مدد کرنا اچھی بات ہے

loneliness4ever

محفلین
سلسلہ تربیت اطفال

’’مدد کرنا اچھی بات ہے‘‘

ہرے بھرے سے جنگل میں لمبے اور گھنے درختوں کے درمیان گھاس کے میدان میں روز دوپہر کے کھانے کے بعد تمام پرندے آپس میں پیار محبت سے خوب کھیلا کرتا تھے۔ایک دن کا ذکر ہے تمام پرندے دوپہر کے کھانے کے بعد گھاس کے میدان میں مل جل کر کھیل رہے تھے اور ان کا کھیل گھاس کے میدان کے پاس موجود ہرے بھرے درختوں میں سب سے اونچے اورگھنے درخت کی شاخ پر بیٹھ کر عقاب بھائی دیکھ رہے تھے ۔ تھوڑی دیر تک عقاب بھائی گھاس کے میدان میں کھیلتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے رہے پھر ان کو خیال آیا، گھاس کے میدان میں کھیلتے ہوئے پرندوںکے درمیان چڑیا بہن موجود نہیں ہیں۔ عقاب بھائی نے سوچا چڑیا بہن کو تو میدان میں سب پرندوں کے ساتھ کھیلنا بہت اچھا لگتا ہے پھر وہ آج کھیلنے کیوں نہیں آئیں؟؟ ضرورکوئی اہم کام یا بات ہوگی جس کی وجہ سے چڑیا بہن آج میدان میں کھیلنے نہیں آئیں۔ اتنا سوچ کر عقاب بھائی نے اپنے بڑے بڑے پر پھیلائے اور پھر سے اڑ گئے۔ وہ چڑیا بہن کے گھر جا رہے تھے تاکہ چڑیا بہن سے میدان میں کھیلنے نہ آنے کی وجہ معلوم کر سکیں۔چڑیا بہن کا گھر گھاس کے میدان سے تھوڑی دور موجود آم کے ایک گھنے درخت پر بنا ہوا تھا۔ عقاب بھائی نے اپنے بڑے بڑے پر پھیلائے اور پھر سے اڑ گئے۔ عقاب بھائی درختوں سے اوپر تیزی سے اڑتے ہوئے چڑیا بہن کے گھر کے پاس پہنچ گئے۔ عقاب بھائی نے دیکھا چڑیا بہن کے گھر کا دروازہ بند ہے، انھوں نے چڑیابہن کے گھر کے دروازے پر دستک یعنی دروازے پر اپنی مضبوط چونچ سے ٹھک ٹھک کی تو اندر موجود چڑیا بہن کی آواز آئی
’’ کون ہے؟؟ دروازے پر کون ہے؟؟‘‘
عقاب بھائی نے جب چڑیا بہن کی آواز سنی تو فوراََکہا
’’ السلام علیکم چڑیا بہن!! کیسی ہیں آپ؟؟ میں آپ کا بھیا عقاب ہوں، دروازہ کھولیں۔‘‘
چڑیا بہن نے جب عقاب بھائی کی آواز سنی تو فوراََ درواز کھول کر عقاب بھائی کے سلام کا جواب دیا
’’ وعلیکم السلام عقاب بھائی!! کیسے ہیں آپ؟؟‘‘
’’ چڑیا بہن!! میں ٹھیک ہوں ،آپ کیسی ہیں ؟؟آج آپ گھاس کے میدان میںکیوںنہیں آئیں؟؟۔‘‘
عقاب بھائی نے چڑیا بہن کی بات کا جواب دیتے ہوئے ان سے سوال کیا
’’ عقاب بھائی!! مجھے صبح سے بخار ہے، او ر صبح سے میں نے کچھ کھایا بھی نہیں ہے کیونکہ طبیعت کی خرابی کی وجہ سے میںابھی کھانا ہی نہیں پکا سکی ہوں‘‘
عقاب بھائی کی بات سن کر چڑیا بہن نے ان کو گھاس کے میدان میں نہیں آنے کی وجہ بتائی۔ عقاب بھائی کو بڑا افسوس ہوا کہ چڑیا بہن کو بخار ہے اور انھوں نے اب تک کھانا بھی نہیں پکایا۔ عقاب بھائی نے سوچا چڑیا بہن کی طبیعت خراب ہے، ان کو دوا کی ضرورت ہے ، اس لئے ان کے لئے دوا لیکر آنی چاہیئے۔یہ سوچ کر عقاب بھائی نے چڑیا بہن کو گھر میں آرام کرنے کا کہنے کے بعد اپنے بڑے بڑے پر پھیلائے اور پھر سے اڑ گئے۔ عقاب بھائی درختوں سے اوپر ، بادلوں سے اونچا بہت تیری سے اڑ رہے تھے۔ عقاب بھائی نے نیچے دیکھا تو ان کو ڈاکٹر انکل کا گھر نظر آیا عقاب بھائی فوراََ ڈاکٹر انکل کے گھر کے پاس نیچے اتر گئے۔ ڈاکٹر انکل گھر سے باہر لگے ہوئے رنگے برنگے پھولوں کے پودوں کو پانی دے رہے تھے۔ انھوں نے عقاب بھائی کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے۔ عقاب بھائی نے جلدی سے ڈاکٹر انکل کو السلام علیکم کہا ۔ ڈاکٹر انکل نے ’ وعلیکم السلام‘ کہہ کر عقاب بھائی کے سلام کا جواب دیا اور عقاب بھائی سے کہا
