ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی

اس تمام بحث سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ
توہین رسالت (ص) کے قانون کا اطلاق سخت سے سخت ہونا چاہیے تاکہ کسی فرد کی دلازاری نہ ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے دل میں ہے اور تمام معاشرہ کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے۔ حکومت کو اسیہ بی بی کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے ۔ حکومت ہر ممکن کوشش کرے کہ توہین رسالت کا مجرم بچ کر نہ جانے پائے۔
توہین رسالت کے معاملے کو سیاسی رخ دینے کے بجائے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے
 
کعب بن اشرف کو قتل کیوں گیا ۔
1۔ جنگ بدر کے بعد یہودیوں اور مسلمانوں کے مابین معاہدے کی خلاف ورزی ۔
2۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو بار بار قتل کرنے کی سازش۔۔۔۔۔۔

دنیا کی کسی بھی عدالت میں جائیں قتل کے بچاؤ میں دفاع کے طور قتل جائز ہوجاتا ہے ۔ یہاں شان رسالت صلی اللہ علیہ والہ وسلم میں گستاخی کی وجہ سے نہیں بلکہ قتل کے دفاع میں قتل کیا گیا تھا ۔ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فتنہ سازی بڑھے تو تب بھی تدبر اختیار کرتے فتنہ و فساد کو روکنے کے لیے اقدامات اٹھانے پڑتے ہیں ۔

https://ur.wikipedia.org/wiki/سریہ_محمد_بن_مسلمہ
https://ur.wikipedia.org/wiki/کعب_بن_اشرف
کعب بن اشرف سب سے بڑھ کر دریدہ دہن شخص تھا۔ اور اس کے ہمراہ دوسرے گیارہ گستاخوں کو بھی ان کی توہین آمیز حرکات پر واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔ صرف کعب بن اشرف نہیں اور بھی کئی گستاخ لوگ حکم نبوت پر صحابہ کے ہاتھوں صرف گستاخیء رسالت کی بنا کر قتل ہوئے۔ آپ کیا کہنا چاہتی ہیں کہ گستاخی رسالت پر درگزر کیا جائے؟ گستاخی مذہب یا گستاخی رسالت سے بڑی فتنہ سازی اور کیا ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کا سکون گستاخی مذہب اور اس کے رد عمل میں قتل و غارت نے تباہ کیا ہوا ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

طالب سحر

محفلین
سوشل میڈیا اور کئی دیگر جگہوں پہ ایک نئی تھیوری یہ گردش کر رہی ہے کہ "جنازوں کے سائز سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون حق پہ تھا"۔

میں زیادہ تو نہیں کہوں گا، بس اتنا ہی کہ کہنے والے خود ہی اس پہ غور فرما لیں کہ یہ بھی کوئی دلیل ہے۔ اس طرح تو ہر غریب بندہ یا عام آدمی سیاہ کار، جھوٹا وغیرہ ثابت ہوا۔

اس حوالے سے عدنان خان کاکڑ کا کالم "جنازے کا فیصلہ" دلچسپ ہے-
http://humsub.com.pk/6867/adnan-khan-kakar-36/
 
سوشل میڈیا اور کئی دیگر جگہوں پہ ایک نئی تھیوری یہ گردش کر رہی ہے کہ "جنازوں کے سائز سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون حق پہ تھا"۔

میں زیادہ تو نہیں کہوں گا، بس اتنا ہی کہ کہنے والے خود ہی اس پہ غور فرما لیں کہ یہ بھی کوئی دلیل ہے۔ اس طرح تو ہر غریب بندہ یا عام آدمی سیاہ کار، جھوٹا وغیرہ ثابت ہوا۔
دراصل آپ کو پہلے تو اس بات کا بھی علم نہیں ہے کہ یہ قول امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا ہے
اور انہوں نے ظالم حکمران کو للکارتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے جنازے اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر تھا
سلمان تاثیر کی نماز جنازہ کسی بھی عالم دین کیا عام سے مولوی نے بھی پڑھانے سے انکار کردیا اور تو اور گورنر ہاؤس کے تنخواہ دار امام مسجد نے بھی انکار کردیا دوسری طرف ممتاز قادری کی نماز جنازہ دیکھیں کہ ہر مکتبہ فکر کے علماء اور بندوں نے اس کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور جنازہ میں شامل لوگون کا شمار ہی نہیں تھا کہ کتنے لاکھ ہیں۔
 
