منیر نیازی منیر نیازی

عرفان سرور

محفلین
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا
دنیا سے خامشی سے گزر جائیں ہم تو کیا
ہستی ہی اپنی کیا ہے زمانے کے سامنے
اک خواب ہے جہاں میں بکھر جائیں ہم تو کیا
اب کون منتظر ہے ہمارے لیے وہاں
شام آ گئی ہے لوٹ کے گھر جائیں تو ہم کیا
دل کی خلش تو ساتھ رہے گی تمام عمر
دریائے غم کے پار اتر جائیں ھم تو کیا​
 

عرفان سرور

محفلین
ساری زمین سارا جہاں راز ہی تو ہے
یہ بود و ہست کون مکاں راز ہی تو ہے
ہے آب اپنی وسعت لا حد سے ایک راز
خواب گران کوہ گراں راز ہی تو ہے
کرتا ہوں میں بیاں جو کبھی اپنے شعر میں
شہر خیال حسن راز بتاں تو ہی تو ہے
آنا رتوں کا جا کے کوئی راز ہے عجیب
نخل بہار و برگ خزاں راز ہی تو ہے
ہے کس کے انتظار میں بے چین سب جہاں
بھیجا گیا ہے کون یہاں راز ہی تو ہے
میرا کلام اس کے لیے راز ہی تو ہے
میرے لیے نگر کی زباں راز ہی تو ہے​
 

عرفان سرور

محفلین
اک عالم ہجراں ہی اب ہم کو پسند آیا
یہ خانہ ویراں ہی اب ہم کو پسند آیا
بے نام و نشاں رہنا غریب کے علاقے میں
یہ شہر بھی دلکش تھا تب ہم کو پسند آیا
تھا لال ہوا منظر سورج کے نکلنے سے
وہ وقت تھا وہ چہرہ جب ہم کو پسند آیا
ہے قطع تعلق سے دل خوش بھی بہت اپنا
اک حد ہی بنا لینا کب ہم کو پسند آیا
آنا وہ منیر اس کا بے خوف و خطر ہم تک
یہ طرفہ تماشا بھی شب دل کو پسند آیا​
 

عرفان سرور

محفلین
وحدت سے کثرت کی طرف
کثرت سے وحدت کی طرف
دائم اک بے چینی ہے
آخر کی حسرت کی طرف
ایک مقام قیام کا ہے
پچھم کی وسعت کی طرف
رخ شہروں کی شام کا ہے
صحرا کی وحشت کی طرف
اک محصور صدا سی ہے
بے حد چپ پربت کی طرف
شاید چاند نکل آیا ہے
دیکھ منیر اس چاہت کی طرف​
 

عرفان سرور

محفلین
بے خیالی میں بس یونہی اک ارادہ کر لیا
اپنے دل کے شوق کو حد سے زیادہ کر لیا
جانتے تھے دونوں ہم اس کو نبھا سکتے نہیں
اس نے وعدہ کر لیا میں نے بھی وعدہ کر لیا
غیر سے نفرت جو پالی خرچ خود پر ہو گئی
جتنے ہم تھے ہم نے خود کو اس سے آدھا کر لیا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آب سادہ کو حریف رنگ و بادہ کر لیا
ہجرتوں کا خوف تھا یا پر کشش کہنہ مقام
کیا تھا جس کو ہم نے خود دیوار جادہ کر لیا
ایک ایسا شخص بنتا جا رہا ہوں میں منیر
جس نے خود پر بند حسن و جام و بادہ کر لیا​
 

عرفان سرور

محفلین
اور بھی قصے ہیں جو میں داستاں کرتا نہیں
اور بھی کچھ غم ہیں جن کو میں بیاں کرتا نہیں
راز ہے جن کا امیں ہوں میں ہی بس اس دہر میں
اس خبر کا میں کسی کو رازداں کرتا نہیں
جو ہنر جس میں نہیں ہے مدعی اس کا ہے وہ
کوئی اپنی اصل کو اپنا نشاں کرتا نہیں
صبر اک طاقت ہے میری سختی ایام میں
اس صفت سے آدمی غم میں فغاں کرتا نہیں
عشق کرتا ہوں بتان شہر سے میں بھی منیر
میں مگر اس شوق میں جی کا زیاں کرتا نہیں​
 

عرفان سرور

محفلین
کچھ وقت بعد اس سے جو نفرت ہوئی مجھے
اس سے نئی طرح کی مسرت ہوئی مجھے
ہے شرح و بست خواب جنوں اک محال کام
مت پوچھیے جو اس میں اذیت ہوئی مجھے
نسلوں کا فاصلہ ہے میرے ان کے درمیاں
اس وقت جن بتوں سے محبت ہوئی مجھے
سو پشت سے تھا پیشہ آباد سپہ گری
کچھ شاعری ذریعہ عزت ہوئی مجھے
کوئی تو ہے منیر جسے فکر ہے میری
یہ جان کہ عجیب ذرا سی حیرت ہوئی مجھے​
 

عرفان سرور

محفلین
سایہ قصر یار میں بیٹھا
میں تھا اپنے خمار میں بیٹھا
اس کا آنا تھا خواب میں آنا
میں عبث انتظار میں بیٹھا
کوئی صورت نہیں ہے اس جیسی
اس کو دیکھو ھزار میں بیٹھا
اس کو خوشیوں سے خوف آتا ہے
وہم کیا ذہن یار میں بیٹھا
ہم بھی رستوں میں پھر رہے تھے منیر
وہ بھی تھا راہگذار میں بیٹھا​
 

عرفان سرور

محفلین
نسل در نسل کے افکار غزل سے نکلا
اتنی دیواروں سے میں اپنے عمل سے نکلا
سایہ اشجار کہن سال کا جنت تھا مگر
میں بھی کچھ سوچ کے اس خواب ازل سے نکلا
دور تک پانی کے تالاب تھے ہنگام سحر
شمس اس آب کے اک تازہ کنول سے نکلا
وسعت شام میں سرخی میں سیاہی میں ہوا
رنگ اک سب سے جدا دشت و جبل سے نکلا
انت تھا جیسے ہر اک عشرت ممکن کا منیر
ہجر کا وقت اسی وصل کے پل سے نکلا​
 

عرفان سرور

محفلین
بے چین بہت پھرنا گھبرائے ہوئے رہنا
اک آگ سی جذبوں کی دہکائے ہوئے رہنا
چھلکائے ہوئے چلنا خوشبو لب لعلیں کی
اک باغ سا ساتھ اپنے مہکائے ہوئے رہنا
اس حسن کا شیوہ ہے جب عشق نظر آئے
پردے میں چلے جانا شرمائے ہوئے رہنا
اک شام کر سی رکھنا کاجل کے کرشمے سے
اک چاند سا آنکھوں میں چمکائے ہوئے رہنا
عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اُکتائے ہوئے رہنا​
 

عرفان سرور

محفلین
نام بے حد تھے مگر ان کا نشاں کوئی نہ تھا
بستیاں ہی بستیاں تھیں پاسباں کوئی نہ تھا
خرم و شاداب چہرے ثابت و سیار دل
اک زمیں ایسی تھی جس آسماں کوئی نہ تھا
کیا بلا کی شام تھی صبحوں، شبوں کے درمیاں
اور میں ان منزلوں پر تھا جہاں کوئی نہ تھا
ہر مکاں اک راز تھا اپنے مکینوں کے سبب
رشتہ میرے اور جن کے درمیاں کوئی نہ تھا
کوکتی تھی بنسری چاروں دشاؤں میں منیر
پر نگر میں اس صدا کا رازداں کوئی نہ تھا​
 

عرفان سرور

محفلین
خاک میداں کی حدتوں میں سفر
جیسے حیرت کی وسعتوں میں سفر
خوب لگتا ہے اس کے ساتھ مجھے
وصل کی شب کی خواہشوں میں سفر
اس نگر میں قیام ایسا ہے
جیسے بے انت پانیوں میں سفر
دیر تک سیر شہر خوباں کی
دور تک دل کے موسموں میں سفر
بیٹھے بیٹھے منیر تھک سے گئے
کر کے دیکھیں گے ان دنوں میں سفر​
 

