عباد اللہ

محفلین
میں نثری نظم کو پسند نہیں کرتا لیکن اس ضمن میں ایک بات ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں ایک وقت تھا جب آزاد نظم کو بھی ایسی ہی تنقید کا سامنا تھا وہ منٹو کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہو گا جب انہوں نے عجیب و غریب ہیت کی ایک موٹر سائیکل دیکھ کے قہقہے لگا کر ن م راشد ہے کہا کہ درحقیقیت یہ موٹر سائیکل نہیں بلکہ آپ کی کوئی نظم ہے ۔۔۔
 

محمد وارث

لائبریرین
میں نثری نثم کو پسند نہیں کرتا لیکن اس ضمن میں ایک بات ضرور عرض کرنا چاہتا ہوں ایک وقت تھا جب آزاد نظم کو بھی ایسی ہی تنقید کا سامنا تھا وہ منٹو کا لطیفہ تو آپ کو یاد ہو گا جب انہوں نے عجیب و غریب ہیت کی ایک موٹر سائیکل دیکھ کے قہقہے لگا کر ن م راشد ہے کہا کہ درحقیقیت یہ موٹر سائیکل نہیں بلکہ آپ کی کوئی نظم ہے ۔۔۔
درست ہے لیکن آزاد نظم نے پندرہ بیس سالوں میں اپنے آپ کو منوا لیا تھا، سب اس کے قائل ہو گئے تھے۔ نثم پچھلے پندرہ بیس سالوں بلکہ زیادہ عرصے میں وہیں ہے جہاں تھی۔
 

عباد اللہ

محفلین
درست ہے لیکن آزاد نظم نے پندرہ بیس سالوں میں اپنے آپ کو منوا لیا تھا، سب اس کے قائل ہو گئے تھے۔ نثم پچھلے پندرہ بیس سالوں بلکہ زیادہ عرصے میں وہیں ہے جہاں تھی۔
واقعی اگر اسے نثم کہا جائے تو شاید سارے اختلافات رفع ہوجائیں:sneaky:
 

محمد وارث

لائبریرین
واقعی اگر اسے نثم کہا جائے تو شاید سارے اختلافات رفع ہوجائیں:sneaky:
ہمارے ایک دوست تھے اس محفل کے، میم میم مغل (مغزل) صاحب، خوبصورت شاعری کرتے ہیں، وہ اسے نثم کہتے تھے اور اس سے شوق بھی فرماتے تھے، صیغہ ماضی اس لیے کہ کافی عرصے سے کراچی میں کہیں کھوئے گئے ہیں :)
 
محمد وارث بھائی قطعی طور پر اس کے وجود سے انکار بھی ٹھیک نہیں کہ صاحب حیثیت لوگ اس میں زور آزما رہے ہیں۔ ہاں اس کی جنس، صنف کے تعین، ہیت اور اصول و قوائد پر جرح و تنقیدی بحث ہو سکتی ہے مگر ذاتیات سے بالا ہو کر تاکہ کسی نکتہ پر پہنچا جا سکے۔
 

فرقان احمد

محفلین
سوال یہ ہے

کلام موزوں کہنے پر قدرت رکھنے والے اس کی طرف کیوں مائل ہوئے؟

ممکنہ جوابات

1۔ محض نئے شعری تجربے کے لیے

2۔ عالمی شاعری میں اس کے مسلسل فروغ پانے کے باعث

3۔ مروجہ شعری اصناف سے اکتاہٹ کی وجہ سے

یا پھر کچھ اور!

مزید یہ کہ،

مغرب میں یہ بحث اس تواتر سے کیوں نہیں ہو رہی ہے کہ شعر کہنے کے مخصوص اصول و قواعد ہیں۔ شاید مشرق میں رہنے بسنے والوں کے لیے ذوقی معیارات اور ہیں جس کی طرف محترم راحیل فاروق ایک اور لڑی میں اشارہ کر چکے!
 
