مذاہب کا تقابلی مطالعہ

خرم

محفلین
اللہ آپ کو جزا دے باذوق بھائی۔ اس حدیث مبارکہ میں تو کہیں اسرائیلیات کے نہ پڑھنے کا حکم نہیں آیا۔ اس میں تو جب عرض کی گئی کہ یہودی علماء توریت کو پڑھتے تو عبرانی میں ہیں اور لوگوں کو تفسیر عربی میں سُناتے ہیں (یعنی جب سُننےوالے کو یہ معلوم نہیں کہ پڑھنے والے نے جو پڑھا اس کا اصل میں کیا مطلب تھا) تو تب کیا کیا جائے۔ اور آقا صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہ ان کے کہے کہ تکذیب کرو اور نہ تصدیق( کیونکہ تم نہیں جانتے کہ انہوں نے کیا پڑھا اور کیا کہا)۔ اس میں اسرائیلیات کے مطالعہ کی ممانعت کی بات کہاں‌سے آگئی؟ پھر آپ نے ایک اور حدیث مبارکہ کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں یہودیوں سے روایت کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ تو فی الحال اجازت کی حدیث تو موجود ہے ممانعت کی کوئی نہیں۔ میں یہ نہیں کہہ رہا کہ ممانعت کی حدیث ہوگی ہی نہیں لیکن ابھی تک کم از کم پیش نہیں کی گئی۔ جو حدیث پیش کی گئی ہے اس میں بھی نبی پاک صل اللہ علیہ وسلم نے حضرت موسٰی علیہ السلام کی پیروی کی بات فرمائی ہے اور یہ فرمایا ہے کہ اگر موسٰی علیہ السلام بھی ہوتے اور میرا زمانہ پاتے تو میرے پیروی کرتے۔ تو یقیناً شریعت موسوی کا اتباع اور تقلید مسلمانوں پر منع ہے اگر وہ شریعت محمدی صل اللہ علیہ وسلم سے مختلف ہے۔ لیکن اس میں سے توریت یا انجیل کے بالکل نہ پڑھنے کا حکم تو اجماعی ہوگا مطلقاً تو نہیں شاید۔
میں خدانخواستہ امام ابن کثیر کی نیت پر اعتراض نہیں کررہا۔ لیکن ان کی تفہیم یقیناً حرفِ آخر نہیں ہوسکتی۔
 

فرید احمد

محفلین
باذوق م مہوش ، خرم ، نظامی اور دیگر صاحبان ،
میں اس تحقیقی موضوع میں اب تک شامل نہ ہو پایا ، اور اب کیا ، بہت کچھ بیت گیا ؟
ایک سوال یہ ہے کہ اگر غیر مذاہب کی کتابیں پڑھنا بالکل ممنوع ہو تو رحمۃ اللہ کیرانوی کی ساری محنت ، دیدات کی ساری محنت عیسائیوں کے ساتھ مناظرے اس لیے کہ ان کے سامنے ان کی کتابوں سے نبی آخر کی حقانیت ثابت کی جا سکے ، کیسے ممکن ہو ؟
میرے خیال میں یہ پڑھنے کی ممانعت بایں صورت ہو سگی کہ پڑھنے والا اس کو مقدس آسمانی محفوظ کتاب سمجھ کر پوری عقیدت کے ساتھ قرآن کی طرح احکامات و رہ نمائی حاصل کرنے کی نیت سے پڑھے ۔
اور اگر احقاق حق اور ابطال باطل کی نیت سے پڑھے تو حرج نہ ہو ، شراب خانے میں شراب سے روکنے جانا تو منع نہ ہو ۔
شاید پہلے یہ باتیں آ چکی ہو ، اگر ایسا ہو تو معافی چاہتا ہوں ، در اصل سفر پر تھا ،دو دن غیر حاضر رہا ، اور کچھ وقت کی قلت چل رہی ہے ۔
 

باذوق

محفلین
بجا ارشاد باذوق بھائی۔ لیکن اگر ابن تیمیہ یا امام ابن کثیر کا صاحب علم ہونا اس بات کا متقاضی تو نہیں کہ ان کا علم مکمل تھا۔
کیا میری کسی پوسٹ سے ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میں نے ائمہ دین کو علمیت میں نبی کے برابر قرار دیا ہو یا تمام دینی علوم میں ان کی تکمیلیت کا اشارہ ہی دیا ہو؟
میں نے تو صرف آپ کی اور میری علمیت کا موازنہ ، متذکرہ ائمہ سے کیا تھا۔ اس سے یہ بات بھلا کہاں نکلتی ہے کہ میں ان ائمہ دین کے "مکمل علم" کے گن گا رہا ہوں یا ان کا مقلد ہوں؟
اور نہ ہی میں یا کوئی اور اس بات کے پابند ہیں کہ ان کی ہی پیروی کریں۔
کیا میں نے کسی امام کی بلادلیل پیروی کی ترغیب دلائی ہے ؟
آپ بھی کیا معصومانہ باتیں کرتے ہیں برادر۔
دیکھیں بھائی اگر کچھ علماء نے شرائط کی قید لگائی ہے اور کچھ نے نہیں تو آپ کو جن عالم پر اعتبار ہے ان کی پیروی کر لیجئے۔ میں یہ نہیں مان سکتا کہ اتنے بڑے اولیاء اللہ جن کی بدولت اسلام کی اشاعت و تبلیغ ہوئی وہ دین کے اصول و شرائط ہی سے بے گانہ تھے۔ اور اسرائیلیات کے حوالہ جات تو آج بھی دئے جاتے ہیں
جن شرائط کی قید لگائی گئی ہے کیا وہ شرائط قرآن و حدیث کے دلائل کے بجائے "ذاتی قیاسات" پر مبنی ہیں؟؟
بھائی کبھی آنکھیں کھول کر بھی پڑھ لیا کریں کچھ ۔:eek:
مقدمۃ ابن کثیر میں اسرائیلیات کو بیان کرنے کی جو شرائط ہیں ، کیا ان میں حدیث‌ سے دلیل نہیں‌ دی گئی ہے؟
کم سے کم آپ خود پہلے چیک تو کرلیں ۔۔۔۔۔۔
اور یہ تو میں‌ بار بار کہے جا رہا ہوں کہ اسرائیلیات کے حوالے دینا ایک الگ بات ہے اور غیر مذاہب کی کتب کا مطالعہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ پھر بھی پتا نہیں‌ آپ کیوں گھما پھرا کر اسی ایک بات کو دہرائے چلے جاتے ہیں ؟؟ :confused:
اور بعض اوقات تو یہ لازم ہو جاتا ہے۔ ابھی آپ نے بھائی حسن نظامی کو کہا کہ وہ اپنی بات کا ثبوت مہیا کریں۔ یعنی کہ بات کرنے والا ہی اپنی بات کا ثبوت مہیا کرتا ہے۔ اب اگر آپ کسی یہودی یا عیسائی کو کہتے ہیں کہ محمد صل اللہ علیہ وسلم کی نبوت پر ایمان لے آؤ کہ وہ ہی وہ نبی موعود ہیں جن کا ذکر توریت و انجیل میں مذکور ہے تو وہ آپ سے یقیناً پوچھے گا کہ توریت یا انجیل کا حوالہ لاؤ۔ واضح رہے کہ اس کا یہ سوال ایک ہٹ نہیں بلکہ اصولی بات ہوگی۔ اب کیا آپ اسے یہ کہہ دیں گے کہ میں تو انجیل نہیں پڑھ سکتا تم خود ڈھونڈ لو؟ پھر اگر ان کتب کا مطالعہ مطلقاً ممنوع ہے تو علماء نے فارقلیط کے لفظ پر اتنی تحقیق اور جرح کیوں کی ہے علمائے نصارٰی سے؟
آپ اپنی ہی پرانی باتوں کو بلاوجہ دہرا رہے ہیں۔ جس کا جواب اسی تھریڈ کی کسی پوسٹ‌میں ، مَیں دے چکا ہوں۔
 

