مشاعرہ، تہذیب اور انڈے ٹماٹر

محمداحمد

لائبریرین
مشاعرہ، تہذیب اور انڈے ٹماٹر
از: محمد احمد

مشاعرہ ہماری تہذیبی روایت ہے۔ یعنی روایت ہے کہ مشاعرہ ہماری تہذیب کا علمبردار ہوا کرتا تھا۔ یہاں دروغ بر گردن راوی کا گھسا پٹا جملہ شاملِ تحریر کر دینا خلاف عقل نہ ہوگا کہ راوی کے نامہٴ سیاہ میں جہاں معصیت کے اتنے انبار لگے ہیں، وہاں ایک اور سہی۔

بھلے وقتوں میں مشاعروں میں جو کلام پڑھا جاتا تھا اس کی کچھ یادگار یوٹیوب پر نہیں ملتی۔ نہ ہی متشاعروں کے دیوان ہی چھپ کر آج کی نسل تک پہنچ سکے۔ رہ گیا استاد شعراء کا کلام تو ایک مشاعرے میں ایک آدھ ہی استاد شاعر (دوسرے اساتذہ سے کرسیِ صدارت کی جنگ جیت کر) جگہ بنا پاتے ہوں گے۔ ایسے میں انسان شاعر کم اور صدر زیادہ بن جاتا ہے سو ایسے استادوں کی استادی یعنی ایسے شعراء کے کلام کو مشاعرے کا نمائندہ کلام سمجھنا دانشمندانہ فعل نہیں معلوم ہوتا۔

یہ البتہ ہم نے ضرور سن رکھا ہے کہ بھلے وقتوں میں بڑے بڑے کامیاب مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے یا وہ منعقد ہونے کے بعد کامیاب قرار پاتے تھے۔

کجھ راویانِ مشاعرہ تو اس قدر دیدہ دلیر واقع ہوئے ہیں کہ اکثر و بیشتر مشاعرہ گاہ کی چھت بِنا ڈائنامائٹ کے اُڑاتے ہوئے پکڑے گئے! البتہ دوسرے طبقہ کا خیال ہے کہ کھلے میدان میں ہونے والے مشاعروں کے شامیانے عاجزی برتتے ہوئے زمیں بوس ہو جاتے تھے اور شعراء کے پروموٹر اسے چھت اُڑ جانے سے تعبیر کرتے تھے۔

بھلے وقتوں میں مشاعرے میں شعراء کی بڑی عزت ہوا کرتی تھی یہاں تک کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے خوش ذوق قارئین شعراء کو داد دیتے ہوئے انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر اشیاء نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ارسال کر دیتے تھے۔

انڈے ٹماٹروں پر اگرچہ نیک خواہشات لکھنے کا وقت نہیں ہوتا تھا تاہم ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی سمجھنا چاہیے کہ سامعین یہ سوغات گراں مایہ نیک خواہشات کے ساتھ ہی ارسال کرتے ہوں گے۔

اب آپ ذرا چشمِ تصور وا کرتے ہوئے فرض کیجے کہ آپ مشاعرے میں موجود ہیں اور شاعر نے ایسی غزل سنائی کہ آپ عش عش کر اُٹھے لیکن کیا سر سے پاؤں تک سرشار ہونے کے بعد بھی آپ انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر الوجود چیزیں شاعر کو بطور ہدیہ و تحفہ دے سکیں گے؟

آپ واہ واہ واہ کرکے اپنا گلا تو سکھا لیں گے لیکن دمڑی کو چمڑی پر اور غزل کو انڈے ٹماٹر پر فوقیت نہیں دے سکیں گے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شعراء کو انڈے ٹماٹر ارسال کرنے والے سامعین مشاعرہ ذوق سے عاری اور جذبہ فلاح و بہبود سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ سو وہ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ شاعر جو یہاں بیٹھا اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہا ہے اور یقیناً اس سے پیشتر بھی یہ مشق سخن کے نام پر اپنا پورا دن برباد کرتا رہا ہوگا اور اسے اپنے اہل و عیال کے لیے روزی روٹی کمانے کی فرصت و توفیق ہی نہیں مل سکی ہوگی۔ سو وہ خیال کرکے شعراء کی سمت میں انڈے ٹماٹر پھینکا کرتے تھے تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے۔

