نظر لکھنوی نعت: پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی ٭ نظرؔ لکھنوی

پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی
کامل نہ ہو ثنائے شہِ دو سرا کبھی

روشن ہوئی جو شمع بہ غارِ حرا کبھی
تھی با خدا وہ زینتِ عرشِ عُلا کبھی

بجلی چمک اٹھی جو دیے مسکرا کبھی
موتی برس پڑے جو تکلم کیا کبھی

میرے نبیؐ کی طرح کوئی جامع الصفات
خلّاقِ دوجہاں نے نہ پیدا کیا کبھی

باتیں وہ ہیں کہ منطقی و فلسفی نثار
اُمی لقب نے گرچہ نہ لکھا پڑھا کبھی

یکتائے روزگار ہے وہ شانِ خلق میں
احساں کیے ہزار نہ احساں دھرا کبھی

امت کی فکر نے اسے بے چین ہی رکھا
سویا نہ میٹھی نیند وہ درد آشنا کبھی

اللہ رے نصیب، لگے اس کو چار چاند
اس چاند کے جو گرد ستارا رہا کبھی

اٹھتی جو ساتھیوں کی طرف چشمِ مکتحل
ہوتا تھا کیف اس کا نہ دل سے جدا کبھی

سنت سے اس کی ہٹ کے چلا جو بھی راہرو
منزل نہ مل سکے گی اسے برملا کبھی

پڑھیے درود ایک تو دس نیکیاں ملیں
وعدے سے اپنے پھر نہیں سکتا خدا کبھی

رب سے حصولِ خلد کی امید رکھ نظرؔ
ہاں ٹوٹنے نہ پائے یہ تارِ ثنا کبھی

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
پوری نہ جس طرح سے ہو حمدِ خدا کبھی
کامل نہ ہو ثنائے شہِ دو سرا کبھی

روشن ہوئی جو شمع بہ غارِ حرا کبھی
تھی با خدا وہ زینتِ عرشِ عُلا کبھی

بجلی چمک اٹھی جو دیے مسکرا کبھی
موتی برس پڑے جو تکلم کیا کبھی

میرے نبیؐ کی طرح کوئی جامع الصفات
خلّاقِ دوجہاں نے نہ پیدا کیا کبھی

باتیں وہ ہیں کہ منطقی و فلسفی نثار
اُمی لقب نے گرچہ نہ لکھا پڑھا کبھی

یکتائے روزگار ہے وہ شانِ خلق میں
احساں کیے ہزار نہ احساں دھرا کبھی

امت کی فکر نے اسے بے چین ہی رکھا
سویا نہ میٹھی نیند وہ درد آشنا کبھی

اللہ رے نصیب، لگے اس کو چار چاند
اس چاند کے جو گرد ستارا رہا کبھی

اٹھتی جو ساتھیوں کی طرف چشمِ مکتحل
ہوتا تھا کیف اس کا نہ دل سے جدا کبھی

سنت سے اس کی ہٹ کے چلا جو بھی راہرو
منزل نہ مل سکے گی اسے برملا کبھی

پڑھیے درود ایک تو دس نیکیاں ملیں
وعدے سے اپنے پھر نہیں سکتا خدا کبھی

رب سے حصولِ خلد کی امید رکھ نظرؔ
ہاں ٹوٹنے نہ پائے یہ تارِ ثنا کبھی

٭٭٭
محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
سبحان اللہ
 
سبحان اللہ سبحان اللہ!

میرے نبیؐ کی طرح کوئی جامع الصفات
خلّاقِ دوجہاں نے نہ پیدا کیا کبھی

سنت سے اس کی ہٹ کے چلا جو بھی راہرو
منزل نہ مل سکے گی اسے برملا کبھی

بیشک ! کیا سچ کہا ہے!
 
Top