آخری تدوین:
راحیل فاروق بھائی! کہنا کیا چاہتے ہو۔۔۔:laughing:
شاید مشرق میں رہنے بسنے والوں کے لیے ذوقی معیارات
جیسا کے اوپر موسیقی والی مثال دی گئی ہے یہ بات درست ہے کہ شاعری جو لے میں ہو وہی روح کو بھاتی ہے۔ پیر نصیر الدین نصیر صاحب فرماتے ہیں کہ
پیار نہیں ہے سر سے جس کو
مورت ہے انسان نہیں

گوکہ یہاں انہوں نے سر اور لے سے متعلق بحث کی ہے، مگر اسی کو پیمانہ بناتے ہوئے شاعری میں استعمال کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مروجہ اصول و قواعد پر مبنی ترنگ کی شاعری ہی روح کی غذا ہوگی۔ وگرنہ پھر مقبض روح کی بابت کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
 

فرقان احمد

محفلین
مروجہ اصول و قواعد پر مبنی ترنگ کی شاعری ہی روح کی غذا ہوگی

ایک زمانہ تھا جب مغرب کے حالات بھی ایسے ہی تھے جیسے ہمارے ہیں، اس لیے اگر وہاں حالات بدلے تو یہاں بھی بدل سکتے ہیں۔ صنعتی ترقی کے بعد مسابقت اور کمرشلائزیشن نے شاعری کی صورت ہی بدل ڈالی ہے اور پھر یہ بھی دیکھیے کہ سائنس و ٹیکنالوجی کے فروغ سے بہرصورت اتنا ضرور ہوا ہے کہ شاعری کے ساتھ ساتھ شاعر کی اہمیت میں بھی کمی آئی ہے۔ یہاں کی بات کیجیے تو ایک وقت تھا جب یہاں کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کو عروج حاصل تھا تاہم آہستہ آہستہ ذوقی معیارات بدلتے چلے گئے۔ آج کی نسل اور آنے والی نسل کے پسند ناپسند کے کیا معیارات ہوں گے، اس بابت بھی سوچا جانا چاہیے۔

مزید یہ کہ بعض اوقات یوں معلوم پڑتا ہے کہ غالباََ 'نثری نظم' کہنے والے خود کو شاعر کہلوانے پر بضد ہیں اور اس اہلیت کے لیے متعلقہ حوالہ جات وہ مغرب سے لے کر آتے ہیں کہ وہاں انہیں شاعر تو تسلیم کیا ہی جاتا ہے۔ جب کہ دوسری طرف عالم یہ ہے کہ یہاں ان کو معطون کیا جاتا ہے اور دیکھا جائے تو نثری نظم کا مذاق اڑانے والوں کے پاس بھی بڑے مضبوط دلائل موجود ہیں اور ان دلائل میں اتنا دم ضرور ہے کہ نثری نظم کا دفاع کرنے والوں کا سانس پھول جاتا ہے۔
 
یہاں کی بات کیجیے تو ایک وقت تھا جب یہاں کلاسیکی اور نیم کلاسیکی موسیقی کو عروج حاصل تھا تاہم آہستہ آہستہ ذوقی معیارات بدلتے چلے گئے۔ آج کی نسل اور آنے والی نسل کے پسند ناپسند کے کیا معیارات ہوں گے
مجھے یہاں اپنے مرشد کا جملہ یاد آ رہا ہے، کہ "ہادی و مرشد وہ ہے جو زمانے کو ساتھ لے کر چلے نہ زمانے کے پیچھے چل پڑے" زمانے کی ریت روایت بدلنے سے لازم تو نہیں کہ ہر رنگ ڈھنگ ہی بدل دیا جائے۔ ضروری تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے- مگر سوشل میڈیا کی بھرمار کے اس دور میں دیکھیں تو مجھے اپنی ذاتی حیثیت میں تو کم از کم شدید کوفت ہوتی ہے جب بے تکی اور آہنگ سے خالی شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔ آپ جہاں کا حوالہ دے رہے ہیں وہاں کے ادب کا حال بھی دیکھ لیجیے(موجودہ دور میں) اور ادب محض فنون تک نہیں رہتا، یہ روحیں سنوارتا ہے۔ اگر بے لاگ (بے لگام) شاعری ہونا شروع ہوگئی تو اساتذہ فن کا مذاق اڑایا جائے گا۔ جو کہ ادب (فن) اور ادب (آداب) کے خلاف ہے۔ جس کے نتائج میں بے راہ روی ہیجان اور مادر پدر آزادی جنم لیتی ہے۔ صوفیاء نے اس خطے میں اچھی شاعری اور موسیقی ہی سے مذہب کو بھی پروان چڑھا اور امن و محبت اور اخلاص کا پیغام بھی عام کیا جوادب و فن کا خاصہ اور مقصد ہے۔ نکتہ یہ ہے اسے ہضم کرنے میں کوئی مضا‏ئقہ نہیں لیکن اسے کسی اصول و قاعدے کا پابند تو کریں۔ اس کی سمت متعین کرتے ہوئے اسے کوئی نام تو دیں۔
 

فرقان احمد

محفلین
مجھے یہاں اپنے مرشد کا جملہ یاد آ رہا ہے، کہ "ہادی و مرشد وہ ہے جو زمانے کو ساتھ لے کر چلے نہ زمانے کے پیچھے چل پڑے" زمانے کی ریت روایت بدلنے سے لازم تو نہیں کہ ہر رنگ ڈھنگ ہی بدل دیا جائے۔ ضروری تبدیلی ناگزیر ہوتی ہے- مگر سوشل میڈیا کی بھرمار کے اس دور میں دیکھیں تو مجھے اپنی ذاتی حیثیت میں تو کم از کم شدید کوفت ہوتی ہے جب بے تکی اور آہنگ سے خالی شاعری پڑھنے کو ملتی ہے۔ آپ جہاں کو حوالہ دے رہے ہیں وہاں کے ادب کا حال بھی دیکھ لیجیے۔ اور ادب محض فنون تک نہیں رہتا، یہ روحیں سنوارتا ہے۔ اگر بے لاگ (بے لگام) شاعری ہونا شروع ہوگئی تو اساتذہ فن کا مذاق اڑایا جائے۔ جو کہ ادب (فن) اور ادب (آداب) کے خلاف ہے۔ جس کے نتائج میں بے راہ روی ہیجان اور مادر پدر آزادی جنم لیتی ہے۔ صوفیاء نے اس خطے میں اچھی شاعری اور موسیقی ہی سے مذہب کو بھی پروان چڑھا اور امن محبت اور اخلاص کا پیغام بھی عام کیا جوادب و فن خاصہ اور مقصد ہے۔ نکتہ یہ ہے اسے ہضم کرنے میں کوئی مضا‏ئقہ نہیں لیکن اسے کسی اصول و قاعدے کا پابند تو کریں۔ اس کی سمت متعین کرتے ہوئے اسے کوئی نام تو دیں۔

صاحب! معاملہ دو طرح سے دیکھا جائے تو مناسب ہو گا۔

1۔ کیا ہے؟ وہ تو پچھلی پوسٹ میں آپ کے گوش گزار کر دیا ہے۔
2۔ کیا ہونا چاہیے؟ یہ آپ فرما چکے جس کے مندرجات سے مجھے کافی حد تک اتفاق ہے۔

تاہم، ہونا وہی ہے جو ہو کر رہنا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
محمد وارث بھائی قطعی طور پر اس کے وجود سے انکار بھی ٹھیک نہیں کہ صاحب حیثیت لوگ اس میں زور آزما رہے ہیں۔ ہاں اس کی جنس، صنف کے تعین، ہیت اور اصول و قوائد پر جرح و تنقیدی بحث ہو سکتی ہے مگر ذاتیات سے بالا ہو کر تاکہ کسی نکتہ پر پہنچا جا سکے۔
دیکھیے مجھے کسی کی نثری شاعری کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، شوق سے کریں۔ میں اوپر لکھ چکا کہ ہمارے ایک بہت اچھے دوست بھی کرتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی میری رائے پوچھے گا تو پھر میں وہی عرض کرونگا جو کر رہا ہوں۔

محض اطلاعا عرض ہے کہ میں نے اس تھریڈ میں کوئی ذاتیات کی بات شروع نہیں کی تھی، فقط یہ پوچھا تھا کہ اس صنف کے اصول و ضوابط و قواعد کیا ہیں، وہ بھی کسی خاص شخص کا نام لے کر نہیں بلکہ ایک عام سی بات سب سے کی تھی، اُس کے جواب میں پھر آپ سب نے دیکھا ہی کہ کیا ہوا۔ اس فورم پر یہ میرا دسواں سال ہے اور اس طرح کی باتیں نہ میں کرتا ہوں نہ سنتا ہوں۔

میرا سوال ابھی بھی اپنی جگہ پر موجود ہے، اگر یہ ایک باقاعدہ صنف ہے تو اس کے اصول و ضوابط تو ہونگے، وہ کیا ہیں۔ یا اس کا واحد قاعدہ یہ ہے کہ اس صنف کا کوئی قاعدہ نہیں ہے؟ اس صنف میں طبع آزمائی کرتے ہوئے لوگوں کو دہائیاں ہو گئیں، کیوں یہ مرتب نہیں ہو سکی، کیوں یہ مروج نہیں ہو سکی، کیوں یہ قبول عامہ کا درجہ حاصل نہیں کر سکی، کیوں اس کے ماننے والے ابھی بھی وہیں باتیں کرنے پر مجبور ہیں جو دہائیاں پہلے کرتے تھے، کیوں اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ پی ایچ ڈی کے مقالے تو اس کا جواب نہیں۔

میرے سوال یا ایک ہی سوال سنجیدہ نوعیت کا ہے، اس کا کوئی سنجیدہ جواب ہونا چاہیے، کوئی بھی دے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
سوال یہ ہے

کلام موزوں کہنے پر قدرت رکھنے والے اس کی طرف کیوں مائل ہوئے؟

ممکنہ جوابات

1۔ محض نئے شعری تجربے کے لیے

2۔ عالمی شاعری میں اس کے مسلسل فروغ پانے کے باعث

3۔ مروجہ شعری اصناف سے اکتاہٹ کی وجہ سے

یا پھر کچھ اور!

مزید یہ کہ،

مغرب میں یہ بحث اس تواتر سے کیوں نہیں ہو رہی ہے کہ شعر کہنے کے مخصوص اصول و قواعد ہیں۔ شاید مشرق میں رہنے بسنے والوں کے لیے ذوقی معیارات اور ہیں جس کی طرف محترم راحیل فاروق ایک اور لڑی میں اشارہ کر چکے!
ہم کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نثری شاعری شروع کر دیں گے، تو افریقہ کا قبائلی اپنے مقامی ساز کی دھن پر ہمارے شاعری گانے لگے گا یا عرب کا بدو حدی خوانی میں ہماری نثری شاعری کے عربی ترجمے گائے گا، ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ ہماری نثری شاعری کے ترجمے یورپ کے پب میں بیٹھا کوئی گورا بیئر ہاتھ میں پکڑے کسی ہمنشیں کو سنائے گا؟ یہ ایک ایسی دلیل ہے جو فقط سراب ہے کہ نثری شاعری سے ہماری شاعری عالمی شاعری ہو جائے گی۔

بھیا اردو شاعری ہے یہ بس ہماری ثٖقافت اور تہذیب کا حصہ ہے، اس سے جب بھی کوئی صحیح طور پر حظ اٹھائے گا تو وہ اردو خواں ہی ہوگا چاہے کہیں بھی ہو اور لطف بھی بغیر ترجمے کے اٹھائے گا۔ یورپ یا امریکہ میں جو اردو کے گورے ماہرین ہیں وہ بھی ہماری شاعری سے اگر لطف اٹھاتے ہیں تو اردو ہی میں، کولمبیا یونیورسٹی کی پروفیسر محترمہ فرانسس پرچیٹ کی مثال ہے یا برطانیہ کے آنجہانی رالف رسل کی یا جرمنی کی این میری شمل کی وغیرہ۔ یہ سارے اردو ہی میں اردو شاعری کو پڑھتےاورپڑھاتے رہے، اور اگر ترجمہ بھی کیا تو اساتذہ کا۔ یہ غیر ملکی اور دوسری زبانوں والے جب ہماری شاعری کی طرف مائل ہوتے ہیں تو وہ میر غالب اقبال فیض سے شروع کرتے ہیں نہ کہ کسی کی نثری شاعری سے ، وہ ترجمے بھی کرتے ہیں تو انہی کے۔

بجائے اس سراب کے پیچھے بھاگنے کے کہ نثری شاعری سے اردو شاعری کو عالمی شاعری میں فروغ حا صل ہوگا، ہمیں اس شاعری کو جس کو دنیا پہلے سے جانتی ہے اس کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پنجابی میں کہتے ہیں اگا دوڑ ، تے پچھا چوڑ، یعنی جو پہلے سے موجود ہے اس کی تو پروا نہیں اس کو تو برباد کر دیا اور مزید کی ہوس لگی ہوئی ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
ہم کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم نثری شاعری شروع کر دیں گے، تو افریقہ کا قبائلی اپنے مقامی ساز کی دھن پر ہمارے شاعری گانے لگے گا یا عرب کا بدو حدی خوانی میں ہماری نثری شاعری کے عربی ترجمے گائے گا، ہم کیوں سمجھتے ہیں کہ ہماری نثری شاعری کے ترجمے یورپ کے پب میں بیٹھا کوئی گورا بیئر ہاتھ میں پکڑے کسی ہمنشیں کو سنائے گا؟ یہ ایک ایسی دلیل ہے جو فقط سراب ہے کہ نثری شاعری سے ہماری شاعری عالمی شاعری ہو جائے گی۔

