں میں قوم کو گمراہ کرتا ہے کہ یہ دہشت گردی ہمارے اپنے اندر موجود نہیں بلکہ یہ صرف انڈیا کی "را" کی طرف سے خود کش حملے ہو رہے ہیں، چنانچہ مولوی عمر کے اقبالیہ بیانات و انٹرویوز کی کوئی اہمیت نہیں اور طالبان ان خود کش حملوں میں بہنے والے لہو سے بالکل پاک صاف و منزہ ہیں۔

افسوس کہ پاکستانی میڈیا میں بھی یہ دوسرا طالبانی طبقہ بہت چھایا ہوا ہے [خصوصا اردو اخبارات میں] اور پاکستان کو اصل طالبان سے کہیں زیادہ نقصان یہ دوسرا طالبانی طبقہ اپنے پروپیگنڈا سے پھیلا رہا ہے۔

ممکن ہے حامد میر کا تجزیہ غلط ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں وہ امریکا کا اس طرح حامی نہ ہو جیسا آپ چاہتی ہیں اور طالبان یا قبائلیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو۔ لیکن آپ کو تو ہر اس رائے کو ٹھکرانے اور جھوٹ قرار دینے کی لت ہے جو آپ کی منطق سے ٹکراتی ہو۔ صرف ایک مثال یہ ہے کہ بارہ مئ کو ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا محض ایک نمونہ جو میڈیا نے رپورٹ کیا اسے آپ نے “ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا کی سازش“ قرار دیکر ایک شانِ بے نیازی سے ٹھکرا دیا۔ اور آج آپ یہی کررہی ہیں کہ حامد میر کے ایک تجزیے کو نشانہ بنا کر سارے میڈیا کو جھوٹا قرار دے رہی ہیں۔ آپ یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ یہ سب لوگ طالبان کے حامی نہیں بلکہ اس جنگ کے خلاف ہیں جسی کی وجہ سے طالبان پیدا ہوتے ہیں اور اسی جنگ میں جھلس جھلس کر آج پاکستان کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ قبائلی جو پاکستان کی محبت میں جان بھی لٹاتے تھے آج پاکستان سے نفرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
 

ساجداقبال

محفلین
2۔ دوسرا حامد میر جیسے طالبان حامیان کا طبقہ:
دونوں طبقات میں کچھ فرق نہیں اور دونوں ہی طالبانی نظریات کے ماننے والے ہیں۔ لیکن انکا کام و فریضہ یہ ہے کہ قوم کو اذہان میں طالبان کے اس قتل و غارت گری اور خود کش حملوں کے متعلق ہر طرح کے شکوک و شبہات پیدا کیے جائیں تاکہ قوم ذہنی طور پر مفلوج ہو کر رہ جائے اور اس انتہا پسندی کے خلاف کوئی بھی موثر قدم اٹھانے سے قاصر ہو کر رہ جائے۔
حامد میر ممکن ہے طالبان کا حامی ہو یا زرد صحافت کا علمبردار یا لفافوں کی سیاست کا داعی مگر ایک کریڈٹ میں اسے ضرور دونگا کہ اسنے کسی بھی صحافی سے زیادہ بڑھ کے دو طرفہ مؤقف کو پیش کرنے کی صحافتی ذمہ داری ادا کی ہے(اس بات پر آپکا بڑا زور رہتا ہے)۔ یہ حامد میر ہی ہے جس نے پرویز مشرف سے لیکر اسامہ بن لادن تک سب کا مؤقف آپکے سامنے پیش کیا، باقی را وغیرہ کی کہانیاں اسکی اپنی سوچ ہے، جس سے کسی کا متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔ حامد میر ایک اصطلاح استعمال کرتا ہے ”لبرل فاشسٹ“، کبھی اس پر بھی غور کیجیے گا۔ جس ڈان وغیرہ کے صحافیوں کی آپ اقتباسات نقل کرتی ہیں ان میں سے میرا نہیں خیال کوئی قبائلی علاقے گیا بھی ہے، مجھے تو یہ بھی یقین نہیں کہ جو صحافی مدارس کیخلاف قصیدہ گو ہوتے ہیں، کبھی مدرسہ اندر سے بھی دیکھا ہو۔
 

مہوش علی

لائبریرین
ممکن ہے حامد میر کا تجزیہ غلط ہو، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دہشت گردی کی نام نہاد جنگ میں وہ امریکا کا اس طرح حامی نہ ہو جیسا آپ چاہتی ہیں اور طالبان یا قبائلیوں کے لیے نرم گوشہ رکھتا ہو۔ لیکن آپ کو تو ہر اس رائے کو ٹھکرانے اور جھوٹ قرار دینے کی لت ہے جو آپ کی منطق سے ٹکراتی ہو۔

دو چیزیں ہیں جن میں گنجائشیں نکلتی ہیں۔
1۔ پہلی یہ کہ آراء میں اختلافات کی گنجائش ہے
2۔ اور دوسرا یہ کہ کسی بھی کام کرنے [تجزیے سے لیکر کسی بھی فیصلہ کرنے تک] میں "غلطی" کی گنجائش ہوتی ہے۔

مگر جو چیز ناقابل دفاع اور ناقابل معافی ہے، وہ ہے:
1۔ حقائق بالکل صاف سامنے ہوتے ہوئے بھی انکو جھٹلانا/نظر انداز کرنا یا پھر چھپانا۔
2۔ بلکہ جھٹلانے/نظر انداز کرنے اور چھپانے تک ہی اکتفا نہ کرنا بلکہ سازشی تھیوریوں کی مدد سے حقائق کو مسخ کر کے ظلم کی مدد و حمایت کرنا۔اور حامد میر جیسے لوگ اس درجے کے مجرم ہیں۔

صرف ایک مثال یہ ہے کہ بارہ مئ کو ایم کیو ایم کی دہشت گردی کا محض ایک نمونہ جو میڈیا نے رپورٹ کیا اسے آپ نے “ایم کیو ایم کے خلاف میڈیا کی سازش“ قرار دیکر ایک شانِ بے نیازی سے ٹھکرا دیا۔
بارہ مئی کے متعلق میڈیا [بشمول آپ جیسے حضرات کے] اتنا عظیم پروپیگنڈہ تھا کہ مجھے اسکے خلاف اپنی آواز اٹھا کر انصاف کرنا پڑا اور اسکے متعلق میں تفصیل سے متعلقہ تھریڈز میں لکھ چکی ہوں۔
اس لیے یہاں میں تفصیل میں نہیں جانا چاہتی اور مختصر صرف اتنا ہی کہ میں نے ایم کیو ایم کے اسلحے اور غلط کاموں کا کبھی دفاع نہیں کیا، مگر میڈیا کے اس منافقانہ رویے پر اعتراض کیا تھا کہ وہ صرف ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ دکھا رہا ہے اور اسے واحد مسلح تنظیم ثابت کر رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی، پنجابی پختون اتحاد، اے این پی، سہراب گوٹھ وغیرہ میں جو اسلحے کے انبار تھے اور وہ لوگ جو یہ اسلحہ لیے گھوم رہے تھے وہ متحدہ کی دشمنی میں ہمارے منافق میڈیا نے ایک دفعہ بھی نہیں دکھائے۔

اور اگر آپ کو بارہ مئی پر مزید گفتگو کرنی ہے اور ثابت کرنا ہے کہ میڈیا منافق نہ تھا تو اسکے لیے دوسرے نئے تھریڈ کا رخ کیجئے۔

ڈبل سٹینڈرڈز کی مثال

اور متحدہ تو چیخ چیخ کر کہتی ہے کہ وہ بارہ مئی کے واقعات میں کسی سازش میں ملوث نہیں، اور یہ کہ اسکے اپنے ہمدرد اس میں مارے گئے ہیں، اور وہ اس قتل و خون کی مذمت کرتی ہے، اور اسے پتا نہیں کن شر پسندوں نے پہلے انکی [متحدہ کی ریلی پر] اور پھر چند منٹ بعد چیف جسٹس کی ریلی پر فائرنگ کی۔۔۔۔۔۔
مگر آپ لوگوں کو متحدہ کی ایک صفائی بھی قبول نہیں.

مگر پھر یہ حامد میر اور آپ جیسے حضرات ہیں کہ جب افغانستان کی طالبان، القاعدہ کا الظہواری، پاکستانی طالبان کا ملا عمر اور محسود اور لال مسجد کے ملا کھل کر حکومت کو خود کش حملوں کی دھمکیاں دیتے تھے اور کھل کر اور سینہ ٹھونک کر اعترافات کرتے ہیں کہ ان خود کش حملوں اور معصوم لوگوں کو ذبح کرنے والے وہ ہیں اور حکومت اگر اب بھی انکے ہاتھوں یرغمال بننے کے لیے تیار نہیں تو وہ اور خون خرابہ کریں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو یہ حامد میر اور آپ جیسے حضرات ہیں تو اتنے واضح حقائق کے باوجود اس مرتبہ طالبان و القاعدہ کو ہر قسم کے جرم سے زمزم کا دھلا ہوا ثابت کر رہے ہیں اور پروپیگنڈہ کے ذریعے سارے الزامات طالبان سے اٹھا کر انڈین را وغیرہ پر ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ظلم کو یوں پروپیگنڈہ کے زور پر چھپا جانے کو قبائل دوستی اور ہمدردی کے نام سے منسوب کر رہے ہیں۔
//////////////////////////////////
اور آج آپ یہی کررہی ہیں کہ حامد میر کے ایک تجزیے کو نشانہ بنا کر سارے میڈیا کو جھوٹا قرار دے رہی ہیں۔ آپ یہ کیوں نہیں سمجھتیں کہ یہ سب لوگ طالبان کے حامی نہیں بلکہ اس جنگ کے خلاف ہیں جسی کی وجہ سے طالبان پیدا ہوتے ہیں اور اسی جنگ میں جھلس جھلس کر آج پاکستان کا یہ حال ہوگیا ہے کہ وہ قبائلی جو پاکستان کی محبت میں جان بھی لٹاتے تھے آج پاکستان سے نفرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
فاٹا میں بہنے والا خون انسانی خون ہے اور ہر کوئی اس کے خلاف اور اس پر افسردہ ہے۔
مگر پہلی چیز تو یہ کہ اس قتل و غارت میں قبائلی ملوث نہیں بلکہ طالبان ملوث ہیں۔
اور دوسرا یہ کہ اگر یہ طالبان ماضی میں پاکستان سے ہمدردی رکھتے بھی آئے ہیں تب بھی انہیں اس بات کی اجازت نہیں وہ دہشت گرد کاروائیوں میں لوگوں کو ذبح کرتے پھریں۔

اور یہ یاد رکھئیے کہ جب اپنے بھی ظلم کرنے پر آ جائیں اور فتنہ بن جائیں تو معصوم جانوں کے نام پر اپنوں سے بھی انصاف کرنا پڑتا ہے اور اپنوں سے بھی جنگ لڑنی پڑتی ہے [بجائے پروپیگنڈہ کے زور پر ظلم کو چھپا جانے کے]
کیا تاریخ سے کبھی آپ سبق نہیں سیکھتے؟ کاش کہ تاریخ کو طاق میں رکھ دینے کی بجائے ہم اس سے عبرت حاصل کرتے۔
 

مہوش علی

لائبریرین
حامد میر ممکن ہے طالبان کا حامی ہو یا زرد صحافت کا علمبردار یا لفافوں کی سیاست کا داعی مگر ایک کریڈٹ میں اسے ضرور دونگا کہ اسنے کسی بھی صحافی سے زیادہ بڑھ کے دو طرفہ مؤقف کو پیش کرنے کی صحافتی ذمہ داری ادا کی ہے(اس بات پر آپکا بڑا زور رہتا ہے)۔ یہ حامد میر ہی ہے جس نے پرویز مشرف سے لیکر اسامہ بن لادن تک سب کا مؤقف آپکے سامنے پیش کیا، باقی را وغیرہ کی کہانیاں اسکی اپنی سوچ ہے، جس سے کسی کا متفق ہونا قطعی ضروری نہیں۔ حامد میر ایک اصطلاح استعمال کرتا ہے ”لبرل فاشسٹ“، کبھی اس پر بھی غور کیجیے گا۔ جس ڈان وغیرہ کے صحافیوں کی آپ اقتباسات نقل کرتی ہیں ان میں سے میرا نہیں خیال کوئی قبائلی علاقے گیا بھی ہے، مجھے تو یہ بھی یقین نہیں کہ جو صحافی مدارس کیخلاف قصیدہ گو ہوتے ہیں، کبھی مدرسہ اندر سے بھی دیکھا ہو۔

بھائی جی، حامد میر کی کم از کم "تحریروں" میں تو اسنے کبھی صدر مشرف صاحب کا موقف پیش نہیں کیا۔ اور ٹی وی پروگرام کے میزبان کے طور پر اگر اسے دونوں پارٹیاں سامنے لانی پڑیں تو یہ اور بات ہے۔
اور آپ کو اصل حامد میر دیکھنا اور سمجھنا ہے تو اسکی تحریریں پڑھیں۔
حامد میر کے منہ سے ایک لفظ بھی مشرف صاحب کے حق میں نہیں نکل سکتا۔ ایک ٹالک شو میں ایک دفعہ حامد میر نے ایسے ہی موڈ میں آ کر شیخ رشید کی تعریف کر دی کہ جب وہ انفارمیشن منسٹر تھے تو اُس وقت میڈیا کو بہت آسانیاں اور آزادیاں دی گئیں۔ اس پر شیخ رشید نے کہا کہ آپ میری تعریف کر رہے ہیں لیکن مشرف صاحب پر تنقید کرتے ہیں کہ انہوں نے میڈیا کو آزادی نہیں دی بلکہ میڈیا نے خود اپنی یہ آزادی چھینی ہے.۔ جبکہ میرے بطور انفارمیشن منسٹر جو آزادیاں میڈیا کو نصیب ہوئیں انکا اصل کریڈٹ صدر مشرف کو جاتا ہے۔
 

خاور بلال

محفلین
بقولے مہوش، طالبان کا بیج امریکہ نے بویا تھا اور اس فصل کو اگانے، پال پوس کر بڑا کرنے میں پاکستان نے پوری مدد کی تھی۔

اگر ان کی بات کچھ دیر کے لیے مان لی جائے تو اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ طالبان سے بڑے مجرم تو وہ ہیں جنہوں نے طالبان کا بیج بویا۔ یعنی ہمیں طالبان سے پہلے امریکہ اور آئ ایس آئ کا گریبان پکڑنا چاہیے تھا۔ ہمیں اس کی خبر لینی چاہیے تھی جس نے یہ کھیتی اگائ ہے۔ لیکن کیونکہ ہمیں تو خون پسند ہے۔ آئے روز کے دھماکوں، سلگتے جسموں اور انسانی راکھ دیکھے بغیر تو ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا اسی لیے ہم نے پاکستان کو ایک ایسی مہم میں جھونک دیا جس میں خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد بھی اصل مجرم پر آنچ نہیں آئیگی۔ کل آپ نے امریکی ڈکٹیشن پر قبائلیوں کو نسل برد کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، آج وہی قبائلی اس کا اندھا انتقام لینے آپہنچے ہیں اور پاکستان اپنے ہی خون میں لت پت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر آج طالبان اور ان کے حامیوں کو دریا برد کردیا جائے تو کل کو پھر امریکہ اور اس کے پاکستانی ہرکارے مل کر ایک نیا بیج نہیں بوئیں گے؟ آج آپ طالبان کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پورے پاکستان کو ہی آگ کیوں نہ لگادیں لیکن ان کا اصل محرک امریکہ کا کیا بگڑے گا؟ لیکن یہ سوچے گا کون؟ ہم؟ ہمیں تو نفرت کرنے سے ہی فرصت نہیں۔ ہمارے لیے تو آگ اور خون کا کھیل پتلی تماشا ہے اور ہم اسے ساری زندگی دیکھنا چاہتے ہیں۔ مہوش جیسے لاکھوں کردار ہیں جن کی اس نفرت بھری سوچ نے آج پاکستان کو اس حال پر پہنچایا ہے۔ ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ اس خرابے کی اصل جڑ امریکہ پر صرف انگلی ہی اٹھا سکیں۔ یہ خدا سے نہیں پتھر کے دور سے ڈرتے ہیں۔ یہ وہ ڈریکولا ہیں جو خود تو خون پینے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے لیکن امریکہ کی خونی پیاس بجھانے کے لیے فضا ہموار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کو ٹوکو تو یہ امریکی ٹیکنالوجی کا حوالہ دیتے ہیں ان کی سوچ کی پرواز ٹیکنالوجی سے آگے نہیں جاتی ان کی گفتگو کے تناظر میں کہیں خدا نہیں، کہیں ان دیکھی طاقت کا بھروسہ نہیں۔ یہ ظاہر پر بھروسہ کرتے ہیں ان کو جو نظر آتا ہے اسی کی مالا جپتے ہیں۔ یہ ہر طاقت ور کی چوکھٹ پر گرنے کو کامیابی سمجھتے ہیں۔ بظاہر انہیں کربلا سے نسبت ہے لیکن حقیقت میں سر اٹھا کر جینے کی لذت سے محروم ہیں۔ یہ اصل مجرم کو تو دندناتا ہوا چھوڑ دینا چاہتے ہیں لیکن چھوٹے مجرم کو ختم کرنا ضروری چاہے اس کے نتیجے میں سارا پاکستان ہی کیوں نہ آگ اور خون میں نہاجائے۔ یہ نفرتی خود تو پاکستان میں رہتے نہیں اسی لیے چاہتے ہیں کہ پاکستان ساری زندگی یہ عذاب جھیلتا رہے۔ اب تو پاکستان کی حالت دیکھی نہیں جاتی۔ کبھی تنہائ میں پاکستان کا خیال آجائے تو ایک اذیت ہوتی ہے، دل گھٹ کے رہ جاتا ہے۔ ابھی چند دن پہلے ہی اس وقت رونا آگیا جب میرے باس نے چودہ اگست کو مجھے پاکستان کی آزادی کی مبارکباد دی۔ دل چاہا کہ سب کچھ الٹ دوں۔

