میرے پسندیدہ اشعار

سیما علی

لائبریرین
شوق تھا شباب کا حسن پر نظر گئی
لُٹ کے تب خبر ہوئی زندگی کدھر گئی

زندگی قریب ہے کس قدر جمال سے
جب کوئی سنور گیا زندگی سنور گئی

ہے چمن کی آبرو قافلہ بہار کا
بُوئے گل کا ساتھ کیا بیوفا جدھر گئی

دیکھتے ہی دیکھتے دن گئے بہار کے
فصلِ گل بھی کس قدر تیز تر گزر گئی

کیوں سکوں نصیب ہیں ہجر کی درازیاں
جیسے پیاس بجھ گئی جیسے بھوک مر گئی

کیا خبر نشور تھی منزلِ حیات کی
پھول لے لیا مگر نوکِ خار اتر گئی

(نشور واحدی)
 

سیما علی

لائبریرین
بھائی حضرت رئیس امروہی کی نذر
جون ایلیا
تشنہ کامی کی سزا دو تو مزا آ جائے
تم ہمیں زہر پلا دو تو مزا آ جائے

میرِ محفل بنے بیٹھے ہیں بڑے ناز سے ہم
ہمیں محفل سے اُٹھا دو تو مزا آ جائے

تم نے اِحسان کیا تھا جو ہمیں چاہا تھا
اب وہ اِحسان جتا دو تو مزا آ جائے

آپنے یوسف کی زلیخا کی طرح تم بھی کبھی
کچھ حسینوں سے ملا دو تو مزا آ جائے

چین پڑتا ہی نہیں ہے تمھیں اب میرے بغیر
اب جو تم مجھ کو گنوا دو تو مزا آ جائے
.......
 

سیما علی

لائبریرین
تنِ تنہا مقابل ہو رہا ہوں میں ہزاروں سے
حسینوں سے، رقیبوں سے، غموں سے، غمگساروں سے

سُنے کوئی تو اب بھی روشنی آواز دیتی ہے
پہاڑوں سے، گُپھاؤں سے، بیابانوں سے، غاروں سے

ہمارے داغِ دل، زخمِ جگر کچھ ملتے جلتے ہیں
گُلوں سے، گُل رُخوں سے، مہ وشوں سے، ماہ پاروں سے

کبھی ہوتا نہیں محسوس وہ یوں قتل کرتے ہیں
نگاہوں سے، کنکھیوں سے، اداؤں سے، اشاروں سے

زمانے میں کبھی بھی قسمتیں بدلا نہیں کرتیں
اُمیدوں سے، بھروسوں سے، دلاسوں سے، سہاروں سے

وہ دن بھی ہائے کیا دن تھے جب اپنا بھی تعلّق تھا
دوسہرے سے، دِوالی سے، بسنتوں سے، بہاروں سے

کبھی پتّھر کے دل اے کیفّ پگھلے ہیں نہ پگھلیں گے
مناجاتوں سے، فریادوں سے، چیخوں سے، پکاروں سے

(کیف بھوپالی(
 

سیما علی

لائبریرین
صاف کب امتحان لیتے ہیں
وہ تو دم دے کے جان لیتے ہیں

یوں ہے منظور خانہ ویرانی
مول میرا مکان لیتے ہیں

تم تغافل کرو رقیبوں سے
جاننے والے جان لیتے ہیں

پھر نہ آنا اگر کوئی بھیجے
نامہ بر سے زبان لیتے ہیں

اب بھی گر پڑ کے نالے
ساتواں آسمان لیتے ہیں

تیرے خنجر سے بھی تو اے قاتل
نوک کی نوجوان لیتے ہیں

اپنے بسمل کا سر ہے زانو پر
کس محبت سے جان لیتے ہیں

یہ سنا ہے مرے لئے تلوار
اک مرے مہربان لیتے ہیں

یہ نہ کہہ ہم سے تیرے منہ میں خاک
اس میں تیری زبان لیتے ہیں

وہ جھگڑتے ہیں جب رقیبوں سے
بیچ میں مجھ کو سان لیتے ہیں

ضد ہر اک بات پر نہیں اچھی
دوست کی دوست مان لیتے ہیں

مستعد ہو کر یہ کہو تو سہی
آئیے امتحان لیتے ہیں

داغ بھی ہے عجیب سحر بیاں
بات جس کی وہ مان لیتے ہی
 

سیما علی

لائبریرین
آ کے پتھّر تو مرے صحن میں دو چار گرے
جتنے اُس پیڑ کے پھل تھے، پسِ دیوار گِرے

ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی
آنکھ جھپکی بھی نہیں، ہاتھ سے پتوار گِرے

مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں پہ گروں
جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گِرے

تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط
یہ ستراے مرے گھر ٹوٹ کے بیکار گِرے

کیا ہَوا ہاتھ میں تلوار لئے پھرتی ہے
کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گِرے

دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں
میرے ہمسائے میں جب بھی کوئی دیوار گِرے

وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے
کس گھڑی سر پہ لٹکتی ہوئی تلوار گِرے

ہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹان
ہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے، ناچار گِرے

کیا کہوں دیدۂ تر، یہ تو مرا چہرہ ہے
سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گِرے

ہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلدل کے سوا
ہائے کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گِرے

وہ تجلّی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے تیر
آئینے ٹوٹ گئے، آئینہ بردار گِرے

دیکھتے کیوں ہو شکیب اتنی بلندی کی طرف
نہ اٹھایا کرو سو کو کہ یہ دستار گِرے
شکیب جلالی
 

سیما علی

لائبریرین
کب ہم نے کہا تھا ہمیں دستار و قبا دو
ہم لوگ نوا گر ہیں ہمیں اِذنِ نوا دو
ہم آئینے لائے ہیں سرِ کُوئے رقیباں
اے سنگ فروشو یہی الزام لگا دو
لگا ہے کہ میلہ سا لگا ہے سرِ مقتل
اے دلِ زدگاں بازوئے قاتل کو دعا دو
ہے بادہ گساروں کو تو میخانے سے نسبت
تُم مسندِ ساقی پہ کسی کو بھی بٹھا دو
میں شب کا بھی مجرم تھا سحر کا بھی گنہگار
لوگو مجھے اس شہر کے آداب سکھا دو
(احمد فراز)
 

سیما علی

لائبریرین
گل بدن خاک نشینوں سے پرے ہٹ جائیں
آسماں اجلی زمینوں سے پرے ہٹ جائیں
میں بھی دیکھوں تو سہی بپھرے سمندر کا مزاج
اب یہ ملاح سفینوں سے پرے ہٹ جائیں
کرنے والا ہوں دلوں پر میں محبت کا نزول
سارے بوجہل مدینوں سے پرے ہٹ جائیں
میں خلاؤں کے سفر پر ہوں نکلنے والا
چاند سورج مرے زینوں سے پرے ہٹ جائیں
اب تو ہم ظاہری سجدے بھی ترے چھوڑ چکے
اب تو یہ داغ جبینوں سے پرے ہٹ جائیں
ممتاز گورمانی
 

سیما علی

لائبریرین
غم مجھے حسرت مجھے وحشت مجھے سودا مجھے
ایک دل دے کر خدا نے دے دیا کیا کیا مجھے
ہے حصول آرزو کا راز ترک آرزو
میں نے دنیا چھوڑ دی تو مل گئی دنیا مجھے
یہ نماز عشق ہے کیسا ادب کس کا ادب
اپنے پائے ناز پر کرنے بھی دے سجدا مجھے
کہہ کے سویا ہوں یہ اپنے اضطراب شوق سے
جب وہ آئیں قبر پر فوراً جگا دینا مجھے
صبح تک کیا کیا تری امید نے طعنے دیے
آ گیا تھا شام غم اک نیند کا جھوکا مجھے
دیکھتے ہی دیکھتے دنیا سے میں اٹھ جاؤں گا
دیکھتی کی دیکھتی رہ جائے گی دنیا مجھے
جلوہ گر ہے اس میں اے سیمابؔ اک دنیائے حسن
جام جم سے ہے زیادہ دل کا آئینہ مجھے

سیماب اکبر آبادی
 

سیما علی

لائبریرین
روئی ہے ساری رات اندھیرے میں بے کسی
آنسو بھرے ہوئے ہیں چراغ مزار میں
سیمابؔ پھول اگیں لحد عندلیب سے
اتنی تو زندگی ہو ہوائے بہار میں
 

سیما علی

لائبریرین
ہر چند غم و درد کی قیمت بھی بہت تھی
لینا ہی پڑا دل کو ضرورت بھی بہت تھی
ظالم تھا وہ اور ظلم کی عادت بھی بہت تھی
مجبور تھے ہم اس سے محبت بھی بہت تھی
گو ترک تعلق میں سہولت بھی بہت تھی
لیکن نہ ہوا ہم سے کہ غیرت بھی بہت تھی
اس بت کے ستم سہہ کے دکھا ہی دیا ہم نے
گو اپنی طبیعت میں بغاوت بھی بہت تھی
واقف ہی نہ تھا رمز محبت سے وہ ورنہ
دل کے لیے تھوڑی سی عنایت ہی بہت تھی
یوں ہی نہیں مشہور زمانہ مرا قاتل
اس شخص کو اس فن میں مہارت بھی بہت تھی
کیا دور غزل تھا کہ لہو دل میں بہت تھا
اور دل کو لہو کرنے کے فرصت بھی بہت تھی
ہر شام سناتے تھے حسینوں کو غزل ہم
جب مال بہت تھا تو سخاوت بھی بہت تھی
بلوا کے ہم عاجزؔ کو پشیماں بھی بہت ہیں
کیا کیجیے کم بخت کی شہرت بھی بہت تھی

کلیم عاجز
 

سیما علی

لائبریرین
آج مدت میں وہ یاد آئے ہیں
در و دیوار پہ کچھ سائے ہیں
آبگینوں سے نہ ٹکرا پائے
کوہساروں سے تو ٹکرائے ہیں
زندگی تیرے حوادث ہم کو
کچھ نہ کچھ راہ پہ لے آئے ہیں
سنگ ریزوں سے خزف پاروں سے
کتنے ہیرے کبھی چن لائے ہیں
اتنے مایوس تو حالات نہیں
لوگ کس واسطے گھبرائے ہیں
ان کی جانب نہ کسی نے دیکھا
جو ہمیں دیکھ کے شرمائے ہیں
جاں نثار اختر
 

سیما علی

لائبریرین
وہ لوگ ہی ہر دور میں محبوب رہے ہیں
جو عشق میں طالب نہیں مطلوب رہے ہیں
طوفان کی آواز تو آتی نہیں لیکن
لگتا ہے سفینے سے کہیں ڈوب رہے ہیں
ان کو نہ پکارو غم دوراں کے لقب سے
جو درد کسی نام سے منسوب رہے ہیں
ہم بھی تری صورت کے پرستار ہیں لیکن
کچھ اور بھی چہرے ہمیں مرغوب رہے ہیں
الفاظ میں اظہار محبت کے طریقے
خود عشق کی نظروں میں بھی معیوب رہے ہیں
اس عہد بصیرت میں بھی نقاد ہمارے
ہر ایک بڑے نام سے مرعوب رہے ہیں
اتنا بھی نہ گھبراؤ نئی طرز ادا سے
ہر دور میں بدلے ہوئے اسلوب رہے ہیں
جاں نثار اختر
 

سیما علی

لائبریرین
کوئ نئ چوٹ پھر سے کھاؤ، اداس لوگو!
کہا تھا کس نے کہ مسکراؤ، اُداس لوگو!

گزر رہی ہیں گلی سے پھر ماتمی ہوائیں
کِواڑ کھولو، دئیے بجھاؤ، اُداس لوگو!

جو رات مقتل میں بال کھولے اُتر رہی تھی
وہ رات کیسی رہی، سناؤ اُداس لوگو!

کہاں تلک بام و در چراغاں کئیے رکھوگے؟
بچھڑنے والوں کو بھول جاؤ اُداس لوگو!

اُداس جنگل، ڈری فضا، ہانپتی ہوائیں
یہیں کہیں بستیاں بساؤ اُداس لوگو!

یہ کس نے سہمی ہوئ فضا میں ہمیں پکارا؟
یہ کس نے آواز دی کہ آؤ اُداس لوگو!

اُسی کی باتوں سے طبیعت سنبھل سکے گی
کہیں سے محسن کو ڈھونڈ لاؤ اُداس لوگو!

محسن نقوی (آج پھر کوڈ نے ایک دوست کا شکار کر لیا۔۔آہ سمجھ نہیں آرہا یہ وباء کب ختم ہوگی۔)
 

سیما علی

لائبریرین
ورنہ کیا آب و ہوا چیز ہے کیسا موسم
تیرے آنے سے ہوا شہر میں اچھا موسم
یہ مہ و مہر اضافی ہیں ترے سر کی قسم
وقت بتلاتی ہیں آنکھیں تری چہرا موسم
دھوپ میں چھاؤں کہیں موج میں طوفان کہیں
جیسا اے دوست ترا موڈ ہے ویسا موسم
رنگ و بو رکھتے ہیں سب پھول پھل اپنی اپنی
چشم و ابرو سے الگ عارض و لب کا موسم
اس قدر حسن اچانک مرا دل توڑ نہ دے
ایک تو پیارا ہے تو اس پہ یہ پیارا موسم
نہ وبا کے کوئی دن رات نہ تنہائی کے سال
تیرے آتے ہی بدل جاتا ہے سارا موسم
ادریس بابر
 

سیما علی

لائبریرین
کبھی ہم تم ملے تھے مہرباں لمحوں کی بارش میں
مگر اب بھیگتے ہیں ہم انہی یادوں کی بارش میں

جہاں ہم نے محبت کے حسیں خوابوں کو پایا تھا
کبھی تو آ ملو ہم سے انہی جھرنوں کی بارش میں

کبھی آؤ تو یوں آؤ بھلا کر ساری دنیا کو
کہ دو روحیں ملیں جیسے حسیں پھولوں کی بارش میں

بڑی مدت سے خواہش ہے ملیں ساحل کنارے ہم
چلیں ہم ننگے پاؤں دور تک سیپوں کی بارش میں

کریں باتیں زمانے کے ہر اک موضوع پہ ، ساون میں
ہری بیلوں کے نیچے بیٹھ کر زوروں کی بارش میں میں

مرا جی جانتا ہے کتنے رنج و غم اٹھائے ہیں
جیوں کب تک بھلا میں درد کےشعلوں کی بارش میں

ہوئی جاتی ہے میری روح تک سرشار ہر لمحہ
تمہارے رنگ برساتے ہوئے لفظوں کی بارش میں

گذاری ہے اسی حالت میں ساری زندگی ہم نے
سلگتی ، روح جھلساتی ہوئی سوچوں کی بارش میں
 

سیما علی

لائبریرین
نکلا ہے اپنا حسنِنگارش چراغ سے
ہوتی ہے روشنی بھری بارش چراغ سے
بجھنا نہیں ہے تجھ کو اندھیروں کے راج میں
کرتا ہوں صرف اتنی گزارش چراغ سے
روشن پلیز! رکھنامری رات کا خرام
وہ چاند کر رہا ہے سفارش چراغ سے
ابلیس کے لئے ہیں اندھیرے پناہ گاہ
ہے خار خاررات کو خارش چراغ سے
منصورہر جگہ یہ فروزاں ہوں مہتاب
ہوتی ہے تیرگی کی فرارش چراغ سے
منصور آفاق
 

سیما علی

لائبریرین
پسِ نقاب رخِ لاجواب کیا ہوتا
ذرا سے ابر میں گم آفتاب کیا ہوتا
ہمیں تو جو بھی گیا وہ فریب دے کہ گیا
ہوئے نہ کم سنی اپنی شباب کیا ہوتا
کلیم رحم تجلی کو آگیا ہو گا
وگرنہ ذوقِ نظر کامیاب کیا ہوتا
قفس کے سے چھوٹ کے آئے تو خاک تک نہ ملی
چمن اور نشیمن خراب کیا ہوتا
تمھارے اور بھی وعدوں کی شب یوں ہی کاٹی
یقین ہی نہ ہوا اضطراب کیا ہوتا
اُستاد قمر جلالوی
 
Top