مشاعرہ ---- فی البدیہہ اشعار کہیں۔

ہماری درخواست ہے کہ اتوار بتاریخ 30 جون ، جناب محمد یعقوب آسی صاحب کا مندرجہ بالا شعر طرحی مصرع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ آج بروز ہفتہ مزمل شیخ بسمل بھائی کا مصرع طرح استعمال کیجیے


وہ شعر میرا نہیں، جناب! چچا حضور کا ہے!

کہا جو تم نے کیوں ہو غیر سے ملنے میں رسوائی​
بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں، کیوں ہو​
۔۔۔ مرزا غالب​
 


ہاں شمعِ تمنّا بجھ بھی گئی، اب دل تِیرہ، تاریک بہت​
اب حدّتِ غم، نہ جوشِ جنوں، اے دشتِ طلب! برفاب ہیں ہم​

یہ تنہائی، یہ خاموشی، تارا بھی نہیں اِس شام کوئی​
کچھ داغ سمیٹے سینے میں، تنہا تنہا مہتاب ہیں ہم​


ایک حزن و ملال کا سیلِ بلا، سب خواب بہا کر لے بھی گیا​
پھر پھول کھلے من آنگن میں، پھر دیکھ ہمیں شاداب ہیں ہم​

لاکھوں ہم جیسے ملتے ہیں، نایاب نہیں ہیں ہم احمدؔ​
ہاں اُن کے لئے، جو دل سے ملے، وہ جانتے ہیں، کمیاب ہیں ہم​

بہت عمدہ غزل کہی ہے جناب ۔ داد قبول ہو۔
 
ہماری درخواست ہے کہ اتوار بتاریخ 30 جون ، جناب محمد یعقوب آسی صاحب کا مندرجہ بالا شعر طرحی مصرع کے طور پر استعمال کیا جائے۔ آج بروز ہفتہ مزمل شیخ بسمل بھائی کا مصرع طرح استعمال کیجیے


جناب آپ کی درخواست اظہار سے پہلے شرفِ قبولیت تک پہنچ چکی ہے۔ :p
اگر مصرعے پر طبع آزمائی شروع نہ ہوئی ہوتی تو ہم اسی وقت مصرع بد دیتے۔
خیر ابھی سے ٹھیک ایک گھنٹے بعد اس مصرعے کو چوبیس گھنٹے ہو جائیں گے۔ تو مصرع اپڈیٹ ہو جائے گا۔ :)
 

نمرہ

محفلین
اپڈیٹ ہونے سے قبل،اپنے مبتدی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر قسم کی اغلاط پر پیشگی معذرت کے ساتھ:
نالے فلک بدوش ہیں، دیکھو تو ہم خموش ہیں
پوچھیں وہ کیونکہ حالِ دل، خود سے کوئی بتائے کیوں
ترکِ جنوں کے عہد پر، پورے اتر رہے تھے ہم
بادِ صبا نے قہقہے ، بارِ دگر سنائے کیوں
سارے خزینے ہیچ ہیں فقر و غنا کے سامنے
جب ہو چکا ہو دل غنی، دستِ دعا اٹھائے کیوں
دینا تھا دائرہءکار، جبکہ جہاں سے مختصر
ہم کو رموزِ کائنات مو بہ مو سکھائے کیوں
 
اپڈیٹ ہونے سے قبل،اپنے مبتدی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر قسم کی اغلاط پر پیشگی معذرت کے ساتھ:
نالے فلک بدوش ہیں، دیکھو تو ہم خموش ہیں
پوچھیں وہ کیونکہ حالِ دل، خود سے کوئی بتائے کیوں
ترکِ جنوں کے عہد پر، پورے اتر رہے تھے ہم
بادِ صبا نے قہقہے ، بارِ دگر سنائے کیوں
سارے خزینے ہیچ ہیں فقر و غنا کے سامنے
جب ہو چکا ہو دل غنی، دستِ دعا اٹھائے کیوں
دینا تھا دائرہءکار، جبکہ جہاں سے مختصر
ہم کو رموزِ کائنات مو بہ مو سکھائے کیوں


بہت ہی عمدہ۔ واہ واہ۔ :)
 
بحکم استاد محترم محمد یعقوب آسی صاحب آج کا مصرع:​
کسی کو دے کے دل کوئی نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
نہ ہو جب دل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو

وزن:
مفاعیلن چار بار (بحرِ ہزج مثمن سالم)
قوافی:
فغاں، زباں، کماں، یہاں، وہاں

؛ ردیف:
کیوں ہو

احباب طبع آزمائی فرمائیں۔
 

شوکت پرویز

محفلین
بہت شکریہ مزمل بھائی ! نئے مصرعے پر طبع آزمائی کی کوشش کرتے ہیں۔ :)


ویسے تو ہم بھی دوستو! حاضر جواب ہیں مگر
لیکن کسی سے کیا کہیں، اپنے ہوئے پرائے کیوں


ہائے عَروضِ بے سِرا، اور ہماری بے زری
لکھ دو وہی جو دل میں آئے، بحر کوئی نبھائے کیوں؟ :p