کسی شاعر نے اس خوبصورت منظر کو شاعرانہ رنگ دے کر کچھ یوں کہا ہے:


گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کچھ لوگ ٹماٹر کو پھلوں میں شمار کرتے ہیں شاعر نے شاید اسی رعایت سے کام لیا ہے۔ رہی بات انڈے کو گُل سے تشبیہ دینے کی تو اسے آپ المعنی فی بطنِ الشاعر سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ انڈے نے بھی آخر کار وہیں پہنچنا ہے۔

بہر کیف! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کسی کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ہمارے اسلاف ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور نکھٹو سے نکھٹو شخص کو بھی نکھٹو نہیں کہا کرتے تھے بلکہ انڈے ٹماٹر جیسی نادر اشیاء سے ان کی تواضع کیا کرتے تھے۔


جن سے مل کر زندگی سے عشق (شاعری سے بیر) ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

اندرونی حلقوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے شعراء مشاعرے سے پہلے شاعری کی مشق کم کیا کرتے تھے اور انڈے ٹماٹروں کو بنا گزند ہر دو فریق کیچ کرنے کی پریکٹس زیادہ کرتے تھے۔

ممکن ہے بعد میں انہی انڈے ٹماٹروں کی تعداد کو گن کر مشاعرے کے کامیاب ترین شاعر کا فیصلہ ہوتا ہو۔ لیکن راوی یہاں خاموش ہے اور راوی کی خاموشی کافی پراسرار معلوم ہوتی ہے۔

بہرکیف یہ تو بھلے وقتوں کی باتیں ہیں۔ اب وہ پہلے جیسی قدریں کہاں رہیں۔ بد ذوقی کا عالم یہ ہے کہ اب تو مشاعرے میں بے چارے شاعر واہ واہ کرنے کے لیے دو چار ہمنوا ساتھ لے کر جاتے ہیں جو پہلے مصرع سے ہی غزل اٹھانے کے کام پر مامور ہوتے ہیں تاکہ مشاعرے کے انجام پر شاعر کے ساتھ چکن بریانی کھا سکیں اور سوشل میڈیا پر شاعر کو ٹیگ کرکے تصاویر لگا سکیں۔ رہا شاعر تو وہ لفافے میں ملفوف کاغذات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے منظر نامے میں انڈے ٹماٹروں کا کہیں دخل نہیں ہے اور انڈے ٹماٹر آج کل محض ٹی وی کی خبروں اور ٹاک شوز میں ہی پائے جاتے ہیں۔

*****​
 
آخری تدوین:

مومن فرحین

لائبریرین
کبھی کسی مشاعرے میں جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا پر آپ نے جو دلچسپ اور خوبصورت منظر کشی کی ہے بھلے وقتوں کے مشاعروں کی اسے پڑھ کر ایک خواہش جاگ اٹھی کہ کاش ہم بھی بھلے وقتوں میں ہوتے ۔۔۔۔:heehee:
بہت ہی عمدہ تحریر ۔۔۔ ماشاءالله
 

سیما علی

لائبریرین
بہرکیف یہ تو بھلے وقتوں کی باتیں ہیں، اب وہ پہلے جیسی قدریں کہاں رہیں۔ بد ذوقی کا عالم یہ ہے کہ اب تو مشاعرے میں بے چارے شاعر واہ واہ کرنے کے لیے دو چار ہمنوا ساتھ لے کر جاتے ہیں جو پہلے مصرع سے ہی غزل اٹھانے کے کام پر مامور ہوتے ہیں تاکہ مشاعرے کے انجام پر شاعر کے ساتھ چکن بریانی کھا سکیں اور سوشل میڈیا پر شاعر کو ٹیگ کرکے تصاویر لگا سکیں۔ رہا شاعر تو وہ لفافے میں ملفوف کاغذات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔
بہت عمدہ تحریر !خوب صورت انداز لیکن ہم نے اچھے وقتوں کے مشاعروں میں بھی شرکت کی ہے بھیا زیادہ تر شاعر حال سے بے حال ڈنڈا ڈولی کرکے گھر پہنچائے جارہے ہوتے ۔اِن شعرا میں ہمارے پسندیدہ منیر نیازی صاحب ،احمد فراز صاحب اور خاص طور پر جون ایلیا ، سنبھالے نہ سنبھالتے البتہ کلام بہ زبانِ شعرا سننے کا لطف ضرور تھا ۔
بہت ساری دعائیں۔جیتے رہئے۔
 

