ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی

یاز نے 'ہمارا معاشرہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 29, 2016

  1. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,563
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    محترمہ مجھے خوامخواہ ریٹنگ دینے کا شوق نہیں اور حتی الامکان یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس سے پہلو تہی برتوں
    باقی کچھ باتیں ایسی ہیں جن پر ریٹنگ دینا ضروری سمجھتا ہوں سو الحمد للہ دیتا ہوں اور یہ میرا حق ہے۔
    باقی رہی بات توجیہہ پیش کرنے کی تو وہ خوامخواہ ایسی لا حاصل بحث کا دروازہ کھولے گی جس میں وقت کے ضیاع کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. نور وجدان

    نور وجدان مدیر

    مراسلے:
    5,307
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Asleep
    کعب بن اشرف کو قتل کیوں گیا ۔
    1۔ جنگ بدر کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی ۔
    2۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بار بار قتل کرنے کی سازش۔۔۔۔۔۔

    دنیا کی کسی بھی عدالت میں جائیں قتل کے بچاؤ میں دفاع کے طور قتل جائز ہوجاتا ہے ۔ یہاں شان رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں گستاخی کی وجہ سے نہیں بلکہ قتل کے دفاع میں قتل کیا گیا تھا ۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فتنہ سازی بڑھے تو تب بھی تدبر اختیار کرتے فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں ۔

    https://ur.wikipedia.org/wiki/سریہ_محمد_بن_مسلمہ
    https://ur.wikipedia.org/wiki/کعب_بن_اشرف
     
    • معلوماتی معلوماتی × 4
  3. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,525
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    متفق۔ قاتل ہی ہیرو ہو سکتا ہے ایسی قوم کا
     
    • متفق متفق × 3
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  4. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    واہ۔۔۔ یعنی قاتلوں کی تضحیک نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان کی توقیر کی جانی چاہیے۔ تضحیک صرف پارہ چنار کے قاتلوں کی ہونی چاہیے یا ان قاتلوں کی جو مقتولین کے سروں سے فٹ بال کھیلیں۔ ان کے علاوہ باقی قاتل تو معصوم ہوتے ہیں۔ واہ واہ واہ
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    میں نے تو آپ کو مخاطب بھی نہیں کیا قبلہ
    آپ خوامخواہ جذباتی ہو گئے بہرحال مکالمہ مضحکہ خیز کی ریٹنگ سے کہیں بہتر ہے ۔ مکالمے سے ادب اور بحث دونوں قائم رہتے ہیں ۔
    آپ سے وضاحت نہ میں نے مانگی نہ ہی مجھے کسی کی وضاحت درکار ہے اور یوں بھی ماشااللّہ ہماری قوم کو وضاحت کی ضرورت ہی کہاں ہے آپ نے ریٹنگ دی تو بس دی ۔
    چونکہ آپ نے مجھے مخاطب کیا تو حمیرا عدنان کی طرف سے میں جزاک اللہ کہہ دیتی ہوں آپ کی عارفانہ ریٹنگ پر ۔
     