اور زمانے کی کاریگری دیکھیں اقبالٌ نے غازی علم دین شہیدٌ کی تدفین کے موقع پر فرمایا تھا اور تدفین کا عمل سلیمان تاثیر کے والد گرامی مرحوم ایم ڈی تاثیر کے زیر نگرانی ہو رہاتھا ۔علامہ کے مخاظب شہنشاہ خطابت احراری رہنما سید عطااللہ شاہ بخاریٌ تھے
عقل عیار ہے سو بھیس بنا لیتی ہے
عشق بے چارہ نہ زاہد ہے نہ ملا نہ حکیم
یہ کلپ دیکھیں
 
اس تمام بحث سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ
توہین رسالت (ص) کے قانون کا اطلاق سخت سے سخت ہونا چاہیے تاکہ کسی فرد کی دلازاری نہ ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے دل میں ہے اور تمام معاشرہ کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے۔ حکومت کو اسیہ بی بی کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے ۔ حکومت ہر ممکن کوشش کرے کہ توہین رسالت کا مجرم بچ کر نہ جانے پائے۔
توہین رسالت کے معاملے کو سیاسی رخ دینے کے بجائے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے

سوال : آسیہ بی بی کے خلاف کتنے گواہ ہیں اور کتنے گواہ درکار ہیں ؟
 
پیشگوئیاں سٹارٹ ہو گئی ہیں
ممتاز قادری کی پیدائش سے پہلے نیک بیٹے کی ولادت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گستاخی رسول پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی کے بعد ان سے متعلق حیران کن انکشاف ہوا ہے ۔معروف اخبار روزنامہ امت نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ممتاز قادری کی پیدائش سے پہلے ان کے والد کو بشارت ہوئی تھی ۔اخبار نے ممتاز قادری کے حوالے سے لکھا ان کے گھر میں عبادت کیلئے ایک جگہ مختص ہے ۔ممتاز کی پیدائش سے پہلے نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد ان کے ساتھ عجیب واقعہ پیش آیا۔ان کے بقول نماز کے بعد دیکھا تو ایک صاحب نماز ادا کر رہے تھے ۔جاتے ہوئے کہنے لگے اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک نیک بیٹا پیدا ہوگا جو اسلام کیلئے عزت پائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے دو برس بعد ممتاز قادری کی ولادت ہوئی یہ بات بھول گئی لیکن پھر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد وہی مناظر یاد آگئے

http://javedch.com/pakistan/2016/03/03/143358
 

Fawad -

محفلین

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


بعض رائے دہندگان کی جانب سے ممتاز قادری کی پھانسی اور اس کے بعد جاری بحث ميں امريکہ کو نشانہ بنانا سمجھ سے باہر ہے کيونکہ يہ تو ايسا مقدمہ تھا جس کا فيصلہ پاکستان کے آزاد عدالتی نظام اور اس سے وابستہ ارباب اختيار کی جانب سے کيا گيا ہے۔ اس مقدمے سے حوالے سے ججز، وکلاء يا ديگر فيصلہ ساز عناصر امريکی نہيں بلکہ پاکستانی تھے اور انھيں اس ضمن ميں امريکی حکومت کی جانب سے کسی بھی قسم کے مشورے يا ہدايات نہيں دی گئ تھيں۔

اس مقدمے کے ضمن ميں جو رائے دہندگان امريکہ کو ہدف تنقيد بنا رہے ہيں ان کے تو دلائل بھی تضادات کا شکار اور ناقابل فہم ہيں۔ ايک جانب تو وہ يہ دعوی کرتے ہيں کہ پاکستانی حکومت ميں موجود امريکی کٹھ پتلیوں نے امريکہ کی خوشنودی کے ليے قادری کی پھانسی ميں اہم کردار ادا کيا ہے۔ اور پھر وہ يہ دعوی بھی کرتے ہيں يہ پھانسی اب حکومت پاکستان کے زوال کا سبب بنے گی۔ سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ اگر يہ مفروضہ درست ہوتا تو امريکی حکومت يہ کيوں چاہے گی کہ پاکستانی حکومت ميں موجود اپنے "اثاثوں" سے وہ فيصلے کروائے جو خود ان کی حکومت کو کمزور کرنے يا گرانے کا موجب بن جائيں؟ ہونا تو يہ چاہيے کہ ہم حکومت پاکستان ميں موجود اپنے شراکت داروں کو مزيد مستحکم کريں تا کہ وہ اپنے اثر ورسوخ کو استعمال کرتے ہوئے مستقل ہمارے ايجنڈوں کو آگے بڑھائيں، نا کہ ايسے فيصلے کريں جو خود ان کے وجود کو خطرات سے دوچار کر ديں۔

پاکستان ميں کسی بھی اہم واقعے يا پيش رفت کے بعد سازشی کہانی نويسوں کی جانب سے اپنے مخصوص نظريات کی تشہير کے ليے جو يکا يک پينترے بدلے جاتے ہيں، وہ يقينی طور پر حيران کن ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov

https://twitter.com/USDOSDOT_Urdu

http://www.facebook.com/USDOTUrdu

USDOTURDU_banner.jpg
 

زیک

تقریباً غائب
پیشگوئیاں سٹارٹ ہو گئی ہیں
ممتاز قادری کی پیدائش سے پہلے نیک بیٹے کی ولادت
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)گستاخی رسول پر گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ممتاز قادری کو پھانسی کے بعد ان سے متعلق حیران کن انکشاف ہوا ہے ۔معروف اخبار روزنامہ امت نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ممتاز قادری کی پیدائش سے پہلے ان کے والد کو بشارت ہوئی تھی ۔اخبار نے ممتاز قادری کے حوالے سے لکھا ان کے گھر میں عبادت کیلئے ایک جگہ مختص ہے ۔ممتاز کی پیدائش سے پہلے نماز تہجد کی ادائیگی کے بعد ان کے ساتھ عجیب واقعہ پیش آیا۔ان کے بقول نماز کے بعد دیکھا تو ایک صاحب نماز ادا کر رہے تھے ۔جاتے ہوئے کہنے لگے اس گھر کے جنوبی کونے میں ایک نیک بیٹا پیدا ہوگا جو اسلام کیلئے عزت پائے گا۔انہوں نے بتایا کہ اس واقعہ کے دو برس بعد ممتاز قادری کی ولادت ہوئی یہ بات بھول گئی لیکن پھر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد وہی مناظر یاد آگئے

http://javedch.com/pakistan/2016/03/03/143358
ابھی تو شروعات ہیں آگے آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
 

زیک

تقریباً غائب
اس تمام بحث سے یہ بات پتہ چلتی ہے کہ
توہین رسالت (ص) کے قانون کا اطلاق سخت سے سخت ہونا چاہیے تاکہ کسی فرد کی دلازاری نہ ہو۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ہر مسلمان کے دل میں ہے اور تمام معاشرہ کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے۔ حکومت کو اسیہ بی بی کو فی الفور قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے ۔ حکومت ہر ممکن کوشش کرے کہ توہین رسالت کا مجرم بچ کر نہ جانے پائے۔
توہین رسالت کے معاملے کو سیاسی رخ دینے کے بجائے مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے
اس کا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہیئے کہ جیسے ہی کوئی توہین کرے فوراً گولی آئے اور اسے مار دے۔
 
