مشہور شاعر جان نثار اختر کی تیسویں برسی

تفسیر نے 'اردو نامہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 29, 2006

  1. تفسیر

    تفسیر محفلین

    مراسلے:
    3,088
    مشہور شاعر جان نثار اختر کی تیسویں برسی

    30 سال پہلےاس ماہ ، جان نثاراختر، ایک مشہور شاعر اورگیت نویس ہم سے جدا ھوئے ۔ وہ گیت نویس جاویداختر کےوالد تھے، سیفی اختر کے شوہراوراس رشتہ سے مجاز لکھنوی کے بہنوئ ۔ ان کے والد مزترخیرآبادی کا شمارعظیم شعرا میں ہے۔ یہ کہا جاتا ہے کہ " نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں" بہادرشاہ کی نہیں بلکہ مزترخیرآبادی کی تخلیق ہے

    ان کی ایک غزل پش کرتے ہیں۔

    زندگی تنہا سفر کی رات ہے

    زندگی تنہا سفر کی رات ہے
    اپنے اپنے حوصلے کی بات ہے

    کس عقیدے کی دہائ دیجئے
    ہرعقیدہ آج بھی بےاوقات ہے

    کیا پتہ پہنچیں گے کب منزل تلک
    گھٹتے بڑھتے فاصلوں کا ساتھ ہے

    ان کی شاعری اس لنک پر موجود ہے


    جان نثار اختر
     
  2. قیصرانی

    قیصرانی لائبریرین

    مراسلے:
    45,875
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Festive
    جزاک اللہ تفسیر بھائی
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    36,223
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    درست ہے کہ نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں والی غزل مضطر خیر آبادی کی ہے۔ اور جاں نثار اختر ان کے بیٹے تھے۔ لیکن یوں کہنا زیادہ درست ہوگا کہ جاوید اختر ان کے بیٹے ہیں، کیا زمانہ آ گیا ہے کہ یہ کہا جاتا ہے وہ جاوید کے باپ تھے۔ یہ شکایت ایک بار ہری ونش رائے بچٌن نے بھی کی تھی۔ کہ پہلےامیتابھ کو ان کا بیٹا کہا جاتا تھا۔ اور اب کہا جاتا ہے کہ وہ امیتابھ کے باپ ہیں۔
    اس کے علاوہ جاں نچار اختر کی اہلیہ کا نام صفیہ تھا سیفی نہیں۔ جاں نثار نے ان کے نام ذاتی خطوط کے مجموعے شائع کئے تھے، اس کا نام تھا ’زیرِ لب‘۔ اس وقت جاں نثار ممبئ میں تھے اور صفیہ جادو کے ساتھ یو پی میں۔ جادو جاوید اختر کا پیار کا نام تھا۔، علی گڑھ میں بھی انھیں ان کے دوست اسی نام سے پکارتے تھے۔
     
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت شکریہ معلومات فراہم کر نے کیلئے۔
     

اس صفحے کی تشہیر