محمداحمد

لائبریرین
کبھی کسی مشاعرے میں جانے کا اتفاق تو نہیں ہوا پر آپ نے جو دلچسپ اور خوبصورت منظر کشی کی ہے بھلے وقتوں کے مشاعروں کی اسے پڑھ کر ایک خواہش جاگ اٹھی کہ کاش ہم بھی بھلے وقتوں میں ہوتے ۔۔۔۔
یعنی چشم تصور سے جو کچھ آپ نے دیکھا اُسے حقیقت میں دیکھنے کی خواہاں ہیں۔ :)
مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری دید بھی چشمِ تصور ہی کی محتاج ہے۔ :)
بہت ہی عمدہ تحریر ۔۔۔ ماشاءالله
بہت شکریہ!

اسی طرح کھل کر دا د دیا کریں۔ :)
 

محمداحمد

لائبریرین
بہت عمدہ تحریر !خوب صورت انداز
بہت شکریہ! ممنون ہوں۔
لیکن ہم نے اچھے وقتوں کے مشاعروں میں بھی شرکت کی ہے بھیا زیادہ تر شاعر حال سے بے حال ڈنڈا ڈولی کرکے گھر پہنچائے جارہے ہوتے ۔اِن شعرا میں ہمارے پسندیدہ منیر نیازی صاحب ،احمد فراز صاحب اور خاص طور پر جون ایلیا ، سنبھالے نہ سنبھالتے
ہاہاہا۔۔ !
ایسے شعراء کے لئے ہم نے ایک احتجاجی تحریر "شاعروں کا ڈوپ ٹیسٹ" لکھی تھی۔ :)
یہ الگ بات کہ یہ شعراء ہمارے بھی پسندید ہ ہیں۔ :)
البتہ کلام بہ زبانِ شعرا سننے کا لطف ضرور تھا ۔
بلاشبہ!
بہت ساری دعائیں۔جیتے رہئے۔
جزاک اللہ وایاک
 

مومن فرحین

لائبریرین
یعنی چشم تصور سے جو کچھ آپ نے دیکھا اُسے حقیقت میں دیکھنے کی خواہاں ہیں۔ :)
مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری دید بھی چشمِ تصور ہی کی محتاج ہے۔ :)

بہت شکریہ!

اسی طرح کھل کر دا د دیا کریں۔ :)

شکریہ بھائی ۔۔۔ آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی سے ہی اتنا بولنے لگی ہوں :heehee:
 
اس کا عنوان "مشاعرہ آملیٹ" رکھ دیجئے احمد بھائی ۔ تحریر کا ذائقہ انڈہ گھوٹالے والا ہی ہے ۔ جس پیراگراف کو پلٹو نیچے سے کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے ۔ کبھی ٹماٹر ، کبھی انڈہ اور کبھی شاعر۔ نمکینی بھی اسی طرح کی ہے ۔
ایک تبصرہ بطور نقد و نظر یہ ہے کہ خلافِ معمول اس تحریر میں زبان و بیان کی وہ صفائی نہیں ہے کہ جو آپ کی نثر کا خاصہ ہے ۔ کئی جگہوں پر گڑبڑ ہے ۔ سودا کا شعر بھی ٹھیک نہیں لکھا ۔ لگ یہ رہا ہے کہ احمد بھائی نے اس نثرپارے پر نظر ِثانی نہیں ڈالی ۔ آملیٹ ذرا کچا ہی اتار لیا چولہے سے ۔ :):):)
 

محمداحمد

لائبریرین
اس کا عنوان "مشاعرہ آملیٹ" رکھ دیجئے احمد بھائی ۔ تحریر کا ذائقہ انڈہ گھوٹالے والا ہی ہے ۔ جس پیراگراف کو پلٹو نیچے سے کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے ۔ کبھی ٹماٹر ، کبھی انڈہ اور کبھی شاعر۔ نمکینی بھی اسی طرح کی ہے ۔
ایک تبصرہ بطور نقد و نظر یہ ہے کہ خلافِ معمول اس تحریر میں زبان و بیان کی وہ صفائی نہیں ہے کہ جو آپ کی نثر کا خاصہ ہے ۔ کئی جگہوں پر گڑبڑ ہے ۔ سودا کا شعر بھی ٹھیک نہیں لکھا ۔ لگ یہ رہا ہے کہ احمد بھائی نے اس نثرپارے پر نظر ِثانی نہیں ڈالی ۔ آملیٹ ذرا کچا ہی اتار لیا چولہے سے ۔ :):):)

بہت شکریہ ظہیر بھائی!