بھیا اردو شاعری ہے یہ بس ہماری ثٖقافت اور تہذیب کا حصہ ہے، اس سے جب بھی کوئی صحیح طور پر حظ اٹھائے گا تو وہ اردو خواں ہی ہوگا چاہے کہیں بھی ہو اور لطف بھی بغیر ترجمے کے اٹھائے گا۔ یورپ یا امریکہ میں جو اردو کے گورے ماہرین ہیں وہ بھی ہماری شاعری سے اگر لطف اٹھاتے ہیں تو اردو ہی میں، کولمبیا یونیورسٹی کی پروفیسر محترمہ فرانسس پرچیٹ کی مثال ہے یا برطانیہ کے آنجہانی رالف رسل کی یا جرمنی کی این میری شمل کی وغیرہ۔ یہ سارے اردو ہی میں اردو شاعری کو پڑھتےاورپڑھاتے رہے، اور اگر ترجمہ بھی کیا تو اساتذہ کا۔ یہ غیر ملکی اور دوسری زبانوں والے جب ہماری شاعری کی طرف مائل ہوتے ہیں تو وہ میر غالب اقبال فیض سے شروع کرتے ہیں نہ کہ کسی کی نثری شاعری سے ، وہ ترجمے بھی کرتے ہیں تو انہی کے۔

بجائے اس سراب کے پیچھے بھاگنے کے کہ نثری شاعری سے اردو شاعری کو عالمی شاعری میں فروغ حا صل ہوگا، ہمیں اس شاعری کو جس کو دنیا پہلے سے جانتی ہے اس کا معیار بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔پنجابی میں کہتے ہیں اگا دوڑ ، تے پچھا چوڑ، یعنی جو پہلے سے موجود ہے اس کی تو پروا نہیں اس کو تو برباد کر دیا اور مزید کی ہوس لگی ہوئی ہے۔

صاحب! یہ سوال تو آپ ایسے اصحاب سے سیکھنے کی غرض سے کیے گئے تھے، گو کہ اندر کھاتے میں بھی آپ کے ساتھ ہی ہوں، تاہم، یہی وہ واحد طریقہ معلوم ہوتا ہے جو آپ کے دل کی بات سامنے لانے کے لیے کارآمد ہے۔ :)

اب کچھ مزید گزارشات۔ اتنا ضرور ہے کہ جب بھی کوئی رجحان تحریک کی شکل اختیار کرنے کی طرف بڑھے تو اس پر مباحث ہوتے ہیں۔ معاملہ یوں ہے کہ ہمارے ہاں کلام موزوں پر قدرت رکھنے والے بیشتر شعراء اس طرف آئے، بعضے پلٹ گئے، تاہم بعضے اب تک اس کی افادیت اور اہمیت کو تسلیم کیے بیٹھے ہیں جو بجائے خود اس صنف کے وجود کا ایک جواز ہے۔ عالمی شاعری کےحوالے سے بات اس لیے کی تھی کہ یہ صنف دیگر اصناف کے برعکس عالمی سطح پر ہونے والی شاعری کے ساتھ زیادہ میل کھاتی ہے۔ جہاں تک اردو زبان اور اس کی مروجہ اصناف کا معاملہ ہے تو ان کا تذکرہ یہاں بے محل ہے، ان کی اپنی خاص اہمیت ہے اور رہے گی۔ ہاں، اس حوالے سے تو کوئی شک شبہ کی گنجائش نہیں ہے تاہم جیسے جیسے عالمگیریت کا چلن عام ہوتا جائے گا، ویسے ویسے اس نئی صنف کو پذیرائی ملنے کا امکان ضرور پیدا ہوتا جائے گا۔ یہی وہ امکانات ہیں جو اس نئی صنف میں پوشیدہ ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے نقادان اس کے گن گاتے ہیں اور نامور شعراء نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ مروجہ شعری اصناف کو اس صنف سے کوئی خطرہ ہے۔
 

