عبدالحسیب

محفلین
مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات
نرغے طوفاں و حوادث کے،ہوس کی للکار
یہ دھماکے،یہ بگولے سرِ راہ
جسم کا ،جاں کا، پیمانِ وفا کیا ہوگا؟
تیرا کیا ہوگا ،اے مضرب جنوں؟
اُڑ نا جائے کہیں یہ رنگِ جبیں
مٹ نہ جائے کہیں یہ نقشِ وفا
چپ نا ہو جائے کہیں یہ بجتا ہوا ساز
شمعیں اب کون جلائے گا گزر گاہوں میں؟
میرے دل اور دھڑک
شاخِ گُل اور مہک اور مہک
-مخدوؔم
 

عبدالحسیب

محفلین
وہ جو میرا خواب کہلاتا تھا
میرا ہی نہ تھا
وہ تو سب کا خواب تھا
سایۂ گیسو میں بس جانے کے ارماں دل میں تھے
میرے دل میں ہی نہ تھے
وہ تو سب کا خواب تھا
لاکھ دل ہوتے تھے لیکن
جب دھڑکتے تھے تو اک دل کی طرح
آپ میں اک گرمی احساس ہوتی تھی
نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی
چاندنی سی میرے دل کے پار ہوتی تھی
نہیں معلوم وہ کیا ہو گئی

-مخدوؔم
 

عبدالحسیب

محفلین
شکریہ زبیر بھائی

انتظار کریں، جلد ہی مخدوم صاحب کا بہتریں منتخب کلام یہاں پیش کیا جائے گا۔ انشاء اللہ
 

عبدالحسیب

محفلین
بہت خوب شراکت
ٹیکسٹ فارمیٹ کچھ الجھن پیدا کر رہا ہے
کچھ اس طرف توجہ دیں تو ممنون ہوں گا
شاد و آباد رہیں

شکریہ شہزاد ناصر بھائی

اُس طرف توّجہ دلانے کا شکریہ ۔ انشاء اللہ اگلے مراسلے میں یہ شکایت دور کر دی جائے گی۔
 

عبدالحسیب

محفلین
‎ مجھے ڈر ہے کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات
نرغ طوفانِ حوادث کے، ہوس کی یلغار
یہ دھماکے، یہ بگولے، سرِ راہ
جسم کا، جان کا، پیمانِ وفا کیا ہوگا ؟
تیرا کیا ہوگا میرے تارِ نفس
تیرا کیا ہوگا ایہ مضرابِ جنوں
یہ دہکتے ہوئے رخسار
یہ مہکتے ہوئے لب
یہ دھڑکتا ہوا دل
شفق زیست کی پیشانی کا رنگیں قشقہ
کیا ہوگا
اڑ نہ جائے کہیں یہ رنگِ جبیں
مٹ نہ جائے کہیں یہ نقشِ وفا
چپ نہ ہو جائے یہ بجتا ہوا ساز
شمعیں اب کون جلائے گا، سرِ شام گزر گاہوں میں
دہر میں مہر و وفا کچھ بھی نہیں
سجدہ کچھ بھی نہیں، نقشِ کفٕ پا کچھ بھی نہیں
میرے دل اور دھڑک
شاخ گل
اور مہک، اور مہک، اور مہک
-مخدوؔم
پہلے مراسلے میں کچھ بند شامل نہیں تھے اور کچھ اغلاط کی تصحیح کے ساتھ نظم دوبارہ پیشِ خدمت ہے۔۔۔
نیاز مند جاہل -عبد الحسیب​

 

عبدالحسیب

محفلین
عزیزم، نظموں کے عنوانات بھی دے دیا کریں تو بہتر ہے۔
ویسے ان کے دو انتخابات میں برقی کتابوں میں شائع کر چکا ہوں۔
بلور
اور
چاند تاروں کا بن

آئندہ خیال رکھا جائے گا۔ انشاء اللہ

برقی کتب خانہ کی جانب توجہ دلانے کا شکریہ، بہترین انتخاب۔۔۔کئی معیاری کتابیں برقی شکل میں دستیاب ہیں ۔ مخدوم صاحب کی دونوں کتابیں محفوز کر لیں ہیں۔ دراصل میرے پاس جو مواد تھا سب اخبار و رسالوں سے اکھٹا کر رکھا تھا۔ اگر مخدوم صاحب کا مجموعہ کلام "بساطِ رقص" بھی برقی شکل میں مل جائے تو عنایت ہو گی۔ :)
 

عبدالحسیب

محفلین
حویلی
ایک بوسیدہ حویلی یعنی فرسودہ سماج
لے رہی ہے نزع کے عالم میں مردوں سے خراج
ایک مسلسل کرب میں ڈوبے ہوئے سب بام و در
جس طرف دیکھو اندھیرا جس طرف دیکھو کھنڈر
مار و کژدم کا ٹھکانا جس کی دیواروں کے چاک
اف یہ رخنے کس قدر تاریک کتنے ہولناک
جن میں رہتے ہیں مہاجن، جن میں بستے ہیں امیر
جن میں کاشی کے برہمن، جن میں کعبے کے فقیر
رہزنوں کا قصرِ شوریٰ، قاتلوں کی خواب گاہ
کھلکھلاتے ہیں جرائم، جگمگاتے ہیں گناہ
جس جگہ کٹتا ہے سر انصاف کا ایمان کا
روز و شب نیلا ہوتا ہے جہاں انسان کا
زیست کو درسِ اجل دیتی ہے جس کی بارگاہ
قہقہہ بن کر نکلتی ہے جہاں ہر ایک آہ
سیم و زر کا دیوتا جس جا کبھی سوتا نہیں
زندگی کا بھول کر جس جا گزر ہوتا نہیں
ہنس رہا ہے زندگی پر اس طرح ماضی کا حال
خندہ زن ہو جس طرح عصمت پہ قحبہ کا جمال
ایک جانب ہیں وہیں ان بے نواؤں کے گروہ
ہاں انھیں بے نان و بے پوشش گداؤں کے گروہ
جن کے دل کچلے ہوئے جن کی تمنا پائمال
جھانکتا ہے جن کی آنکھوں سے جہنم کا جلال
اے خدائے دوجہاں اے وہ جو ہر اک دل میں ہے
دیکھ تیرے ہاتھ کا شہکار کس منزل میں ہے
جانتا ہوں موت کا ہم ساز و ہمدم کون ہے
کون ہے پروردگارِ بزمِ ماتم کون ہے
کوڑھ کے دھبے چھپا سکتا نہیں ملبوسِ دیں
بھوک کے شعلے بجھا سکتا نہیں روح الا میں
اے جواں سالِ جہاں، جانِ جہانِ زندگی
ساربان زندگی روح روان زندگی
بجلیاں جس کی کنیزیں زلزلے جس کے سفیر
جس کا دل خیبر شکن جس کی نظر ارجن کا تیر
ہاں وہ نغمہ چھیڑ جس سے مسکرائے زندگی
تو بجائے سازِ اُلفت اور گائے زندگی
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں
آ انھیں کھنڈروں پہ آزادی کا پرچم کھول دیں
-مخدوؔم
 
Top