مشرف پاکستان سے باہر جانے کے لئے سر گرم

یوسف-2

محفلین
news-11.gif
 
اچھا ہے اس کو باعزت ملک سے باہر کردیں اسی میں سب کی بھلائی ہے
مشرف کو چاہیے کہ فیس بک اور ٹیوٹر سے دور رہے۔ یہی مشورہ پی ٹی ائی والوں کے لیے ہے
 
ش

شہزاد احمد

مہمان
مشرف کو جلاوطن کر دینا چاہیے، یہی سزا بہت کافی ہے۔ نیا پنڈورا باکس نہ ہی کھولا جائے تو بہتر ہے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
مشرف کے ساتھ انصاف ہونا چاہئے ۔ اس کو عبرت بنانے کے لئے انصاف ہی کافی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ غالبا" یہ سوشل نیٹورکنگ کا پنکچر ہی اس کا پیراشوٹ لیک کر گیا ۔۔۔
 
یار تم لوگ بہت بھولے ہو امریکہ نے ابھی افغانستان سے نکلنا ہے اور ہماری ایجنسیوں کو ابھی طالبان کی ضرورت ہے اس وجہ سے پرویز مشرف کا یہ حال ہے ورنہ کسی کی کیا مجال کے مشرف کو ہاتھ لگا کردکھاتا۔
 

Fawad -

محفلین


فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

جو تبصرہ نگار بدستور پرويز مشرف کوامريکی مہرہ يا پاکستان میں ہمارا "قابل ترجيح" ليڈر بنا کر پيش کرتے ہيں، انھيں چاہيے کہ اس ضمن ميں حقائق کا بغور جائزہ ليں۔

پرويز مشرف کے آرمی چيف بننے سے لے کر اقتدار کے ايوانوں تک ان کے سفر اور پھر موجودہ واقعات کے تسلسل ميں وہ تمام فيصلے شامل تھے جو پاکستانی سياست دانوں، حکومتی عہديداروں اور بيوروکريٹس نے خود کيے ہيں۔ اس کے علاوہ مختلف مواقعوں پر پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقوں کی حمايت بھی ان کے ساتھ رہی۔

اگر تو آپ سازشی نظريات پر اس حد تک يقين رکھتے ہيں کہ يہ بے تکی منطق بھی تسليم کر ليں کہ پاکستان ميں سول سوسائٹی سميت ہر پاليسی ساز ادارہ اور فيصلہ کرنے والی ہرقوت ہمارے حکم کی منتظر رہتی ہے تو پھر تو آپ حق بجانب ہونے کا دعوی کر سکتے ہيں بصورت ديگر يہ ناقابل ترديد حقيقت تسليم کرنا ہو گی کہ مشرف دور اور اس سے وابستہ تمام فيصلے، خواہ وہ غلط ہوں يا درست، ان کے ليے آپ امريکہ کو مورد الزام نہيں ٹھہرا سکتے۔

اگر آپ تاريخ کے اوراق کا مطالعہ کريں تو شروع دن سے ہمارا موقف اور پوزيشن بالکل واضح رہی ہے۔

12 اکتوبر 1999 کو جب ايک "آمر" مشرف نے پاکستان ميں ايک جمہوری حکومت کا تختہ الٹايا تھا تو پاکستان کی تمام سياسی جماعتوں نے اس کی حمايت کی تھی۔ اس وقت يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی طرف سے يہ بيان جاری ہوا تھا۔

"ہم پاکستان ميں جمہوريت کی فوری بحالی کے خواہ ہيں ليکن ہم اس پوزيشن ميں نہيں ہيں کہ پاکستان ميں جمہوريت کی بحالی کے ليے کوئ غير آئينی قدم اٹھائيں۔"

اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان ميں کن افراد يا سياسی جماعتوں کی حکومت رہی ہے، امريکہ نے کئ دہائيوں سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال رکھے ہيں۔

