مسٹر چپس کو ہمیشہ کے لیے گڈ بائے

جاسمن نے 'آج کی خبر' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏مارچ 13, 2019

  1. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,597
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Question
    واپس کیسے آئی؟
     
  2. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بس ہم تو ریفریش پر ریفریش کر رہے تھے ۔۔۔ خود ہی آگئی واپس ۔۔۔ لیکن آپ کی باتوں سے ہمیں اپنی پوشیدہ طاقتوں کا اندازہ ہونے لگا ہے ذرا ذرا۔
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,426
    آپ کے بابرکت مراسلے نے سرجیکل اسٹرائک کر دیا ہوگا :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,802
    آپ مذہبی کتب کو مذہبی علوم میں پڑھانا چاہتے ہیں یا ادب کی کلاس میں؟ میرے خیال میں مذہبی کتب کو ادب کے زمرے میں پڑھایا جا سکتا ہے لیکن پھر ان پر ادب کی حیثیت میں اعتراضات بھی ہوں گے۔ ان کا کیا ہو گا؟
     
  5. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,802
    غلط کو غلط کہنے کی بجائے اعتدال کا نعرہ بلند کر کے چپ رہنا بھی ایک عجب معاملہ ہے۔

    یہ انگریزی ادب کی کلاس کو اسلامیات بنایا ہی معتدل لوگوں نے ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 14, 2019
  6. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,426
    ضیا کی باقیات ہر جگہ موجود ہیں
     
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    اس لڑی میں جس تبدیلی کا ذکر ہے میں اس کے حق میں نہیں ممکن ہے کہ سیاسی شبدہ بازی ہو۔ ہر مضمون کے لیے علیحدہ معیاری سلیبس ہونا چاہیے اس میں دو رائے نہیں۔ اس میں بھی دو رائے نہیں کہ انگریزی زبان کے مضمون میں انگریزی زبان سے متعلق ہی کتاب ہونی چاہیے۔ ہاں اس بات کا قائل ضرور ہوں کہ زبان سیکھنے کے لیے زبان والوں کے کلچر میں ڈھلنا ضروری نہیں، لیکن یہ علیحدہ بحث ہے۔

    میرا مراسلہ عرفان بھائی کی زہر والی بات کے جواب میں تھا کہ اگر مذہبی طبقہ مغربی کتابوں کو بری نظر سے دیکھتا ہے تو مغرب اور لبرلز میں بھی ایک طبقہ ایسا ہے جو مذہبی کتابوں میں کیڑے نکالتا ہے۔ لہذا شدت دونوں طرف ہے اور میرے خیال میں بدنیتوں کو نکال کر بنیادی وجہ غلط فہمیاں ہیں۔
     
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    انتہائی احترام سے آپ کا واسطہ شاید معتدل مزاج لوگوں سے نہیں پڑا۔ اعتدال کا مطلب ہرگز وہ نہیں جو آپ بیان فرما رہے ہیں۔
     
  9. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,426
    مغربی لبرلز کے نزدیک مذہبی تعلیمات کی حیثیت ثانوی ہے۔ ان کی آئیڈیولوجی بلا تفریق انسانیت، مساوات اور برابری کے گرد گھومتی ہے۔ظاہر ہے یہاں مذہب سے ٹکراؤ تو پیدا ہوگا۔
    حال ہی میں برمنگھم برطانیہ کے ایک پرائمری سکول میں ۶۰۰ مسلم طلبا کو والدین نے احتجاج گھر پر بٹھا دیا۔ کہ وہ سرکاری سکول میں دی جانی والی جنسی برابری کی تعلیم کو تسلیم نہیں کرتے۔ اور اسے اپنے دین و مذہب سے متصادم تصور کرتے ہیں۔ مجبوراً مغربی لبرلز کو دیسی مذہبی طبقے کے آگے سر جھکانا پڑا
    Parkfield School: Protests called off as LGBT lessons ended
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  10. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جس کا مشاہدہ ہوتا رہتا ہے۔ لندن والے ڈاکٹر توفیق والے قصے کی صورت میں ۔۔۔

    مسئلے دونوں جگہ ہیں۔ شدت کسی بھی صورت میں نقصان ہی پہنچاتی ہے۔
     
  11. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,802
    اسی لڑی میں پوسٹ کئے مضامین اور مراسلے غور سے پڑھیں۔ واضح ہو جائے گا کہ اکثر انگریزی ادب کو پاکستانی اخلاقی اقدار کے خلاف میں نے یا عرفان نے کہا ہے یا “معتدل” پاکستانیوں نے
     
  12. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    اختلاف رائے ہونا اعتدال سے ہٹنے کی نشانی ہے؟
     
  13. ہادیہ

    ہادیہ محفلین

    مراسلے:
    5,093
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    اففف۔۔۔ اب تو مسٹر چپس بھی رونے لگ گیا ہوگا۔۔۔:p
     
    • پر مزاح پر مزاح × 5
  14. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    مسٹر چپس پڑھنے اور پڑھانے میں پاکستانی معاشرہ انگریز کلچر میں کیسے ڈھل سکتا ہے؟
     
    • متفق متفق × 1
  15. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,426
    یہ دھاگہ پڑھنے کے بعد میرا “چپس” کھانے سے بھی دل اچاٹ ہو چکا ہے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  16. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,597
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Question
    مسٹر چپس کو اتنا رگڑا دینے کی بجائے ایک پیکٹ چپس خرید کر کھا لینے چاہئیں!
    :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  17. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,802
    آپ نے مکمل لڑی نہیں پڑھی
     
  18. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    آپ یہی الفاظ "مسٹر چپس" کے حوالے سے میرے مراسلے میں دکھا دیجیے۔

    مسئلہ یہی ہے کہ ہم الفاظ کی وضاحت کہنے والے سے طلب کرنے کے بجائے اسی کو بتانے لگ جاتے ہیں کہ وہ کیا کہنا چاہ رہا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ وہ ایک علیحدہ موضوع ہے جس پر ممکن ہے بہت سے عوامل کی بنیاد پر سب کی رائے مختلف ہو۔ اسی لیے اس پر مزید بات نہیں کی۔
     
  19. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,401
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    پڑھی ہے تو لیکن ممکن ہے جو آپ دیکھ پائے وہ مجھے نظر نہیں آیا۔ آپ کا تجربہ مجھ سے زیادہ ہے، لیکن میں اپنے تجربے کی بنیاد پر ابھی بھی اسی بات پر قائم ہوں کہ کہیں اختلاف رائے ہے اور کہیں غلط فہمیاں۔ غلط فہمیوں کا دور ہونا ضروری ہے۔ اختلاف رائے کوئی بُری بات نہیں بس، بات مخالفت کی حد تک نہیں جانی چاہیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  20. فرحت کیانی

    فرحت کیانی لائبریرین

    مراسلے:
    10,984
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    آپ بھی مجھے دکھا دیجئے کہ میں نے آپ کو یہ بتایا ہو کہ آپ نے یہ کہا ہے۔ میں نے ایک سوال کیا تھا وہ بھی اس لڑی کے موضوع کے تناظر میں۔ بات وہی ہے کہ جس کی رائے ہمیں پسند نہ آ رہی ہے ہم اس کی سادہ سی بات سے بھی کوئی مشکل سے معانی اخذ کر لیتے ہیں۔
    بہرحال میں اس سوال کو یوں پوچھ لیتی ہوں۔ آپ نے کہا کہ زبان سیکھنے کے لیے زبان کے کلچر میں ڈھلنا ضروری نہیں۔ درست بات ہے لیکن کیوں کہ بات رسمی تعلیم کی ہو رہی ہے تو کیا کسی بھی لیول پر ہمارے نصاب میں انگریزی ادب کی کوئی ایسی مثال شامل ہے جس میں ان کے کلچر میں ڈھلنے کا خطرہ پیدا ہوتا ہو؟ اگر ہاں تو میرا خیال ہے کہ اسے سامنے لانا چاہیے اور اگر نہیں تو پھر کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ اس لڑی میں اس پہلو کو شامل نہ کریں؟

    ضرورت اس بات کی ہے ہمیں بطور ایک اسلامی و مشرقی معاشرے کے اپنی بنیادوں کو اتنا بہتر کرنا چاہیے کہ چاہے دنیا بھر کے کلچر کی گہرائیوں میں اتر جائیں تو بھی کسی بگاڑ کا خطرہ نہ ہو۔
    یہ کوئی حل و علاج نہیں ہے کہ ہم اپنے بچوں کو ایک ایسے کمرے میں بند کر دیں جہاں اسے دنیا کے بارے میں کچھ علم نہ ہو اور پھر یہ بھی توقع کریں کہ ہم علم و عمل میں دوسروں سے آگے بھی نکل جائیں۔
     

اس صفحے کی تشہیر