میر مطلق نہیں ادھر ہے اس دل ربا کی خواہش۔ میر تقی میر

فرخ منظور

لائبریرین
مطلق نہیں ادھر ہے اس دل ربا کی خواہش​
کیا جانیے کہ کیا ہے یارو خدا کی خواہش​
​
دیکھیں تو تیغ اس کی اب کس کے سر چڑھے ہے​
رکھتے ہیں یار جی میں اُس کی جفا کی خواہش​
​
لعلِ خموش اپنے دیکھو ہو آرسی میں​
پھر پوچھتے ہو ہنس کر مجھ بے نوا کی خواہش​
​
اقلیمِ حسن سے ہم دل پھیر لے چلے ہیں​
کیا کریے یاں نہیں ہے جنسِ وفا کی خواہش​
​
خونِ جگر ہی کھانا آغازِ عشق میں ہے​
رہتی ہے اس مرض میں پھر کب غذا کی خواہش​
​
وہ شوخ دشمنِ جاں، اے دل تُو اس کا خواہاں​
کرتا ہے کوئی ظالم ایسی بلا کی خواہش​
​
میرے بھی حق میں کر ٹک ہاتھوں کو میر اونچا​
رکھتا ہے اہلِ دل سے ہر یک دعا کی خواہش​
​
(میر تقی میر)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top