اوریاء مقبول جان
بات واضح ہوچکی
۔۔۔۔۔
وہ جن کو زعم تھا کہ ہم رائے عامہ تخلیق کرتے ہیں۔ ہم لوگوں کو آزادی اظہار کا راستہ دکھاتے ہیں۔ ہمیں صحافتی آزادی کسی ڈکٹیٹر نے تحفے میں نہیں دی بلکہ ہم نے مدتوں جدوجہد کرکے یہ آزادی حاصل کی۔ 29 فروری اور یکم مارچ 2016ء کو لوگوں نے ان کے یہ تمام دعوے غلط ثابت ہوئے۔ عوام نے یہ ثابت کر دکھایا کہ تم وہ بزدل اور مصلحت کوش ہجوم ہو جو صرف اپنے نہیں بلکہ اپنے آقاؤں کے مفاد میں لکھتا اور بولتا ہے۔
جس آزادی صحافت اور حرمت قلم کو وہ اپنا آدرش اور مقصد حیات سمجھتے تھے‘ کوئی اتنی آسانی سے ان سے چھین کے لے جائے گا۔ پورے ملک میں پھیلے لاکھوں صحافیوں میں سے کسی ایک نے بھی صدائے احتجاج بلند نہ کی۔ یہ وہی لوگ تھے جن کے چند پروگراموں پر افتخار چوہدری کی بحالی کی تحریک میں پرویز مشرف نے پابندی لگائی تھی تو وہ تمام اینکرپرسن اپنے پروگرام لے کر اسلام آباد کی ایک سڑک پر آ گئے تھے اور وہاں عوام کے سامنے اپنے پروگرام منعقد کرتے لیکن ان سب کو ان دو دنوں میں یہ سب کچھ یاد نہ آیا۔ اپنے خوبصورت دفاتر میں بیٹھے اس بات پر بحث کرتے رہے کہ ٹھیک ہوا یا نہیں ہوا۔
لیکن شاید سب لوگ یہی چاہتے تھے۔ ذرا اس پورے قصے کی تاریخ میں جائیں تو آپ کو میڈیا کے بڑے بڑے نام اس داستان سے کھیلتے ہوئے اور اپنا مقصد حاصل کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ جس دن آسیہ کو توہین رسالت کے جرم میں عدالت سے سزا ہوئی تو اس دن سے لے کر سلمان تاثیر کے واقعے تک آپ تمام ٹی وی چینلز کے پروگرام ملاحظہ کریں۔ آپ کو یہ سب کے سب عدالت‘ قانون‘ انصاف اور حکومت کا مذاق اڑاتے نظر آئیں گے۔ مملکت خداداد پاکستان کی وہ این جی اوز جو اس ملک میں موجود مغرب کے سفارت خانوں سے ایک خاص نظریے اور مقصد کی ترویج کے لیے مسلسل مدد حاصل کر تی ہیں‘ جن کے گروہ کو سول سوسائٹی کا نام دیا جاتا ہے۔
ایسا گمراہ کن نام جیسے اٹھارہ کروڑ لوگوں میں یہ چار یا پانچ سو لوگ ہی سول ہیں جب کہ باقی پوری قوم تو غیر مہذب یا غیر سول ہیں۔ ان پروگراموں میں ان کے کرتا دھرتا لوگ آ کر آسیہ کی سزا‘ عدالت اور توہین رسالت کے قانون پر بحثیں کرتے رہے۔ ان کے لہجے میں تمسخر بھی تھا اور تحقیر بھی۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر پروگرام میں گورنر سلمان تاثیر کو بلاوجہ گھسیٹا گیا۔ میڈیا کے یہ کرتا دھرتا جانتے تھے کہ وہ اس بارے میں کیسے خیالات رکھتا ہے۔
