نعیم صدیقی نعت: دل میں شوقِ رسولِؐ حق آگاه ٭ نعیم صدیقیؒ

محمد تابش صدیقی نے 'حمد، نعت، مدحت و منقبت' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 15, 2020

  1. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,273
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    دل میں شوقِ رسولِؐ حق آگاه
    لب پہ ہے لا اله الا اللہ

    میرِ ذی جاه بے کسوں کی پناہ
    ہم فقیرانِ عشق پر بھی نگاه

    چھوڑ دی میں نے جب ہوس کی راہ
    آ پڑیں پاؤں منزلیں ناگاہ

    ترے جلووں کے سامنے حائل
    اپنے ہی دل کی تیرگیِ گناه

    ہم کو دردِ نہاں ہے کتنا عزیز
    آنکھ میں اشک ہے، نہ لب پر آہ

    تیرے تابع شعاعوں کے لشکر
    تیرے ہمراہ آیتوں کی سپاه

    جب بھی دیکھا ترا رخِ روشن
    لوٹ کر آ سکی نہ اپنی نگاه

    تیرے ہی نورِ حسن کی کرنیں
    پھوٹ پڑتی ہیں دل سے گاہ بگاه

    پوری تاریخ میں ظہور ترا
    جیسے بالائے بام جلوۂ ماہ

    تجھ سے دانش کی سرکشی کے سبب
    ہوا تہذیب کا نظام تباہ

    ”ربعِ خالی“ ہے زندگی میری
    کوئی چشمہ، نہ کوئی گل، نہ گیاہ

    ہیچ ہیں تیرے عاشقوں کے لیے
    امتیازاتِ عزّ و دولت و جاہ

    نور کا ایک نقطہ عشق ترا
    باقی سارا ورق ہے دل کا سیاہ

    روند ڈالا ہے وقت نے ان کی
    جو ستمگر بنے ترے بدخواہ

    گرچہ مشتِ گلِ پریشاں ہوں
    ہوں تو اک شہسوار کے ہمراہ

    اور تو خیر کیا بنا ہم سے
    بھیجتے ہیں درود شام و پگاہ

    آتی ہے بدر و کربلا سے صدا
    دل ہو زنده تو زندگی جنگاہ

    تازہ فریاد لے کے حاضر ہیں
    عدل و احساں کی سامنے درگاه!

    ٭٭٭
    نعیم صدیقیؒ
     
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر