منیر نیازی منیر نیازی

عرفان سرور

محفلین
کیا خبر کیسی ہے وہ، سودائے سر میں زندگی
اک سرائے رنج میں ہے یا سفر میں زندگی
ظلم کرتے ہیں کسی پر اور پچھتاتے ہیں پھر
ایک پچھتاوا سا ہے اپنے نگر میں زندگی
ہم ہیں جیسے اک گناہ دائمی کے درمیاں
کٹ رہی ہے مستقل خاموش ڈر میں زندگی
اک تغیر کے عمل میں ہے جہان بحر و بر
کچھ نئی سی ہو رہی ہے بحر و بر میں زندگی
یہ بھی زندگی ہے اپنے لوگوں میں منیرؔ
باہمی شفقت سے خالی ایک گھر میں زندگی
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
چار دن اس حسن مطلق کی رفاقت میں کٹے
اور اس کے بعد سب دن اس کی حسرت میں کٹے
اس جگہ رہنا ہی کیوں ان شہریوں کے درمیاں
وقت سارا جس جگہ لے جا مروّت میں کٹے
اک قیام دلربا رستے میں ہم کو چاہیے
چاہے پھر باقی سفر راہ مصیبت میں کٹے
چاند پیڑوں پرے ہو رک گئی ہوں بارشیں
کاش وہ لمحہ کبھی رت بت کی صحبت میں کٹے
اک مثال بے مثال اب تک ہیں اپنے درمیاں
جن کے بازو جسم و دل حق کی شہادت میں کٹے
کاٹنا بہت مشکل تھا ہجر کی شب کو منیرؔ
جیسے ساری زندگی غم کی حفاظت میں کٹے
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
ہم زبان میرے تھے ان کے دل مگر اچھے نہ تھے
منزلیں اچھی تھیں میرے ہم سفر اچھے نہ تھے
جو خبر پہنچی یہاں تک اصل صورت میں نہ تھی
تھی خبر اچھی مگر اہل خبر اچھے نہ تھے
بستیوں کی زندگی میں بے زری کا ظلم تھا
لوگ اچھے تھے وہاں کے اہل زر اچھے نہ تھے
ہم کو خوباں میں نظر آتی تھیں کتنی خوبیاں
جس قدر اچھے لگے تھے اس قدر اچھے نہ تھے
اک خیال خام ہی مرشد تھا ان کا اے منیرؔ
یعنی اپنے شہر میں اہل نظر اچھے نہ تھے
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
خرابی میں خوبی
`
رابطوں، رشتوں میں الجھن تھی بہت
اس نظام شہر میں رہنے کی ہمت ہی نہ کی
لفظ یہ لوگوں میں رائج تھا بہت
اس لیے اس شہر میں ہم نے محبت ہی نہ کی
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
کوئی داغ ہے میرے نام پر
کوئی سایہ میرے کلام پر
یہ پہاڑ ہے میرے سامنے
کہ کتاب منظر عام پر
کسی انتظار نظر میں ہے
کوئی روشنی کسی بام پر
یہ نگر پرندوں کا گول ہے
جو گرا ہے دانہ دام پر
غم خاص پر کبھی چپ رہے
کبھی رو دیے غم عام پر
ہے منیرؔ حیرت مستقل
میں کھڑا ہوں ایسے مقام پر
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں
`
شام کا وقت ہے، دعاؤں کی منظوری کا وقت ہے
میں کیسی دعاؤں کو یاد کروں
میری دعائیں پیچیدہ بہت ہیں
آپس میں گڈ مڈ ہو کر بے اثر ہو جاتی ہیں
میرے دل میں بہت بے اثر دعائیں ہیں
بہت دعاؤں کی بجائے میرے دل میں
ایک دعا ہوتی تو اچھا ہوتا
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
باد بہار دیگر
`
یہ ہوا ہے ماہ بہار کی
کسی گزرے دن کے پڑاؤ کی
کہیں بیتی شب کے قرار کی
یہ ہوا ہے ماہ بہار کی
کسی اور خواہش سبز کی
کسی پچھلے غم کے بہاؤ کی
سر آسماں کسی دور کی
سرو بحر و بر کسی پار کی
یہ ہوا ہے ماہ بہار کی
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
ایک مسلسل
`
میں اکیلا آدمی ہوں
کبھی تعداد میں زیادہ ہو جاتا ہوں
کبھی پھر اکیلا
میں قصبے، شہر، رہنے کی جگہیں
ایسی بنا لیتا ہوں جن میں میں خوش رہوں
راستے میں املی، جامن، نیم اور
اس قسم کے دوسرے پیڑوں سے گزر کر
مانوس گھروں، بیٹھکوں
شناسا چہروں کا ایک منظر سجا لیتا ہوں
اس میں رہتا ہوں، اس میں پھرتا ہوں، بیٹھتا ہوں
پھر کہتا ہوں "اچھا چلتا ہوں، بہت دیر ہو گئی ہے
کل پھر اسی جگہ ملیں گے
یا پھر کسی اور جگہ۔۔
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
ہرا درخت
`
صحن بہار نو میں کھڑا ہے ہرا درخت
جیسے ہو طشت سبز کے اوپر دھرا درخت
باد صبا ہے اور خیال جمال مہر
ایسے بہت سے اور دنوں سے بھرا درخت
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
کہیں چلئے
`
شباب شب ہے جگا دیجئے کہیں چلئے
خراب دن کو بھلا دیجئے کہیں چلئے
بہار عمر ہے دربار ہیں محبت کے
کہیں پہ رنگ جما دیجئے کہیں چلئے
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
جاگنے کی دھند
`
جاگنے کی دھند میں کوئی خواب گم ہو گیا ہے
اب یہ خواب کبھی پھر دکھائے دے گا
دکھائی دے گا یا نہیں
اب یہ چہرہ پھر کبھی دکھائی دے گا
جاگنے کی دھند میں کوئی چہرہ گم ہو گیا ہے
دکھائی دے گا یا نہیں
جاگنے کی دھند میں کوئی جسم گم ہو گیا ہے
اب یہ جسم پھر کبھی دکھائی دے گا
دکھائی دے گا یا نہیں۔۔
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
ہجرت اور مراجعت کے دوران تبدیلیاں
`
برسوں تنہائی میں رہ کر
جب میں شہر میں آتا ہوں
بدلا بدلا دیکھ کے اس کو
پھر واپس ہو جاتا ہوں۔
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
غم کا زور اب میرے اندر نہیں رہا
اس عمر میں اتنا ثمر ور نہیں رہا
اس گھر میں جو کشش تھی گئی ان دنوں کیساتھ
اس گھر کا سایہ اب میرے سر پر نہیں رہا
وہ حسن نو بہار ابد شوق جسم، سُن
رہنا تھا اس کو ساتھ میرے، پر نہیں رہا
مجھ میں ہی کچھ کمی تھی کہ بہتر میں ان سے تھا
میں شہر میں کیس کے برابر نہیں رہا
رہبر کو ان کے حال کی ہو کس طرح خبر
لوگوں کے درمیاں وہ آ کر نہیں رہا
واپس نہ جا وہاں کہ تیرے شہر میں منیرؔ
جو جس جگہ پہ تھا وہ وہاں پر نہیں رہا۔
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
میری روح نے خوشی کا رنگ نہیں دیکھا
`
صبح و شام پہ ایک ہی رنگ ہے
پریشانی کا
اور پھر جیسے ایک ایسا ہی دوسرا رنگ ہے
پریشانی سے نجات کی حیرانی کا
جو لگتا ہے خوشی کا رنگ ہے
پر ایسا نہیں ہے
کیونکہ خوشی کا رنگ میں نے دیکھا ہے
میری روح نے نہیں دیکھا
وہ میری سوچ سے بھی زیادہ گہرائی میں رہتی ہے
وہ مجھ سے بھی زیادہ گہرائی میں رہتی ہے
وہ مجھ سے دور
میری گزری نسلوں
میرے شہر آبائی میں رہتی ہے۔
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
ہیں رواں اس راہ پر جس کی کوئی منزل نہ ہو
جستجو کرتے ہیں اس کی جو ہمیں حاصل نہ ہو
دشت نجد پاس میں دیوانگی ہو ہر طرف
ہر طرف محمل کا شک ہو پر کہیں محمل نہ ہو
وہم یہ تجھ کو عجب ہے جمال کم نما
جیسے سب کچھ ہو مگر تو دید کے قابل نہ ہو
وہ کھڑا ہے ایک باب علم کی دہلیز پر
میں یہ کہتا ہوں اسے اس خوف میں داخل نہ ہو
چاہتا ہوں میں منیرؔ اس عمر کے انجام پر
ایک ایسی زندگی جو اس طرح مشکل نہ ہو​
 