خرم

محفلین
کیا میری کسی پوسٹ سے ایسا تاثر پیدا ہوتا ہے کہ میں نے ائمہ دین کو علمیت میں نبی کے برابر قرار دیا ہو یا تمام دینی علوم میں ان کی تکمیلیت کا اشارہ ہی دیا ہو؟
میں نے تو صرف آپ کی اور میری علمیت کا موازنہ ، متذکرہ ائمہ سے کیا تھا۔ اس سے یہ بات بھلا کہاں نکلتی ہے کہ میں ان ائمہ دین کے "مکمل علم" کے گن گا رہا ہوں یا ان کا مقلد ہوں؟
کیا میں نے کسی امام کی بلادلیل پیروی کی ترغیب دلائی ہے ؟
یقیناً نہیں اور نہ ہی میں نے ایسا کوئی ذکر کیا ہے۔
اور یہ تو میں‌ بار بار کہے جا رہا ہوں کہ اسرائیلیات کے حوالے دینا ایک الگ بات ہے اور غیر مذاہب کی کتب کا مطالعہ ایک مختلف معاملہ ہے۔ پھر بھی پتا نہیں‌ آپ کیوں گھما پھرا کر اسی ایک بات کو دہرائے چلے جاتے ہیں ؟؟
بھائی یہی بات تو سمجھ نہیں‌آرہی۔ کہ بغیر مطالعہ کے آپ حوالے کیسے دیں گے؟ بغرضِ ثواب یا اتباع کے ان کتب کو پڑھنا یقیناً ممنوع ہے لیکن اس کے سوا ایک عامی حرمت کا بھائی جو آپ حکم لگاتے ہیں یا بیان کرتے ہیں اس کی کیا توجیح ہے یہی سمجھنا اور جاننا چاہ رہے ہیں۔
ابن کثیر کی شرائط میرے پاس موجود نہیں ہیں اگر آپ انہیں یہاں نقل کرسکیں تو شاید آپکی کافی زحمت کم ہوجائے اور ہم بہت سی باتوں کی تکرار سے بچ جائیں۔
ہمارا اس بات پر کلیتاً اتفاق ہے کہ بغرضِ ثواب یا اتباع انجیل و توریت یا کسی بھی آسمانی صحیفہ ک ماسوا قرآن پاک پڑھنا ممنوع و حرام ہے۔ سوال یہ ہے کہ صرف مطالعہ اور حصولِ علم کے لئے بھی حرام ہے یا اس کی ممانعت نہیں کی گئی؟
 

حسن نظامی

لائبریرین
باذوق انکل نے لکھا ۔۔
اچھا تو دوستو !
الدارمی کی حدیث کا معاملہ تو حل ہو گیا کہ
یہ صحیح حدیث ہے اور اس کے ایک راوی پر جرح کرنے میں برادر "حسن نظامی" سے بشری خطا سرزد ہوئی ہے

اجي آپ نے خود ہي معاملہ حل کر ليا ۔۔:eek:
ذرا صبر کيجيے ۔۔ :)
خير چليں اگر آپ اس حديث کو صحيح تسليم کر چکے ہيں ۔۔ :rolleyes:تو بخاري شريف والي حديث بلا شک و شبہ اس حديث سے زيادہ صحيح ہے ۔۔ اور يہي بانسري تو ميں کب سے بجا رہا ہوں
اور ديکھيں مہوش آپي نے بھي يہي بات کي ہے ۔۔

باذوق برادر،
میری آپ سے پہلی درخواست یہ تھی کہ فتح الباری والی روایت "مسلسل" نظر انداز ہو رہی ہے۔ لہذا مہربانی فرما کر میرے پوسٹ سے قبل اس پر تبصرہ فرمائیں۔
اس طرف تو آپ آتے نہيں ۔۔ کہ دونوں صحيح احاديث ميں سے زيادہ صحيح کون سي ہے ۔۔ وہ جو بخاري ، ترمذي ، احمد "چار جگہ "،دارمي وغيرھم ميں درج ہے
يا وہ جو صرف
دارمي، اور احمد "دو جگہ " ۔ ميں ہے اور ہاں مشکوت ميں بھي ہے بقول آپ کے :rolleyes:۔۔
اور پھر اس ترمذي کي شرح احوذي اور بخاري کي شرح فتح الباري ميں اس حديث کے ضمن ميں باتيں ہيں ۔۔
قبلہ بے شک بقول آپ کے
دیکھئے ! اور ذرا غور سے ملاحظہ کیجئے کہ میں ایک اکیلا یہاں سب کی پوسٹ سے ہر اس بات کا جواب دئے جا رہا ہوں جو جواب کے قابل ہوں۔
اکيلے بھي ہيں ۔۔
اور جواب دينے کي کوشش بھي کر رہے ہيں ۔۔ ليکن جو جواب مطلوب ہے اس کي صرف تو آتے ہي نہيں ۔۔
باقي يہ بات تو آپ بھي تسليم کر چکے ہيں "شري غلطي سے نہيں":)کہ جو جرح ميں نے دي ہے وہ راوي مجالد بن سعيد بن عمير کے متعلق ہي ہے ۔۔ ذرا ديکھيے آپ کيا لکھتے ہيں
ابھی تک تو تفصیل نہیں ملی ، لیکن ۔۔۔
آپ نے راوی "مجالد" پر جو جرح نقل کی ہے ، بےشک وہ جرح انہی "مجالد" کے متعلق ہے جن کا نام "مجالد بن سعيد بن عمير" ہے۔
اور راوي مجالد کے بارے ميں آپ فرماتے ہيں ۔۔

میں حدیث الدارمی کے راوی "مجالد" کے سلسلے میں‌ فی الوقت بالکل لاعلم ہوں‌ لہذا اس راوی کے اصل نام پر میرا قطعاَ کوئی تبصرہ نہ تھا اور نہ ہے !!
جب آپ مجالد کے بارے ميں لاعلم ہيں کہ وہ کون سے مجالد ہيں اور مجالد بن سعيد بن عمير پر کي گئي جرح کو درست تسليم کرتے ہيں ۔
تو پھر آپ کيسے کہہ سکتے ہيں کہ
اس حديث ميں جو راوي ہيں وہ مجالد نہيں ۔۔
اس راوي کي اتني پڑتال تو آپ بھي کر سکتے ہيں نا ۔۔
آخر کو اتني بڑي بات کرنے والے کو تحقيق تو مکمل کر ہي ليني چاہيے ۔۔
خير اگر وہ راوي مجالد بن سعيد نہ بھي ہوں ۔۔ تو بھي ميري بات اتني ہي مکمل اور اہميت کي حامل ہے ۔۔
کيونکہ مقابلہ ميں بخاري کي حديث ہے جس کے کسي راوي کےبارے ميں آپ کوئي جرح نہيں کر سکتے ۔۔ يا اسے مضطرب ثابت نہيں کر سکتے ۔۔ چاہے ميري طرح ہي کرنا چاہيں ۔۔
يعني بقول آپ کے احتمال کے ساتھ ۔۔
:grin:
 
سلام صاحبو اور دوستو،
توریت، انجیل و زبور اپنی موجودہ عام طور پر دستیاب حالت میں:
موضوع یہاں تھا- مذاہب کا تقابلی مطالعہ۔ اس سلسلے میں‌یہ عرض کیا تھا کہ دوسرے مذاہب کی کتب، خصوصاَ انجیل و توریت و زبور، اپنی موجودہ حالت میں پڑھنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ان کتب کا بیشتر حصہ انسانی ذہن کا کارنامہ ہے۔ جس کو ان کتب کے اہل کتاب تسلیم بھی کرتے ہیں۔ طریقہ کار ان کتب کا یہ ہے کہ ان کتب کے راویوں‌کے انبیاء نے جو کچھ فرمایا وہ لوگوں نے قلم بند کیا۔ پھر ان کے علماء خود بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ان کتب میں 'حسب ضرورت' اضافہ ہوتا رہا۔ گویا یہ کتب مکمل طور پر کلام الہی پر مشتمل نہیں جو کہ ان کتب کے ماننے والوں کا کہنا بھی ہے اور ان کتب کے مواد سے بھی ظاہر ہے۔ مثال کے طور پر "انجیل مقدس"‌ کا پہلے جملہ دیکھ لیجئے:
1۔ انجیل مقدس بمطابق میتھیو-
1 The book of the generation of Jesus Christ, the son of aDavid, the son of Abraham.
2۔ انجیل مقدس بمطابق مارک
1 The beginning of the agospel of Jesus Christ, the Son of God;
3- انجیل مقدس بمطابق لیوک
1 aForasmuch as bmany have taken in hand to set forth in order a declaration of those things cwhich are most surely believed among us,
4۔ انجیل مقدس بمابق جان
1 aIn the bbeginning was the Word, and the cWord was with God, and the dWord was eGod.

