مذہبی اجتماعات کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے ۔۔۔ شیخو کی ایک پرانی تحریر

ایسے اعمال سے کیا مراد؟ مجھے تو بہت خوشی ہوگی اگر اپنا منہ لے کر جاؤں، آپ پلاسٹک سرجری کرا لینا؟ فکر کاہے کی؟
اپکی بات نہیں کی
مجموعی طور پر کہا ہے کہ ہمارے اعمال یہی رہے کہ مذہبی اجتماعات پرپابندی لگوادیں تو کیا منہ دکھائیں گے
 
یہی تو میری بھی عرض تھی ان کو ان کی قابلیت اور اہلیت کے مطابق حیثیت ،مرتبہ دیں مگر انجانے ملا کو بغیر تحقیق کیے اس کو عالم کا ددرجہ کیسے دے سکتے ہیں یا پھر دوسرا علا ج ہے کہ ہم مولوی بن جائیں ،کوہاٹ میں ایک بستی ہے جس کے ہر گھر میں دو تین حافظ ضرور ہیں مسجد کے پیش امام مقامی کاشتکار ہیں جو انہی میں سے ہیں۔وہ صبح فجر کی نماز کے بعد کھیتوں پر کام کرتے ہیں۔سبزیاں کاشت کرتے ہیں ۔ یہ بھی تو ہم نہیں کرسکتے ۔عقل عیار ہے سو بھیس بدل لیتی ہے ۔

اپ نے کام کی بات کی ہے
یہی مسئلہ کا حل ہے کہ طریقہ تعلیم تبدیل ہو۔ ضروری تعلیم جو کہ درس نظامی کے طرز کی ہو پرائمری اور سیکنڈری لیول تک پڑھائی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ فنی تعلیم سائنس کی ہو۔ دینی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ہر کوئی اپنی پسند کی فیلڈ اختیار کرنے میں ازاد ہو۔ پھر سب دینی طور پر بھی پڑھےلکھے ہونگے۔ موجودہ طرز تعلیم پڑھے لکھے جاہل پیدا کررہا ہے
 

ساجد

محفلین
ان تہوار کو چھوڑو گے
تو کرسمس، ویلنٹائن ڈے، ہیلوون وغیرہ نہ منانا پڑے کہیں
بلکہ کئی تو منا رہے ہیں بلکہ ترغیب دے رہے ہیں
جو کرسمس اور ویلنٹائن منانا چاہتے ہیں وہ بھی آزاد ہیں لیکن اگر وہ پبلک کے لئے آزار بنتے ہیں تو ان پر بھی پابندی لگا دینی چاہئیے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔
 
جو کرسمس اور ویلنٹائن منانا چاہتے ہیں وہ بھی آزاد ہیں لیکن اگر وہ پبلک کے لئے آزار بنتے ہیں تو ان پر بھی پابندی لگا دینی چاہئیے۔ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں۔
کون پابندی لگائے گا؟

قانون سازی کرنی پڑے گی
قانون ساز اسمبلی میں بحث کے بعد
بحث کرنے والے ممبرز کو اپ منتخب کریں گے
اچھے ممبرز اچھے قانون بنائیں گے
اپ ان ممبرز کو منتخب کریں گے
اچھے لوگ اچھے ممبرز کو منتخب کریں گے
 

باباجی

محفلین
بات مذہبی اجتماعات پر پابندی کی نہیں
بلکہ جگہ جگہ اجتماع کرنے پر پابندی ہونی چاہئے
اس طرح خطرات بہت بڑھ جاتے ہیں
جیسے آجکل کے حالات ہیں

اور آجکل کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ
ہمارے تدریس سے جڑے لوگوں نے دین و دنیا کو الگ کردیا ہے
حالانکہ دنیا دین کے لیئے اور دین دنیا کے لیئے بنا ہے
 

یوسف-2

محفلین
لیکن بھائی یہ بڑا سنگین مسئلہ ہے۔ آپ کے ملک کی تقریبا پندرہ سے بیس فیصد آبادی شیعہ ہے، آپ یہاں ایسا کوئی اقدام نہیں اٹھا سکتے کہ شیعوں کا اقلیتی فرقہ ملک میں بیگانگی محسوس کرنا شروع کر دے۔ یہ ساری باتیں ذہن میں رکھ کر قانون سازی ہونی چاہیے تاکہ کوئی فرقہ چاہے اقلیتی شیعہ ہو یا اکثریتی بریلوی، خود کو اس اقدام کا خصوصی ہدف نہ سمجھے۔ یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ آپ بلاتفریق ہر قسم کے مذہبی اجتماعات کی عوامی جگہوں پر پابندی لگا دیں۔
اس کے علاوہ کوئی اور چارہ بھی نہیں ہے۔ کوئی ”یکطرفہ کاروائی“ مزید فساد ہی کو جنم دے گا۔:)
 

محمداحمد

لائبریرین
ناپسند کی ریٹنگ پاس کرنے والے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار بھی کریں تاکہ اُن کا موقف سمجھنے میں آسانی ہو۔
 
کمالیہ میں ہمارے گھر کے سامنے ایک مسجد ہے ۔ چونکہ مسجد ایک بند گلی میں واقع ہے اس لئے بہت محدود تعداد میں گھروں کے لوگ اس میں نماز کے لئے آتے ہیں۔ اور مسجد کے صحن میں اگر کوئی عالم صاحب تقریر فرمائیں تو کسی قسم کے سپیکر کے بغیر بھی ارد گرد کے گھروں میں آواز پہنچتی ہے۔ لیکن رسمِ دنیا نبھانے کے لئے انہوں نے سپیکر بھی لگا رکھے ہیں ...... ایک نہیں پورے 6 عدد بڑے سائز کے لاؤڈ سپیکر۔
ہمارا گھر مسجد کے بالکل سامنے واقع ہے اور جب ان چھ سپیکروں پر آذان کی اواز گونجتی تو ان کی کم بلندی کی وجہ سے ہمارے گھر میں ایک ایسی صورت ھال پیدا ہو جاتی کہ کانوں سے دھوئیں نکل جاتے۔ اوپر سے ایک نا خواندہ بابا جی ان کا آذان کا تلفظ غلط اور آواز کافی زیادہ تلخ تھی وہ آذان دیتے تو صورت ھال مزید خراب ہو جاتی۔ ایک دن بابا جی سے عرض کیا کہ حضور آپ کی آواز آذان کے لئے بہتر نہیں اور لہجہ بھی غلط ہے اس پر مستزاد کہ آپ فُل والیوم میں چھ سپیکر کھول کر آذان دیتے ہو تو اس سے آس پاس کے گھروں میں جو کوئی بیمار ہوں وہ انتہائی مشکل کا شکار ہتے ہیں ، لہذا آپ ایک سپیکر استعمال کر لیا کریں اور اس کا والیوم بھی کم رکھا کریں کیونکہ یہ چھوٹے سی آبادی کے لئے کافی ہے۔ ان دنوں میری والدہ مرحومہ بھی مرض الموت کا شکار تھیں اور ڈاکٹر نے ہمیں بھی ان کے ساتھ اونچی آواز میں بات کرنے ، حتی کہ برتن گرنے کے شور سے بھی انہیں بچانے کی ہدایت کی ہوئی تھی ۔ لیکن میرے بار بار منع کرنے کے باوجود وہ بابا جی اور مولوی صاحب باز نہ آئے۔ بلکہ ضدبازی میں پڑ گئے۔ تب میں نے اپنے ایک وکیل دوست کے ذریعے پولیس سے رابطہ کر کے پہلے سے موجود قانون کا سہارا لیا ۔ اور پولیس نے آ کر 5 سپیکر بند کروا دئے اور والیوم بھی کافی کم کروا دیا ۔
اب جناب دو دن بعد جمعہ کی تقریر میں بندہ ناچیز و پر تقصیر مولوی صاحب کے تکفیری فتووں کا نشانہ بن گیا ۔ اور جہنم کا حق دار گردانتے ہوئے حقہ پانی بند کر دینے کا سزاوار ٹھہرا دیا گیا۔ اگرچہ جمعہ کی نماز میں نے اسی مولوی کے پیچھے پڑھی لیکن باہر آ کر مسجد کے دروازے پر محترم مولوی صاحب کا انتظار کرتا رہا ۔ ان کے برآمد ہونے پر ہم نے ان کے شایان شان ان کی ”عزت افزائی“ کی اور اپنے بدستور مسلمان ہونے کا انہی کی زبان سے اقرار کروایا۔ مولوی صاحب کو اپنی بیٹھک میں بٹھا کر ان کے اساتذہ ، محلے کے عمائدین اور پولیس والوں کو بلا لیا ۔ سب کے سامنے یہ کیس رکھا اور مولوی ساحب کے تکفیری فتوے کے چشم دید اور سماع شنید گواہ پیش کر دئے۔ بالآخر مولوی صاحب کو اپنا فتوی واپس لینے پر مجبور ہونا پڑا اور مسجد کے سپیکر پر آ کر اہل محلہ سے کہنا پڑا کہ یہ سب غلط فہمی کی بنا پر ہوا۔
میری والدہ مرحومہ اپنے ابدی گھر منتقل ہو گئیں اور میں لاہور منتقل ہو گیا۔ چند ماہ قبل کمالیہ گیا تو وہی کام پھر سے جاری و ساری تھا ۔ میرے دو دن قیام کے دوران سپیکوں کی آواز کم کی گئی بعد میں بھائی فون پر بتاتا رہتا ہے کہ پرنالہ پھر وہیں گر رہا ہے۔
انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آپکی اس بات سے مولانا روم کی یہ حکایت یاد آئی۔۔۔صرف ترجمہ نقل کر رہا ہوں۔قابلِ مطالعہ ہے::laugh:
1- ایک مؤذن کی آواز بہت دلخراش تھی، وہ پوری پوری رات گلا پھاڑتا تھا۔
2-اس نے انسانوں پر میٹھی نیند حرام کردی تھی اور عوام و خواص اسکی وجہ سے دردِ سر میں مبتلا تھے۔
3-بچے بستروں میں اس سے ڈرتے تھے۔ اور مرد و زن اسکی اواز کی وجہ سے عذاب میں تھے۔
4-اس دردِسر اور تکلیف کو دور کرنے کیلئے وہ لوگ چندہ اکٹھا کرنے لگے۔
5-انہوں نے اس مؤذن کو بلایا اور تمام رقم اسکو دی اور کہنے لگے۔
6- اے جناب! آپ نے دن رات دین کی بہت خدمت کی اور آپکی اذان سے ہم سب نے بہت راحت پائی۔
7-چونکہ آپکی وجہ سے ہم سب کو دین کی بیش قیمت دولت ہاتھ آگئی ہے چنانچہ اس نے ہماری نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔
8۔ہم بدلے میں اور تو کوئی خدمت ادا نہیں کرسکتے، یہی کہیں گے کہ آپ یہ نقدی لیجئے اور کچھ عرصہ بے فکری سے راحت فرمائیے اورفکرِ معاش سے بے پرواہ ہوکر باطنی توجہ میں مشغول ہوجائیے۔
9-اسی دوران ایک قافلہ حج کیلئے مکّے کو روانہ ہورہا تھا۔ یہ مؤذن جھٹ اس قافلے میں جا شامل ہوا۔
10- قافلہ روانہ ہوا اور اثنائے سفر اسکا گذر کافروں کے علاقے سے ہوا۔