عرفان سرور

محفلین
دیکھا نہیں خواب دلآراز سے آگے
سوچا ہی نہیں ہم نے غم یار سے آگے
ہے مسکن خوباں کہ کوئی عالم ہُو ہے
موجود ہے کیا سایہ دیوار سے آگے
اک حرف تاسف ہی تھا انجام مسلسل
افسوس تھا آغاز کے اقرار سے آگے
آتا ہی نہیں یاد جو ہے یاد سے پیچھے
کچھ وہم سے ہیں ثابت و سیار سے آگے
دیدار رخ یار کوئی پردہ ہے شاید
ہے راز کوئی پردہ دیدار سے آگے
لگتا ہے منیرؔ ایسا کہ کچھ بھول گئے ہیں
اک بات جو ہے خواہش اظہار سے آگے
منیر نیازی​
 

عرفان سرور

محفلین
کوئی اوجھل دنیا ہے
`
لمحہ لمحہ روز مرہ زندگی کے ساتھ ہے
ایک لمحہ جو کسی ایسے جہاں کی زندگی کا ہاتھ ہے
جس میں میں رہتا نہیں جس میں کوئی رہتا نہیں
جس میں کوئی دن نہیں رات کا پہرا نہیں
جس میں سنتا ہی نہیں کوئی نہ کوئی بات ہے
روز مرہ زندگی سے یوں گزرتا ہے کبھی
ساتھ لے جاتا ہے گزری عمر کے حصے سبھی
جو بسر اب تک ہو اس کو غلط کرتا ہوا
اور ہی اک زندگی سے آشنا کرتا ہوا
جو گماں تک میں نہ تھا اس کو دکھا جاتا ہوا
وہم تک جس کا تھا اس وقت کو لاتا ہوا
پھر چلا جاتا ہے اپنے اصل کے آثار میں
اور ہم مصروف ہو جاتے ہیں پھر
اپنے روز و شب کے کاروبار میں
منیر نیازی​
 
Top