یہ چار کتب مل کر انجیل نہیں‌ بنی۔ یہ چاروں کتب انجیل کے بارے میں ہیں کہ ان لوگوں نے کیا سنا اور اس کو کس طرح لکھا۔

کلام الہی قرآن کریم:
ہمارے ایمان کے مطابق : انسانی ذہن کا کوئی کارنامہ، کم از کم قرآن میں قطعاَ نہیں پایا جاتا۔ اگر کچھ لوگ ابتدائی قرآن مصحف دورِ عثمانی کو تصور کرتے ہیں تو وہ ایسا ہی سمجھ لیں۔ گو کہ اس نسخہ کا مطالعہ تاریخی اور روایتی شواہد کے مطابق ایک سے زائید حفاظ کرام نے کیا،جو اہل لغۃ القریش تھے ۔ آج یہی نسخہ امت مسلمہ میں عام طور پر دستیاب ہے، جس پر امت کا اجماع ہے۔ قرآن کا نسخہ کہیں‌سے بھی لے لیجئے ہر نسخہ کی پہلی دو سطریں ہی نہیں بلکہ ہر آیت ہو بہو ایک ہوتی ہے۔ آیت بہ آیت، ترتیب بالترتیب۔ جو دلوں پر نقش ہے، کتب میں‌درج ہے اور ہر طور محفوظ ہے۔ بلا کسی شبہ۔

قرآن و حدیث کی بحث:
اس بحث کو قرآن و حدیث کی بحث کا رنگ نہ دیجئے۔ کہ درست احادیث کو آیات کی تشریح قرار دیا جاتا ہے۔ آیات قرار نہیں دیا جاتا لہذا جب الہامی کتب کا موازنہ کیا جائے گا تو ان کتب کا کیا جائے گا جن کو ان کتب کے اہل مذہب اللہ کا کلام قرار دیتے ہیں۔ متفقہ طور پر عام طور پر دستیاب الوہی یا الہامی کتب قرآن توریت و زبور و انجیل ہی تصور کی جاتی ہیں۔ اہل اسلام کی مذہبی روایات یا شرعی کتب الہامی یا الوہی الفاظ نہیں تسلیم کی جاتی ہیں کہ آیات الہی جو اللہ تعالی نے قرآن کے لئے تفویض‌کیں واضح ہیں۔ ہمارے ایمان کے مطابق، قرانی آیات محمد رسول اللہ صلعم کے اپنے الفاظ نہیں ہیں۔ اور نہ ہی قرآن کریم، محمد رسول اللہ صلعم کا ذاتی کلام ہے، لہذا موازنہ موجودہ عام طور پر دستیاب الہامی کتب کا ہی ممکن ہے، جن میں قرآن، توریت ، زبور و انجیل ہی شمار ہوتی ہیں۔

وجہ تذکرہ :
کتب روایات، قرآن و حدیث کی بحث یقیناَ اس زمرہ میں غیر موزوں ہے۔ اس کے لئے مزید دھاگے ہیں، میں نے ان کتب روایات کا تذکرہ صرف اس لئے کیا تھا کہ جس طرح اسلامی کتب روایات کے راوی کوئی رسول نظر نہیں آتے، ‌ بلکہ افراد ہیں جو روایات رسول اسلام صلعم سے منسوب کرتے نظر آتے ہیں، اسی طرح موجودہ عام طور پر دستیاب توریت، زبور و انجیل کے راوی کوئی رسول نہیں‌ نظر آتے بلکہ افراد نظر آتے ہیں جو اپنے اپنے مذاہب کے رسولوں سے روایات ان کتب میں منسوب کرتے نظر آتے ہیں۔ یہی صرف ایک ایسا متوازی خط ہے جو موجودہ عام طور پر دستیاب انجیل، زبور و توریت اور کتب روایات، دونوں میں‌ یکساں نظر آتا ہے۔ یہ امر یقیناَ‌ قرآن و حدیث کی بحث کے دائرے سے باہر ہے۔ کہ مختلف مذاہب کے پیروکار اپنے پیغمبران کے الفاظ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔ اور اس کا ذکر کیا جائے۔

تقابلی جائزہ: :
موجودہ انجیل، زبور و توریت ان مذاہب کے پیرو کاروں کی اپنے پیغمبروں کے ادا کردہ الفاظ کو محفوظ رکھنے کی کاوش نظر آتی ہے۔ ان پیغمبران نے یقیناَ‌ اپنے وقت میں کلام الہی ہی سنایا ہوگا ، جس کو محفوظ رکھنے کی کوشش ان لوگوں نے کی۔ اس کوشش کی ناکامی نہ صرف موجودہ عام طور پر دستیاب توریت، زبور و انجیل کی موجودہ حالت سے واضح ہوتی بلکہ قرآن بھی اس کی گواہی دیتا ہے کہ ان کتب کے درست ہونے کی کسوٹی قرآن ہے۔ اپنے مذاہب، قانونی و حکومتی اصولوں کو درست ثابت کرنے کے لیے ان مذاہب کے پیروکاروں نے طرح طرح‌کی تاویلات کو جنم دیا کہ ان کی کتب کا ہر لفظ قرآن سے ثابت ہے۔ وہ دور گذر گیا -- لیکن اس قسم کی کاوشوں کے اثرات آج بھی مسلمانوں کی کتب میں درج ہیں۔ بہت ہی بنیادی تقابلی جائزہ سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ قرآن نسل انسانی کے لئے بہت ہی پائیدار ، مفید اور عملی اصول متعین کرتا ہے۔ جب کہ دوسری کتب اس معیار پر ہمیشہ پوری اترتی نظر نہیں آتی ہیں۔

والسلام۔
 

مہوش علی

لائبریرین
کیا آپ کا شعور و عقل آپ کو یہ بات ماننے پر مجبور کر سکتی ہے کہ:

1۔ اسرائیلیات الگ چیز ہے اور توریت الگ چیز۔
2۔ اسرائلیات تو مسلم سن سکتے ہیں مگر توریت سننا غضب الہی اور غضبِ رسول کا باعث ہے؟
3۔ دارمی کی حدیث کا اطلاق صرف توریت پر ہوتا ہے مگر اسرائلیات پر نہیں؟
4۔اگر دارمی کی حدیث صحیح ہے تو ذیل کی بخاری کی حدیث اسکے خلاف کیوں نہ ہوئی؟
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ :
اہل کتاب (یہودی) تورات کو خود عبرانی زبان میں پڑھتے ہیں لیکن مسلمانوں کے لیے اس کی تفسیر عربی میں کرتے ہیں۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
تم اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ تم تکذیب کرو بلکہ یہ کہا کرو : آمنا بالله وما أنزل إلينا ( ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس چیز پر جو ہماری طرف نازل کی گئی)۔
صحيح بخاري

اس روایت میں تو "تورات" کی تصدیق اور تکذیب کا ذکر آیا ہے مگر اب اگر کوئی کہے کہ نہیں یہ حکم توریت کے لیے بلکہ صرف اسرائلیات کے لیے ہے اور توریت کے لیے صرف دارمی والی حدیث کا حکم ہے کہ جو پڑھے گا وہ اللہ اور رسول ص کے غضب کو آواز دے گا۔
آپ کے پاس "عقل" اللہ کا تحفہ ہے۔ اسی عقل کی وجہ سے کڑوڑوں لوگوں نے اللہ کو پہچان کر اسلام قبول کیا ہے۔

5۔ اور کیا واقعی آپ کی عقل آپ کو یہ نہیں بتاتی کہ یہودیوں سے روایت کرنے کا مطلب توریت کا علم ہے؟
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے ‫: پہنچاؤ میری جانب سے خواہ ایک آیت ہی ہو اور روایت کرو یہودیوں سے اس میں کوئی حرج نہیں اور جس کسی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔
صحيح بخاري ، كتاب احاديث الانبياء ، باب : ما ذكر عن بني اسرائيل ، حدیث : 3499

تو کیا آپ اب بھی یہی کہیں گے کہ دارمی کی حدیث صحیح اور غیر منسوخ شدہ ہے اور یہودیوں کی توریت کا علم حاصل کرنا اللہ اور رسول ص کے غضب کا باعث ہے؟
 

باذوق

محفلین
خرم ، حسن نظامی ، مہوش
میں نے آپ تمام کے جوابات پڑھ لیے ہیں :)
اور سلسلہ وار (اپنی سہولت کے مطابق) آپ تمام کے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دینے کی کوشش کروں‌ گا ، ان شاءاللہ۔ انتظار فرمائیں کہ معاملہ ہفتہ اور اتوار تک بھی جا سکتا ہے۔ امید کہ اتنا انتظار تو ضرور کریں‌ گے۔ شکریہ !
 

باذوق

محفلین
سلام صاحبو اور دوستو،
میں نے ان کتب روایات کا تذکرہ صرف اس لئے کیا تھا کہ جس طرح اسلامی کتب روایات کے راوی کوئی رسول نظر نہیں آتے، ‌ بلکہ افراد ہیں جو روایات رسول اسلام صلعم سے منسوب کرتے نظر آتے ہیں
والسلام۔
وعلیکم السلام۔
محبی فاروق صاحب
آپ کی ڈھٹائی پر مجھے حیرت ہی نہیں کبھی کبھی شدید ترس بھی آتا ہے آپ پر
آپ کو بعض احباب بڑا علم یافتہ جتانے کی کوشش کیے جاتے ہیں لیکن افسوس ۔۔۔ کہ لوگ آپ کے بیانات کی باریکی پر تو غور نہیں کرتے بلکہ شکریہ پر شکریہ یوں ادا کرتے چلے جاتے ہیں جیسے مشاعرے میں کچھ متشاعروں پر ان کے "احباب" داد پر داد کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں۔
اتنے تلخ جملوں کے لیے معذرت ، مگر آپ کے "حسین نظریات" ہی مجھے ایسے تلخ جملے لکھنے پر مجبور کرتے ہیں !!
آپ نے فرمایا :
میں نے ان کتب روایات کا تذکرہ صرف اس لئے کیا تھا کہ جس طرح اسلامی کتب روایات کے راوی کوئی رسول نظر نہیں آتے، ‌ بلکہ افراد ہیں جو روایات رسول اسلام صلعم سے منسوب کرتے نظر آتے ہیں
مجھے ذرا بتائیے کہ کیا موجودہ قرآن ، راست اللہ یا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپ کے ہاتھوں میں دیا تھا؟ یا یہ بھی انہی "راویوں" کے ذریعے آپ کے ہاتھوں میں پہنچا جن کے ذریعے ہم کو "حدیث" پہنچی ہے؟؟
یہ بات تو اظہرمن الشمس ہے کہ موجودہ قرآن جو ہے ، وہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد راویوں (حفاظ) کو جمع کر کے ، اجماعی فیصلے کے تحت مرتب کیا گیا۔ ذرا بتائیے کہ "ظاہری طور" پر مرتب کرنے والے کیا وہی افراد نہیں ہیں جنہوں نے "حدیث" بھی مرتب کی ہے؟ اگر ان "افراد" پر آپ کا ایمان یہ ہے کہ :
ان "راویوں" نے اللہ کا کلام مرتب کرنے میں تو عدل و دیانتداری دکھائی البتہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بلا کھٹکے ہر بات منسوب کرتے چلے گئے ؟؟؟

تو آپ کے ایسے "ایمان" کو ہم دور سے سلام کرتے ہیں!
وہ شخص جو السابقون الاولون کی عدالت و دیانت پر ایسی دریدہ دہنی کا اظہار کرتا ہو اس سے روزِ حشر اللہ اور اس کے رسول ہی نمٹ لیں گے ، ان شاءاللہ۔
 

باذوق

محفلین
جب آپ مجالد کے بارے ميں لاعلم ہيں کہ وہ کون سے مجالد ہيں اور مجالد بن سعيد بن عمير پر کي گئي جرح کو درست تسليم کرتے ہيں ۔
تو پھر آپ کيسے کہہ سکتے ہيں کہ
اس حديث ميں جو راوي ہيں وہ مجالد نہيں ۔۔
اس راوي کي اتني پڑتال تو آپ بھي کر سکتے ہيں نا ۔۔
آخر کو اتني بڑي بات کرنے والے کو تحقيق تو مکمل کر ہي ليني چاہيے ۔۔
برادر!
جب آپ کا علم اتنا ہی "کمزور" ہے تو یہاں بیکار کے پنگے لینے کیوں آتے ہیں؟؟
کیا آپ کو اتنا بھی نہیں پتا کہ : جب اس حدیث کو کبار محدثین (ابن حبان ، دارمی ، احمد ، حاکم ، طبرانی ، بیھقی ، البانی) نے "حسن" قرار دیا ہے تو اس کی سند کے کسی راوی پر میں کیوں جرح کی تلاش کروں گا بھلا؟؟ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مجھے ان محدثین کی "تحقیق" پر اعتماد نہیں !
چلئے آپ کو ان محدثین کی تحقیق پر اعتماد نہیں ہوگا ، لیکن سوال یہ ہے کہ ان محدثین کی تحقیق و علمیت کے مقابلے میں آپ کی استنادی حیثیت کیا ہے؟؟
ہاں اگر آپ ثبوت دیتے کہ فلاں فلاں محدث نے دارمی کی اس حدیث کے ایک راوی مجالد پر یہ یہ جرح نقل فرمائی ہے تو پھر بھی آپ کی بات میں کچھ وزن ہوتا ۔
لیکن آپ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

معلوم نہیں آپ یہاں کیا "پروپگنڈہ" کرنے آئے ، یا بلوائے یا گھسائے گئے ہیں ؟؟
میں یہ معاملہ اللہ پر چھوڑتا ہوں !!
 

باذوق

محفلین
کیا آپ کا شعور و عقل آپ کو یہ بات ماننے پر مجبور کر سکتی ہے کہ:
1۔ اسرائیلیات الگ چیز ہے اور توریت الگ چیز۔

تو کیا آپ اب بھی یہی کہیں گے کہ دارمی کی حدیث صحیح اور غیر منسوخ شدہ ہے
سسٹر مہوش علی
میرا خیال ہے ، آپ کو سنگین غلط فہمی اسی وجہ سے ہوئی ہے کہ آپ نے یقیناَ اس تھریڈ میں میرے تمام جوابات کو پڑھا ہی نہیں ہے!
ذرا بتائیے کہ : وہ میری ایسی کون سی پوسٹ ہے جہاں میں‌ نے "توریت" اور "اسرائیلیات" کو الگ الگ شئے باور کرایا ہو؟؟

ہاں‌ اگر میرے کچھ جوابات سے آپ نے اپنے ذہن میں‌ کچھ ایسا ہی مفہوم اخذ کر رکھا ہو تو اس کا ازالہ میں صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ صاف صاف یہاں لکھ دوں کہ ۔۔۔۔۔
توریت اور اسرائیلیات ۔۔۔ دونوں ایک ہی چیز کو بیان کرتے ہیں!!

