ذوق نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لئے - ملک الشعراء شیخ ابراہیم ذوق

نہیں ثبات بلندی عز و شاں کے لئے
کہ ساتھ اوج کے پستی ہے آسماں کے لئے

نہ چھوڑ تو کسی عالم میں راستی - کہ یہ شے
عصا ہے پیر کو اور سیف ہے جواں کے لئے

جو پاسِ مہرو محبت کہیں یہاں بکتا
تو مول لیتے ہم اک اپنے مہرباں کے لئے

اگر امید نہ ہمسایہ ہو - تو خانہء یاس
بہشت ہے ہمیں آرامِ جاوداں کے لئے

وبالِ دوش ہے اس ناتواں کو سر - لیکن
لگا رکھا ہے ترے خنجر و سناں کے لئے

بنایا آدمی کو ذوق! ایک جزو ضعیف
اور اس ضعیف سے کل کام دو جہاں کے لئے

ملک الشعراء شیخ ابراہیم ذوق
 
Top