تنقیدی تبصرے کا بالخصوص شکریہ! مجھے اس بات کا خدشہ تھا۔ دراصل یہ تحریر میں نے سیل فون پر لکھی ہے اور اُسی سے لاگ ان ہو کر پوسٹ بھی کی ہے ۔ جب کہ میں محفل پر سیل فون سے تبصرے بھی کم کم ہی کرتا ہوں ۔ شاید اسی لئے اس میں کافی چیزیں صرفِ نظر ہو گئیں۔

دراصل یہ تحریر ناسازیء طبیعت کا وقت کاٹنے کے لئے لکھی تھی سو کچھ تحریر بھی ناساز ہو گئی۔

جزاک اللہ!
 

محمداحمد

لائبریرین
مشاعرہ، تہذیب اور انڈے ٹماٹر
از: محمد احمد

مشاعرہ ہماری تہذیبی روایت ہے۔ یعنی روایت ہے کہ مشاعرہ ہماری تہذیب کا علمبردار ہوا کرتا تھا۔ یہاں دروغ بر گردن راوی کا گھسا پٹا جملہ شاملِ تحریر کر دینا خلاف عقل نہ ہوگا کہ راوی کے نامہٴ سیاہ میں جہاں معصیت کے اتنے انبار لگے ہیں، وہاں ایک اور سہی۔

بھلے وقتوں میں مشاعروں میں جو کلام پڑھا جاتا تھا اس کی کچھ یادگار یوٹیوب پر نہیں ملتی۔ نہ ہی متشاعروں کے دیوان ہی چھپ کر آج کی نسل تک پہنچ سکے۔ رہ گیا استاد شعراء کا کلام تو ایک مشاعرے میں ایک آدھ ہی استاد شاعر (دوسرے اساتذہ سے کرسیِ صدارت کی جنگ جیت کر) جگہ بنا پاتے ہوں گے۔ ایسے میں انسان شاعر کم اور صدر زیادہ بن جاتا ہے سو ایسے استادوں کی استادی یعنی ایسے شعراء کے کلام کو مشاعرے کا نمائندہ کلام سمجھنا دانشمندانہ فعل نہیں معلوم ہوتا۔

یہ البتہ ہم نے ضرور سن رکھا ہے کہ بھلے وقتوں میں بڑے بڑے کامیاب مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے یا وہ منعقد ہونے کے بعد کامیاب قرار پاتے تھے۔

کجھ راویانِ مشاعرہ تو اس قدر دیدہ دلیر واقع ہوئے ہیں کہ اکثر و بیشتر مشاعرہ گاہ کی چھت بِنا ڈائنامائٹ کے اُڑاتے ہوئے پکڑے گئے! البتہ دوسرے طبقہ کا خیال ہے کہ کھلے میدان میں ہونے والے مشاعروں کے شامیانے عاجزی برتتے ہوئے زمیں بوس ہو جاتے تھے اور شعراء کے پروموٹر اسے چھت اُڑ جانے سے تعبیر کرتے تھے۔

بھلے وقتوں میں مشاعرے میں شعراء کی بڑی عزت ہوا کرتی تھی یہاں تک کہ کھاتے پیتے گھرانوں کے خوش ذوق قارئین شعراء کو داد دیتے ہوئے انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر اشیاء نظم و ضبط کا خیال رکھتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھے بیٹھے ارسال کر دیتے تھے۔

انڈے ٹماٹروں پر اگرچہ نیک خواہشات لکھنے کا وقت نہیں ہوتا تھا تاہم ہمیں حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی سمجھنا چاہیے کہ سامعین یہ سوغات گراں مایہ نیک خواہشات کے ساتھ ہی ارسال کرتے ہوں گے۔

اب آپ ذرا چشمِ تصور وا کرتے ہوئے فرض کیجے کہ آپ مشاعرے میں موجود ہیں اور شاعر نے ایسی غزل سنائی کہ آپ عش عش کر اُٹھے لیکن کیا سر سے پاؤں تک سرشار ہونے کے بعد بھی آپ انڈے اور ٹماٹر جیسی نادر الوجود چیزیں شاعر کو بطور ہدیہ و تحفہ دے سکیں گے؟

آپ واہ واہ واہ کرکے اپنا گلا تو سکھا لیں گے لیکن دمڑی کو چمڑی پر اور غزل کو انڈے ٹماٹر پر فوقیت نہیں دے سکیں گے۔

کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال ہے کہ شعراء کو انڈے ٹماٹر ارسال کرنے والے سامعین مشاعرہ ذوق سے عاری اور جذبہ فلاح و بہبود سے سرشار ہوا کرتے تھے۔ سو وہ یہ خیال کرتے ہوئے کہ یہ شاعر جو یہاں بیٹھا اپنا اور دوسروں کا وقت ضائع کر رہا ہے اور یقیناً اس سے پیشتر بھی یہ مشق سخن کے نام پر اپنا پورا دن برباد کرتا رہا ہوگا اور اسے اپنے اہل و عیال کے لیے روزی روٹی کمانے کی فرصت و توفیق ہی نہیں مل سکی ہوگی۔ سو وہ خیال کرکے شعراء کی سمت میں انڈے ٹماٹر پھینکا کرتے تھے تاکہ کسی نہ کسی طرح ان کے گھر کا چولہا بھی جلتا رہے۔

کسی شاعر نے اس خوبصورت منظر کو شاعرانہ رنگ دے کر کچھ یوں کہا ہے:


گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی
اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کچھ لوگ ٹماٹر کو پھلوں میں شمار کرتے ہیں شاعر نے شاید اسی رعایت سے کام لیا ہے۔ رہی بات انڈے کو گُل سے تشبیہ دینے کی تو اسے آپ المعنی فی بطنِ الشاعر سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ انڈے نے بھی آخر کار وہیں پہنچنا ہے۔

بہر کیف! آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح کسی کی عزت نفس مجروح کیے بغیر ہمارے اسلاف ایک دوسرے کی مدد کیا کرتے تھے اور نکھٹو سے نکھٹو شخص کو بھی نکھٹو نہیں کہا کرتے تھے بلکہ انڈے ٹماٹر جیسی نادر اشیاء سے ان کی تواضع کیا کرتے تھے۔


جن سے مل کر زندگی سے عشق (شاعری سے بیر) ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں

اندرونی حلقوں سے پتہ چلتا ہے کہ اس زمانے کے شعراء مشاعرے سے پہلے شاعری کی مشق کم کیا کرتے تھے اور انڈے ٹماٹروں کو بنا گزند ہر دو فریق کیچ کرنے کی پریکٹس زیادہ کرتے تھے۔

ممکن ہے بعد میں انہی انڈے ٹماٹروں کی تعداد کو گن کر مشاعرے کے کامیاب ترین شاعر کا فیصلہ ہوتا ہو۔ لیکن راوی یہاں خاموش ہے اور راوی کی خاموشی کافی پراسرار معلوم ہوتی ہے۔

بہرکیف یہ تو بھلے وقتوں کی باتیں ہیں۔ اب وہ پہلے جیسی قدریں کہاں رہیں۔ بد ذوقی کا عالم یہ ہے کہ اب تو مشاعرے میں بے چارے شاعر واہ واہ کرنے کے لیے دو چار ہمنوا ساتھ لے کر جاتے ہیں جو پہلے مصرع سے ہی غزل اٹھانے کے کام پر مامور ہوتے ہیں تاکہ مشاعرے کے انجام پر شاعر کے ساتھ چکن بریانی کھا سکیں اور سوشل میڈیا پر شاعر کو ٹیگ کرکے تصاویر لگا سکیں۔ رہا شاعر تو وہ لفافے میں ملفوف کاغذات میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پورے منظر نامے میں انڈے ٹماٹروں کا کہیں دخل نہیں ہے اور انڈے ٹماٹر آج کل محض ٹی وی کی خبروں اور ٹاک شوز میں ہی پائے جاتے ہیں۔

*****​
محفل کے صوفیوں (از حد معذرت) اور ٹرولز کی کرم فرمائی سے ایسی تحاریر سرورق پر آتے ہی غائب ہو جاتی ہیں ۔۔۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر موتیوں کی طرح نکالنی پرتی ہیں ۔۔۔ بہت عمدہ احمد بھائی ۔۔۔ بڑا لطف آیا پڑھ کر :)
 