  6. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    اردو ورژن اس انگریزی ورژن کے نیچے ہے۔ میں نے طاہر القادری کی ایک ویڈیو پوسٹ کی ہے۔ وہ بھی اس سے متعلق ہے۔ بنیادی بات یہ ہے کہ پاکستان پینل کوڈ پی پی سی اور پاکستان کوڈ آف کرمنل پروسیدرز پی سی سی پی یا سی آر پی سی دو الگ الگ کتابیں ہیں۔
    پی پی سی میں جرم کی تفصیل اور اس کی سزا لکھی ہے کہ ناموس رسالت پر حملہ کرنے والے گستاخ رسول کو سزائے موت دی جائے گی - یہ قانون سینیٹ پاس کرتی ہے صدر دستخط کرتا ہے۔ اس قانون میں ریسرچ کی کیا کمی ہے وہ ڈان اخبار کے اس آرٹیکل میں دیکھی جاسکتی ہے۔
    پی سی سی پی یا سی آر پی سی ۔ میں وہ طریقہ کار لکھا ہوتا ہے کہ کسی جرم کو سب انسپکٹر ہینڈل کرے گا یا ایس پی، ایف آئی آر لکھنےکے لئے کتنے گواہ چاہیے ہیں ، جتنا سنگین جرم اور جتنی سنگین سزا ، اتنی ہی زیادہ احتیاط۔ یہ طریقہ کار دپارٹمنت طے کرتے ہیں اور گورنر ان طریقہ کار کو دستخط کرتا ہے۔
    چونکہ گستاخی رسول کی سزا موت ہے لہذا طاہر القادری ہی نہیں بہت سے دوسرے اس بات کے قائیل ہیں کہ اس جرم کی ایف آئی آر کاٹتے وقت کم از کم دو عدد لائق وکیل یا علماء موجود ہوں اور کم از کم ایس پی لیول کا آفیسر اس کی ایف آئی آر درج کرے۔ شیخوپورہ میں ریکارڈ شدہ ویڈیو میں ، یہی بات سلمان تاثیر بھی کہہ رہا تھا کہ یہ جرم بہت بڑا ہے ، سزا بہت بڑی ہے ،لہذا اس کی ہینڈلنگ کا طریقہ کار احتیاط کا تقاضا کرتا ہے ۔ لہذا اس جرم کے ہینڈلنگ کے طریقہ کار کو پی سی سی پی میں بہتر بنایا جائے۔

    کیا کسی جرم کی ہینڈلنگ کو بہتر بنانے کا تقاضہ کرنے کی سزا بناء مقدمہ چلائے، بناء وارننگ دئے ، بر سر عام اختلاف کی سزا موت ہے ؟
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    • معلوماتی معلوماتی × 2
  8. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,525
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    آپ اکمل کا مقصد نہیں سمجھے۔ فرقہ فرقہ کھیل رہے ہیں۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  9. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,525
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    یعنی قتل وغیرہ اسلام کا بنیادی حصہ ہے؟
     
    • زبردست زبردست × 1
    • غمناک غمناک × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  10. bilal260

    bilal260 محفلین

    مراسلے:
    1,905
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Chatty
    میں دو دفعہ یہ ویڈیو دیکھ چکا ہوں تاثیر نے تو انسانیت کے متعلق بات کی ہے۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  11. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    آپ کا خیال بالکل درست ہے۔ آپ کو یو ٹیوب پر تقریباً ہر بڑے ملاء کا ایسا ویڈیو مل جائے گا جس میں اس ملاء نے مخالفین کا خون حلال قرار دیا ہے۔ کسی نا کسی بہانے سے۔ یہی ملاء پھر لاکھوں لوگوں کا برین واش کرتے ہیں اور پھر یہی لاکھوں عام لوگ، اسمبلیوں کی بجائے سڑک پر نکل کر قتل عام و خاص دونوں کرتے ہیں۔ سلمان تاثیر، شہباز بھٹی تو اس قتل کی معمولی مثالیں ہیں۔ کبھی سوچئے کہ یہ قتل کس طرح ہوتے ہیں؟ کون ان لوگوں کی ذہنی تربیت کرتا ہے؟ کون ان کو اسلحہ فراہم کرتا ہے ؟ کون ان لوگوں کی نشاندہی کرتا ہے کہ کس کو قتل کرنا ہے ؟ کون ان وکلاء کو پیسہ ادا کرتا ہے جو جاکر آسیہ بی بی جیسی معمولی شخصیت کے خلاف عدالت سے حکم امتناعی حاصل کرتے ہیں تاکہ صدر پاکستان اس معمولی عورت تک کو معاف نا کرسکے۔ اور کون ان میں سے پکڑے جانے والوں کے لئے وکلاء حاصل کرتا ہے؟

    جی آپ نے درست فرمایا ، قتل وغیرہ اس قسم کے اسلام کا بنیادی حصہ ہے۔ اسلام کے اس ورژن کا بنیادی قانون ہے "اختلاف کی سزا ۔۔۔ موت! " --
    یہ تنظیمیں زکواٰۃ اور خیرات کے نام پر عوام سے ٹیکس وصول کرتی ہیں اور اپنی اپنی تنظیمیں چلاتی ہیں۔
     
    • متفق متفق × 2
  12. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2016
  13. حسیب

    حسیب محفلین

    مراسلے:
    1,656
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cool
    نامکمل باتیں کرنا اچھی بات نہیں بھائی صاحب

    پہلی بات یہ کہ آپ جن کا ذکر کر رہے ہیں وہ بارہ لوگ نہیں تھے۔ اور دوسری بات کہ ان سب کے جرائم مختلف تھے اور تیسری بات کہ اُن میں سے بھی زیادہ لوگوں کو قتل کے حکم کے باوجود بھی معافی دے دی گئی
     
    • متفق متفق × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,525
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    واقعی یہ تو اس نے بہت غلط کیا بیٹوں کو آفر ہی نہیں کی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 2
  15. صائمہ شاہ

    صائمہ شاہ محفلین

    مراسلے:
    4,659
    جھنڈا:
    England
    موڈ:
    Cool
    کل ایک صاحب نے فیس بک پر ہر اس حدیث کا حوالہ دے رکھا تھا جس میں ہر چیز کی سزا موت تھی میں تو کل سے یہ سوچ رہی ہوں کیا واقعی ہم امن کے مذہب کے پیروکار ہیں اس قدر باربیرک سوچ اور حوالوں کے ساتھ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
    • نا پسندیدہ نا پسندیدہ × 1
  16. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    37,525
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Amused
    کچھ سال پہلے بچوں کی ایک اسلامی اے بی سی کی کتاب دیکھی۔ اس کے ایک صفحے پر لکھا تھا:

    I for Islam, religion of peace

    اگلے صفحے پر لکھا تھا J for Jihad اور ایک کلاشنکوف کی تصویر بنی تھی۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
    • زبردست زبردست × 1
    • مضحکہ خیز مضحکہ خیز × 1
  17. مخلص انسان

    مخلص انسان محفلین

    مراسلے:
    724
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    سلمان تاثیر نے جب توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہا تھا تو اس نے یہ بات پاکستان کے کونتکس میں کہی تھی کہ پاکستان میں اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے
    فرض کریں آپ کا بھائی کسی کمپنی میں کام کرتا ہے اور وہ وہاں کسی قسم کی چوری میں ملوث ہوجائے تو آپ کیا چاہیں گے
    کیا وہ آپ کے بھائی کو پولیس کے حوالے کردے یا پھر وہ اس کے ہاتھ یہ کہہ کر کاٹ دے کہ اسلام میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے تو میں آپ کے بھائی کو پولیس کے حوالے نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اسلامی سزا نہیں دینگے میں تو ہاتھ ہی کاٹونگا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اسلامی قانون لاگو کرنے سے اسلام نہیں آتا بلکہ پہلے اسلام آتا ہے پھر اسلامی قانون لاگو ہوتا ہے
    آپ غریب کو روٹی نہ دو اسے انصاف نہ دو ہر جگہ اسے دھتکارو اور پھر جب وہ کسی چوری میں ملوث ہوجائے تو اس کے ہاتھ کاٹ دو ۔۔۔ یہ تو انصاف نہیں
    اب کوئی یہ کہہ کر میرے کافر ہونے کا فتوی جاری کردے کہ میں نے اللہ کے حکم کو ناانصافی کہا ہے ، تو پھر کوئی کیا کہہ سکتا ہے
    اب دیکھیں جب جنید جمشید نے گستاخی کی تو اس کو معاف کردیا گیا مگر جب مسیحی جوڑے نے کی تو اس کو زندہ جلا دیا گیا ، کیونکہ ان کا تعلق ان لوگوں سے نہیں تھا جو اسلام کے ٹھیکیدار بنے ہوئے ہیں پاکستان میں
     
    • متفق متفق × 3
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. فاروق سرور خان

    فاروق سرور خان محفلین

    مراسلے:
    2,942
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Breezy
    بطور طالب علم سوالات

    https://assets.documentcloud.org/documents/2104047/lhc-verdict.pdf

    لاہور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو پڑھنے کے بعد یہ نقائص سامنے آتے ہیں کہ اس خالصتاً شرعی مسئلے میں گواہوں کی شرعی تعداد دو عدد گواہوں کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا ، گو کہ مجرمانہ کاروائی کی سب صورتوں میں کم از کم چار گواہوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن اس اہم قانون شہادت کو اس مقدمے میں استعمال نہیں کیا گیا۔ درج ذیل ڈاکومینٹ جو کہ پنجاب پولیس کی سائیٹ سے لیا گیا ہے قانون شہادت کے لئے گواہوں کی تعداد کا تعین کرتا ہے لیکن حدود کی صورت میں یہ شقیں استعمال نہیں ہوسکتی ہیں۔

    http://punjabpolice.gov.pk/system/files/qanun-e-shahadat-order-1984.pdf

    حدود زنا کی صورت میں شرعی گواہی کی تعداد
    http://www.pakistani.org/pakistan/legislation/zia_po_1979/ord7_1979.html


    اس مقدمے میں دو عورتیں جو چشم دید گواہ ہیں پیش ہوئیں، اور ایک مرد گواہ قاری سلیم ، لیکن قاری سلیم چشم دید گواہ نہیں ہے بلکہ صرف یہ دو عورتیں جو چشم دید گواہ ہیں جو قاری سلیم کے سامنے پانچ دن کے بعد پیش ہوئیں۔ لہذا قاری سلیم کی گواہی صرف سنی سنائی پر مبنی ہے۔ لہذا کم از کم دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی مکمل نہیں ہوئی۔ اس لئے شرعی قانون شہادت ، مجرمانہ کاروائی کی صورت میں چار گواہوں کی تکمیل نہیں ہوئی۔ اس ڈاکومینٹ میں یہ موقف پیش کیا گیا ہے کہ مزید شہادت کی ضرورت اس لئے نہیں کہ اس سے ناموس رسول کے مزید پامال ہونے کا امکان ہے لہذا ٹزکیہ الشہادت کے اہم قانون کو اس ڈاکو مینٹ کے مطابق نظر انداز کردیا گیا۔ لہذا مزید گواہ یا گواہوں پر مزید جرح نہیں کی گئی، یہ مؤقف مزید اس امر کو تقویت دیتا ہے کہ قانون شہادت کی اور تزکیہ شہادت کی ضرورت کی اس مقدمے میں مکمل طور پر تکمیل نہیں ہوئی۔ یہ نکات مقدمے کی کارواءی کے اوپر دیے ڈاکومینٹ میں موجود ہیں۔

    امید ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ آئندہ شنوائی میں اور آئندہ نظر ثانی میں اس نکتے پر غور کرے گی اور ہم طالب علموں کے لئے تشفی بخش جوابات فراہم کرے گی کہ بناء مکمل گواہی یعنی گواہوں کی مکمل تعداد پوری کئے بغیر آسیہ بی بی پر یہ جرم کس طرح ثابت ہوتا ہے، یہ ایک وضاحت طلب امر ہے۔

    یہ نکات سامنے ہیں اور مقدمے کی کاروائی اور قانون شہادت میں پڑھے جاسکتے ہیں۔ دعا ہے کہ آسیہ بی بی کے ساتھ مکمل انصاف ہو۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 2, 2016
    • معلوماتی معلوماتی × 6
  19. زلفی شاہ

    زلفی شاہ لائبریرین

    مراسلے:
    4,001
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم۔ جو کچھ لکھو گےہاتھ گواہی دیں گے قیامت کے دن .
     
    مدیر کی آخری تدوین: ‏مارچ 3, 2016
    • متفق متفق × 2
  20. یاز

    یاز محفلین

    مراسلے:
    18,114
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    سوشل میڈیا اور کئی دیگر جگہوں پہ ایک نئی تھیوری یہ گردش کر رہی ہے کہ "جنازوں کے سائز سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون حق پہ تھا"۔

    میں زیادہ تو نہیں کہوں گا، بس اتنا ہی کہ کہنے والے خود ہی اس پہ غور فرما لیں کہ یہ بھی کوئی دلیل ہے۔ اس طرح تو ہر غریب بندہ یا عام آدمی سیاہ کار، جھوٹا وغیرہ ثابت ہوا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3

اس صفحے کی تشہیر