---
دارمی کی حدیث‌ صحیح‌ ہے !
نامور محدثین کی تحقیق سے میں‌ یہ بات ثابت کر چکا ہوں !

کوئی حدیث ، صحیح‌ ہو کر ، منسوخ یا ناسخ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہم تمام کو پتا ہے۔
میں‌ نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں کہ : دارمی کی حدیث ، منسوخ ہے یا نہیں ؟؟

یہ تو آپ جیسے "علم یافتہ" لوگوں‌ کے "علم کا کرشمہ" ہے جو دارمی کی حدیث‌ کو منسوخ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، عقل کو بیچ میں‌ لا رہے ہیں ۔۔۔
مہوش علی اور دیگر احباب !
اچھی طرح‌ سن رکھئے کہ باذوق ، دین کا اگر ادنیٰ طالب علم ہے تو آپ لوگ بھی کوئی "عالم" یا "محدث" نہیں‌ ہیں !!
کیا آپ سمجھتے ہیں‌ کہ "علمِ حدیث" کوئی پی۔ایچ۔پی۔بی۔بی کا ورژن ہے کہ جس کا جی چاہے تبدیلیاں کر لے؟؟
کیا آپ کو علم نہیں‌ کہ فن حدیث‌ میں "علمِ ناسخ و منسوخ" کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟

میری صرف یہی درخواست ہے کہ :
کسی بھی معروف محدث کی وہ تحقیق بحوالہ پیش فرمائیے ، جس میں انہوں‌ نے دارمی کی حدیث کو بخاری کی حدیث‌ کے مقابلے "منسوخ" قرار دیا ہو۔
اگر آپ پیش نہیں کر سکتے (اور میرے اب تک کے علم کے مطابق یقینا نہیں پیش کر سکتے) تو کھلے دل سے بغیر کسی تعصب کے مان لیجئے کہ :
دونوں‌ احادیث‌ میں‌ جمع و تطبیق یا ان کی تشریح‌ کو جاننے کے لیے آپ کو محدثین سے رجوع کرنا ہوگا اور اس طرح‌ کسی فورم پر بیٹھ کر ، احادیث‌ کے ناسخ و منسوخ‌ کے سنجیدہ معاملے میں‌ اپنے "عقلی گھوڑے"‌ دوڑائے نہیں جا سکتے !!


فرید احمد صاحب اور قسیم حیدر صاحب !!
آپ دونوں‌ احباب اگر پڑھ رہے ہوں تو ذرا بتائیے کہ میرا درج بالا مطالبہ (سرخ‌ الفاظ) معقول ہے یا نہیں‌ ؟؟ :rolleyes:
 

فرید احمد

محفلین
دونوں‌ احادیث‌ میں‌ جمع و تطبیق یا ان کی تشریح‌ کو جاننے کے لیے آپ کو محدثین سے رجوع کرنا ہوگا
اس کا انتظار ہے ، دیکھیے کیا نکلتا ہے ۔ ویسے اس وقت میں اپنی ضرورت کے لیے ایک راوی محمد بن خالد الجندی کے نام " جندی " کے اعراب کی تلاش میں ہوں ، یہ جندی جیم کے ضمہ نون کے سکون کے ساتھ ہے یا جیم اور میم کے فتحہ کے ساتھ ؟ پتہ ہو تو اطلاع فرمائیں کرم ہوگا ۔
 

قسیم حیدر

محفلین
سسٹر مہوش علی
میرا خیال ہے ، آپ کو سنگین غلط فہمی اسی وجہ سے ہوئی ہے کہ آپ نے یقیناَ اس تھریڈ میں میرے تمام جوابات کو پڑھا ہی نہیں ہے!
ذرا بتائیے کہ : وہ میری ایسی کون سی پوسٹ ہے جہاں میں‌ نے "توریت" اور "اسرائیلیات" کو الگ الگ شئے باور کرایا ہو؟؟

ہاں‌ اگر میرے کچھ جوابات سے آپ نے اپنے ذہن میں‌ کچھ ایسا ہی مفہوم اخذ کر رکھا ہو تو اس کا ازالہ میں صرف اتنا کر سکتا ہوں کہ صاف صاف یہاں لکھ دوں کہ ۔۔۔۔۔
توریت اور اسرائیلیات ۔۔۔ دونوں ایک ہی چیز کو بیان کرتے ہیں!!

---
دارمی کی حدیث‌ صحیح‌ ہے !
نامور محدثین کی تحقیق سے میں‌ یہ بات ثابت کر چکا ہوں !

کوئی حدیث ، صحیح‌ ہو کر ، منسوخ یا ناسخ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہم تمام کو پتا ہے۔
میں‌ نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں کہ : دارمی کی حدیث ، منسوخ ہے یا نہیں ؟؟

یہ تو آپ جیسے "علم یافتہ" لوگوں‌ کے "علم کا کرشمہ" ہے جو دارمی کی حدیث‌ کو منسوخ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، عقل کو بیچ میں‌ لا رہے ہیں ۔۔۔
مہوش علی اور دیگر احباب !
اچھی طرح‌ سن رکھئے کہ باذوق ، دین کا اگر ادنیٰ طالب علم ہے تو آپ لوگ بھی کوئی "عالم" یا "محدث" نہیں‌ ہیں !!
کیا آپ سمجھتے ہیں‌ کہ "علمِ حدیث" کوئی پی۔ایچ۔پی۔بی۔بی کا ورژن ہے کہ جس کا جی چاہے تبدیلیاں کر لے؟؟
کیا آپ کو علم نہیں‌ کہ فن حدیث‌ میں "علمِ ناسخ و منسوخ" کس قدر اہمیت کا حامل ہے؟

میری صرف یہی درخواست ہے کہ :
کسی بھی معروف محدث کی وہ تحقیق بحوالہ پیش فرمائیے ، جس میں انہوں‌ نے دارمی کی حدیث کو بخاری کی حدیث‌ کے مقابلے "منسوخ" قرار دیا ہو۔
اگر آپ پیش نہیں کر سکتے (اور میرے اب تک کے علم کے مطابق یقینا نہیں پیش کر سکتے) تو کھلے دل سے بغیر کسی تعصب کے مان لیجئے کہ :
دونوں‌ احادیث‌ میں‌ جمع و تطبیق یا ان کی تشریح‌ کو جاننے کے لیے آپ کو محدثین سے رجوع کرنا ہوگا اور اس طرح‌ کسی فورم پر بیٹھ کر ، احادیث‌ کے ناسخ و منسوخ‌ کے سنجیدہ معاملے میں‌ اپنے "عقلی گھوڑے"‌ دوڑائے نہیں جا سکتے !!


فرید احمد صاحب اور قسیم حیدر صاحب !!
آپ دونوں‌ احباب اگر پڑھ رہے ہوں تو ذرا بتائیے کہ میرا درج بالا مطالبہ (سرخ‌ الفاظ) معقول ہے یا نہیں‌ ؟؟ :rolleyes:

شاید دین کا علم ہی آج جنس بازار ہے ورنہ ادنی سے ادنٰی فن پر طبع آزمائی کرنے سے پہلے انسان اس کی مبادیات پر دسترس حاصل کرتا ہے۔ باذوق بھائی نے معقول مطالبہ کیا ہے۔
 

خرم

محفلین
تو باذوق بھائی اس کا مطلب تو یہی ہوا کہ آپ اور ہم سب کوئی دعوٰی نہیں‌کر سکتے۔ نہ آپ یہ فرما سکتے ہیں کہ توریت و زبور و انجیل کا پڑھنا حرام و ممنوع ہے (صرف تحصیل علم کے لئے) اور نہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ جائز ہے؟
مجھے تو اس کا منطقی حل یہی نظر آتا ہے کہ اپنی رائے سے آلودہ کئے بغیر اکابرینِ امت (صلحائے امت) کے اقوال اس مسئلہ پربیان کر دئے جائیں اور بس بجائے اس کے کہ بات کا بتنگڑ بنا ڈالا جائے۔
 
شاید دین کا علم ہی آج جنس بازار ہے ورنہ ادنی سے ادنٰی فن پر طبع آزمائی کرنے سے پہلے انسان اس کی مبادیات پر دسترس حاصل کرتا ہے۔ باذوق بھائی نے معقول مطالبہ کیا ہے۔
شاید عوام الناس کا حصول علم دین ہی کچھ لوگوں‌کے لئے تین تلوار ہے۔ ایسے مطالبات کہ حصول علم دین صرف ایک مخصوص طبقہ تک محدود ہونا چاہئیے کوئی نیا مطالبہ نہیں۔ یہی نعرہ علیگڑھ کے قیام پر لگایا گیا تھا۔ ایسے لوگوں کا دعوی تھا اور ہے کہ سرسید کافر تھا، اس کی تعلیم کفر تھی، اس تعلیم کے نتیجے میں‌ قرآن پڑھنے کے قابل ہونا کفر ہی نہیں بلکہ ابلیسی عمل ہے۔ ماشاء اللہ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف اس لئے کے اسرائیلیات صرف دین بیچ بیچ کر ہی جینا سکھاتی ہے؟
 
سسٹر مہوش علی
میرا خیال ہے ، آپ کو سنگین غلط فہمی اسی وجہ سے ہوئی ہے کہ آپ نے یقیناَ اس تھریڈ میں میرے تمام جوابات کو پڑھا ہی نہیں ہے!
ذرا بتائیے کہ : وہ میری ایسی کون سی پوسٹ ہے جہاں میں‌ نے "توریت" اور "اسرائیلیات" کو الگ الگ شئے باور کرایا ہو؟؟


کسی بھی معروف محدث کی وہ تحقیق بحوالہ پیش فرمائیے ، جس میں انہوں‌ نے دارمی کی حدیث کو بخاری کی حدیث‌ کے مقابلے "منسوخ" قرار دیا ہو۔
اگر آپ پیش نہیں کر سکتے (اور میرے اب تک کے علم کے مطابق یقینا نہیں پیش کر سکتے) تو کھلے دل سے بغیر کسی تعصب کے مان لیجئے کہ :
دونوں‌ احادیث‌ میں‌ جمع و تطبیق یا ان کی تشریح‌ کو جاننے کے لیے آپ کو محدثین سے رجوع کرنا ہوگا اور اس طرح‌ کسی فورم پر بیٹھ کر ، احادیث‌ کے ناسخ و منسوخ‌ کے سنجیدہ معاملے میں‌ اپنے "عقلی گھوڑے"‌ دوڑائے نہیں جا سکتے !!


فرید احمد صاحب اور قسیم حیدر صاحب !!
آپ دونوں‌ احباب اگر پڑھ رہے ہوں تو ذرا بتائیے کہ میرا درج بالا مطالبہ (سرخ‌ الفاظ) معقول ہے یا نہیں‌ ؟؟ :rolleyes:

جی علم تو صرف ان محدثین پر ختم ہو گیا جن کی کتب بھی ان سے ثابت نہیں ہیں۔ یہ ذاتی طور پر کہی سنی باتوں کو آخری لکیر مان لینا ہی سب سے بڑی کم علمی ہے۔ جو مذہب ہے وہ قرآن میں‌ہے اور سنت میں ہے۔ بقیہ مشہور عام کتب روایات، شرعیات کو مذہب کا درجہ دینا ۔ مکمل طور پر اسرئیلیات ہے۔ جن محدثیں کو آپ عالم سمجھتے ہیں وہ کچھ انسانوں کی ذاتی کاوشیں ہیں اور بس۔ یہ کہنا کہ عالم پیدا بند ہوگئے ہیں یا اگلی صدی میں کوئی شخص‌عالم نہ ہوگا، علم کی کمی کی نشانی ہے۔ علم منطقی بحث، باہمی مناظرے، حصول علم اور پرانی غیر منطقی نظریات کو بھولنے اور نئے منطقی نظریات سیکھنے کا نام ہے۔ کسی انسان کو عالم کے درجے پر فائز کرنا، اور اس کی ہر بات کو اللہ و رسول کی بات کے متوازی رکھنا شخصیت پرستی کے علاوہ کچھ نہیں۔ جن کتب کو محدثین سے منسوب کیا جاتا ہے ان کا سراغ‌بھی 16 صدی سے پہلے نہیں ملتا۔ 9 ویں صدی اور 16 ویں صدی کے درمیان قیاس یہ کیا جاتا ہے کہ تمام علم سنے سنائے طریقے سے آگے بڑھا۔ میں 1700 کی ہاتھ سے لکھی ہوئی بخاری کی ایک کتاب دیکھ چکا ہوں، جس کے عربی مندرجات موجودہ کتب سے بہت کم ہیں۔ کسی کے پاس 1600 سے 800ع تک کی بخاری کی کتب ہوں یا لنک ہوتو دیدار کرائے۔ ورنہ یہ سمجھنے میں کوئی باک نہیں کے ان میں سے بیشتر سنی سنائی باتیں ہیں۔ لکھی لکھائی نہیں ۔اور انسانوں‌نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے ترتیب دیں۔ اور یقین دلانے کے لئے بیشتر روایات خود لکھیں اور رسول اللہ سے منسوب کیں۔ اسی لئے نہ یہ روایات قرانی احکامات سے مناسبت رکھتی ہیں اور نہ ہی مطابقت۔ قرآن قرض جیسے معاملےکو لکھنے کی ہدائت کرتا ہے۔ اس پر گواہ رکھنے کی۔ گواہوں کے لئے عینی شہادت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور ہمارے ان علماء‌کا یہ عالم ہے کہ صرف زبانی کلامی اور سنی سنائی پر کام چلاتے رہے۔ روایات ہر چھپی ہوئی کتاب ایک دوسری سے تعداد اور متن میں مختلف ہے۔ جن کو اچھی لگتی ہیں استعمال کریں۔

ہمارا آپ کا متفقہ ذریعہ ہے قرآن، اگر آپ کے پاس قرآن سے کوئی شہادت ہے تو دیجئے۔ وہ اس لئے کہ قرآن رسول اللہ کا ذاتی کلام نہیں ہے۔ اور اس پر آپ ہم دونوں متفق ہیں کہ رسول اللہ شارح قرآن ہیں۔ تو ان کی اس قدر اہم ہدایت کا قرآن میں‌پایا جانا بہت ضروری ہے۔ اللہ تعالی قرآن میں بارہا پرانی کتب اور ان کے مندرجات کا حوالہ دیتے ہیں اور وہ حوالہ موجود بھی ہیں۔ ابھی یہاں‌تک ۔ آیات کا حوالہ انشاء اللہ آئیندہ بار۔

والسلام،
 
مجھے ذرا بتائیے کہ کیا موجودہ قرآن ، راست اللہ یا رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) نے آپ کے ہاتھوں میں دیا تھا؟ یا یہ بھی انہی "راویوں" کے ذریعے آپ کے ہاتھوں میں پہنچا جن کے ذریعے ہم کو "حدیث" پہنچی ہے؟؟
یہ بات تو اظہرمن الشمس ہے کہ موجودہ قرآن جو ہے ، وہ بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی وفات کے بعد راویوں (حفاظ) کو جمع کر کے ، اجماعی فیصلے کے تحت مرتب کیا گیا۔ ذرا بتائیے کہ "ظاہری طور" پر مرتب کرنے والے کیا وہی افراد نہیں ہیں جنہوں نے "حدیث" بھی مرتب کی ہے؟ اگر ان "افراد" پر آپ کا ایمان یہ ہے کہ :
ان "راویوں" نے اللہ کا کلام مرتب کرنے میں تو عدل و دیانتداری دکھائی البتہ رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے بلا کھٹکے ہر بات منسوب کرتے چلے گئے ؟؟؟
یہ دعوی کہ انہی لوگوں نے قرآن پیش کیا جنہوں نے قرآن کی ابتدائی پروف ریڈنگ کی- قطعاَ‌ بے بنیاد ہے۔ جن حفاظ نے قرآن پڑھ کر اس کو درست قرار دیا وہ 632ع سے 635ع تک کا دور ہے۔ آحادیث و روایات کی کتب جن لوگوں سے منسوب کی جاتی ہیں وہ 800ع کے بعد کا دور ہے۔ 200 سے 250 سال کے بعد قرآن کے اصل حفاظ موجود نہیں تھے۔ اگر ان اصحابہ جنہوں نے قرآن کی پروف ریڈنگ کی، کتب روایات بھی لکھی ہوتیں تو آج یہ کتب ان اصحابہ کرام کے نام سے ہی مشہور ہوتیں۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ خلفاء‌ راشدین سے روایات کی تدوین و ترتیب کی کوئی کوشش ثابت نہیں۔ پھر یہ راوی ایک کس طرح ہوئے؟ کسی حدیث کی ایسی کتاب کا دیدار کروائیے جو 635 سے 1700 کے درمیان میں طبع ہوئی ہو اور آج کی مطبوعات سے مطابقت رکھتی ہو۔
آپ کے اٹھائے ہوئے نکتہ کی تاریخی شواہد کی روشنی میں وضاحت کی ہے، موجودہ موضوع ہے مذاہب کا تقابلی مطالعہ۔ اس دھاگہ پر قرآن و حدیث کی روایتی بحث جاری نہ رکھئے۔ اس کے لئے کئی دوسرے دھاگہ ہیں۔ یہاں صرف اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ تمام رسولوں کے امتیوں نے ان رسولوں کے فرمان کو لکھ کر رکھنے کی کوشش کی، ان کی یہ انسانی کاوش عیاں‌ ہے، جس کا مقابلہ قرآن سے کرتے ہوئے، انسانی و الوہی مندرجات کا فرق بہت واضح نظر آتا ہے۔ اس بات سے ان لوگوں کی کاوش پر روشنی ڈالنا مقصود ہے، جنہوں نے اپنے اپنے نبیوں کی روایات کو قلمبند کرنے کی کوشش کی۔ ان کو برا بھلا کہنا مقصود نہیں۔
 

قسیم حیدر

محفلین
شاید عوام الناس کا حصول علم دین ہی کچھ لوگوں‌کے لئے تین تلوار ہے۔ ایسے مطالبات کہ حصول علم دین صرف ایک مخصوص طبقہ تک محدود ہونا چاہئیے کوئی نیا مطالبہ نہیں۔ یہی نعرہ علیگڑھ کے قیام پر لگایا گیا تھا۔ ایسے لوگوں کا دعوی تھا اور ہے کہ سرسید کافر تھا، اس کی تعلیم کفر تھی، اس تعلیم کے نتیجے میں‌ قرآن پڑھنے کے قابل ہونا کفر ہی نہیں بلکہ ابلیسی عمل ہے۔ ماشاء اللہ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ صرف اس لئے کے اسرائیلیات صرف دین بیچ بیچ کر ہی جینا سکھاتی ہے؟

آپ کے اعتراضات کا بارہا جواب دیا جا چکا ہے۔ لیکن شاید آپ بات سمجھنا ہی نہیں چاہیے۔ یہ منکرین حدیث‌کا پرانا وطیرہ رہا ہے اور مجھے اس پر افسوس نہیں۔ کوئی ایک پوسٹ بتا دیں جس میں قرآن پڑھنے کا قابل ہونے کو کفر کہا گیا ہو۔ سرسید پر کفر کے فتوے اس کے باطل عقیدوں کی وجہ سے لگے تھے۔ یہ بھی اچھا لطیفہ سنایا کہ اس تعلیم کے نتیجے میں انسان قرآن پڑھنے کے قابل ہوتا۔ آپ کو علی گڑھ کے نصاب سے واقفیت ہو گی لہٰذا مزید کچھ نہیں‌کہتا۔ قرآنی تعلیمات پھیلانے میں علماء نے منکرین حدیث‌کی نسبت بہت زیادہ کام کیا۔ اردو تراجم اور تفاسیر میں سے کتنی ہیں جو منکرین حدیث نے لکھیں؟ دین کے خاص طبقے تک محدود ہونے والی بات کا جواب خاور بھائی دے چکے ہیں‌ملاحظہ فرمائیے
"حال ہی میں یہ ایک نرالا اندازِ فکر پیدا ہوا ہے کہ اسلام میں “پریسٹ ہڈ“ (priesthood) نہیں ہے۔ قرآن اور سنت اور شریعت پر کوئی “ مُلا “ کا اجارہ نہیں ہے کہ بس وہی ان کی تعبیر کرنے کا مجاز ہو، جس طرح وہ تعبیرِ احکام اور اجتہاد و استنباط کرنے کا حق رکھتا ہے اسی طرح ہم بھی یہی حق رکھتے ہیں اور کوئی وجہ نہیں کہ دین کے معاملے میں مُلا کی بات ہماری بات سے زیادہ وزنی ہو۔

یہ باتیں وہ لوگ کہتے ہیں جو نہ قرآن و سنت کی زبان سے واقف ہیں، نہ اسلامی روایات پر جن کی نگاہ ہے۔ نہ اپنی زندگی کے چند روز بھی جنہوں نے اسلام کے تحقیقی مطالعے میں صرف کیے ہیں۔ وہ ایمانداری کے ساتھ اپنے علم کا نقص محسوس کرنے اور اسے دور کرنے کے بجائے سرے سے علم کی ضرورت ہی کا انکار کرنے پر تُل گئے ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ انہیں علم کے بغیر اپنی تعبیروں سے اسلام کی صورت بگاڑدینے کے لئے چھوڑدیا جائے۔