911 کے حادثے کے بعد يہ بالکل درست ہے کہ امريکی حکومت کو افغانستان ميں ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائ کے لیے حکومت پاکستان کے تعاون اور مدد کی ضرورت تھی جنھوں نے دنيا بھر ميں امريکی شہريوں کے خلاف جنگ کا آغاز کر ديا تھا۔ اس وقت پاکستان کے حکمران پرويز مشرف تھے۔ يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ امريکہ کو افغانستان ميں کاروائ سے پہلے مشرف کو اقتدار سے ہٹانا چاہيے تھا۔

پرويز مشرف کو آرمی چيف مقرر کرنےسےلےکر صدر بنانے تک اور صدرکی حيثيت سےان کےاختيارات کی توثيق تک پاکستان کی تمام سياسی پارٹيوں اور ان کی قيادت نےاپنا بھرپور کردار ادا کيا ہےاسکے باوجود تمام سياسی جماعتوں کا يہ بيان ايک جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے کہ مشرف امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے برسراقتدار رہے، ليکن يہ حق‍یقت کے منافی ہے۔ ياد رہے کہ سال 2007 ميں مشرف کو امريکہ نے نہيں بلکہ قومی اسمبلی کے 57 فيصد ارکان نے ووٹ دے کر 5 سال کے لیے صدر منتخب کيا تھا۔

يہ فيصلہ بہرحال پاکستان کے عوام اور ان کے منتخب نمايندوں نے کرنا ہے کہ ملک ميں کس قسم کا حکومتی نظام نافذ کيا جائے۔ اس تناظر ميں کسی بھی قسم کی احتسابی يا عدالتی کاروائ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور امريکہ اس ميں کوئ مداخلت نہيں کرے گا۔

ان رپورٹوں ميں کوئ صداقت نہيں ہے کہ امريکی حکومت پاکستان ميں عدالتی عمل ميں کسی بھی قسم کا رخنہ ڈالنے کا ارداہ رکھتی ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
http://vidpk.com/83767/US-aid-in-Dairy-Projects/
 

زرقا مفتی

محفلین
فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

جو تبصرہ نگار بدستور پرويز مشرف کوامريکی مہرہ يا پاکستان میں ہمارا "قابل ترجيح" ليڈر بنا کر پيش کرتے ہيں، انھيں چاہيے کہ اس ضمن ميں حقائق کا بغور جائزہ ليں۔

پرويز مشرف کے آرمی چيف بننے سے لے کر اقتدار کے ايوانوں تک ان کے سفر اور پھر موجودہ واقعات کے تسلسل ميں وہ تمام فيصلے شامل تھے جو پاکستانی سياست دانوں، حکومتی عہديداروں اور بيوروکريٹس نے خود کيے ہيں۔ اس کے علاوہ مختلف مواقعوں پر پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقوں کی حمايت بھی ان کے ساتھ رہی۔

اگر تو آپ سازشی نظريات پر اس حد تک يقين رکھتے ہيں کہ يہ بے تکی منطق بھی تسليم کر ليں کہ پاکستان ميں سول سوسائٹی سميت ہر پاليسی ساز ادارہ اور فيصلہ کرنے والی ہرقوت ہمارے حکم کی منتظر رہتی ہے تو پھر تو آپ حق بجانب ہونے کا دعوی کر سکتے ہيں بصورت ديگر يہ ناقابل ترديد حقيقت تسليم کرنا ہو گی کہ مشرف دور اور اس سے وابستہ تمام فيصلے، خواہ وہ غلط ہوں يا درست، ان کے ليے آپ امريکہ کو مورد الزام نہيں ٹھہرا سکتے۔

اگر آپ تاريخ کے اوراق کا مطالعہ کريں تو شروع دن سے ہمارا موقف اور پوزيشن بالکل واضح رہی ہے۔

12 اکتوبر 1999 کو جب ايک "آمر" مشرف نے پاکستان ميں ايک جمہوری حکومت کا تختہ الٹايا تھا تو پاکستان کی تمام سياسی جماعتوں نے اس کی حمايت کی تھی۔ اس وقت يو – ايس – اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی طرف سے يہ بيان جاری ہوا تھا۔

"ہم پاکستان ميں جمہوريت کی فوری بحالی کے خواہ ہيں ليکن ہم اس پوزيشن ميں نہيں ہيں کہ پاکستان ميں جمہوريت کی بحالی کے ليے کوئ غير آئينی قدم اٹھائيں۔"