عرفان سرور

محفلین
دن اگر چڑھتا ادھر سے میں ادھر سے جاگتا
حسن سارا مشرقوں کا ساتھ میرے جاگتا
میں ملتا نہ اس سے اس ازل کی شام میں
خواب ان دیوار و در کا دل میں کیسے جاگتا
بے مثال باد گلشن جاگتا اس شوق کا
رنگ جیسے دود کا رنگوں کے پیچھے جاگتا
اب وہ گھر باقی نہیں پر کاش اس تعمیر سے
ایک شہر آرزو آنکھوں کے آگے جاگتا
چاند چڑھتا دیکھنا بے حد سمندر پر منیر
دیکھنا پھر سحر کو اس کی کشش سے جاگتا​
 

عرفان سرور

محفلین
ایک نگر کے نقش بھلا دوں ایک نگر ایجاد کروں
ایک طرف خاموشی کر دوں ایک طرف آباد کروں
منزل شب جب طے کرنی ہے اپنے اکیلے دم سے ہی
نام جو میں اب بھول چکا ہوں کیسے اس کو یاد کروں
بہت قدیم کا نام ہے کوئی ابر و ہوا کے طوفاں میں
نام جو میں اب بھول چکا ہوں کیسے اس کو یاد کروں
جا کے سنوں آثار چمن میں سائیں، سائیں شاخوں کی
خالی محل کے برجوں سے دیدار برق و برباد کروں
شعر منیر لکھوں میں اٹھ کر صحن سحر کے رنگوں میں
یا پھر کام یہ نظم جہاں کا شام ڈھلے کے بعد کروں​
 

عرفان سرور

محفلین
رات اتنی جا چکی ہے اور سونا ہے ابھی
اس نگر میں اک خاموشی کا خواب بونا ہے ابھی
کیوں دیا دل اس بُتِ کم سن کو ایسے وقت میں
دل سے شے جس کے لیے بس اک کھلونا ہے ابھی
ایسی یادوں میں گھرے ہیں جن سے کچھ حاصل نہیں
اور کتنا وقت ان یادوں میں کھونا ہے ابھی
جو ہوا ہونا ہی تھا سو ہو گیا ہے دوستو
داغ اس عہد ستم کا دل سے دھونا ہے ابھی
ہم نے کھلتے دیکھنا ہے پھر خیابان بہار
شہر کے اطراف کی مٹی میں سونا ہے ابھی
بیٹھ جائیں سایہ دامان احمد میں منیر
اور پھر سوچیں وہ باتیں جن کو ہونا ہے ابھی​
 

عرفان سرور

محفلین
امید کا گیت
`
تیری دُور رس نگاہیں کوئی خواب دیکھتی ہے
کھلے پانیوں کا جلوہ کہ سراب دیکھتی ہے
کوئی پر سکون مسکن کوئی غمگسار محفل
کوئی دل فریب منزل کوئی بامراد ساحل
جو اتر رہی ہے دل پر وہ کتاب دیکھتی ہیں
کسی اجنبی جہاں کی ہے تلاش ان کو شاید
کسی ہم نفس کے آنے کی ہے آس ان کو شاید
کوئی خواب زندگی کا پس خواب دیکھتی ہیں​
 

عرفان سرور

محفلین
منتشر ہے بہت
`
منتشر ہے بہت
حد افلاک تک
حد افلاک سے
عرصہ خاک تک
نقش اس رنگ کا
دل سے کیسے اڑے
وسعت ہجر میں
تنگی وصل میں
اتنا بکھرا ہوا
اتنا ٹوٹا ہوا
خواب کیسے جڑے​
 

عرفان سرور

محفلین
بیمار گلاب
`
لال گلاب کے پھول
تجھے تو روگ لگا ہے
وہ کیڑا جو شور مچاتے طوفانوں میں
رات کو اڑتا پھرتا ہے
اور آنکھ سے اوجھل رہتا ہے
اس نے تیری خوشیوں کا
رنگیلا بستر دیکھ لیا ہے
اس کی بھید بھری چاہت نے
تن من تیرا پھونک دیا ہے​
 

عرفان سرور

محفلین
گھر بنانا چاہتا ہوں
`
گھر بنانا چاہتا ہوں میرا گھر کوئی نہیں
دامن کہسار میں یا ساحل دریا کے پاس
اونچی اونچی چوٹیوں پر سرحد صحرا کے پاس
متفق آبادیوں میں وسعت تنہا کے پاس
روز روشن کے کنارے یا شب یلدا کے پاس
اس پریشانی میں میرا راہبر کوئی نہیں
خواہشیں ہی خواہشیں ہیں اور ہنر کوئی نہیں​
 
Top