مرے سخن پہ ہوا نقش تیرے ہجر کا رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حسنین محسن کاظمی

زھرا علوی

محفلین
شعورو فہم کی سرحد سے کتنی دور پرے
میں سوچتا تھا کبھی میں بھی لفظ لکھوں گا
ترے جمال کے خوش بخت موسموں میں کبھی
میں تیرے حسن کی ساری تہوں کو سمجھوں گا
گلاب کی طرح کھلتے ہوئے ترے عارض
کنول نما تیری آنکھوں کے خوشنما دو جام
وہ تیری زلف کہ شاموں کی پہرہ دار سدا
وہ تیرے ہونٹ کہ جن سے جلیں گلاب کے رنگ
کسی خیال میں ڈوبا وہ پر شکن ماتھا
وہ تیرے ہاتھ کسی با کمال فن کی جھلک
ترے وصال کا موسم حسین موسم تھا
مری غزل میں تبسم کی لو مچلتی تھی
ہر ایک نظم میں تیرا ہی رنگ کھلتا تھا
مرے حروف سر بزم رقص کرتے تھے
مرا کلام مسرت کا آئینہ بن کر
ہجوم شہر میں خوشیاں تلاش کرتا تھا
پھر ایک دن تو اچانک بچھڑ گیا مجھ سے
ورق پہ کتنے ہی رنگوں کے عکس رونے لگے
قلم نے چھوڑ دیا خامشی میں کچھ کہنا
خیال یار کی چپ چاپ رہگزاروں پر
کہ مجھ کو چھوڑ کے تنہا اداس آوارہ
مرے حروف نے یادوں کا مرثیہ لکھا
میں کوئی لفظ تراشوں تو آنکھ بھر آئے
تیر خیال جو آئے تو غم کے میلے میں
میں اپنے جسم کا سایا تلاش کرتا ہوں
مرا سخن مجھے اب اور کچھ نی لکھنے دے
مری غزل میں اداسی کا رت جگا ٹھہرا
اداس ہو گیئں سوچیں تیرے بچھڑنے سے
بساطِ درد پہ پھیلی ہوئی رتوں کے سنگ
میں ترے ہجر کے صدمات لکھتا رہتا ہوں
مرے سخن پہ ہوا نقش تیرے ہجر کا رنگ
 
Top