نظر لکھنوی نعت: نہ ہے اِدّعائے سخن وری نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو ٭ نظرؔ لکھنوی

نہ ہے اِدّعائے سخن وری، نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو
میں ثنائے ختمِ رسل لکھوں، کہ ہے ذکر جس کا چہار سو

یہ خدا کی دین ہے جس کو دے، وہ عطا ہوئی اسے شکل و خو
نہ مثال اس کی کہیں ملے، نہ مثیل اس کا ہے ہو بہ ہو

میں یہ کہہ رہا ہوں بہ قبلہ رُو، نہیں اس میں شائبۂ غُلو
ہے ہزار وجہِ سکونِ دل، ترا ایک نغمۂ وحدہٗ

جو تری جناب سے پھر گیا، وہ خود اپنے حق میں ہے فتنہ جُو
جو تری نگاہ میں چڑھ گیا ،وہ نگاہِ رب میں بھی سرخرو

وہ حبیبِ ربِّ کریم ہے، وہ خدا کے بعد عظیم ہے
وہی نورِ دیدۂ آمنہ، کہ ہے عبدہٗ و رسولہٗ

وہ نبیؐ ہے رحمتِ عالمیں، وہ ہے شمعِ محفلِ مرسلیں
ہے پکار اس کی چہار سو ،ہے اسی کی روشنی کو بہ کو

وہ شہِ عرب وہ شہِ عجم، جب اسی کے آئے یہاں قدم
تو بہار آئی چمن چمن، تو فروغِ سبزہ و رنگ و بو

میں پڑھوں کتاب کی آیتیں ،میں پڑھوں تمہاری حکایتیں
ہے اسی سے روح میں تازگی، ہے اسی سے گرم مرا لہو

نہ فریب خوردۂ مہوشاں، نہ شکار کردۂ گل رُخاں
میں اسیرِ زُلفِ نگارِ آں، میں ہوں محوِ دید خجستہ رُو

ہے یہی وطیرۂ عاشقاں ،ہے یہی وظیفۂ قدسیاں
اسی نامِ پاک کا ورد ہے، اسی خوش جمال کی گفتگو

مجھے قلب و روح کا عارضہ، میں مریضِ کہنۂ معصیت
ترے پاس چل کے میں آبسا، تو ہے چارہ ساز میں چارہ جُو

ترے آستاں سے کہاں اٹھوں، یہیں موت سے میں گلے ملوں
یہی میرے دل کا ہے فیصلہ، یہی میرے دل کی ہے آرزو

تری نعتِ پاک ہو اور میں، مرے ارد گرد ہو نکہتیں
نہ سخن فضول پسند اب، نہ پسند محفلِ ہاؤ ہو

سرِ حشر جام نظرؔ کو بھی، مرے ساقیا مرے ساقیا
کہ شراب و جامِ شراب کا ،ہے وہاں پہ مالکِ خاص تو

٭٭٭

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
 
آخری تدوین:

فاخر رضا

محفلین
نہ ہے اِدّعائے سخن وری نہ ہے مجھ کو نام کی آرزو
میں ثنائے ختمِ رسل لکھوں کہ ہے ذکر جس کا چہار سو

یہ خدا کی دین ہے جس کو دے وہ عطا ہوئی اسے شکل و خو
نہ مثال اس کی کہیں ملے نہ مثیل اس کا ہے ہو بہ ہو

میں یہ کہہ رہا ہوں بہ قبلہ رُو نہیں اس میں شائبۂ غُلو
ہے ہزار وجہِ سکونِ دل ترا ایک نغمۂ وحدہٗ

جو تری جناب سے پھر گیا وہ خود اپنے حق میں ہے فتنہ جُو
جو تری نگاہ میں چڑھ گیا وہ نگاہِ رب میں بھی سرخرو

وہ حبیبِ ربِّ کریم ہے وہ خدا کے بعد عظیم ہے
وہی نورِ دیدۂ آمنہ کہ ہے عبدہٗ و رسولہٗ

وہ نبیؐ ہے رحمتِ عالمیں وہ ہے شمعِ محفلِ مرسلیں
ہے پکار اس کی چہار سو ہے اسی کی روشنی کو بہ کو

وہ شہِ عرب وہ شہِ عجم جب اسی کے آئے یہاں قدم
تو بہار آئی چمن چمن تو فروغِ سبزہ و رنگ و بو

میں پڑھوں کتاب کی آیتیں میں پڑھوں تمہاری حکایتیں
ہے اسی سے روح میں تازگی ہے اسی سے گرم مرا لہو

نہ فریب خوردۂ مہوشاں نہ شکار کردۂ گل رُخاں
میں اسیرِ زُلفِ نگارِ آں میں ہوں محوِ دید خجستہ رُو

ہے یہی وطیرۂ عاشقاں ہے یہی وظیفۂ قدسیاں
اسی نامِ پاک کا ورد ہے اسی خوش جمال کی گفتگو

مجھے قلب و روح کا عارضہ میں مریضِ کہنۂ معصیت
ترے پاس چل کے میں آبسا تو ہے چارہ ساز میں چارہ جُو

ترے آستاں سے کہاں اٹھوں یہیں موت سے میں گلے ملوں
یہی میرے دل کا ہے فیصلہ یہی میرے دل کی ہے آرزو

تری نعتِ پاک ہو اور میں مرے ارد گرد ہو نکہتیں
نہ سخن فضول پسند اب نہ پسند محفلِ ہاؤ ہو

سرِ حشر جام نظرؔ کو بھی مرے ساقیا مرے ساقیا
کہ شراب و جامِ شراب کا ہے وہاں پہ مالکِ خاص تو

٭٭٭

محمد عبد الحمید صدیقی نظرؔ لکھنوی
آپ کو اور آپ کے احباب کو ربیع الاول کی آمد کی مبارک باد. رسول اکرم کی آمد مرحبا
 
Top