فارسی شاعری می رقصم - شیخ عثمان مروَندی معروف بہ لال شہباز قلندر کی غزل

محمد وارث نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏دسمبر 6, 2009

  1. حسن محمود جماعتی

    حسن محمود جماعتی محفلین

    مراسلے:
    2,478
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    ماشاء اللہ بہت ہی خوبصورت کلام ہے۔ مجھے اس کا پنجابی ورژن بھی بہت پسند ہے۔ گو کہ اسے "نمی دانم چی منزل بود" میں ہی گایا جاتا ہے لیکن فرید ایاز ابو محمد نے علیحدہ اس کلام کو کلاسیک انداز میں بہت خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔
    یہاں باتیں جو زیر بحث آئيں فقیر کی گزارشات ہیں کہ،
    ؎ یہ کلام زیادہ شدت کے ساتھ حضرت خواجہ عثمان مروندی لعل شہباز قلندر سے منسوب ہے۔ فرید ایاز جن کا تعلق قوالی کے معتبر گھرانے اور سندھ سے ہے نے بھی اسے انہیں کا بتایا ہے۔ لیکن نصرت فتح علیخاں صاحب نے عثمان ہارونی|ہرونی سے منسوب کیا ہے۔
    عثمان ہارونی یا ہرونی خواجہ غریب نواز کے مرشد ہیں آپ کا تعلق ایران کے قصبہ ہرون سے ہے۔ یہ لفظ ہرونی ہے اہل علم ہرونی ہی بولتے ہیں۔ یہ شاید، گمان ہے کہ ترجمہ ہوتے ہوتے یا قوالیانہ تحریف کے نتیجہ میں ہارونی بن گیا ہے۔
    حضرت لعل شہباز قلندر کا اسم مبارک عثمان مروندی ہے۔

    اللہ و رسولہ اعلم!
     
    • متفق متفق × 1
  2. سید لبید غزنوی

    سید لبید غزنوی محفلین

    مراسلے:
    3,357
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    لاجواب۔۔۔۔۔دادی ماں ہاجرہ یاد آگئیں ۔۔۔فارسی سے بہت لگاؤ تھا اور ہماری پھوپھیاں ان سے پڑھا کرتی تھیں اور پھر غزلیں ہمارے کانوں میں اپنی رس گھولتی آواز میں ڈالتی تھیں ۔۔۔سمجھ تو آتی نہیں تھی ۔۔خیر تھوڑی سی کوشش کرلیتے ہیں ہم بھی اب فارسی کو پڑھنے کی ۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. الف نظامی

    الف نظامی لائبریرین

    مراسلے:
    13,779
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    ما شا ء اللہ.
     
  4. سروش

    سروش محفلین

    مراسلے:
    1,558
    جھنڈا:
    UnitedArabEmirates
    موڈ:
    Relaxed
    نمی دانم کہ آخر چوں دمِ دیدار می رقصم
    مگر نازم بہ ہر صورت بہ پیشِ یار می رقصم


    نہیں معلوم کیوں آخر دمِ دیدار رقصاں ہوں
    مگر ہے ناز ہر صورت بہ پیشِ یار رقصاں ہوں

    تو ہر دم می سرائی نغمہ و ہر بار می رقصم
    بہ ہر طرزِ کہ می رقصانیم اے یار می رقصم

    تو ہو نغمہ سرا ہر دم میں ہر اک بار رقصاں ہوں
    تری خاطر میں ہر اک طرز پر اے یار رقصاں ہوں

    تو آں قاتل کہ از بہر تماشا خون می ریزی
    من آں بسمل کہ زیرِ خنجرِ خوں خوار می رقصم

    تو وہ قاتل کہ جو بہر تماشا خون کرتا ہے
    میں وہ بسمل کہ زیرِ خنجرِِ خوں خوار رقصاں ہوں

    بیا جاناں تماشا کن کہ در انبوہ جانبازاں
    بہ ایں دستارِ رسوائی سرِ بازار می رقصم


    مری جاں آ تماشا دیکھ جانبازوں کے مجمعے میں
    ردا رسوائی کی اوڑھے سرِ بازار رقصاں ہوں

    اگرچہ قطرہ¿ شبنم نہ پوید برسرِ خارے
    منم آں قطرہ¿ شبنم بہ نوکِ خار می رقصم


    اگرچہ قطرہ¿ شبنم نہیں رکتا ہے کانٹے پر
    میں وہ قطرہ ہوں شبنم کا بہ نوکِ خار رقصاں ہوں

    منم عثمان مروندی کہ یارے شیخ منصورم
    ملامت می کند خلقے ومن بردار می رقصم


    میں ہوں عثمان مروندی کہ ہے منصور سے یاری
    ملامت خلق کرلے میں تو سوئے دار رقصاں ہوں

    —————————————
    ترجمہ: ڈاکٹر فاطمہ حسن
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. معظم علی قادری

    معظم علی قادری محفلین

    مراسلے:
    1
    السلام علیکم ماشاء الله بہت اچھا کلام بہت اچھی تحقیق کے ساتھ پیش کیا جناب وارث صاحب نے اور جناب الف نظامی صاحب نے میں ابھی اس محفل میں نیا ہوں آج نیٹ پر یہ کلام ڈھونڈ رہا تھا تو آپ لوگوں سے ملاقات ہو گئی بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,044
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    سر ایک مقبول حج کو ثواب ہو اللہ اللہ اللہ :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. mohsin ali razvi

    mohsin ali razvi محفلین

    مراسلے:
    328
    جھنڈا:
    Iran
    موڈ:
    Chatty
    ھمانا العطش بر لب سر کویش چو می رقصم
    ہاں میں تشنہ لب اس کے کوچہ میں رقص کناں ہوں
    تمام مردمان خوابیده در سوئی مگر بیدار می رقصم
    سب لوگ نیند میں ھیں مگر میں رقص میں مصروف
    مکن فکر دگر ای یار مروندی من اویم چون توی دلدار می رقصم
    اے عثمان مروندی اے مرے یار مجھے غیر مت سمجھ میں بھی تمھارے ہی طرح مشغول بہ رقص ہوں
    شب شیراز را گرتونمائی روشنی مرشد برقصم چون تو می رقصی بپای دار می رقصم
    اگر مری شھر شیراز کی شب کو قدم رنجہ فرما کر روشنی بخشدواے مرے موشد میں بہی رقص کروں چوبئے دار کے نیچے تم جیسے
    علیشا رضوی
     
    آخری تدوین: ‏اگست 14, 2017
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. mohsin ali razvi

    mohsin ali razvi محفلین

    مراسلے:
    328
    جھنڈا:
    Iran
    موڈ:
    Chatty
    ھمانا العطش بر لب سر کویش چو می رقصم​
    تمام مردمان خوابیده در سوئی مگر بیدار می رقصم​
    مکن فکر دگر ای یار مروندی من اویم چون توی دلدار می رقصم​
    شب شیراز را گرتونمائی روشنی مرشد برقصم چون تو می رقصی بپای دار می رقصم​
    علیشا رضوی​
     

اس صفحے کی تشہیر