’’ بڑے دنوں بعد یہاں آئے عقاب بھائی آپ، سب ٹھیک تو ہیں ؟؟‘‘
’’ عقاب بھائی نے کہا
’’ جی ڈاکٹر انکل!! اللہ کا شکر ہے سب ٹھیک ہیں، بس چڑیا بہن کو صبح سے بخار ہے، اس لئے میں آپ کے پاس دوا لینے آ گیا ہوں‘‘
ڈاکٹر انکل کو جب چڑیا بہن کی طبیعت خرابی کا معلوم ہوا تو ان کو بہت افسوس ہوا۔ انھوں نے کہا
’’عقاب بھائی !!میں ابھی اچھی سی دوا چڑیا بہن کے لئے آپ کو دے دیتا ہوں‘‘
اتنا کہہ کر ڈاکٹر انکل نے جلدی سے ایک چڑیا بہن کے لئے دوا دی تا کہ ان کا بخار ختم ہو جائے اور ان کی طبیعت ٹھیک ہو جائے۔ڈاکٹر انکل نے عقاب بھائی سے کہا
’’عقاب بھائی!! آپ بہت اچھے ہیں، چڑیا بہن کی مدد کر رہے ہیں۔۔۔ شاباش عقا ب بھائی شاباش‘‘
ڈاکٹر انکل کی بات سن کر عقاب بھائی بہت خوش ہوئے انھوں نے ڈاکٹر انکل کو اللہ حافظ کہا اور اپنے بڑے بڑے سے پر پھیلائے اور پھر سے اڑ گئے۔ عقاب بھائی بہت اونچا اڑ رہے تھے۔ بادلوں سے بھی اونچا، انھوں نے نیچے دیکھا تو ان کو کسان بھائی سبزیوں کے پودوں کی صفائی کرتے ہوئے نظر آئے ۔عقاب بھائی نے جب کسان بھائی کو کام کرتے دیکھا تو فوراََ نیچے اتر گئے۔ کسان بھائی کے پاس پہنچ کر عقاب بھائی نے ان کو سلام کیا
’’السلام علیکم کسان بھائی کیسے ہیں آپ؟؟‘‘
کسان بھائی عقاب بھائی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے انھوں نے ’ علیکم السلام‘ کہہ کر سلام کا جواب دیا اور عقاب بھائی سے کہا
’’میں بالکل ٹھیک ہوں، آپ کیسے ہیں؟‘‘
عقاب بھائی نے کسان بھائی کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا
’’کسان بھائی !! میں بھی بالکل ٹھیک ہوں،مگر چڑیا بہن کو صبح سے بخار ہے اور انھوں نے صبح سے اب تک کچھ کھایا بھی نہیں ہے،کیا آپ مجھے چڑیا بہن کے لئے اچھی سی سبزی دے سکتے ہیں؟‘‘
کسان بھائی کو جب چڑیا بہن کی طبیعت خراب ہونے کا معلوم ہوا تو ان کو بہت افسوس ہوا۔ انھوں نے عقاب بھائی کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا
’’ جی عقاب بھائی میں چڑیا بہن کے لئے اچھی سی سبزی ضرور دے سکتا ہوں‘‘
اتنا کہہ کر کسان بھائی نے خوشی خوشی چڑیا بہن کے لئے اچھی سی سبزی عقاب بھائی کو دیتے ہوئے کہا
’’ عقاب بھائی !! آپ میرا یہاں انتظار کریں میںچڑیا بہن کے لئے اپنے گھر سے حلوہ اور کھانا بھی لیکر آتا ہوں‘‘
اس کے بعد کسان بھائی جلدی سے بھاگتے ہوئے اپنے گھر پہنچے اور باورچی خانے میں جاکر گرما گرم کھانا اور حلوہ الگ الگ برتن میں چڑیا بہن کے لئے نکال کرایک مضبوط کپڑے میں باندھ دیا اور پھر کسان بھائی جلدی جلدی واپس اس جگہ پہنچے جہاں عقاب بھائی ان کا انتظار کر رہے تھے۔ کسان بھائی نے کپڑے کی پوٹلی عقاب بھائی کو دیتے ہوئے کہا
’’ عقاب بھائی !! یہ پوٹلی بھی چڑیا بہن کو دے دیجئے گا، اس میں دو برتن ہیں، ایک برتن میں گرما گرم چاول اورایک برتن میں حلوہ ہے۔‘‘
عقاب بھائی نے خوشی خوشی کسان بھائی سے برتنوں کی پوٹلی لے لی اور کہا
’’ کسان بھائی !۱ آپ بہت اچھے ہیں، چڑیا بہن کو بہت آسانی ہو جائے گی‘‘