اور مہوش ایم کیو ایم کے حوالے سے تو بات ہی کیا کروں۔ ایک طرف آپ سید مودودی پر یہ الزام دھرتی ہیں کہ آپ کی شخصیت پر ان کی فکر کا کچھ نہ کچھ اثر ہے دوسری جانب الطاف حسین جیسے قاتلوں کے جرم پر پردہ ڈالتی ہیں۔ کہاں تو یہ بلندی اور کہاں یہ پستی۔ خدا کی پناہ۔ مجھے تو اسے ڈبل اسٹینڈرڈ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ ڈبل اسٹینڈرڈ بھی اتنا ڈبل نہیں ہوتا۔
 

مہوش علی

لائبریرین
بقولے مہوش، طالبان کا بیج امریکہ نے بویا تھا اور اس فصل کو اگانے، پال پوس کر بڑا کرنے میں پاکستان نے پوری مدد کی تھی۔اگر ان کی بات کچھ دیر کے لیے مان لی جائے تو ۔۔۔۔۔
یہی تو مسئلہ ہے کہ آپ ماضی میں بھی ہمیشہ اس حقیقت سے نظریں چرائے ہوئے تھے اور آج بھی دل سے ماننے کے لیے تیار نہیں۔ کاش کہ بزور پروپیگنڈہ حقائق چھپانے اور نظر انداز کرنے کی بجائے ان کو روشنی میں لانے کی روش آپ نے اپنائی ہوتی تو بہت سے معصوم لوگ طالبان کا آلہ کار بننے سے بچ گئے ہوتے اور خود کو اس امریکی سازش سے دور رکھتے۔

۔۔۔۔اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ طالبان سے بڑے مجرم تو وہ ہیں جنہوں نے طالبان کا بیج بویا۔ یعنی ہمیں طالبان سے پہلے امریکہ اور آئ ایس آئ کا گریبان پکڑنا چاہیے تھا۔ ہمیں اس کی خبر لینی چاہیے تھی جس نے یہ کھیتی اگائ ہے۔
تو یہ خبر آپ کیسے لیں گے؟ آپ کا رویہ تو ایسا ہے کہ طالبان کو ہیرو بنانے کے لیے ان حقائق کو ہمیشہ سے تاریک پردوں میں لپیٹتے آئے ہیں اور کبھی عوام الناس کو مطلع نہ کیا کہ امریکہ اپنے کن مقاصد کے لیے طالبان کے ذریعے افغانستان میں اپنے ہی لاکھوں دیگر مسلمانوں کا خون بہانے کے بعد حکومت میں لا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔
//////////////////////////////////////////
قاتل کا عذر قبول نہیں کہ اسے کسی اور نے بہکا دیا تھا
۔۔۔لیکن کیونکہ ہمیں تو خون پسند ہے۔ آئے روز کے دھماکوں، سلگتے جسموں اور انسانی راکھ دیکھے بغیر تو ہمارا کھانا ہضم نہیں ہوتا اسی لیے ہم نے پاکستان کو ایک ایسی مہم میں جھونک دیا جس میں خون کی ندیاں بہہ جانے کے بعد بھی اصل مجرم پر آنچ نہیں آئیگی۔
بھائی جی، جب آپ تحریریں لکھتے ہیں تو اپنی آنکھوں پر کتنے پردے ڈال کر لکھتے ہیں؟
یہ خون، یہ دھماکے، یہ سلگتے جسم، یہ ذبح کیے ہوئے بے جان لاشے، یہ سربریدہ لاشوں کے کٹے ہوئے ہاتھ پاوں، یہ انسانوں کو آگ میں زندہ جلا دینا اور انسانی راکھ کو دیکھے بغیر کھانا ہضم نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔ یہ تو سب اُس طالبانی فتنے کی خصلتیں ہیں کہ جس کو امریکہ نے جنم ہی اس لیے دیا تھا اور آج جن کی ان وحشتناک درندگیوں کا آپ دفاع کر رہے ہیں۔

آپکا عذر وہی ہے کہ ایک وحشی قاتل درندے کو معصوم فرشتہ ثابت کرنے کے لیے آپ بہانہ کر رہے ہیں کہ اسے کسی اور نے ورغلا دیا تھا۔ حالانکہ قاتل کو کسی نے بھی ورغلایا ہو، مگر قتل کی سزا میں اسکو جوابا قتل کرنا ہی ہے۔ ورنہ روز قیامت ہر قاتل یہ کہہ کر جان بچا لے گا کہ یہ تو ابلیس شیطان تھا کہ جسکے ورغلانے پر اُس نے قتل کیا تھا۔
//////////////////////////////////////////////

اور مذہب کے ان ٹھیکے داروں کا فتوی کہ ہمیں خوف خدا ہی نہیں

مہوش جیسے لاکھوں کردار ہیں جن کی اس نفرت بھری سوچ نے آج پاکستان کو اس حال پر پہنچایا ہے۔ ان میں اتنی ہمت بھی نہیں کہ اس خرابے کی اصل جڑ امریکہ پر صرف انگلی ہی اٹھا سکیں۔ یہ خدا سے نہیں پتھر کے دور سے ڈرتے ہیں۔ یہ وہ ڈریکولا ہیں جو خود تو خون پینے کی اہلیت بھی نہیں رکھتے لیکن امریکہ کی خونی پیاس بجھانے کے لیے فضا ہموار کرنے میں لگے رہتے ہیں۔ ان کو ٹوکو تو یہ امریکی ٹیکنالوجی کا حوالہ دیتے ہیں ان کی سوچ کی پرواز ٹیکنالوجی سے آگے نہیں جاتی ان کی گفتگو کے تناظر میں کہیں خدا نہیں، کہیں ان دیکھی طاقت کا بھروسہ نہیں۔ یہ ظاہر پر بھروسہ کرتے ہیں ان کو جو نظر آتا ہے اسی کی مالا جپتے ہیں۔ یہ ہر طاقت ور کی چوکھٹ پر گرنے کو کامیابی سمجھتے ہیں۔
جہاد بالمقابل صبر
دین کے ٹھیکے داروں کی طرف سے الزام ہے کہ ہمیں خوف خدا نہیں، بلکہ صرف خوف امریکہ ہے۔
جبکہ ہم انہیں مسلسل بتا رہے ہیں کہ اسلام کے درس کے مطابق ہمیں اس وقت وہ کام کرنا ہے کہ جس سے اسلام کی سب سے زیادہ بہتری ہو۔ اور آجکل کے حالات کے مطابق اسلام کی سب سے زیادہ بہتری یہ ہے کہ جہاد کے نام پر سیدھی تلوار لیکر چڑھ جانے کی بجائے پہلے اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مضبوط بنایا جائے، اور اسی دوران عوام میں صبر کے ساتھ حق بات کا شعور اجاگر کیا جائے۔
چنانچہ آج جب ہم چند مظالم پر آجکل کے حالات کے مطابق اللہ کے واسطے "صبر" کرتے ہیں، اور جہاد بالسیف کی بجائے جہاد بالشعور کرنے کو افضلیت دیتے ہیں تو دین کے یہ ٹھیکے دار ہمیں خوف خدا نہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔
یہ الزام مسلسل دہرایا جاتا ہے، اور جب میں اسکا جواب دیتی تھی تو سب لوگ [جہاد کی تبلیغ کرنے والے] خاموش ہو جاتے تھے اور اسی خاموشی کے ساتھ کھسک لیتے تھے۔
میرا یہ سوال ابھی تک قائم ہے اور یہاں اسی سوال کو میں مختصرا دہرا دیتی ہوں۔

1۔ اسلام کا اصول ہے کوئی کافر کسی مسلمان کو اذیت پہنچائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔
2۔ اب یاد کریں وہ وقت جب رسول ص ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے اور مکہ میں کفار نے باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اذیتوں کے پہاڑ توڑ دیے۔
3۔ اب مدینے کے مسلمانوں پر فرض تھا کہ وہ مکہ کے ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے جہاد کریں، مگر وہاں سے کوئی فوجیں روانہ نہیں ہوتیں۔
4۔ حتی کہ جنگ بدر میں اہل مدینہ کو کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے مگر پھر بھی مکہ کے مسلمانوں کو بچانے کے لیے رسول ص مکہ روانہ نہیں ہوتے، بلکہ صبر سے کام لیے رہتے ہیں۔
5۔ اور جب 8 سال گذر جاتے ہیں، اور مدینے کے مسلمان قوت حاصل کر لیتے ہیں، تو صرف اور صرف اسکے بعد آپ مکہ کے مسلمانوں کی مدد کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔

تو دین کے یہ ٹھیکے دار بتائیں کہ معاذ اللہ معاذ اللہ کیا آپ اب رسول ص پر بھی الزام لگائیں کہ کہ ان پہلے 8 سالوں میں ان میں خوف خدا نہ تھا جو جہاد فرض ہو جانے کے باوجود بھی جنگ کے لیے مکہ روانہ نہ ہوتے تھے؟؟؟
اس وقت جو طالبانی جہاد کروا کر آپ امت کو جو نقصان پہنچوا رہے ہیں، اسکا ازالہ امت بہت مشکل سے ہی کر پائے گی۔
اور مہوش ایم کیو ایم کے حوالے سے تو بات ہی کیا کروں۔ ایک طرف آپ سید مودودی پر یہ الزام دھرتی ہیں کہ آپ کی شخصیت پر ان کی فکر کا کچھ نہ کچھ اثر ہے دوسری جانب الطاف حسین جیسے قاتلوں کے جرم پر پردہ ڈالتی ہیں۔ کہاں تو یہ بلندی اور کہاں یہ پستی۔ خدا کی پناہ۔ مجھے تو اسے ڈبل اسٹینڈرڈ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہے کہ ڈبل اسٹینڈرڈ بھی اتنا ڈبل نہیں ہوتا۔
یا اللہ یہ پردے وہ ڈالتے ہوں گے جن کے دل میں انصاف نہ ہو۔
یہ ایم کیو ایم کے متعلق تھریڈ نہیں، مگر مختصرا یہ کہنا ہے کہ میں نے کسی کے جرائم پر پردہ نہیں ڈالا بلکہ ایم کیو ایم سمیت بقیہ تمام کے جرائم سے بھی پردہ چاک کر کے انہیں سامنے لا کھڑا کیا ہے۔
شکر الحمد للہ میں اُن میں سے نہیں تھی جو مودودی صاحب سے ایسے متاثر ہوں کہ انصاف کرنا ہی چھوڑ دیں اور جنہیں جمیعت کا غیر قانونی اسلحہ، غنڈہ گردی و مار پیٹ تو نظر نہ آئے مگر دوسروں کے لیے تمام تیر و تلوار تیار ہوں۔
 

محمد سعد

محفلین
پاکستانی عوام کے "مفاد" اور "سہولت" کے ليے تحريک پاکستان طلبان کے ترجمان مولوی عمر نے واہ کينٹ کے خود کش حملوں کی ذمہ داری محض ايک ٹی وی انٹرويو ميں قبول نہيں کی تھی بلکہ انھوں نے متعدد ٹی وی انٹرويوز ميں بہت سے نامور صحافيوں کو انٹرويوز ديے تھے جس ميں انھوں نے واہ کينٹ ميں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اگر آپ سمجھتے ہيں کہ جس ويڈیو کا لنک ميں نے پہلے ديا تھا وہ جعلی ہو سکتی ہے تو ميں آپ کو ايک دوسرے ٹی وی نيٹ ورک کے ٹاک شو کا لنک دے رہا ہوں جس ميں ايک بار پھر مولوی عمر نے واہ کينٹ کے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مستقبل ميں ايسے مزيد حملوں کا عنديہ ديا ہے۔

http://www.friendskorner.com/forum/f155/bolta-pakistan-21st-august-2008-a-61299/

يہ نقطہ بھی اہم ہے کہ يہ انٹرويوز براہ راست نشر کيے گئے تھے اور جن صحافيوں نے يہ انٹرويو کيے تھے وہ صحافتی دنيا ميں جانے پہچانے اور نامور تصور کيے جاتے ہيں۔

ان ويڈیوز کے جعلی ہونے کے حوالے سے آپ کے تحفظات اگر صحيح تسليم کر ليے جائيں تو ايسا صرف اسی صورت ميں ممکن ہے اگر تمام صحافی، ٹی وی پروڈيوسر، تکنيکی ماہرين اور يہاں تک کہ ٹی وی مالکان بھی اس "سازش" ميں شامل ہوں۔ منطق کے اعتبار سے يہ مفروضہ قابل فہم نہيں۔ مولوی عمر کے الفاظ ان کے فلسفے کی ترجانی کر رہے ہيں اور وہ بہت سے لوگوں کی آنکھيں کھولنے کے ليے کافی ہيں۔


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
digitaloutreach@state.gov
http://usinfo.state.gov

چلیں میں مان لیتا ہوں کہ آپ اس معاملے میں سچ بول رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی آپ کی دیگر باتیں مجھ سے کوشش کے باوجود ہضم نہیں ہوتیں۔ وجہ بھی بتا دیتا ہوں کہ کیوں۔

مجھے آج بھی وہ دور یاد ہے کہ جب سب لوگ طالبان کو مجاہد کہا کرتے تھے اور ان کی تعریفیں کیا کرتے تھے۔ پھر میں نے دیکھا کہ امریکہ میں ایک مشکوک نوعیت کی دہشت گردی کی کارروائی ہوئی۔ پھر امریکہ بہادر نے بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے اسامہ بن لادن اور طالبان پر الزام لگا کر ان کے ملک پر حملہ کر دیا اور لاکھوں بے گناہ شہریوں کو بم برسا کر ان کے گھروں میں ہی قتل کر دیا۔ پھر جب طالبان نے اپنے ملک کا دفاع کیا تو تب وہی لوگ، جو کہتے ہیں کہ ایسے بلاجواز حملوں کے خلاف اپنا دفاع کرنا ہر شخص کا حق ہے، ان طالبان کو دہشت گرد کہہ رہے تھے کیونکہ انہوں نے امریکہ کی تابعداری پر شہادت کو ترجیح دی۔ پھر امریکہ بہادر نے اپنے چمچے شرفو کو حکم دیا کہ اپنے قبائلیوں کو ذرا سنبھالو کہ وہ مجھے افغانستان پر قبضہ نہیں کرنے دیتے۔ شرفو نے بلاتردد اپنے مالک کے حکم کی تعمیل میں اپنے ہی بھائیوں پر، جو ابتداء ہی سے پاکستان کے سب سے زیادہ خیرخواہ تھے، چڑھائی کر کے انہیں پاکستان کا دشمن بنا دیا۔ آپ خود ہی سوچیں کہ آپ کا دس سال کا بھائی سودا لینے بازار جائے اور وہاں پر بمباری میں مارا جائے، اور حکومت کی طرف سے بیان آئے کہ ہم نے آج سو کے قریب "دہشت گرد" مار دیے ہیں، تو آپ کا کیا ردِ عمل ہوگا۔
پھر میں دیکھتا ہوں کہ ملک بھر میں دہشت گردی کے واقعات شروع ہو گئے۔ اور بچیوں کے سکولوں کے جلائے جانے کی خبریں آنے لگیں حالانکہ یہ سکول بیسیوں سال سے درس و تدریس کے کام میں مصروف تھے۔ اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ نہایت ہی پراسرار طریقے سے ان قبائلی علاقوں میں کافروں کے ایجنٹوں کے سراغ ملنے لگے۔
اب سوچنے والی بات ہے کہ ان ایجنٹوں کا یہاں پر کیا کام ہے۔ یقیناً وہ یہاں کے سادہ لوح لوگوں کو آپس میں لڑانے آئے ہیں۔ اور بھلا کیا وجہ ہو سکتی ہے۔

ایک واقعہ کہیں پڑھا یا سنا تھا۔ ابھی مجھے حوالہ یاد نہیں آ رہا۔ اگر کسی کو معلوم ہو تو بتا دے۔ بہرحال، خلاصہ بیان کر دیتا ہوں۔
یہ واقعہ ایک ایسے شخص کا ہے جسے اس کے چند ساتھیوں سمیت طالبان نے پکڑ لیا تھا۔ طالبان کی تعداد چار تھی۔ جب یہ بات زیرِ غور آئی کہ اب ان قیدیوں کے ساتھ کیا کیا جائے تو ان میں بحث شروع ہو گئی۔ دو کا کہنا تھا کہ انہیں چھوڑ دیا جائے جبکہ باقی دو کا کہنا تھا کہ انہیں ذبح کر دیا جائے۔ آخر کار ایک طویل بحث کے بعد ذبح کرنے پر اتفاق ہوا۔ بحث کے دوران کچھ ایسی بات ہوئی تھی کہ قیدیوں میں سے ایک شخص کو موخر الذکر دو آدمیوں پر شک ہو گیا۔ چنانچہ اس نے طالبان سے درخواست کی کہ ہماری ایک آخری خواہش پوری کر دو۔ ہم ان (اول الذکر دو) افراد سے علیحدگی میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں۔ پھر بے شک ہمیں ذبح کر دو۔
جب ملاقات کرائی گئی تو اس نے ان دونوں سے باقی دونوں کے بارے میں پوچھا کہ کیا تم انہیں جانتے ہو؟ جواب ملا کہ ہمیں تو بس اتنا ہی پتا ہے کہ یہ ہمارے جہاد میں ساتھی ہیں۔ تو اس شخص نے کہا کہ ان کے بارے میں تھوڑی تحقیق کر لو۔ پھر اگر چاہو تو بے شک ہمیں ذبح کر دینا۔ چنانچہ جب تحقیق کرائی گئی تو پتا چلا کہ وہ دونوں، جنہوں نے ذبح کرنے کی حمایت کی تھی، سرے سے مسلمان ہی نہیں تھے۔
اب آپ سب لوگ خود ہی سمجھ لیں کہ امریکہ بہادر مسلمانوں کے خلاف کیا کیا سازشیں کر رہا ہے۔

اب ان تمام باتوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مجھے تو اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ میں تمام طالبان کو دہشت گرد کیسے مان لوں۔
 