افسوس کہ ہم قدیم ہو کر بھی انڈے ٹماٹر والی روایت جتنے قدیم نہیں :)
ہم نے جب مشاعرے براہِ راست شریکِ محفل ہو کر سنے، تب تک انڈے ٹماٹروں کی جگہ ہوٹنگ نے لے لی تھی۔ ایک بار ساکنانِ شہرِ قائد کے عالمی مشاعرے میں ایک شاعرہ کو جب غزلوں پر داد نہ مل سکی تو انہوں نے قائدِ اعظم پر نظم سنانا شروع کردی ۔۔۔ لڑکے بالوں نے ملی نغموں کی طرز پر ہاتھ اٹھا کر ہلانے شروع کردیے اور شاعرہ کا پارہ مزید چڑھ گیا ۔۔۔ تاہم وہ بھی دھن کی پکی تھیں ۔۔۔ جب تک اپنا کوٹۂ کلام پورا نہ کر لیا، مائیک نہیں چھوڑا :)
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
محفل کے صوفیوں (از حد معذرت) اور ٹرولز کی کرم فرمائی سے ایسی تحاریر سرورق پر آتے ہی غائب ہو جاتی ہیں ۔۔۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر موتیوں کی طرح نکالنی پرتی ہیں ۔۔۔ بہت عمدہ احمد بھائی ۔۔۔ بڑا لطف آیا پڑھ کر :)
اس کا ایک حل قبلہ یہ ہے کہ ہماری طرح کچھ پورے پورے کے زمرے ہی نظر انداز کر دیں (جیسے ذکر اذکار یا کھیل ہی کھیل میں وغیرہ)، اس طرح آپ کی فیڈ میں نظر انداز شدہ زمروں کی لڑیاں ظاہر نہیں ہونگی، اور اس طرح کی لڑیاں تر و تازہ ہی رہیں گی۔ :)
 
اس کا ایک حل قبلہ یہ ہے کہ ہماری طرح کچھ پورے پورے کے زمرے ہی نظر انداز کر دیں (جیسے ذکر اذکار یا کھیل ہی کھیل میں وغیرہ)، اس طرح آپ کی فیڈ میں نظر انداز شدہ زمروں کی لڑیاں ظاہر نہیں ہونگی، اور اس طرح کی لڑیاں تر و تازہ ہی رہیں گی۔ :)
شکریہ وارث بھائی ۔۔۔ ویسے زمرۂ سیاست کو تو باآسانی نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ تاہم ذکر اذکار والی لڑیوں کو نظر انداز کرنے سے ڈر لگتا ہے کہ اگر صوفیائے محفل کی کاپی پیسٹ ذکر پر ثواب کی بشارت واقعی درست ہوئی تو ہم تو مفت میں مارے جائیں گے :)
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ وارث بھائی ۔۔۔ ویسے زمرۂ سیاست کو تو باآسانی نظر انداز کیا جاسکتا ہے ۔۔۔ تاہم ذکر اذکار والی لڑیوں کو نظر انداز کرنے سے ڈر لگتا ہے کہ اگر صوفیائے محفل کی کاپی پیسٹ ذکر پر ثواب کی بشارت واقعی درست ہوئی تو ہم تو مفت میں مارے جائیں گے :)
کسی "نقلی صوفی" (یعنی نقل کرنے والے صوفی) کا قول ہے کہ "کاپی پیسٹ کے ہزاروں اوراد ڈالنے سے صدقِ دل سے ایک بار پڑھ لینا بہتر ہے۔" :)
 

محمداحمد

لائبریرین
محفل کے صوفیوں (از حد معذرت) اور ٹرولز کی کرم فرمائی سے ایسی تحاریر سرورق پر آتے ہی غائب ہو جاتی ہیں ۔۔۔ اور ڈھونڈ ڈھونڈ کر موتیوں کی طرح نکالنی پرتی ہیں ۔۔۔ بہت عمدہ احمد بھائی ۔۔۔ بڑا لطف آیا پڑھ کر :)

بہت شکریہ احسن بھائی کہ آپ نے ہماری تحریر ڈھونڈ کر نکالی اور حوصلہ افزائی بھی فرمائی۔

خوش رہیے۔ :)
 
Top