11- قافلے والوں نے کفرستان میں رات کے وقت پڑاؤ کیا۔
12- اس مؤزن نے جو اپنی آواز پر عاشق تھا،بڑے خشوع و خضوع کے ساتھ کفرستان میں اذان دینا شروع کی۔
13- بہت سے لوگوں نے کہا کہ یہ کفرستان ہے یہاں اذان نہ دے ورنہ خوامخواہ کی دشمنی پیدا ہوگی اور لڑائی شروع ہوجائے گی۔
14-لیکن اس نے جھگڑا کرتے ہوئے اس بات کو تسلیم نہ کیا اور اذان دے ہی ڈالی۔
15- اہلِ قافلہ اب فتنے کے ظاہر ہونے کے اندیشے میں مبتلا ہوگئے اور ڈر کر بیٹھ گئے۔
16-اتنی دیر میں ایک کافر بہت سے تحفے تحائف لئے ہوئے آیا اور موذن کے بارے میں پوچھنے لگا۔
17- بتاؤ وہ مؤذن کہاں ہے جسکی آواز نے ہمیں بہت راحت بخشی۔
18-قافلے والوں نے سوچاہ کہ ہائیں! اس بھدی آواز (جو اچانک مندر میں پہنچی)اس سے بھلا کسی کو کیا راحت ملی؟
19-وہ بولا کہ میری ایک لڑکی ہے نہایت پاکیزہ اور بہت خوبصورت۔ اسکو کافی عرصے سے مسلمان ہونے کی آرزو تھی۔
20- یہ خیال اور یہ جنون اس سے کبھی دور ہی نہ ہوتا تھا ہم نے بہتیری کوششیں کیں کہ وہ اس ارادے سے باز آجائے۔
21-بہت سے کافر اسے نصیحتیں کرتے تھے لیکن اسکے دل میں ایمان کی محبت پیدا ہوچکی تھی۔ اور یہ خیال انگیٹھی کے اندر بخور کی لکڑی کی طرح اسکے اندر سلگ رہا تھا۔
22- میں اس بات کا کوئی علاج نہ کر پا رہا تھا کہ اچانک اس مؤذن نے اذان دی۔
23-لڑکی نے گھبرا کر پوچھا کہ یہ ڈراؤنی آواز کیسی ہے جسکے دو چار ٹکڑے میرے کان سے ٹکرائے ہیں؟
24-میں نے تمام عمر اس مندر اور اس بت خانے میں ایسی بھدی آواز نہیں سنی۔
25-اسکی بہن نے کہا کہ یہ اذان کی آواز تو مسلمانوں کا ایک اعلان اور علامت ہے۔
26-اسکو یقین نہیں آیا اور اس نے دوسری سہیلی سے پوچھا تو اس نے بھی یہی کہا کہ ہاں اے چاند۔
27-جب اسکو یقین ہوگیا تو اسکا چہرہ زرد پڑگیا اور مسلمانی کی طرف سے اسکا دل افسردہ ہوگیا۔
28-چنانچہ میں اس عذاب سے چھوٹ گیا اور گذشتہ رات بڑے سکون اور اطمینان سے سویا۔
29-چونکہ مجھے اسکی آواز سے یہ راحت پہنچی اسی لئے میںشکرانے میں یہ ہدیہ لایا ہوں، وہ شخص کہاں ہے؟
30-جب اس نے مؤذن کو دیکھا تو کہا کہ یہ ہدیہ قبول کیجئے۔ کیونکہ آپ میرے پناہ دینے والے اور دستگیر ہیں۔
31-آپ نے جو احسان اور بھلائی مجھ سے کی، میں ہمیشہ کیلئے آپکا غلام ہوگیا ہوں۔
32-اگر میں مال اور سلطنت میں بڑھا ہوا ہوتا تو آپکا منہ سونے سے بھر دیتا۔
33-اخیر میں مولانا روم اس حکایت کے اختتام پر لکھتے ہیں کہ تمہارا یہ ایمان بھی مکر اور مجاز ہےاور اسی طرح کا ڈاکو ہے جس طرح کی یہ اذان تھی۔
ہست ایمانِ شما زرق و مجاز۔۔۔۔​
راہزن ہم چوں کہ آں بانگِ نماز​
 
درست کہا
پر بھدی اواز سے یہ نہیں بنتا کہ اذان پر پابندی لگوادیں

کچھ لوگوں کا یہ مقصد ہے کہ ہر قسم کے مذہبی اجتماعات پر پابندی لگوادیں (آپ نہیں) ۔ اپ سے میں متفق ہوں
 

قیصرانی

لائبریرین
درست کہا
پر بھدی اواز سے یہ نہیں بنتا کہ اذان پر پابندی لگوادیں

کچھ لوگوں کا یہ مقصد ہے کہ ہر قسم کے مذہبی اجتماعات پر پابندی لگوادیں (آپ نہیں) ۔ اپ سے میں متفق ہوں
سونے پر سہاگا دراصل وہ لوگ اذان سے نہیں بلکہ "ساری ساری رات گلا پھاڑنے" کی وجہ سے اس مؤذن سے چھٹکارا پانا چاہ رہے تھے نہ کہ اذان سے :)
 
سونے پر سہاگا دراصل وہ لوگ اذان سے نہیں بلکہ "ساری ساری رات گلا پھاڑنے" کی وجہ سے اس مؤذن سے چھٹکارا پانا چاہ رہے تھے نہ کہ اذان سے :)
یہ کچھ اسی قسم کی منطق ہے جیسے ضیاء الحق کےریفرنڈم میں تھی۔۔یعنی۔۔کہ آپ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے حامی ہیں یا نہیں۔۔اگر ہاں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے ضیاء الحق صاحب کو مزید کچھ برسوں کیلئے پاکستان کا صدر منتخب کرلیا ہے۔:D
 

یوسف-2

محفلین
موبائل فون سروس بندکردی گئی۔ موٹر سائیکلیں بند کردی گئیں۔ تعلیمی ادارے بند کردیے گئے۔ وزیر داخلہ کا بس چلتا تو وہ حفظِ ماتقدم کے طورپر9اور 10محرم کی مجالسِ عزا اور ماتمی جلوس بھی بند کروادیتے۔مگر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دہشت گردوں کی طرح اُن کا مذہبی عناصرپر بھی بس نہیں چلتا۔ ورنہ کیا مشکل تھا کہ یہ کہہ کر کہ ’’دہشت گردی کا خطرہ ہے‘‘ وہ یہ حکم بھی جاری کردیتے کہ9 اور 10محرم کو کسی مجلس میں علماء فلسفۂ شہادت پر روشنی ڈالیں نہ شہدائے کربلا کے لیے گریہ و زاری و عزاداری کریں، نہ علم کے جلوس نکالیں، نہ تعزیہ کے جلوس نکالیں، نہ ذوالجناح کے جلوس نکالیں نہ کسی قسم کا ماتمی جلوس نکالیں۔ یہ تمام مذہبی سرگرمیاں بند کرکے ( کہ مذہبی سرگرمیاں تو ہمیشہ ’’انتہاپسندانہ‘‘ ہی ہوتی ہیں) وہ بڑے فخر سے اعلان کرسکتے تھے کہ ’’ہم نے دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنادیے‘‘۔یہ اعلان تو خیر اُنھوں نے پھر بھی کیا۔ باوجود اِس کے کہ 9محرم کو ڈیرہ اسمٰعیل خان کے علاقے ’’تھویافاضل‘‘ میں ماتمی جلوس کے قریب دھماکا ہوگیا اور 8بچوں سمیت 9افراد جاں بحق ہوگئے۔مگر اِس دھماکے پر بھی اُنھوں نے برہمی کا اظہار امن و امان کے تحفظ کے ذمہ دار اداروں پر نہیں خود اہلِ جلوس ہی پر کیا ہے کہ ’’اُنھوں نے روٹ کلیر کیوں نہیں کروایاتھا؟اگرروٹ کلیر کرایا گیاہوتا تو دھماکا نہ ہوتا‘‘۔ (اب اپنے کیے کو آپ ہی بھگتو!)۔اور اگر روٹ کلیر کروالیا گیا ہوتا تو شاید وزیر داخلہ یہ کہتے کہ’’روٹ کلیرکروانے کے بعدجلوس کیوں نکالا گیا تھا؟ اگر جلوس نہ نکالا گیا ہوتا تو دھماکا نہ ہوتا‘‘۔ (اب اپنے کیے کو آپ ہی بھگتو!)۔ ہماری حکومت میں سب کچھ بند کردینے کی اہلیت ہے، سوائے دھماکوں کے اورسوائے دہشت گردی کے۔ لہٰذا ’’امن و امان کے تحفظ‘‘ کے نام پراور دہشت گردی کے خوف سے، ہر پُرامن سرگرمی بندکردی جاتی ہے مگر دہشت گرد بند کیے جاتے ہیں نہ دہشت گردیاں۔چنانچہ جب دہشت گردی کا کوئی واقعہ رُونما ہوجاتا ہے تو صدر اور وزیر اعظم سمیت حکومت کے باقی ذمہ داران بھی بڑے خشوع و خضوع اور بہت تزک و احتشام سے یہ بیان دے کر بری الذمہ ہوجاتے ہیں کہ: ’’ہم اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ واقعہ کے ذمہ داروں کو اُن کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ اس طرح کے بزدلانہ اقدامات سے دہشت گردی کے خلاف حکومت کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکتا۔ہمیں قیمتی انسانی جانوں کے زیاں پر گہرا رنج و غم ہے۔اور متاثرہ خاندانوں کے ساتھ گہری ہمدردی ہے۔۔۔‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمارے حکمران یومِ عاشور پر قوم کے نام اپنا پیغام دینا کبھی نہیں بھولتے۔ اِس بار قوم کے نام دیے جانے والے پیغام میں بھی یہی کہا گیا تھا کہ: ’’آج کے دن ہمیں صبرحسینؓ اور استقامت اہلِ بیت کی مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کا عہد کرنا ہوگا‘‘۔ سو حکمران توانتہائی سخت سیکورٹی میں پناہ گزیں ہو کر’’ کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کرنے کاعہدکرنے‘‘ کا عہد کرتے رہ جاتے ہیں اور قربانی اُن عوام کی دے دی جاتی ہے جو عدم تحفظ کے باعث کیڑے مکوڑوں کی طرح مارے جاتے ہیں۔ (تحریر: ابو نثر، نئی بات 27 نومبر 2012)​
 

یوسف-2

محفلین
سونے پر سہاگا دراصل وہ لوگ اذان سے نہیں بلکہ "ساری ساری رات گلا پھاڑنے" کی وجہ سے اس مؤذن سے چھٹکارا پانا چاہ رہے تھے نہ کہ اذان سے :)
یہ کچھ اسی قسم کی منطق ہے جیسے ضیاء الحق کےریفرنڈم میں تھی۔۔یعنی۔۔کہ آپ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے حامی ہیں یا نہیں۔۔اگر ہاں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے ضیاء الحق صاحب کو مزید کچھ برسوں کیلئے پاکستان کا صدر منتخب کرلیا ہے۔:D
خامہ انگشت بہ دنداں کہ ’اسے‘ کیا لکھیے
ناطقہ سر بہ گریباں کہ ’اسے‘ کیا کہیے :p
 

arifkarim

معطل
یہ کچھ اسی قسم کی منطق ہے جیسے ضیاء الحق کےریفرنڈم میں تھی۔۔یعنی۔۔کہ آپ پاکستان میں اسلام کے نفاذ کے حامی ہیں یا نہیں۔۔اگر ہاں تو اسکا مطلب یہ ہوا کہ آپ نے ضیاء الحق صاحب کو مزید کچھ برسوں کیلئے پاکستان کا صدر منتخب کرلیا ہے۔:D
پاکستان میں اسلام کا نفاذ؟ تو کیا جنرل ضیاء الحق کی مکارانہ آمد سے پہلے پاکستان میں اسلام کا نفاذ نہیں تھا؟
 
Top