اس بات سے قطع نظر کہ پاکستان ميں کن افراد يا سياسی جماعتوں کی حکومت رہی ہے، امريکہ نے کئ دہائيوں سے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال رکھے ہيں۔

911 کے حادثے کے بعد يہ بالکل درست ہے کہ امريکی حکومت کو افغانستان ميں ان دہشت گردوں کے خلاف کاروائ کے لیے حکومت پاکستان کے تعاون اور مدد کی ضرورت تھی جنھوں نے دنيا بھر ميں امريکی شہريوں کے خلاف جنگ کا آغاز کر ديا تھا۔ اس وقت پاکستان کے حکمران پرويز مشرف تھے۔ يہ ايک غير منطقی مفروضہ ہے کہ امريکہ کو افغانستان ميں کاروائ سے پہلے مشرف کو اقتدار سے ہٹانا چاہيے تھا۔

پرويز مشرف کو آرمی چيف مقرر کرنےسےلےکر صدر بنانے تک اور صدرکی حيثيت سےان کےاختيارات کی توثيق تک پاکستان کی تمام سياسی پارٹيوں اور ان کی قيادت نےاپنا بھرپور کردار ادا کيا ہےاسکے باوجود تمام سياسی جماعتوں کا يہ بيان ايک جذباتی بحث کا موجب تو بن سکتا ہے کہ مشرف امريکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے برسراقتدار رہے، ليکن يہ حق‍یقت کے منافی ہے۔ ياد رہے کہ سال 2007 ميں مشرف کو امريکہ نے نہيں بلکہ قومی اسمبلی کے 57 فيصد ارکان نے ووٹ دے کر 5 سال کے لیے صدر منتخب کيا تھا۔

يہ فيصلہ بہرحال پاکستان کے عوام اور ان کے منتخب نمايندوں نے کرنا ہے کہ ملک ميں کس قسم کا حکومتی نظام نافذ کيا جائے۔ اس تناظر ميں کسی بھی قسم کی احتسابی يا عدالتی کاروائ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے اور امريکہ اس ميں کوئ مداخلت نہيں کرے گا۔

ان رپورٹوں ميں کوئ صداقت نہيں ہے کہ امريکی حکومت پاکستان ميں عدالتی عمل ميں کسی بھی قسم کا رخنہ ڈالنے کا ارداہ رکھتی ہے۔

فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

www.state.gov
http://www.facebook.com/USDOTUrdu
http://vidpk.com/83767/US-aid-in-Dairy-Projects/

آپ ناحق اتنی تاویلیں پیش کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں فوجی آمر امریکہ کے لئے ٹشو پیپرز کی طرح ہو تے ہیں استعمال کرو اور کوڑے دان کی نذر کر دو
 

یوسف-2

محفلین
آپ ناحق اتنی تاویلیں پیش کرتے ہیں ہم سب جانتے ہیں فوجی آمر امریکہ کے لئے ٹشو پیپرز کی طرح ہو تے ہیں استعمال کرو اور کوڑے دان کی نذر کر دو
میرا خیال ہے کہ
ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ میں شامل فواد صاحب یہ سب کچھ ناحق ہرگز نہیں کرتے ہوں گے بلکہ وہ ان تاویلات کا خوب خوب حق خدمت وسول کرتے ہوں گے۔ :)
 

ساجد

محفلین
یوسف بھائی ، یہاں یہ کارٹون پیش کرنے پر بھی اعتراض نہیں ہے لیکن سیاست کے زمرے میں ایک دھاگہ ہے "سیاسی کارٹون" اگر آپ اپنی پسند کے کارٹونز وہاں بھیجیں تو ایک ہی جگہپر مختلف اراکین کی طرف سے بھیجے گئے مختلف موضوعات کے کارٹونز کا مجموعہ بہت دلچسپی کا سامان پیدا کرتا ہے۔
فی الحال آپ کا یہ کارٹون "چوری" یعنی کاپی کر کے میں وہاں بھی پیش کر رہا ہوں۔:)
 
Top