لیکن میڈیا کو تو اپنا چورن بیچنا تھا۔ ریٹنگ کی دھن میں پاگل ہوئے یہ سب لوگ اسے بار بار دکھاتے اور بار بار پروگراموں میں اس کے منہ سے ایسے فقرے اگلوانے کی کوشش کرتے جس سے اشتعال پیدا ہو۔ ان کا ایک خاص طریقہ کار ہے۔ پاکستان میں کسی بھی قسم کی کوئی برائی‘ ظلم‘ زیادتی ہو‘ انھوں نے بدنام کرنے کے لیے اسلام کو نشانہ ضرور بنانا ہوتا ہے۔ مثلاً کاروکاری سندھی یا بلوچ معاشرہ کی ہزارووں سال پرانی رسم ہے جو اسلام کے آنے سے پہلے سے جاری ہے لیکن جب بھی غیرت کے نام پر کوئی قتل ہوتا ہے یہ سندھی یا بلوچ قوم پرست کو نہیں بلائیں گے بلکہ ایک کمزور سے مولوی کو بلائیں گے اور اس کو گھیر گھار کے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کریں گے کہ سارا قصور مذہبی طبقے کا ہے۔ کس قدر بھونڈی دلیل ہے کہ مولوی منبر پر بیٹھ کر ایسے جرائم کو روکتا کیوں نہیں۔ تم مولوی کی سنتے ہو۔ کیا تم نے تو اسے بچوں کے کان میں اذان دینے‘ نکاح پڑھانے اور جنازے کی دعا کے لیے رکھا ہوا ہے۔
پورے دو ماہ پاکستان کے ٹیلی ویژن چینلز پر ایک ہنگامہ برپا رہا۔ وہ جس نے آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا تھا۔ جس نے کہا تھا کہ ’’میں اسلام جو اس پاکستان کا نظریہ اور بنیاد ہے اس کا تحفظ کروں گا۔ جسے اسمبلی کے بنائے ہوئے قانون اور عدالت کے فیصلوں کا دلوں بھی احترام پیدا کرنا تھا۔ ان ٹاک شو والوں نے اسے گھسیٹ گھسیٹ کر اس سے ایسے الفاظ کہلوائے جو اس قانون اور عدالت کے فیصلے کو مشکوک کرتے تھے۔ پھر ایک دن وہ اپنی جان سے چلا گیا۔ میڈیا تو ایک جانب اس کی اپنی پارٹی میں بھی سناٹا چھا گیا اور اس کے لیڈر منہ چھپاتے پھرتے رہے۔
ایسے میں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میڈیا کے یہ بڑے بڑے نام ممتاز قادری کے جنازے پر لگائی گئی پابندی کو ناپسند کرتے تھے‘ اسے آزادی صحافت پر قدغن خیال کرتے تھے تو یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کے حق میں کوئی شواہد موجود نہیں۔ اس لیے کہ یہ لوگ خود بھی اس جنازے کو دکھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ کیسے دکھاتے‘ جس میڈیا نے گزشتہ پندرہ سالوں میں اسلام اور مسلمانوں کا یہ چہرہ لوگوں کے سامنے پیش کیا ہو کہ یہ شیعہ‘ سنی‘ دیوبندی اور بریلوی مسالک میں الجھے ہوئے ہیں۔
یہ ایک دوسرے کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے۔ ایسے میں میڈیا کی موت تھی کہ وہ ان لوگوں کو دکھاتا جو ہر مسلک سے تعلق رکھتے تھے‘ لیکن عشق رسول کی لڑی نے انھیں ایک ساتھ پرو دیا تھا۔ میڈیا کا دوسرا ہتھیار یہ تھا کہ وہ یہ ثابت کرتا پھرے کہ اسلام کے پیروکار تشدد پسند ہوتے ہیں‘ توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔ انھیں یہ سب کیسے گوارا تھا کہ اتنا بڑا ہجوم کہ پاکستان کی تاریخ میں ایسا نہ ہو سکا‘ اس قدر پرامن رہے‘ دو جنازے اس ملک میں نزدیکی دور میں ہیں۔ ایک بے نظیر بھٹو کا جنازہ اور سوگ کہ تین دن تک اس ملک میں ہر طرح کا ظلم روا رکھا گیا۔
درجنوں ریلوے اسٹیشنوں کو آگ لگائی گئی۔ ہزاروں گھروں کو لوٹا گیا۔ عصمتیں تک تار تار کی گئیں اور یہ سب میڈیا نے دکھایا اور پھر اس کی کوکھ سے اپنی پسند کا ہیرو آصف زرداری نکالا جس کے ’’پاکستان کھپے‘‘ پر امن قائم ہوا۔ لیکن میڈیا کو یہ داڑھی اور عمامے والے نظر نہ آئے جو کہہ رہے تھے کہ ہم امن کی ضمانت دیتے ہیں اور انھوں نے وہ کر دکھایا۔ لیکن ایسا کچھ لکھنے سے ان کالم نگاروں کے دل پر چھریاں چلتیں‘ ان اینکر پرسنوں کا دل بیٹھ جاتا جو یہ ثابت کرنے میں اپنی زندگیاں گزار چکے ہیں کہ مسلمان صرف شدت پسند اور دہشت گرد ہوتا ہے۔
دو دن پاکستان میڈیا کے 80 سے زیادہ چینلز کو چار یا پانچ انچ کے موبائل فون پر لگی ہوئی اسکرین نے شکست دے دی اور اسی سوشل میڈیا کی فوٹیج نکال کر ٹی وی چینلوں پر چلانے کو مجبور ہیں۔ ماتم کر رہے ہیں کہ ہمارے صحافیوں پر تشدد ہوا۔ کس قدر دوغلا معیار ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالت نے قاتل کہا اور پھانسی کی سزا سنائی۔ اسے پاکستان کا پورا میڈیا شہید بھی کہتا ہے اور اس کی برسی کو ہر سال براہ راست نشر بھی کرتا ہے۔ ایمل کانسی نے امریکا میں دو لوگوں کو قتل کیا۔ اسے امریکا کے حوالے کیا گیا اور ہم نے امریکی اٹارنی جنرل سے یہ فقرہ بھی سنا کہ پاکستانی سرمائے کے لیے اپنی ماں کو بھی بیچ دیتے ہیں۔ جس دن اسے سزا دی گئی پرویز مشرف کی آمریت تھی لیکن اس پر پروگرام ہوتے رہے ۔ میں خود کوئٹہ میں اس کے جنازے میں موجود تھا۔ اسے لائیو دکھایا جا رہا تھا۔
اسامہ بن لادن کی موت کے بعد ٹیلی ویژن چینلوں پر کیا کچھ نہیں کہا گیا۔ ایک مصنوعی خوف پھیلایا گیا کہ پتہ نہیں کیا ہو جائے گا۔ لیکن ان سب کو اندازہ نہیں کہ کچھ جرم ایسے ہوتے ہیں جن کی ایف آئی آر‘ زمینوں پر نہیں آسمانوں پر درج ہوتی ہے۔ جیسے یہاں اعانت جرم پر سزا ہوتی ہے ویسے ہی آسمانوں پر بھی اعانت جرم پر سزا سنائی جاتی ہے بلکہ وہ سزا شاید جرم کرنے والے سے بھی زیادہ سخت ہے۔
رسول اکرم نے فرمایا۔ اللہ نے جبریل کو ایک بستی پر عذاب مسلط کرنے کے لیے بھیجا‘ جبریل واپس آ گئے کہا وہاں ایک ایسا شخص ہے جس نے آپکی عبادت میں آنکھ جھپکنے جیسی غفلت بھی نہیں برتی۔ اللہ نے فرمایا۔ ’’یہ وہ بدبخت ہے جو عابد و زاہد تھا لیکن میرے نام کی غیرت پر اس کے چہرے کا رنگ نہیں بدلتا تھا‘‘ اس کے اوپر پوری بستی الٹ دو ( مفہوم حدیث)۔ اہل نظرجب کہتے تھے کہ پاکستان اللہ کے غیظ و غضب کا شکار ہونے والا ہے‘ سیلابوں اور زلزلوں کی آمد ہے۔ سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیسے لیکن شاید اب تو بات روشن ہو چکی ہے۔ اللہ ہمیں اپنے عذاب سے محفوظ رکھے اور اگر ہماری موت یقینی ہے تو ہمیں ان لوگوں کی معیت میں اٹھائے جو اللہ کے محبوب ہیں۔
 