عباد اللہ

محفلین
شعر کی تعریف اکابرینِ مللِ اسلامیہ کے نزدیک یہ ہے کہ یہ وہ کلامِ موزوں ہے جو بالقصد کہا گیا ہو۔ یعنی شعر گوئی کا ارادہ کسی کلام کے شاعری ہونے کو مستلزم ہے۔
قرآنِ کریم میں بہت کم جگہوں پر موزوں کلمات ملتے ہیں۔ ان پر تقریباً تمام ماہرینِ عروض اور شعرفہموں نے بات کی ہے مگر کسی نے کبھی بھی انھیں شعر قرار نہیں دیا۔ وجہ اس کی زیادہ تر وہی ہے جو اوپر بیان کر دی گئی۔
میرا مخلصانہ مشورہ ہو گا کہ جو مواد آپ تنقید و تحقیق کے نام پر پڑھتے ہیں اسے کبھی کبھی ناقدانہ اور محققانہ نظر سے جانچ بھی لیا کیجیے!
سر اس بالقصد شعر کہنے والے فارمولے پر اگر غور کیا جائے تو ایک انتہائی گستاخانہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ "کیا وہ موزوں کلمات خدا سے غیر ارادی طور پر سرزد ہوئے،کیا خدا سے بلا ارادہ بھی کچھ اعمال سر زد ہوتے ہیں "
مجھے یہ اصول وضع کرنے والوں کو جاہل کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان کے قائدے کے تحت کوئی قرآن کو شعر کی کتاب تو نہیں کہے گا لیکن دوسرا سوال اس سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے
 
سر اس بالقصد شعر کہنے والے فارمولے پر اگر غور کیا جائے تو ایک انتہائی گستاخانہ سوال ذہن میں اٹھتا ہے کہ "کیا وہ موزوں کلمات خدا سے غیر ارادی طور پر سرزد ہوئے،کیا خدا سے بلا ارادہ بھی کچھ اعمال سر زد ہوتے ہیں "
آپ نے شاید شعر کی اس تعریف کو اور بالخصوص دوسرے جملے میں موجود اس کی وضاحت کو غور سے نہیں پڑھا۔
شعر کی تعریف اکابرینِ مللِ اسلامیہ کے نزدیک یہ ہے کہ یہ وہ کلامِ موزوں ہے جو بالقصد کہا گیا ہو۔ یعنی شعر گوئی کا ارادہ کسی کلام کے شاعری ہونے کو مستلزم ہے۔
بات محض قصد کی نہیں ہے بلکہ خاص شعر گوئی کے قصد کا مذکور ہے۔ ورنہ قصد تو ہر کام میں کسی نہ کسی صورت میں موجود ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم کو شاعری کے ارادے سے ہرگز نازل نہیں فرمایا۔ مگر شعرا جب شعر کہتے ہیں تو ان کی نیت شاعری ہی کی ہوتی ہے۔
مجھے یہ اصول وضع کرنے والوں کو جاہل کہنے میں کوئی عار نہیں کہ ان کے قائدے کے تحت کوئی قرآن کو شعر کی کتاب تو نہیں کہے گا لیکن دوسرا سوال اس سے کہیں زیادہ خطر ناک ہے
ہمیں تو آپ کی جلدبازیاں زیادہ خطرناک معلوم ہو رہی ہیں۔ :):)
 

عباد اللہ

محفلین
ہمیں تو آپ کی جلدبازیاں زیادہ خطرناک معلوم ہو رہی ہیں۔
:)
اللہ تعالیٰ نے قرآنِ حکیم کو شاعری کے ارادے سے ہرگز نازل نہیں فرمایا[/QUOTE
:handshake:
اس پر کچھ بحث شمس الرحمن فاروقی نے اپنی کتاب " آہنگ اور عروض" میں کی ہے لیکن کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔ یوں بھی شمس الرحمن کا ذہنی توازن درست معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس عہد میں شعرِ شور انگیز کے نام سے 4 ضخیم جلدین میر کی تفہیم پر مرتب کرتا ہے جبکہ میر کے شعری محاورے کو یکسر مسترد کیا جا چکا ہے :) کچھ احباب کے نزدیک اس کا ذہنی توازن اس لئے بھی درست نہیں کہ وہ ناصر کو فراق ہے بڑا شاعر کہتا ہے
  • جہاں تک شعر گوئی کے ارادے کی بات ہے تو اس ضمن میں جوش ملیح آبادی نے کا اشارہ بیحد لطیف ہے کہ "میں نے کوئی شعر ارادتاََ نہیں کہا "
    کیا ہم جوش کے کلام کو شاعری ماننے سے انکار کر سکتے ہیں ؟ اگر ہاں تو پھر میں آپ سے متفق ہوں
 

طالب سحر

محفلین
اس پر کچھ بحث شمس الرحمن فاروقی نے اپنی کتاب " آہنگ اور عروض" میں کی ہے لیکن کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکا۔
فاروقی صاحب کی مذکورہ کتاب میں اس بارے میں چند جملے ضرور موجود ہیں، لیکن کوئی باقاعدہ بحث نہیں ہے۔ جو جملے فاروقی صاحب نے لکھے ہیں، وہ آپ پہلے ہی paraphrase کر چکے ہیں۔
یوں بھی شمس الرحمن کا ذہنی توازن درست معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس عہد میں شعرِ شور انگیز کے نام سے 4 ضخیم جلدین میر کی تفہیم پر مرتب کرتا ہے جبکہ میر کے شعری محاورے کو یکسر مسترد کیا جا چکا ہے :)
راحیل فاروق نے ایک اور لڑی میں کافی سنجیدگی سے میراور غالب کو مسترد کیا تھا (جس پر بات ہونی چاہیے تھی)، لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے آپ میر کو مسترد کرنے میں اُتنے سنجیدہ نہیں ہیں۔
یہی وہ امکانات ہیں جو اس نئی صنف میں پوشیدہ ہیں اور شاید یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے نقادان اس کے گن گاتے ہیں اور نامور شعراء نے اس صنف میں طبع آزمائی کی ہے۔
اس لڑی کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس میں دورانِ گفتگو بہت ساری assertions کی گئی ہیں، جن کو کافی حد تک مِن و عَن تسلیم کر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے آپ درست کہہ رہے ہوں، لیکن میں جاننا چاہوں گا کہ آپ کن بڑے نقادوں اور نامور شعراء کی بات کررہے ہیں۔
 

گلزار خان

محفلین
محمد وارث صاحب اپ غزل، یا نظم کیسے لکھتے ہیں اور دوسرا یہ جو اچھا شاعر ہوتا ہے جب وہ لکھتا ہے تو اُسکی غزل میں کیوں اختلاف نہیں ہوتا اور وزن کیسے متعن ہوتا ہے؟
 

فرقان احمد

محفلین
اس لڑی کی ایک عجیب بات یہ ہے کہ اس میں دورانِ گفتگو بہت ساری assertions کی گئی ہیں، جن کو کافی حد تک مِن و عَن تسلیم کر کیا گیا ہے۔ ممکن ہے آپ درست کہہ رہے ہوں، لیکن میں جاننا چاہوں گا کہ آپ کن بڑے نقادوں اور نامور شعراء کی بات کررہے ہیں۔
محترم طالب سحر! آپ نے بہت اچھے انداز میں اس مکالمے کو آگے بڑھانے کی کوشش کی ہے جو بجائے خود قابل ستائش ہے۔ آپ درج ذیل شعراء کو نامور شعراء یا نقادوں میں شامل نہ فرمائیں تو الگ معاملہ ہے تاہم آپ کے حکم پر سردست یہ ابتدائی فہرست حاضر ہے۔ شعراء میں احمد ہمیش، قمر جمیل، انیس ناگی، رئیس فروغ، آذر حفیظ، ثروت حسین، عذرا عباس، حفیظ صدیقی، نسرین انجم بھٹی، شائستہ حبیب، افتخار عارف، سعادت سعید، تبسم کاشمیری، اقبال فہیم جوزی، مبارک احمد، فاطمہ حسن، کشور ناہید، عارف عبدالمتین، صفیہ ادیب، عباس اطہر شامل ہیں جب کہ نقادوں کی فہرست میں بھی زیادہ تر ان اصحاب کے نام ہی آتے ہیں تاہم اہم نقادوں میں انیس ناگی، سرمد صہبائی، مخدوم منور،سجاد باقر رضوی،قمر جمیل، فخر الحق نوری، نصیر احمد نصیر اور عارف عبدالمتین شامل ہیں۔ واضح رہے کہ یہ وہ نام ہیں جو اس وقت میرے ذہن میں ہیں اور بہت ممکن ہے کہ اس فہرست میں کئی اہم نام درج ہونے سے رہ گئے ہوں۔ سلامت رہیں!
 
Top