محمد سعد

محفلین
ایک اور بات۔ ویڈیو تو میں کم بینڈ وڈتھ کے باعث نہیں دیکھ پایا لیکن بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر میں نے ابھی ابھی دیکھا ہے کہ مولوی عمر نے اپنے بیان میں واضح الفاظ میں یہ کہا ہے کہ ان حملوں کا اصل ہدف عوام نہیں بلکہ سیکیورٹی فورسز ہیں۔ جبکہ یہاں موجود کچھ لوگوں کی تحاریر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عوام پر حملوں کی دھمکی دی گئی ہے۔
دوسری بات یہ کہ ان حملوں کو سیکیورٹی فورسز کے حملوں سے مشروط کیا گیا ہے۔ یعنی اگر سیکیورٹی فورسز عام شہریوں پر حملے بند نہیں کرے گی تو ان پر بھی حملے ہونگے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نکتے کو بھی مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
 

محمد سعد

محفلین
کوئی بتائے گا کہ ان لال بتیوں میں کمی بیشی کیسے کی جاتی ہے؟ اپنی نہیں دوسروں کی!:grin:

اس مقصد کے لیے ہر نام کے تھوڑا سا نیچے آپ کو ایک ترازو کی شکل نظر آئے گی۔ اس کی مدد سے آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور تھیم میں ترازو کے بجائے کچھ اور بنا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہے تو براہِ مہربانی کوئی نشاندہی کر دے۔
 

محمد سعد

محفلین
تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر بحث کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچانا ہے تو کچھ باتوں کا خیال رکھیں۔
1۔ کسی شخص کی ایک غلطی ثابت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کا ہر ایک عمل، نظریہ اور خیال غلط ہے۔
2۔ شخص اور نظریے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی شخص میں اگر کوئی خامی ہو تو اس سے اس نظریے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا جسے وہ مانتا ہے۔ نظریے کو غلط ثابت کرنا شخص کو غلط ثابت کرنے سے علیحدہ، اور یکسر مختلف عمل ہے۔

اور بھی کچھ باتیں لکھنی ہیں لیکن ابھی بجلی جانے والی ہے۔ لہٰذا اگر یاد رہا تو بعد میں لکھ دوں گا۔ ان شاء اللہ۔
 

محمد سعد

محفلین
میرے خیال میں آپ سب بھی رمضان کے احترام میں ”جنگ بندی“کرلیں۔ :)

بات تو قابلِ غور ہے۔ میں کوشش کرتا ہوں کہ جب تک ضروری نہ ہو، مزید کوئی تحریر اس موضوع پر نہ لکھوں۔
اگر اس سلسلے میں میری طرف سے کوتاہی ہو تو یاد دہانی کرا دینا۔ :)

اور ہاں، ابھی تک کسی نے مجھے بتایا نہیں کہ "لال بتیوں" کی تفصیلات کیسے معلوم کی جاتی ہیں۔
 

خرم

محفلین
تمام لوگوں سے گزارش ہے کہ اگر بحث کو کسی حتمی نتیجے پر پہنچانا ہے تو کچھ باتوں کا خیال رکھیں۔
1۔ کسی شخص کی ایک غلطی ثابت ہونے کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کا ہر ایک عمل، نظریہ اور خیال غلط ہے۔
2۔ شخص اور نظریے میں فرق ہوتا ہے۔ کسی شخص میں اگر کوئی خامی ہو تو اس سے اس نظریے کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا جسے وہ مانتا ہے۔ نظریے کو غلط ثابت کرنا شخص کو غلط ثابت کرنے سے علیحدہ، اور یکسر مختلف عمل ہے۔

اور بھی کچھ باتیں لکھنی ہیں لیکن ابھی بجلی جانے والی ہے۔ لہٰذا اگر یاد رہا تو بعد میں لکھ دوں گا۔ ان شاء اللہ۔

بات تو بہت اچھی ہے سعد آپکی لیکن مسئلہ یہی ہے کہ نظریہ سے بات کا رُخ شخصیت یا ملک کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ آسانی رہتی ہے کچھ دوستوں‌کو۔ اب اگر میں بُرا ہوگیا تو اس سے آپ تو اچھے نہیں ہو جائیں گے؟ لیکن خیر یہ تو کمزور قوموں اور بیمار معاشروں کا طریقہ ہوتا ہی ہے۔ اوروں کی بات نہ سُنو، ان پر کیچڑ اچھالو اور اپنے دل کو مطمئن کرو۔ اسی لئے تو پاکستان میں ہر بُرے کام کی یہی دلیل ہے "سب کرتے ہیں"۔:hatoff:
 

مہوش علی

لائبریرین
اور پھر میں دیکھتا ہوں کہ نہایت ہی پراسرار طریقے سے ان قبائلی علاقوں میں کافروں کے ایجنٹوں کے سراغ ملنے لگے۔

اوپر جس خبر کا سعد برادر نے حوالہ دیا ہے، یہ ایسی بےتکی خبر ہے جو کہ صرف اردو اخبارات میں جگہ پا سکی ۔۔۔۔ بلکہ اردو اخبارات کے بھی صرف اندرونی صفحات میں۔
خبر خود پڑھئیے۔

headlinebullet.gif
shim.gif
dot.jpg
shim.gif
گزشتہ دنوں سنگل کالم کی خبر اندرونی صفحات پر غیر اہم خبر کے طور پر شائع ہوئی۔ خبر تھی شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز سے مقابلہ میں دس طالبان ہلاک، تفصیل میں درج تھا کہ جب دس طالبان کی میتوں کو سپرد خاک کرنے کے لیے غسل دیا گیا تو معلوم ہوا کہ دس کے دس مسلمان نہیں تھے۔۔۔۔۔۔۔۔




اس سے قبل میں آپکو اُس خبر کا حوالہ دے چکی ہوں جس میں میڈیا میں موجود طالبان کے حمایتیوں نے یہ قوم کو طالبان کے متعلق ذہنی انتشار میں مبتلا کرنے کے لیے یہ خبر اڑائی تھی کہ چھ ہزار افغان فوجی [بمع یونیفارم] خفیہ سازشی حملے کرنے کے لیے پاکستان میں داخل ہو گئے ہیں۔ بہرحال یہ اتنا مضحکہ خیر پروپیگنڈہ تھا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کو مجبورا کھل کر اس خبر کی تردید کرنا پڑی۔
پھر طالبان کے حمایتی حامد میر کا کردار بھی سب کے سامنے آ چکا ہے جہاں وہ سازشی تھیوریوں کے ذریعے طالبان کو آب زمزم سے دھلا ہوا اور ان تمام تر خود کش حملوں اور قتل و غارت کا الزام انڈین را پر لگا دیتا ہے۔

سعد برادر نے جو یہ خبر یہاں پوسٹ کی ہے [جو کہ اردو اخبار کے اندرونی صفحے پر بغیر کسی ماخذ کے شائع ہوئی]، اسکا تجزیہ کرنے پر ہمیں چاہے یہ بہت بے ضرر قسم کا جھوٹ لگے، مگر یقین کریں طالبان کے حمایتی حضرات اس جھوٹی خبر پر یوں ایمان لائے بیٹھے ہیں کہ انکے نزدیک اس جھوٹ سے اہم اور کچھ حقیقت ہی نہیں۔ ہر ہر ڈسکشن فورم میں بس اسی خبر کو اچھالا جا رہا ہے اور یوں طالبان کی تمام جرائم سے برات ثابت کی جا رہی ہے۔
اور وہ کھلے ، صاف و روشن انٹرویو جو خود پاکستانی میڈیا کو ملا عمر و القاعدہ کے اکابرین دے رہے ہیں، ان ہزاروں شہادتوں کا انکار اس بغیر ماخذ والی خبر سے کیا جا رہا ہے۔۔۔۔ اور کیا جاتا رہے گا۔ بس اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں سوچنے، سمجھنے والا ذہن اور انصاف کرنے والا دل عطا فرمائے۔ امین۔
 

خرم

محفلین
بہنا کیسی بات کرتی ہیں آپ؟ کھلے دل سے کیوں سوچیں ہم بھلا؟ ہمیں تو صرف یہ پتہ ہے کہ پاکستان کی مہنگائی، رشوت ستانی، اقربا پروری، انصاف کی عدم فراہمی، خواتین کا زندہ درگور کیا جانا، سکولوں کو بموں سے اُڑانا، فوجیوں‌کو ذبح کرنا، خودکش بم دھماکے کرنا، مساجد میں اسلحہ بند ہو کر مقابلے کرنا سب کچھ یہودی سازش ہے اور ساری دنیا ہمارے خلاف ہے۔ مزید برآں اسلام کا پتہ صرف ظالمان کو ہے ان کے سوا کسی کو نہ کبھی تھا اور نہ کبھی ہوگا۔ ہم اس بات کے شدت سے منتظر ہیں کہ ہمارے علاقہ پر ان کا کنٹرول ہو تاکہ ہماری ماؤں بہنوں کو وہ گھر سے باہر نکلنے پر ڈنڈے ماریں ، کمپیوٹروں‌ اور ٹی ویوں‌کو پھانسی دی جائے، مدرسہ کے سوا اور صرف ان مدارس کے سوا جہاں ان کی قبائلی روایات سے ملتا جلتا اسلام پڑھایا جائے کسی اور جگہ تعلیم کی اجازت نہیں ہو، احتجاج کرنے والے کو منافق و کافر و فاسق قرار دے کر سرعام گولی ماردی جائے تاکہ مملکت پاکستان میں خوشحالی و امن و آتشی کا دور دور تک گزر نہ ہو اور ہم پھر رب جلیل سے دن رات گڑگڑا کر اپنے گناہوں کی معافی مانگا کریں۔ ایک بات اور کہ جس کسی کی بھی آپ حمایت کریں گی ہم اس کے خلاف ہیں اس لئے کہ ہم آپ کے خلاف ہیں۔ اب کرلیں جو کرنا ہے :)
 

کاشف رفیق

محفلین
اس مقصد کے لیے ہر نام کے تھوڑا سا نیچے آپ کو ایک ترازو کی شکل نظر آئے گی۔ اس کی مدد سے آپ یہ کام کر سکتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ کسی اور تھیم میں ترازو کے بجائے کچھ اور بنا ہوا ہو۔ اگر ایسا ہے تو براہِ مہربانی کوئی نشاندہی کر دے۔

بہت شکریہ جناب۔
 

خاور بلال

محفلین
تو یہ خبر آپ کیسے لیں گے؟ آپ کا رویہ تو ایسا ہے کہ طالبان کو ہیرو بنانے کے لیے ان حقائق کو ہمیشہ سے تاریک پردوں میں لپیٹتے آئے ہیں اور کبھی عوام الناس کو مطلع نہ کیا کہ امریکہ اپنے کن مقاصد کے لیے طالبان کے ذریعے افغانستان میں اپنے ہی لاکھوں دیگر مسلمانوں کا خون بہانے کے بعد حکومت میں لا کر کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے۔ قاتل کا عذر قبول نہیں کہ اسے کسی اور نے بہکا دیا تھا
بھائی جی، جب آپ تحریریں لکھتے ہیں تو اپنی آنکھوں پر کتنے پردے ڈال کر لکھتے ہیں؟
یہ خون، یہ دھماکے، یہ سلگتے جسم، یہ ذبح کیے ہوئے بے جان لاشے، یہ سربریدہ لاشوں کے کٹے ہوئے ہاتھ پاوں، یہ انسانوں کو آگ میں زندہ جلا دینا اور انسانی راکھ کو دیکھے بغیر کھانا ہضم نہ ہونا ۔۔۔۔۔۔ یہ تو سب اُس طالبانی فتنے کی خصلتیں ہیں کہ جس کو امریکہ نے جنم ہی اس لیے دیا تھا اور آج جن کی ان وحشتناک درندگیوں کا آپ دفاع کر رہے ہیں۔

آپکا عذر وہی ہے کہ ایک وحشی قاتل درندے کو معصوم فرشتہ ثابت کرنے کے لیے آپ بہانہ کر رہے ہیں کہ اسے کسی اور نے ورغلا دیا تھا۔ حالانکہ قاتل کو کسی نے بھی ورغلایا ہو، مگر قتل کی سزا میں اسکو جوابا قتل کرنا ہی ہے۔ ورنہ روز قیامت ہر قاتل یہ کہہ کر جان بچا لے گا کہ یہ تو ابلیس شیطان تھا کہ جسکے ورغلانے پر اُس نے قتل کیا تھا۔
اور مذہب کے ان ٹھیکے داروں کا فتوی کہ ہمیں خوف خدا ہی نہیں

جہاد بالمقابل صبر
دین کے ٹھیکے داروں کی طرف سے الزام ہے کہ ہمیں خوف خدا نہیں، بلکہ صرف خوف امریکہ ہے۔
جبکہ ہم انہیں مسلسل بتا رہے ہیں کہ اسلام کے درس کے مطابق ہمیں اس وقت وہ کام کرنا ہے کہ جس سے اسلام کی سب سے زیادہ بہتری ہو۔ اور آجکل کے حالات کے مطابق اسلام کی سب سے زیادہ بہتری یہ ہے کہ جہاد کے نام پر سیدھی تلوار لیکر چڑھ جانے کی بجائے پہلے اپنے آپ کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں مضبوط بنایا جائے، اور اسی دوران عوام میں صبر کے ساتھ حق بات کا شعور اجاگر کیا جائے۔
چنانچہ آج جب ہم چند مظالم پر آجکل کے حالات کے مطابق اللہ کے واسطے "صبر" کرتے ہیں، اور جہاد بالسیف کی بجائے جہاد بالشعور کرنے کو افضلیت دیتے ہیں تو دین کے یہ ٹھیکے دار ہمیں خوف خدا نہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔
یہ الزام مسلسل دہرایا جاتا ہے، اور جب میں اسکا جواب دیتی تھی تو سب لوگ [جہاد کی تبلیغ کرنے والے] خاموش ہو جاتے تھے اور اسی خاموشی کے ساتھ کھسک لیتے تھے۔
میرا یہ سوال ابھی تک قائم ہے اور یہاں اسی سوال کو میں مختصرا دہرا دیتی ہوں۔

1۔ اسلام کا اصول ہے کوئی کافر کسی مسلمان کو اذیت پہنچائے تو جہاد فرض ہو جاتا ہے۔
2۔ اب یاد کریں وہ وقت جب رسول ص ہجرت کر کے مدینہ چلے آئے اور مکہ میں کفار نے باقی رہ جانے والے مسلمانوں پر اذیتوں کے پہاڑ توڑ دیے۔
3۔ اب مدینے کے مسلمانوں پر فرض تھا کہ وہ مکہ کے ان مظلوم مسلمانوں کی مدد کرنے کے لیے جہاد کریں، مگر وہاں سے کوئی فوجیں روانہ نہیں ہوتیں۔
4۔ حتی کہ جنگ بدر میں اہل مدینہ کو کامیابی بھی حاصل ہو جاتی ہے مگر پھر بھی مکہ کے مسلمانوں کو بچانے کے لیے رسول ص مکہ روانہ نہیں ہوتے، بلکہ صبر سے کام لیے رہتے ہیں۔
5۔ اور جب 8 سال گذر جاتے ہیں، اور مدینے کے مسلمان قوت حاصل کر لیتے ہیں، تو صرف اور صرف اسکے بعد آپ مکہ کے مسلمانوں کی مدد کے لیے روانہ ہوتے ہیں۔

تو دین کے یہ ٹھیکے دار بتائیں کہ معاذ اللہ معاذ اللہ کیا آپ اب رسول ص پر بھی الزام لگائیں کہ کہ ان پہلے 8 سالوں میں ان میں خوف خدا نہ تھا جو جہاد فرض ہو جانے کے باوجود بھی جنگ کے لیے مکہ روانہ نہ ہوتے تھے؟؟؟
اس وقت جو طالبانی جہاد کروا کر آپ امت کو جو نقصان پہنچوا رہے ہیں، اسکا ازالہ امت بہت مشکل سے ہی کر پائے گی۔

یہ تو انہوں نے بتادیا کہ فتنے کی اصل جڑ امریکا ہے لیکن یہ نہ بتایا کہ آج قبائلی جو پاکستان سے نفرت اور دشمنی پر مجبور ہوئے ہیں اس میں پاکستان کا کیا کردار رہا۔ ظاہر ہے ایسی باتیں تو ضرور چھپانی چاہئیں جن سے مسائل حل ہونے کے امکانات ہوں کیونکہ مسئلہ حل ہوگیا تو خون کیسے بہے گا۔ میں نے بچپن میں کہانی سنی تھی کہ ڈریکولا کو خون اتنا پسند تھا کہ اس کے بغیر اسے نیند ہی نہ آتی تھی۔ خیر ڈریکولا میں ایک اچھی بات تھی کہ وہ اپنے آپ کو انصاف پسند نہیں کہلاتا تھا۔

جب امریکا نے افغانستان پر جنگ مسلط کی تو وہاں موجود طالبان اور عربوں نے گوریلا وار کی اسٹریٹیجی بنائ۔ اس کے لیے انہوں نے افغانستان کے دشوار ترین علاقوں کو بیس کیمپ بنایا۔ پاکستان اور افغان بارڈر پر سب سے بہترین بیس کیمپ قبائلی علاقہ جات ہوسکتے تھے سو یہ چن لیے گئے۔ قبائلیوں نے ملی غیرت کے تحت عرب مجاہدین کو گلے لگایا اور ان کو پناہ فراہم کی۔ ظاہر ہے یہ صورت امریکا کے لیے کسی طرح مفید نہ ہوسکتی تھی۔ امریکا نے پاکستانی فورسز کو ان قبائلیوں سے نمٹنے کا حکم دیا۔ یوں ان قبائلیوں کے خلاف آغاز جنگ ہوا۔ پہلے تو انہیں وارننگ دی گئ کہ ہمیں مطلوب افراد فراہم کردو ورنہ دوسری صورت میں ہم زبردستی کریں گے۔ ظاہر ہے قبائلی غیرت مند تھے، مہمان نواز تھے اور فطری طور پر ان کی ہمدردی انہی کے ساتھ ہونی چاہیے جو افغانستان میں امریکا کے حریف ہیں، سو انہوں نے اس وارننگ کو ٹھکرا دیا۔ قبائلی دیگر پاکستان کی ظالم نہیں تھے کہ جنہوں نے پتھر کے دور کی دھمکی میں آکر اپنی ہی امت کی نسل کشی میں مدد دی۔ یوں ان قبائلیوں پر جنگ مسلط کردی گئ۔ اپنی ہی قوم کو گولیوں کی باڑ پر رکھ لیا گیا۔ ان کے گھر مسمار کیے ان پر آسمان سے آگ کی بارش برسائ۔ ان کی بستیاں جلائیں ان کے خاندان اجاڑے۔ وہ باوفا لوگ جو قائدِ اعظم کی ایک پکار پر انڈیا سے ٹکراگئے اور آدھا کشمیر ہمیں لے دیا ان کو یہ سزا دی؟ یعنی انہوں نے آپ کا ناجائز مطالبہ نہیں مانا تو آپ نے انہیں بھاڑ میں جھونکنا شروع کردیا؟ اور پاکستان کی اوقات ہی کیا ہے؟ پاکستان کا تو اپنا کوئ مطالبہ تھا ہی نہیں جو کچھ تھا امریکا کا تھا۔ پاکستان تو امریکا کی چوکھٹ پر گرا زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا، پاکستان کو تو پتھر کے دور کے ہول آرہے تھے۔ خدا پر کہاں یقین تھا؟ یقین ہوتا تو کہہ دیتے کہ اگر پتھر کا دور ہمارے نصیب میں ہے تو زلزلے کا ایک جھٹکا ہی اس کے لیے کافی ہے۔ کہہ دیتے کہ ہم کوئ گلی کے کتے نہیں کہ آپ نے پتھر دکھایا اور ہم دبک لیے۔ کہہ دیتے کہ ہم قائدِ اعظم کی قوم ہیں جنہوں نے ہمیشہ اصولوں کی جنگ لڑی۔ اگر ہمارے حکمران اپنے فوجی مشیروں کی بجائے اپنی قوم سے رائے لے لیتے تو انہیں عزت سے سر اٹھاکر جینے کا پیغام ملتا۔ انہیں سب سے پہلے پاکستان کی بجائے سب سے پہلے حق کا مشورہ ملتا۔ اگر ایک دفعہ بھی اپنی قوم کی طرف دیکھا ہوتا تو انہیں معلوم ہوتا کہ یہ قوم کوفہ کے رذیلوں سے نہیں بلکہ بدرو حنین کے وارثوں سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر حق کی خاطر سر پر آزمائش آتی تو پوری قوم اختلافات بھلا کر جنگ ستمبر کا منظر پیش کررہی ہوتی۔ زندہ دلانِ لاہور ایک دفعہ پھر اپنی روایت نبھانے کو لپکتے۔ کراچی کے مہاجر ایک دفعہ پھر خدا اور اس کے رسول کے نام پر اپنا آپ نچھاور کرتے۔ صرف ایک دفعہ، ایک دفعہ دیکھا ہوتا اپنی قوم کی طرف تو معلوم ہوتا کہ یہ قوم ٹیپو سلطان کی طرح شیر کی ایک دن کی زندگی جینا چاہتی ہے۔ لیکن نہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے، ہمارے فلسفیوں، ہمارے ڈریکولاؤں نے اور آدم خور نسل کی بچی کھچی کھرچنوں نے اس وقت گیدڑ کی سو سالہ زندگی کا انتخاب کیا۔ اپنی قوم نیلام کردی۔

میں کہتا ہوں کہ اگر پاکستان کی اپنی کوئ پالیسی ہوتی اور اسے واقعی افغانستان سے، طالبان سے یا عرب مجاہدین سے کوئ شکایت ہوتی تو یہ شکایت باآسانی بغیر کسی جنگ و جدل کے حل کی جاسکتی تھی۔ آخر آپ نے خود ہی طالبان کی پرورش کی ہے تو تھوڑے نخرے تو سہنے پڑتے لیکن اتنا خون خرابہ نہ کرنا پڑتا۔ دونوں طرف ایک ہی قوم بستی تھی اگر قوم کے صحیح ترجمان بھی موجود ہوتے تو پیار محبت سے کام لیا جاتا اور آپ کی اپنی قوم آپ کی دشمن نہ بنتی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر اپنی کوئ پالیسی ہوتی تو تب۔ بکے ہوئے غلام کی کیا پالیسی ہوگی؟ امریکا نے عالمِ اسلام کے خلاف نائن الیون کا اسٹیج سجایا ہم نے سوچنے سمجھنے کی زحمت کیے بغیر اسے قبول کرلیا۔ سوچنے سمجھنے سے ہمارا کیا تعلق؟ ہم تو مستقل نیند کی کیفیت میں جی رہے ہیں، ہمیں پیٹ بھرنے کو دو روٹی چاہیے چاہے اس کے لیے کسی کے جوتے ہی کیوں نہ چاٹنے پڑیں۔

خاتون عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی مثال کو موجودہ کینوس پر فٹ کرتے ہوئے ارشاد کر رہی ہیں کہ مکے کے مظلوم مسلمانوں کے حق میں مدینہ کے انصار نے کیوں نہ مکہ پر چڑھائ کردی۔ ویسے تو یہ سوال اس قابل بھی نہیں کہ اسے ردی کی ٹوکری کی نذر کیا جائے لیکن چلیں کچھ وقت برباد کرلیتے ہیں اس کے پوسٹ مارٹم پر۔ تصور کریں اس وقت کا جب اسلام کا آغاز ہوا تھا۔ پورے کرہ ارض پر گنتی کے چند نفوس یعنی بمشکل تین سو کے آس پاس۔ کوئ موازنہ نظر آرہا ہے آپ کو اس دور کی افرادی قوت میں اور آج کے عالم اسلام میں؟ دوم کیا مدینے کے مسلمانوں نے مکہ کے مسلمانوں کے خلاف مشرکین کی مدد کی تھی، جس طرح پاکستان نے افغانوں کے خلاف امریکہ کو مدد فراہم کی؟ سوم کیا اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے حکم سے فیصلے کیا کرتے تھے یا کسی اور کی ڈکٹیشن پر جیسے آج پاکستان امریکہ کی ڈکٹیشن پر فیصلے کرتا ہے؟ اصل بات یہ ہے کہ معاہدہ حدیبیہ کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پابند ہوگئے تھے کہ وہ مشرکین مکہ پر اس وقت تک چڑھائ نہیں کرسکتے جب تک وہ معاہدے کی خلاف ورزی نہ کریں جبکہ حدیبیہ کے معاہدے سے پہلے تک مسلمانوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج مدینے کی ریاست کو تشکیل دینا تھا۔ مدینے میں جس طرح اوس اور خزرج جیسے پازیٹو اور نیگیٹو (یعنی سو سالوں سے ایک دوسرے کے خلاف نبرد آزما قبائلوں کے دو اتحاد) اسلام میں ضم ہوئے تھے اور علاقے میں جس طرح یہودیوں کی ایک باثر طاقت موجود تھی اس میں خود مدینے کو ہی سنبھال لینا ایک کارنامہ تھا۔ یعنی آپ تصور کریں کہ پوری زمین پر مسلمانوں کے قبضہ میں محض تین کلومیٹرمربع بھی ایسا نہ تھا جسے ریاست کہا جاسکے۔ موازنہ ہے ہی نہیں اس وقت کی اور اب کی صورتحال کا۔ اس کے علاوہ خاتون نے امریکی ٹیکنالوجی کا حوالہ بھی دیا۔ ہمارے ہاں یہ بات عام ہوگئ ہے کہ اگر سامنے والے کو لاجواب کرنا ہے تو اسے ٹیکنالوجی کا طعنہ دیدو تاکہ اس کا منہ بند ہوجائے۔ ورنہ اصل بات تو یہ ہے کہ بے ضمیروں کے ہاتھوں میں ٹیکنالوجی آبھی گئ تو وہ کیا کارنامہ کرلیں گے۔ ایسے لوگ جو اپنا آپ دوسروں کے حوالے کرچکے ہوں ان کو تو کیا ہی ٹیکنالوجی ملے گی اور کیا ہی وہ دنیا میں کارنامہ کریں گے۔ زیادہ دور نہیں قریب کی مثال لیں کہ اسرائیل جیسی بھیانک طاقت کو لبنان میں حزب اللہ نے گھٹنے ٹکادیے۔ اس سے کچھ اور پیچھے جائیں جب روس نے افغانستان پر چڑھائ کی۔ کچھ موازنہ ہے روس جیسی دیوہیکل طاقت کا اور افغانوں کا؟ تھا کیا افغانوں کے پاس؟ سٹیلائٹ؟ راڈار؟ جہاز؟ گن شپ؟ ٹینک؟ کچھ بھی تو نہیں محض ہلکے ہتھیار۔ لیکن ہمت تھی خدا پر یقین تھا۔ خدا نے بھی ان کی مدد کی اور روس کو ایسی شکست ہوئ کہ اسے اپنا وجود برقرار رکھنا مشکل ہوگیا۔ کچھ کر گذرنے اور حاصل کرنے کے لیے یقین کی طاقت اور ہمت چاہیے ہوتی ہے اور جہاں ہمت ہوتی ہے وہاں غیروں سے زندگی کی بھیک نہیں مانگی جاتی۔ ان کی حیثیت تو اس فقیر کی سی ہے کہ جس کے کشکول میں کسی نے رحم کھاکے کچھ ڈال دیا تو صحیح ورنہ اللہ اللہ خیر صلا۔ یہ تاریخ کے وہ گھناؤنے کردار ہیں کہ عین آزمائش کے وقت لشکرِ یزید کے ساتھ جاکھڑے ہوئے اور اس پر طرہ یہ کہ اسے شعور کا نام دیتے ہیں، اسلام کی بہتری کا دعویٰ کرتے ہیں۔ انہیں شرم نہیں آتی لیکن اسلام کو ضرور ان سے شرم آتی ہوگی۔

آج پاکستان جس تکلیف دہ مرحلے سے گذر رہا ہے یہ انہی ڈریکولاؤں کی مہربانی ہے جنہوں نے “سب سے پہلے پاکستان“ کے غبارے میں ہوا بھری۔ غبارے میں ہوا بھرتے وقت انہوں نے نہیں سوچا کہ جب یہ پھٹے گا تو ہمارے چہرے پر بھی چوٹ آئیگی۔ آپ کی اپنی لگائ ہوئ آگ نے آج آپ کو گھیر لیا ہے۔ سو سال جینے کا شوق تھا نا آپ کو تو جیو اب۔ مارو مارو۔ اور گھر اجاڑو۔ اور بددعائیں لو۔ اپنے دشمن بناؤ اپنے ہی قوم کا خون کرو۔ جیو، جینا بہت ضروری ہے جینے کے لیے سب کچھ کرو۔ وقت پڑے تو اپنی ماں کو اپنی ڈھال بناؤ، اپنی بہن کو بیچ دو، اپنے بچوں کو خود ہی ہڑپ کرو۔ اور غیرت؟ غیرت گئ بھاڑ میں۔ اصول؟ اصول گیا تیل لینے۔ اصل چیز تو شعور ہے۔ “جہاد بالشعور“ نہ کیا تو پھر کیا جیا؟ بس جیو۔ جینے کے لیے جتنے جہاد کرنے پڑیں کرو اور جیو۔ یہ جہاد کا ارتقائ سفر ہے جس میں جہاد بالشعور سے اگلی منزل یقینا “جہاد بالبے غیرتی“ ہوگی اور لوگ بے غیرتی کے ذریعے جہا کیا کریں گے۔ آنٹی شمیم مفت میں بدنام ہوئیں انہیں بھی اپنے کام کے ساتھ جہاد کا سابقہ لگادینا چاہیے تھا پھر یہی کام نیکی بن جاتا اور ان کے گاہکوں کو چوری چھپے ان کے ہاں نہ جانا پڑتا۔ اور ایم کیو ایم بھی تو آج تک جہاد ہی کرتی رہی ہے جہاد بالبھتہ۔۔۔ جہاد بالچماٹ۔۔۔ جہاد بالٹارچر۔۔۔ جہاد بالریپ وغیرہ وغیرہ۔ “جہاد بالخاموشی“ اور “جہاد بالبے حسی“ میں تو آج کل سارا عالمِ اسلام ہی مصروف ہے۔ یہاں تک کہ جو کچھ نہیں کررہا وہ بھی جہاد بالجماہی۔۔۔ جہاد بالہچکی۔۔۔ جہاد بالخراٹے۔۔۔ جہاد بالڈکار۔۔۔ جہاد بالآہیں وغیرہ تو کرہی رہا ہے نا۔ جہاد کی اس تعریف کی رو سے ابھی صبح میں نے جہاد بالسحری کیا اور شام کو جہاد بالافطار کا معرکہ سجے گا۔ یقینا وہ حدیث سچی ہے کہ “جہاد قیامت تک جاری رہے گا“۔
 

خرم

محفلین
بات پھر واہ کینٹ کے خودکش حملوں سے امریکہ کی طرف مڑ جاتی ہے۔ بات تو صرف اتنی سے ہے کہ ظالمان نے گناہ کیا اور اسلام سے ان سب باتوں کا کوئی تعلق نہیں اور ان اقدامات کا صدور کرنے کرنے والے، ان پر اکسانے والے اور ان کی حمایت کرنے والے سب اسلام سے دور اور دین کے دائرہ سے خارج ہیں۔ کیا ہم اس بات پر بھی متفق نہیں‌ہوسکتے؟ امریکہ کے افغانستان پر حملہ کے متعلق اور کہیں پر بات ہوسکتی ہے۔ ویسے بھی اب یہ دلیل دینا اخلاقاً اچھا نہیں لگتا کہ امریکہ نے افغانستان پر بلاوجہ حملہ کیا تھا۔
 

محمد سعد

محفلین
میں تو سوچ رہا تھا کہ مجھے دیکھ کر باقی لوگ بھی جنگ بندی کر لیں گے لیکن شاید میں غلط تھا۔ بہرحال، مخالف سمت سے کچھ اعتراضات ہوئے ہیں جن کا جواب دے رہا ہوں۔

مہوش باجی نے کچھ ایسی باتین لکھی ہیں کہ جن کا مفہوم کچھ یوں بنتا ہے کہ اردو اخبارات جھوٹے ہوتے ہیں اور انگریزی اخبارات کی ہر بات پر بلاتردد ایمان لے آنا چاہیے۔
ان سے گزارش ہے کہ اتنا زیادہ احساسِ کمتری نہ تو آپ کے لیے اچھا ہے، اور نہ ہی آپ کی قوم کے لیے۔ براہِ مہربانی جلد از جلد اس بیماری سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

اس کے علاوہ خرم بھائی پوچھ رہے ہیں کہ بات ہمیشہ امریکہ پر ہی کیوں پہنچ جاتی ہے۔
ان سے گزارش کرتا ہوں کہ ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پی کر ذرا اس بات پر غور کر لیں کہ آخر کیا بات ہے کہ امریکہ کے خلاف دنیا میں نفرت بڑھتی ہی جا رہی ہے؟ اور اس بات کا امریکہ کے ساتھ تعلق کیا ہے۔ اگر ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچا تو خود ہی جواب مل جائے گا اور کسی اور سے پوچھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر اسی طرح گرم دماغ کے ساتھ سوچیں گے تو قیامت کی 14 تاریخ تک بھی اس کا جواب نہیں پا سکیں گے۔ اور اگر پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقوام کے افراد سے بھی امریکہ کے بارے میں ان کی رائے لی جائے تو مفید رہے گا۔

دوسری بات خرم بھائی نے یہ کی ہے کہ یہ جو خودکش دھماکوں میں عام شہری مارے جاتے ہیں، یہ بری بات ہے۔ میں بھی اس بات سے اتفاق کرتا ہوں کہ یہ برا ہو رہا ہے۔ لیکن اللہ کے واسطے کبھی یہ بھی سوچ لیا کریں کہ آخر اس کی وجہ کیا ہے۔ ایسی کیا بات ہے کہ قبائلی علاقوں پر شرفو کی چڑھائی سے پہلے یہ واقعات نہیں ہوتے تھے اور اب اتنی کثرت سے ہوتے ہیں۔ آخر کیوں پاکستان کے بہترین دوست اس کے دشمن بن گئے؟ طالبان بھی انسان ہیں۔ ان کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ ان کی بھی برداشت کی کوئی حد ہوتی ہے۔ آخر جب اتنی بڑی تعداد میں وہ اپنے بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کا قتلِ عام ہوتے ہوئے دیکھیں گے، تو وہ کہاں تک برداشت کر پائیں گے؟ کب تک خود کو قابو میں رکھ سکیں گے؟ آخر کار ان کی برداشت جواب دے جائے گی اور وہ بھی اسی نوعیت کے حملے کرنے لگیں گے جیسے ان کے علاقوں میں کیے جاتے ہیں، جن میں کم از کم 70 فیصد تو عام لوگ مارے جاتے ہیں۔
اور سب سے زیادہ اہم بات۔ کیا طالبان ہمارے مسلمان بھائی نہیں؟ کیا ان کا یہ حق نہیں کہ اگر وہ کچھ غلط کرتے ہیں تو انہیں پہلے اچھے طریقے سے سمجھایا جائے؟ جب ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ 61 سال تک مذاکرات ہو سکتے ہیں تو اپنے بھائیوں کے ساتھ کیوں نہیں ہو سکتے؟ کیوں ہم آپس میں لڑ رہے ہیں؟ اور وہ بھی کس کے کہنے پر؟ کیا اللہ ہمیں یہ اجازت دیتا ہے کہ آپس میں لڑنا جھگڑنا شروع کر دیں؟ کیا امریکہ کی اہمیت اللہ سے بھی زیادہ ہے؟ یا وہ اللہ سے زیادہ طاقتور ہے کہ اس کے خوف میں ہم آخرت کو بھی بھول جاتے ہیں؟ کبھی وقت ملے تو اس پر بھی ٹھنڈے دماغ کے ساتھ سوچ لینا۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top