اگر جہالت کی اس طغیانی کو یونہی بڑھنے دیا گیا تو بعید نہیں کہ کل کوئی اٹھ کر کہے کہ اسلام میں “وکیل ہڈ“ نہیں ہے اس لیے ہر شخص قانون پر بولے گا چاہے اس نے قانون کا ایک لفظ نہ پڑھا ہو اور پرسوں کوئی دوسرے صاحب اٹھیں اور فرمائیں کہ اسلام میں انجینئیر ہُڈ نہیں ہے اس لیے ہم بھی انجینئیرنگ پر کلام کریں گے۔ چاہے ہم اس فن کی الف بے سے بھی واقف نہ ہوں اور پھر کوئی تیسرے صاحب اسلام میں ڈاکٹر ہڈ کا انکار کرکے مریضوں کا علاج کرنے کھڑے ہوجائیں بغیر اس کے کہ ان کو علم طب کی ہوا بھی لگی ہو۔ میں سخت حیران ہوں کہ اچھے خاصے پڑھے لکھے اور ذی عزت لوگ یہ کیسی اوچھی اور طفلانہ باتیں کرنے پر اُتر آئے ہیں۔ بیشک اسلام میں پریسٹ ہڈ نہیں ہے، مگر انہیں معلوم بھی ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ اسلام میں نہ تو بنی اسرائیل کی طرح دین کا علم اور دینی خدمات کسی نسل اور قبیلے کی میراث ہیں، اور نہ عیسائیوں کی طرح دین و دنیا کے درمیان تفریق کی گئی ہے کہ دنیا قیصروں کے حوالے اور دین پادریوں کے حوالے کردیا گیا ہو۔ بلاشبہ یہاں قرآن اور سنت اور شریعت پر کسی کا اجارہ نہیں ہے اور مُلا کسی نسل یا خاندان کا نام نہیں ہے جس کو دین کی تعبیر کرنے کا آبائی حق ملا ہوا ہو۔ جس طرح ہر شخص قانون پڑھ کر جج اور وکیل بن سکتا ہے، اور ہر شخص انجینئیرنگ پڑھ کر انجینئیر اور طب پڑھ کر ڈاکٹر بن سکتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص قرآن اور سنت کے علم پر وقت اور محنت صرف کرکے مسائل شریعت میں کلام کرنے کا مجاز ہوسکتا ہے۔ اسلام میں پریسٹ ہڈ نہ ہونے کا اگر کوئی معقول مطلب ہے تو وہ یہی ہے۔ نہ یہ کہ اسلام کوئی بازیچہ اطفال بنا کر چھوڑ دیا گیا ہے کہ جس کا جی چاہے اٹھ کر اس کے احکام اور تعلیمات کے باے میں ماہرانہ فیصلے صادر کرنے شروع کردے، خواہ اس نے قرآن اور سنت میں بصیرت پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہ کی ہو۔ علم کے بغیر اتھارٹی بننے کا دعویٰ اگر دنیا کے کسی دوسرے معاملے میں قابلِ قبول نہیں ہے تو آخردین ہی کے معاملے میں کیوں قابل قبول ہو؟"
ان نیم ملاؤں نے دین کا جو حشر کرنا شروع کیا ہے اس کی کئی مثالیں لکھ چکا ہوں۔ قند مکرر کے طور پر ایک نمونہ دوبارہ پیش خدمت ہے جس سے اس "علمیت" کی گہرائی کا اندازہ ہو جائے گا جس کی بنیاد پر ہر آدمی کو خودساختہ تشریح کا حق دینے کی مہم جاری ہے:
بخاری کتاب النکاح کی ایک حدیث ہے کہ ایک عورت نے اپنے آپ کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے ہبہ کیا۔وہاں موجود ایک شخص نے جب دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی پیشکش قبول نہیں کی تو عرض کیا "یارسول اللہ! اس خاتون کو میری زوجیت میں دے دیں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت کیا "تیرے پاس کچھ (مال) ہے"؟ عرض کیا "کچھ بھی نہیں ہے"۔ ارشاد فرمایا "اسے کچھ دو چاہے لوہے کی انگوٹھی ہی ہو"۔انہوں نے عرض کیا "میرے پاس کچھ بھی نہیں"۔ پوچھا "تجھے قرآن کا کچھ حصہ یاد ہے"؟ صحابی نے بتایا کہ مجھے فلاں فلاں سورتیں یاد ہیں۔ اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے کہا " میں نے اسے تیری زوجیت میں دے دیا قرآن کی ان سورتوں کے بدلے جو تجھے حفظ ہیں۔"
"ملکتھا" کا ترجمہ "اسلام کے مجرم" کے مصنف نے یوں کیا ہے:
"I make you the owner of this woman"
"میں نے تجھے اس عورت کا مالک بنا دیا"
پھر اعتراض جڑ دیا کہ ان الفاظ سے عورتوں کی توہین کا پہلو نکلتا ہے لہٰذا یہ حدیثِ رسول نہیں ہو سکتی۔
اس اعتراض کو دیکھ کر مجھے سید مودودی رحمہ اللہ کی بات یاد آ گئی۔ لکھتے ہیں:
" قدیم زمانے میں جو لوگ اس (انکارِ حدیث کے) فتنے کا عَلم لے کر اٹھے تھے وہ ذی علم لوگ تھے۔ عربی زبان و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ قرآن، حدیث اور فقہ کے علوم میں کافی درک رکھتے تھے۔ اور ان کو سابقہ بھی اس مسلمان پبلک سے تھا جس کی علمی زبان عربی تھی، جس میں عام لوگوں کا تعلیمی معیار بہت بلند تھا ۔ ۔ ۔ ۔ اسی وجہ سے قدیم زمانے کے معتزلہ بہت سنبھل کر بات کرتے تھے۔ اس کے برعکس ہمارے دور میں جو لوگ اس فتنے کو ہوا دینے کے لیے اٹھے ہیں ان کا اپنا علمی پایہ بھی سرسید کے زمانہ سے لے کر آج تک درجہ بدرجہ ایک دوسرے سے فروتر ہوتا چلا گیا ہے، اور ان کو سابقہ بھی ایسی پبلک سے پیش آیا ہے جس میں عربی زبان اور دینی علوم جاننے والے کا نام “تعلیم یافتہ” نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ایسے حالات میں پرانے اعتزال کی بہ نسبت نئے اعتزال کا معیار جیسا کچھ گھٹیا ہو سکتا ہے ظاہر ہے۔ یہاں علم کم اور بے علمی کی جسارت بہت زیادہ ہے۔"
عربی زبان میں "مَلَکَ، مَلِکًا، مُلکًا"( باب "ضَرَبَ یَضرِبُ") کا مطلب "مالک ہونا، ملکیت میں لینا" اور "مَلَکَ، مِلکًا و مُلکًا" کا مطلب "نکاح میں لینا" ہے۔(فیروز اللغات عربی اردو ص 701)
جب کسی عورت کے بارے "ملکتھا" کہا جائے تواس کا مطلب "مالک بنانا" نہیں "نکاح میں دینا" ہوتا ہے۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے کہ مزید کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہے۔ اس حدیث سے مذکورہ معنی وہ شخص نکال سکتا ہے جو صرف و نحو اور عربی لغت سے بالکل ہی ناواقف ہو یا پھرتعصب میں اندھا ہو چکا ہو۔
فتنہ انکار حدیث والے تھریڈ پر تفصیل سے بات ہو چکی ہے۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
معلوم نہیں آپ یہاں کیا "پروپگنڈہ" کرنے آئے ، یا بلوائے یا گھسائے گئے ہیں ؟؟
قبلہ آپ مکرر يہ بات کہہ چکے ہيں ۔۔ ذرا ہوش کے ناخن ليا کريں ميں کوئي کارتوس نہيں جو کمک پہنچانے آوں ۔۔:mad:
کارتوس کے بارے ميں تو سب ہي جانتے ہيں کہ وہ کيسے بلوايا جاتا ہے ۔۔
اور آپ نے ابھي تک پوسٹ 85 کا جواب نہيں ديا ۔۔ پہلے اس کا جواب عنايت فرمائيں ۔۔ پھر اگلي بات ہو گي ۔۔
اور پليز ذرا سوچ سمجھ کر بات کيا کريں ۔۔
 

حسن نظامی

لائبریرین
کوئی حدیث ، صحیح‌ ہو کر ، منسوخ یا ناسخ بھی ہو سکتی ہے۔ یہ تو ہم تمام کو پتا ہے۔
میں‌ نے یہ سوال اٹھایا ہی نہیں کہ : دارمی کی حدیث ، منسوخ ہے یا نہیں ؟؟
یہ تو آپ جیسے "علم یافتہ" لوگوں‌ کے "علم کا کرشمہ" ہے جو دارمی کی حدیث‌ کو منسوخ ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں ، عقل کو بیچ میں‌ لا رہے ہیں ۔۔۔:rolleyes:
باذوق انکل ۔۔

يہي تو ميں بھي کہہ رہا ہوں کہ بخاري کي حديث ۔۔ دارمي کي اس حديث کي ناسخ ہے ۔۔

جيسا کہ فتح الباري کي عبارت ميں نے دي ہے ۔۔
اور پھر احوذي کي عبارت بھي تو ہے ۔۔
آپ کيوں اس بات پراڑے ہوئے ہيں کہ اس کي کوئي ناسخ نہيں ۔۔
اور اگرتطبيق ہي کرنا ہے تو کيجيے ۔۔۔ کسي معروف محدث کي تطبيق آپ ہي دے ديں ۔۔
ميں نے جو دي تھي وہ تو آپ مانتے ہي نہيں ۔۔۔
 
Top