ملکی سیاسی صورتحال‘ آئندہ چند گھنٹوں میں اہم پیشرفت کا امکان

زین

لائبریرین
اسلام آباد میں صدر آصف علی زرداری سے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی نے ملاقات کی ہے ۔ اس سے قبل آرمی چیف اور وزیراعظم کے مابین بھی ملاقات ہوئی ۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں کے بعد صوبہ پنجاب میں‌ نافذ گورنر راج ہٹانے اور ججز کی بحالی سے متعلق اہم پیشرفت کا امکان ہے ۔

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران وزیراعظم گیلانی سے سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور نواز لیگ کے سربراہ میاں شہباز شریف کی ملاقات کا بھی امکان ہے ۔

ادھر کوئٹہ میں ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت اور شریف برادران کے مابین مفاہمت کی کوششوں میں مصروف وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو بھی اسلام آباد طلب کرلیا گیا ہے ۔

رابطہ کرنے پر وکیل رہنماء‌ علی احمد کرد نے بتایا کہ تاحال حکومت کی جانب سے وکلاء سے کوئی رابطہ نہیں‌کیا گیا ہے ۔

جب کہ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے ججز کی بحالی اور گورنر راج ہٹانے کی اطلاعات کے بارے میں‌کہا ہے کہ اب تک ایسا کوئی فیصلہ نہیں‌کیا گیا ہے ۔
 

خرم

محفلین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ

جج افتخار چوہدری کی بحالی تو مشکل ہے کہ پھر وہ زرداری کے خلاف نوازشریف کا انتہائی مؤثر ہتھیار ثابت ہوں گے۔ اس کی بجائے پنجاب حکومت کی بحالی اور چند دوسرے اقدامات کا اعلان ضرور ہو سکتا ہے۔ دیکھیں اب کیا سودے بازی ہوتی ہے۔
 

arifkarim

معطل
اگر ججز بحال کر دیں تو زرداری سب سے پہلے نا اہل ہو جائے گا۔ اسلئے حکُومت كو یہ قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ہوگا
 

باسم

محفلین
صدر زرداری گورنر راج کے خاتمے پر رضامند :آج اردو
اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری پنجاب سے گورنر راج ختم کرنے پر رضا مند ہو گئے۔ وزیراعظم گیلانی نے مذاکرات کے لئے شہباز شریف اور نواب اسلم رئیسانی کو اسلام آباد طلب کر لیا۔ ذرائع کے مطابق صدر آصف علی زرداری نے پنجاب سے گورنر راج کے خاتمے کے لئے رضامندی ظاہر کر دی ہے اور گورنر راج کے خاتمے پر اتفاق کر لیا گیا ہے جبکہ گورنر راج کے خاتمے کی تاریخ کا تعین کیا جا رہا ہے۔
 

ساجد

محفلین
مداریوں کے تماشے دیکھتے جائیے۔ ان کی تقریریں سن کر سر دھننے اور کرتوت دیکھ کر سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے۔ کچھ بھی نہیں بدلے گا ، کوئی بحال ہو یا بے حال عوام کا برا حال ہی رہے گا۔ تمام ہی پارٹیوں کی قیادت ناکام ہو چکی ہے اور سب سیاستدان اقربا پروری ، رشوت ستانی و لوٹ کھسوٹ میں گھٹنوں گھٹنوں دھنسے ہوئے ہیں ۔ شریف برادران کو اپنے تاریک ہوتے سیاسی مستقبل کا خوف سڑکوں پہ لایا ہے تو زرداری کو اس کے آقاؤں نے مجبور کیا ہے کہ ابھی ہمیں تمہاری ضرورت ہے اس لئیے جیسے بھی ہو شریفوں کی کچھ باتیں مان کر فی الحال کرسی پر گرفت پکی رکھو۔
معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ ہم سب پھر سے جوتیوں میں دال بٹتی دیکھیں گے ۔
اللہ اس قوم پر رحم فرمائے۔
 

شمشاد

لائبریرین
اب تک تو کوئی سمجھوتا نہیں ہوا۔ الٹا زرداری اور اکڑ گیا ہے۔

جیو کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔
 

ساجد

محفلین
حجور والا ہم تو بہوت پہلے ہی کہوت تھے کہ پی پی پی جمہوریت ناہیں سول آمریت کا دوسرا نام ہوت ہے۔
 

زین

لائبریرین
جس پارٹی کو جرنیل نہ توڑ سکے ، زرداری صاحب توڑ گئے۔

صفدر عباسی، ناہید خان، اعتزاز احسن اوررضا ربانی جیسے مخلص کارکن اور رہنمائوں نے راہیں جدا کرلی ہیں۔ شیری رحمن بھی مستعفی ہوگئیں۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے ۔ ؟
 
Top