گو کہ سمجھ نہیں مگر پھر بھی یہ مانتا ہوں میں
وزن میں تولتا ہو جو، شعر اسے سنائے کیوں؟​
;)
گو کہ یہاں "سنائیں" کا محل ہے، لیکن۔۔۔
درج بالا شعر محترم عتیق الرحمٰن کا ہے جو درج ذیل لنک میں پوسٹ کیا گیا ہے؛ میں نے صرف کچھ اس کو وزن میں لانے کی کوشش کی ہے۔​
 
ہمارا گھر ہو جس کوچے وہاں دارالاماں کیوں ہو
اگر ہو بھی oتو oایسی oرونقِ oآشفتگاں oکیوں oہو
مثالِ برقِ ابرِ oآسمانِ تار oجل oجائے
تمہارا ہاتھ ہو گر سینہ پر تو دل دھواں کیوں ہو
سرِ بزمِ مسیحائی بہ شوقِ لطف کہتے ہیں
تمہیں بھیجا تھا جاں لانے ابھی تک تم یہاں کیوں ہو​
یہ کیا کہ ہم کہیں صحبت تو کہتے ہو ہمیں نفرت
بزرگی دوست رکھتے ہو تو پھر صاحب جواں کیوں ہو
یہی دو چار تھمبز اَپ* اب کے مل جائیں تو خوش رہیو
تمہارے oواسطے oفاتحؔ oکوئی oرطب اللساںoکیوں oہو
Thumbs Up *
 
ملاحظہ فرمائیے ہماری ایک پرانی غزل

انہی کو ووٹ دے کے پھر نوا سنجِ فغاں کیوں ہو
‘نہ ہو جب دِ ل ہی سینے میں تو پھر منہ میں زباں کیوں ہو’
کسر کوئی نہ چھوڑیں گے وہ اب برباد کرنے میں
عوام اب اُن سے کیوں پوچھیں کہ ہم سے سر گراں کیوں ہو
وفا کیسی، کہاں کی شرم، جب سب لوٹنا ٹھہرا
مرے بھولے ، بچا ہو جو وہ تیرا آستاں کیوں ہو
بنے فرینڈلی اپوزیشن تو غارت کردیا اُن کو
‘ہوئے تم دوست جن کے دشمن اُن کا آسماں کیوں ہو’
یہی گر ہے اپوزیشن تو حامی کِس کو کہتے ہیں
الیکشن سر پر آپہنچے تو یہ آہ و فغاں کیوں ہو
الیکشن جیت کر حزبِ مخالف پھر بھی کہلائیں؟
یہاں کرسی کے اور اپنے کوئی اب درمیاں کیوں ہو
وہ جب کچھ بھی نہ مانیں گے، ہم اپنی سیٹ کیوں چھوڑیں
اسمبلی سے الگ ہوکر ہمارا امتحاں کیوں ہو
عدالت کو پچھاڑا تھا خود اپنی ہی حکومت میں
کوئی اِس واقعے کا اب یہاں پر رازداں کیوں ہو
ملے ہیں جن کو کمپیئوٹر وہ پکے ووٹ ہیں اپنے
جسے کچھ بھی ملا نہ ہو وہ ہم پر مہرباں کیوں ہو
کہا تم نے کہ کیوں ہو لوُٹنے والوں پہ پابندی
‘بجا کہتے ہو، سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو’
نکالا چاہتا ہے کام کیا نعروں سے تو غالب
ترے نعرہ لگانے سے وہ تجھ پر مہرباں کیوں ہو
 

شوکت پرویز

محفلین
وہ ہم کو چھوڑ کر تنہا چلے جاتے ہیں محفل سے
نہیں جب شمع تو بے کار پروانہ یہاں کیوں ہو
رقیبوں کی خوشی کے واسطے توڑا ہے دل میرا
کسی کا سود ہو تو ہو مگر میرا زیاں کیوں ہو
 
وہ ہم کو چھوڑ کر تنہا چلے جاتے ہیں محفل سے
نہیں جب شمع تو بے کار پروانہ یہاں کیوں ہو
رقیبوں کی خوشی کے واسطے توڑا ہے دل میرا
کسی کا سود ہو تو ہو مگر میرا زیاں کیوں ہو

واہ صاحب وا۔ مزہ آگیا۔ داد قبول فرمائیے
 
ہمارا گھر ہو جس کوچے وہاں دارالاماں کیوں ہو

اگر ہو بھی oتو oایسی oرونقِ oآشفتگاں oکیوں oہو
مثالِ برقِ ابرِ oآسمانِ تار oجل oجائے
تمہارا ہاتھ ہو گر سینہ پر تو دل دھواں کیوں ہو
سرِ بزمِ مسیحائی بہ شوقِ لطف کہتے ہیں
تمہیں بھیجا تھا جاں لانے ابھی تک تم یہاں کیوں ہو​
یہ کیا کہ ہم کہیں صحبت تو کہتے ہو ہمیں نفرت
بزرگی دوست رکھتے ہو تو پھر صاحب جواں کیوں ہو
یہی دو چار تھمبز اَپ* اب کے مل جائیں تو خوش رہیو
تمہارے oواسطے oفاتحؔ oکوئی oرطب اللساںoکیوں oہو
Thumbs Up *

بہت خوب۔ داد قبول فرمائیے جناب۔ کیا بات ہے
 
Top