کسان بھائی نے عقاب بھائی کی بات سن کر کہا
’’ عقاب بھائی!! آپ بھی بہت اچھے ہیں ، کیونکہ آپ بھی تو چڑیا بہن کی مدد کر رہے ہیں، اور دوسروں کی مدد کرنے والے کو سب لوگ اچھا ہی کہتے ہیں‘‘
کسان بھائی کی بات سن کر عقاب بھائی نے کہا
’’ کسان بھائی!! اب مجھے اجازت دیں میںآپ کی جانب سے گرما گرم کھانا چڑیا بہن کو دوں اور ڈاکٹرانکل سے لی ہوئی دوا ان کوکھانے کو دوں تاکہ ان کی طبیعت جلد ٹھیک ہو جائے‘‘
اتنا کہہ کر عقاب بھائی نے اپنے لمبے لمبے پر بھیلائے اور کسان بھائی کو ہنس کر اللہ حافظ کہا اور بادلوں کی جانب اڑ گئے، عقاب بھائی بادلوں سے بھی اونچا اڑ رہے تھے، اور پھر وہ اڑتے اڑتے اپنے پیارے سے جنگل میں پہنچ گئے۔ جنگل میں پہنچ کر عقاب بھائی چڑیا بہن کے گھر پہنچے اور انھوں نے چڑیابہن کے گھر کے دروازے پر دستک یعنی دروازے پر اپنی مضبوط چونچ سے ٹھک ٹھک کی تو اندر موجود چڑیا بہن کی آواز آئی
’’ کون ہے؟؟ دروازے پر کون ہے؟؟‘‘
چڑیا بہن کے سوال پر عقاب بھائی نے کہا
’’ السلام علیکم چڑیا بہن، یہ میں ہوں عقاب بھائی‘‘
چڑیا بہن نے جو سنا عقاب بھائی گھر کے دروازے پر ہیں ، تو انھوں نے فوراََ دروازہ کھول کر عقاب بھائی کے سلام کا جواب دیا’ وعلیکم السلام‘ اور ان کو گھر کے اندر آنے کا کہا۔ چڑیا بہن کی بات سن کر عقاب بھائی نے ان کو ڈاکٹر انکل سے لائی ہوئی دوا دی اور کسان بھائی کی جانب سے گرما گرم کھانے کی پوٹلی اور تازہ سبزی دی۔ تمام چیزوں کو چڑیا بہن نے خوشی خوشی لیتے ہوئے کہا
’’ بہت شکریہ عقاب بھائی۔۔۔ ڈاکٹر انکل کی دوا کھا کر میری طبیعت جلد ٹھیک ہو جائے گی ڈاکٹر انکل کا بھی بہت شکریہ اور ایسا خوشبودار کھانا بھجوانےپر کسان بھائی کا بھی بہت بہت شکریہ، آپ سب بہت اچھے ہیں‘‘
عقاب بھائی نے چڑیا بہن کی بات سنی تو مسکرا کر کہا
’’ چڑیا بہن!! مدد کرنا تو اچھی بات ہے، جو مدد کرتے ہیں سب ان کو اچھا ہی کہتے ہیں، اچھی بہن اب مجھے اجازت دیں میں اپنے گھر واپس چلتا ہوں‘‘
عقاب بھائی کی بات سن کر چڑیا بہن نے کہا
’’ اچھے بھیا!! آپ ایسے نہیں جا سکتے، یہ گرما گرم کھانا میں دسترخوان پر نکالتی ہوں ، آپ جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر کھانے کے لئے تیار ہو جائیں‘‘
’’ نہیں بہن یہ کھانا تو کسان بھائی نے آپ کے لئے بھیجا ہے، مجھے اجازت دیں، میں گھر جا کر کھانا کھا لوں گا‘‘
عقاب بھائی نے فوراََ کہااور جانے کے لئے اپنے لمبے لمبے پر کھول لئے، چڑیا بہن نے جو یہ دیکھا کہ عقاب بھائی بغیر کھاناکھائے جا رہے ہیں تو کہنے لگیں
’’ عقاب بھائی مل کر کھانے میں برکت ہوتی ہے، مجھے اکیلے کھانے میں مزا نہیں آئے گا‘‘
عقاب بھائی نے جب چڑیا بہن کی بات سنی تو فوراََساتھ کھانے کے لئے تیار ہو گئے۔ عقاب بھائی نے ہاتھ منہ پانی سے دھوئے اور چڑیا بہن نے دستر خوان پر کھانا لگایا، پھر دونوں بہن بھائی نے مل کر کھانا کھایا۔اور پھر کھانے کے بعد عقاب بھائی نے اپنے لمبے لمبے پر پھیلائے اور چڑیا بہن کو ’اللہ حافظ‘ کہہ کر اپنے گھر واپس چلے گئے۔

٭٭٭
 

جاسمن

مدیر
یہ بچوں کے لئے بہت اچھی کہانی ہے۔ہمیں اپنے بچوں میں دوسروں کی مدد کرنے کا جذبہ ضرور اجاگر کرنا چاہیے۔
جزاک اللہ خیرا۔
 
Top