گلزار خان

محفلین
ہم بس اتنا کہیں گے کہ یہاں ﭘﺮ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺯﺑﺎﻥ ﯾﺎ ﻗﻠﻢ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﯽ ﮨﻮﺋﯽ
ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻧﺎﻣﮧ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﻮﺭﮨﯽ ﮨﮯ ۔۔۔​
 
اس کا کوئی ایسا طریقہ ہونا چاہیئے کہ جیسے ہی کوئی توہین کرے فوراً گولی آئے اور اسے مار دے۔

سب سے پہلے تو یہ ہونا چاہیے کہ جن جن توہین رسالت کے مجرمین کو عدالت سے سزا ہوچکی ہے اس پر عمل درامد ہو۔ اج تو کسی ایک پر بھی نہیں ہوا۔ پھر جو لوگ سزاکے بعد بھاگ چکے ہیں ان کو باہر سے پکڑ کر لایا جاوے پھر سزا دی جاوے۔
 

یاز

محفلین
محترم بھائی
عجب آپ گواہوں کو پوچھ رہے ہیں ۔ یہاں تو 2010 میں آسیہ بی بی رہا بھی ہو چکی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
34i5qau.jpg

بہت دعائیں

محترم بھائی! کیا آپ کو یقین ہے کہ آسیہ بی بی 2010 میں رہا کر دی گئی تھی؟
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ سلمان تاثیرنے اپنے قتل ہونے (جنوری 2011) سے چند روز یا چند ہفتے قبل آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی۔
 

حسیب

محفلین

نایاب

لائبریرین
محترم بھائی! کیا آپ کو یقین ہے کہ آسیہ بی بی 2010 میں رہا کر دی گئی تھی؟
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے کہ سلمان تاثیرنے اپنے قتل ہونے (جنوری 2011) سے چند روز یا چند ہفتے قبل آسیہ بی بی سے جیل میں ملاقات کی تھی۔
میرے محترم بھائی میرے اک محترم دوست نے فارورڈ کیا یہ پیج اور پوچھا کہ کیا واقعی " تاثیر نے آسیہ کو رہا کرا بیرون ملک بھیج دیا "
میں نے آپ سب کے سامنے رکھ اس کی تصدیق چاہی ہے ۔۔۔
بہت دعائیں
 
کعب بن اشرف سب سے بڑھ کر دریدہ دہن شخص تھا۔ اور اس کے ہمراہ دوسرے گیارہ گستاخوں کو بھی ان کی توہین آمیز حرکات پر واجب القتل قرار دیا گیا تھا۔ صرف کعب بن اشرف نہیں اور بھی کئی گستاخ لوگ حکم نبوت پر صحابہ کے ہاتھوں صرف گستاخیء رسالت کی بنا کر قتل ہوئے۔ آپ کیا کہنا چاہتی ہیں کہ گستاخی رسالت پر درگزر کیا جائے؟ گستاخی مذہب یا گستاخی رسالت سے بڑی فتنہ سازی اور کیا ہو سکتی ہے۔ پوری دنیا کا سکون گستاخی مذہب اور اس کے رد عمل میں قتل و غارت نے تباہ کیا ہوا ہے۔
تو پھر ان مولویوں پر بھی یہ قانون لگایا جائے جو دوسروں کے خداؤں اور مذہبی پیشواؤں کو برا بھلا کہتے ہیں اور اپنے ہی مذہب کو راہ راست پر سمجھتے ہیں۔ بلکہ اس کا اطلاق تو ہر مذہبی پر ہونا چاہیے۔
 
آخری تدوین:
Top