رومانی تصور

  1. عبدالحسیب

    مخدوؔم محئ الدین

    مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہو جائے یہ احساس کی رات نرغے طوفاں و حوادث کے،ہوس کی للکار یہ دھماکے،یہ بگولے سرِ راہ جسم کا ،جاں کا، پیمانِ وفا کیا ہوگا؟ تیرا کیا ہوگا ،اے مضرب جنوں؟ اُڑ نا جائے کہیں یہ رنگِ جبیں مٹ نہ جائے کہیں یہ نقشِ وفا چپ نا ہو جائے کہیں یہ بجتا ہوا ساز شمعیں اب کون جلائے گا...
Top