مصطفیٰ زیدی نظم - دُوری (مصطفیٰ زیدی )

شاہ حسین نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مئی 4, 2009

  1. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,901
    دوری ۔ ۔ ۔ ۔




    پہلے تیری مُحبّتیں چُن کر
    آرزو کے محل بناتے تھے


    بے نیازانہ زیست کرتے تھے
    صرف تجھ کو گلے لگاتے تھے


    زندگے کی متاعِ سوزاں کو
    تیری آواز لُوٹ جاتی تھی


    تیرے ہونٹوں کی لے ابھرتے ہی
    زخم کی تان ٹوٹ جاتی تھی


    تو کنول تھی ایاغ تھی کیا تھی
    روشنی کا سراغ تھی کیا تھی


    میرا دل تھی دماغ تھی کیا تھی
    ساری دنیا چراغ تھی کیا تھی


    اور اب یا شراب پیتے ہیں
    یا فلک کو دعائیں دیتے ہیں


    تیرے خاوند کی معیّت میں
    دور سے تجھ کو دیکھ لیتے ہیں


    مصطفیٰ زیدی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,833
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ واہ ! بہت شکریہ شاہ صاحب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,054
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ شاہ صاحب مصطفیٰ زیدی کی خوبصورت نظم شیئر کرنے کیلیے!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر