نثری نظم کا عہدِ موجود

محمد خرم یاسین نے 'تعلیم و تدریس' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 30, 2016

  1. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    سرجی اب "بیچارے قانون سازوں" کوغنڈہ تو نہ کہیے :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  2. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,388
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    اگر وہ بیچارے ہیں تو پھر میں غنڈہ ہوا۔ :terror:
     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  3. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ایک بار پیشی پر آئے ہوئے ایک ریسکیورسے ہمارے آفیسر نے پوچھا "تم بدمعاش ہو؟"
    ریسکیورنے کمال معصومیت سے جواب دیا"نہیں سر میرا بڑابھائی بدمعاش ہے"

    اب وہ بیچارے ہمارے ہی منتخب کردہ ہیں تو کیا کہہ سکتے ہیں ہم :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    معاملہ وہیں اٹکا ہوا ہے ہنوز ۔۔۔

    1) اگر یہ نظم ہے تو پھر اس کے اصول و قواعد کیا ہیں؟
    2) اگر یہ نثر ہے تو پھر خوب صورت اور رواں دواں نثر کو 'نثری نظم' یا 'نثم' کیوں نہ کہا جائے؟ یا پھر نثم میں اور 'رواں دواں نثر' میں کیا بڑا فرق ہے؟
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 1, 2016
    • زبردست زبردست × 1
  5. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,388
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نثر کے لئے بدصورت ہونا ضروری ہے؟ روانی نثر میں بھی روا رکھی جا سکتی ہے اور رکھی گئی ہے۔
    اس کو نثر کہنے میں کیا امر مانع ہے؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    صاحب! یہی تو میرے سوالات ہیں نثری نظم یا نثم کہنے والوں سے!!! یہ جواب مل جائیں تو کم از کم میری تشفی ہو جائے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  7. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,509
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    نثم مجھے کچھ امریکی نما لگی ہے۔ جو اصلا نا افریقی ہے نا یورپی۔ کچھ کہتے ہیں اینگلو ہے۔ کچھ افریقی کہنے پہ مصر ہیں کچھ یورپی۔ بہتر ہے اسے اظہار خیال، ابلاغ کا ذریعہ مانا جائے۔ اس کے وجود سے یکسر انکار ممکن نہیں۔ اسے ادب اور سخن کے محلے میں رہنے دیں۔ رہی اس کی ذات تو اسے نثم پکارا جانا کافی معقول ہے۔ نثری نظم کہنے سے خود اسے ایک الگ حیثیت سے پہچان نہیں ملے گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  8. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    چلیے اگر یہاں ذاتیات شروع نہ ہوجائے تو اس پر بات کی جاسکتی ہے۔ آپ کے خیال میں ایک صنف جو نہ مکمل نظم ہواور نہ ہی نثر اس کے قواعد کس طرح مرتب کیے جاسکتے ہیں ؟ اگر کسی صنف کے قواعدمرتب نہ کیے گئے ہوں تو کیا وہ صنف ِ ادب ہی نہیں قرار دی جائے گی؟ اردو کا تو اپنارسم الخط تک نہیں، چلیں کچھ حروف کو شامل بھی کر لیں تو پنجابی کے بارے میں کیا کہا جائے گا ؟ اسے زبان قرار نہ دیا جائے؟ کیا آپس میں بحث کرنے کے بجائے کسی بڑے شاعر یا جامعہ کا رخ نہ کیا جائے تا کہ کسی مستند مدرس سے اس پر بات کی جائے ؟ اگر بات اسے محض نظم مان کر ہی آگے بڑھانے کی ہے تو اسے آزاد نظم سے ایک قدم آگے تصور کر لیجیے جو آزاد نظم جتنی پابندیوں میں بھی نہیں جکڑی جا سکتی۔یوں سمجھئے کہ اسے بحور کی پابندیوں سے آزاد قرار دے دیا گیا ۔ چونکہ یہ نظم و نثر دونوں کا مرقع ہے اس لیے اس میں تجربات جیسا کہ افسانے اور ناول میں کیے گئے مثلا میجک رئیلزم، ڈاڈازم، سیرلزم، ایبسٹریکٹزم وغیرہ کا وسیع امکان موجود ہے۔ میرے خیال میں تو اس کے جواز کے لیے یہی کافی ہے کہ اس میں نثر جیسے تجربات کیے جاسکتے ہیں اور شعریت بھی برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ شعریت سے مراد یہاں محض موزوں شعریت ہی نہ لی جائے۔ مائیکرو فکشن پر کوئی اعتراض نہیں کرتا، تمام اعتراضات بیچاری نثری نظم پر ہی کیوں؟ حالانکہ اسے ترجمہ بھی کیا جا سکتا ہے، با آسانی کسی بھی زبان کے قالب میں ڈھالا جا سکتا ہے۔ کم از کم غزل سے تو یہ اس حوالے سے بہتر ہی ہے۔ مختلف زبانوں کی نثموں کو با آسانی اردو ترجمہ کیا جا سکتا ہے ۔ کیا یہ سہولت آپ کو کوئی اور صنفِ نظم مہیا کرتی ہے؟ یاد رکھیے ترجمے سے زبانوں کا دامن وسیع ہوتاہے، نئے تجربات کے امکانات ظاہر ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔(یہ محض میرے خیالات ہیں ، اس حوالے سے اس کے بڑے بڑے ماہرین موجود ہیں جن سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ جامعہ کی چھٹیاں ختم ہوتی ہیں تو اس پر کام کر چکنے والے ڈاکٹر صاحبان سے رابطے کی کوشش کی جائے گی انشا اللہ)۔ دوسرے سوال کا جواز ایسی نثر کےکسی عملی نمونے سے مشروط ہے۔مثلا آبِ حیات کا کوئی اقتباس لے لیجیے پھر اس پر بات ہوگی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  9. محمد تابش صدیقی

    محمد تابش صدیقی منتظم

    مراسلے:
    25,388
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    یہ ایک غلط فہمی ہے جو بار بار دہرائی جا رہی ہے۔ کسی نے ابھی تک اس کو ادب سے باہر کرنے کی بات نہیں کی۔ صرف نظم کہنے پر اعتراض ہے۔ نثر کہنے پر کسی کا اعتراض مجھے نظر نہیں آیا۔ بلکہ یہی کہا جا رہا ہے کہ اس کا شمار نثر میں کیا جائے، نہ کہ نظم میں۔
     
    • متفق متفق × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. فرقان احمد

    فرقان احمد محفلین

    مراسلے:
    10,183
    بلاشبہ آپ نے اہم نکات اٹھائے ہیں۔ اس پر تفصیلی جواب کے منتظر رہیے گا۔ شکریہ محمد خرم یاسین بھائی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس سلسلے میں جو صاحب فی الوقت رابطے میں آ سکتے ہیں وہ نصیر احمد ناصر صاحب ہیں۔ ان کا فیس بک لنک یہ ہے۔
    https://www.facebook.com/naseer.nasir.3?fref=ts
    میں نے انہیں قواعد کے حوالے سے سوال بھیج دیا ہے۔ آپ بھی ان سے بات کر سکتے ہیں۔

    حصول برکت کے لیے گلزار صاحب کی ایک نثری نظم شئیر کر رہا ہوں وہ سامنے موجود نہیں ورنہ انہیں یہ مشورہ بھی دیتا کہ حضرت ہیلمٹ پہن لیجیے کہیں کوئی پتھر نہ آ لگے :)

    http://www.urdumaza.org/urdu-poetry/view-urdu-poetry/839/87/Gulzar/khhandar.html
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  12. راحیل فاروق

    راحیل فاروق محفلین

    مراسلے:
    1,323
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Psychedelic
    میں اس گفتگو کا حصہ بننے سے دانستہ گریز کر رہا تھا مگر اب چونکہ یہ بحث چل ہی نکلی ہے تو چند باتوں کی طرف توجہ دلانی ضروری خیال کرتا ہوں۔
    ڈاکٹر صاحبہ نے خدا جانے پی ایچ ڈی فرمائی ہے یا ایم بی بی ایس۔ مگر دونوں صورتوں میں بریں عقل و دانش بباید گریست۔ ان کی گفتگو تناقض اور لایعنی ادعاؤں سے ایسی لبریز ہے کہ مجھے حیرت ہے اس مضمون کو چھاپا کس نے اور نقل کرنے والوں نے نقل کیوں کیا۔
    ڈاکٹر صاحبہ کو لازمی کے معنیٰ لغت میں دوبارہ دیکھنے چاہئیں۔ اگر شاعری میں عروض کی پابندی کو وہ خود بھی لازم خیال کرتی ہیں تو اس رعایت کی سفارش کر کے انھوں نے اپنی لیاقت کو سخت مشکوک ٹھہرا دیا ہے۔
    اف اللہ!
    ڈاکٹر صاحبہ، تحت الشعور اور لاشعور کا مطلب بھی پتا ہے آپ کو؟ یہ کس حکیم نے آپ کو بتلایا کہ نظم تحت الشعور سے پھوٹتی ہے اور نثری نظم لاشعور سے؟ لاحول و لاقوۃ۔
    نثری نظم کا کوئی حامی آج تک اس بات کا انکار کرتا نہیں سنا گیا کہ نثر کلامِ ناموزوں ہے۔ حذر، حذر!
    قلتِ مطالعہ اور نتائج اخذ کرنے میں عجلت ایسی ہی لغویات کو جنم دیتی ہے۔
    شعر کو اگر ہئیت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس کا متضاد نثر ہے۔ اگر مواد کے اعتبار سے نظر کی جائے تو حکمت یا سائنس۔ موخرالذکر کی وجہ یہ ہے کہ شعر قوتِ متخیلہ کی پیداوار ہوتا ہے سو اس کا نقیض وہ کلام ہو گا جو منطق اور عقل کے مصادر سے پیدا ہو۔
    یہ بات کولرج کے حوالے سے تو میرے علم میں نہیں مگر کلاسیک مشرقی ادبیات میں یہ خیال جابجا نقل ہوتا آیا ہے۔ کیا غضب ہے کہ نثری نظم کے معاملے میں جو بحث دراصل شعر کی ہئیت سے متعلق ہے اس میں ایسی دریدہ دہنی سے ایک غیرمتعلق بات اپنی پلپلی رائے کے حق میں نقل کر دی جائے۔
    معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبہ کو یا تو ہئیت اور مواد کے فرق کا علم نہیں۔ یا وہ دانستہ قاری کو گمراہ کرنا چاہتی ہیں۔ یا پھر ان کا مقصود فقط اپنی علمیت کی دھاک بٹھانا ہے۔ تینوں صورتوں میں وہ اس لائق نہیں کہ ان کی باتوں پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 1, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • متفق متفق × 1
  13. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    راحیل بھائی نجانے یہ اردو ویب کو کیا ہوگیا ہے جو کچھ ڈاکٹر صاحبہ نے کہا وہ میرے ساتھ منسوب ہو گیا ہے۔ بار بار خرم یاسین نے کہا لکھا آرہا ہے ۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  14. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    کئی مصرعے بر وزن فعول فعلن موزوں ہیں۔ اسے کیسے نثری قرار دیا جائے؟؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  15. فلک شیر

    فلک شیر محفلین

    مراسلے:
    7,415
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Shh
    عجب اور تکبر کا کوئی ایک رنگ تھوڑی ہوتا ہے!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  16. محمد خرم یاسین

    محمد خرم یاسین محفلین

    مراسلے:
    2,151
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    بھائی جان یہی تو ہم کہہ رہے ہیں کہ یہ مکمل نثر نہیں ہوتی، مکمل نظم بھی نہیں ہوتی ۔
     
  17. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    مجھے تو یہ آزاد نظم دکھائی پڑی ہے تاہم اس میں چند غلطیاں ہیں میں اسے ریختہ پر دیکھتا ہوں شاید وہاں درست شکل میں مل جائے​

    میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
    قدیم راتوں کی ٹوٹی قبروں پر میلے کتبے
    دلوں کی ٹوٹی ہوئی صلیبیں گری پڑی ہیں
    شفق کی ٹھنڈی چھاؤں سے راکھ اُڑ رہی ہے
    جگہ جگہ گرز وقت کے چور ہو گئے
    جگہ جگہ ڈھیر ہو گئیں ہیں عظیم صدیاں​

    میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
    یہیں مقدس ہتھیلیوں سے گری ہے مہندی
    دیوں کی ٹوٹی ہوئی لویں زنگ کھا گئی ہیں
    یہیں پہ ہاتھوں کی روشنی جل کے بُجھ گئی ہے
    سپاٹ چہروں کے خالی پنے کُھلے ہوئے ہیں
    حروف آنکھوں کے مٹ چکے ہیں​

    میں کھنڈروں کی زمیں پر کب سے بھٹک رہا ہوں
    یہیں کہیں
    زندگی کے معنی گرے ہیں اور گِر کے
    کھو گئے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  19. محمد ریحان قریشی

    محمد ریحان قریشی محفلین

    مراسلے:
    2,048
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    مکمل موزوں ہے. آزاد نظم ہے.
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  20. عباد اللہ

    عباد اللہ محفلین

    مراسلے:
    1,276
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    جی بالکل مکمل موزوں ہے اور آزاد نظم ہے جوخرم بھائی نے شئیر کی ہے اس میں چند ایک غلطیاں ہیں!
     
    آخری تدوین: ‏جولائی 1, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر