ساغر صدیقی موج در موج کناروں کو سزا ملتی ہے ۔ غزل از ساغر صدیقی

کاشف اختر نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 5, 2018

  1. کاشف اختر

    کاشف اختر لائبریرین

    مراسلے:
    718
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Goofy
    موج در موج کناروں کو سزا مِلتی ہے
    کوئی ڈوبے تو سہاروں کو سزا مِلتی ہے

    میکدے سے جو نکلتا ہے کوئی بے نشہ
    چشمِ ساقی کے اشاروں کو سزا مِلتی ہے

    آپ کی زُلفِ پریشاں کا تصّور توبہ
    نگہت و نُور کے دھاروں کو سزا مِلتی ہے

    جب وہ دانتوں میں دباتے ہیں گلابی آنچل
    کتنے پُرکیف نظاروں کو سزا مِلتی ہے

    میرے پیمانے میں ڈھل جاتا ہے پُھولوں کا شباب
    میرے ساغر میں بہاروں کو سزا مِلتی ہے


    ساغر صدیقی ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر